ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم نے ایک دن شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب سے کہا کہ ہمارے دینی سیاسی لوگ اکٹھے نہیں ہوتے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ’کرسی‘ کا مسئلہ ہے لیکن دعوت و اصلاح جیسے غیر سیاسی کام میں دینی لوگ کیوں جمع نہیں ہوسکتے جبکہ اس کام کی بڑی سخت ضرورت بھی ہے۔ کہنے لگے کہ اس میں کوئی بڑی رکاوٹ بظاہر تونظر نہیں آتی ۔ چنانچہ ہم نے باہم مشورہ کر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سول سوسائٹی کے دیندار افراد کا ایک اجتماع جامعہ نعیمیہ میں رکھا جس کا ایجنڈا اور ورکنگ پیپر راقم نے تیار کرکے شرکا کو بھجوا دیا۔ اس اجلاس کی دونشستیں عصر سے عشا تک ہوئیں۔ ایجنڈے کا اہم نکتہ دعوت و اصلاح اور فرد کی تربیت تھا لیکن افغانستان اور عراق کا مسئلہ اور پاکستان کے سیاسی حالات جیسے اجتماعی مسائل شرکاء کے ذہنوں پر چھائے رہے اور ہم کوشش کے باوجود شرکا کو دعوت و اصلاح کی کسی اجتماعی حکمت عملی کی طرف نہ لاسکے۔

یہ بات ہمیں اس حوالے سے یاد آئی کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے جریدے ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے فروری۲۰۱۰ء کے شمارے میں منجملہ دوسری باتوں کے پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے سارے مکاتب فکر کے علماء کرام پر مشتمل ایک نئی دینی جماعت کے قیام کی ضرورت کا ذکر کیا ہے جو انتخاب و اقتدار کی سیاست میں پڑے بغیر اجتماعی جدوجہد کرے۔ مولاناکی بات سرسری اور مجمل ہے اور غالباً کوئی منضبط اور تفصیلی تجویز پیش کرنا ان کے مدنظر نہیں تھا۔ ہم چونکہ اس موضوع پر سوچتے رہتے ہیں لہٰذا ہمارے ذہن میں ایک نئی دینی تحریک کا پورانقشہ موجود ہے جو ہم اہل فکر و نظر کے سامنے رکھ رہے ہیں تاکہ وہ اس پر غور فرمائیں اور اس کے حسن و قبح پر بحث کے نتیجے میں کوئی اچھی اور قابل عمل بات سامنے آسکے۔

(۱)

بنیادی بات یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں اپنی موجودہ زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارنا ہے تاکہ ہم اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکیں اور اس کی نعمتوں کے سزاوار ٹھہریں۔ اگر ہم بحیثیت معاشرہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی زندگی گزاریں گے تو ہم ان شاء اللہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور زوال کے گڑھے سے نکل کر عزت و عظمت کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔ دنیا میں ہمارے زوال کا ایک بنیادی سبب ہماری اپنے نظریۂ حیات (اسلام) سے دوری اور اس کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اندر وہ صلاحیتیں پنپ نہیں پارہیں جو دنیا میں جمع اسباب اور ترقی و غلبے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ 

یہ بنیادی فکری پہلو ہم نے ابتدا ہی میں اس لیے واضح کردیا کہ ہمارے نزدیک یہی دنیا میں مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کی اساس ہے نہ کہ اس مغربی فکر و تہذیب کی پیروی جواپنی اساس میں غیر اسلامی ہے۔ دنیا اور آخرت میں بیک وقت کامیابی کے اسی نظریے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کی بنیاد رکھی جسے آپؐ کے صحابہ کرام نے بھی جاری رکھا اور وہ ربع صدی کے اندر نہ صرف جزیرہ نما عرب بلکہ اس وقت کی ورلڈ پاورز پر غالب آگئے اور ایسی خوشحالی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ مسلم معاشرے میں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہا۔ لہٰذا آج بھی ہماری ترقی اور کامیابی کی اساس دین سے ایسی وابستگی ہے جو ہمارے دنیا کے مسائل بھی حل کر دے اور آخرت میں بھی ہماری کامیابی کے راستے کھول دے۔

(۲) 

اس نظریاتی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے یہ دیکھیں کہ وہ کون سے گھمبیر مسائل ہیں جو ہمیں (پاکستان کے مسلم معاشرے میں) درپیش ہیں اور جن کا حل ہمیں ڈھونڈنا ہے۔ ہمارے نزدیک اہم ترین مسائل چار ہیں: i۔ اخلاقی ابتری، ii۔ افتراق ، iii۔ جہالت، iv۔ غربت۔ لیکن پیشتر اس کے کہ ہم ان مسائل کے حل کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ عرض کریں ، کچھ حقائق کا ادراک اور کچھ تصورات کا صحیح فہم ضروری ہے جن کے بغیر شائد ہماری بات صحیح تناظر میں سمجھی نہ جاسکے:

اولاً

بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اکثر وبیشتر عامۃ الناس کی خواہشات اور تمناؤں کے برعکس عمل پیرا ہیں اور یہ عموماً یورپ و امریکہ کی دریوزہ گر ہیں جن کی فکر و تہذیب اس وقت دنیا پر غالب ہے لہٰذا ہم ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے صرف اپنی حکومت پر انحصار نہیں کر سکتے۔اگرچہ ہم ان دینی قوتوں کی حمایت کرتے ہیں جو موجودہ حکومتوں کو مؤثراسلامی حکومتوں میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں یا ان پر دباؤ ڈال کر ان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کریں، لیکن ان بنیادی مسائل کو بہرحال صرف ایسی حکومتوں کی صوابدید اور رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جنہیں ان مسائل کے حل سے نہ صرف یہ کہ کوئی حقیقی دلچسپی نہیں بلکہ وہ انہیں اسلام کی بجائے مغربی فکر و تہذیب کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش میں انہیں مزید الجھا رہی ہیں جن سے بگاڑکم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے، بلکہ ہمیں عوام کی حمایت سے ان مسائل کو صحیح اسلامی تناظر میں حل کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں خود مقدور بھر کوشش کرناہے جس کی وسیع گنجائش موجودہے۔

دوم

’نفاذِ شریعت ‘ کے بارے میں ہمارے ذہن بالکل واضح نہیں۔ ہمارا عمومی تصور یہ رہاہے کہ یہ صرف ’حکومت‘ کے کرنے کا کام ہے۔ چنانچہ پہلے تو بعض دینی عناصر یہ تصور پیش کرتے رہے کہ نفاذِ شریعت کا مطلب ہے ’اسلامی قانون کا نفاذ‘ اور وہ ہر حکومت سے مطالبہ کرتے تھے کہ شریعت اور اسلامی نظام نافذ کرو مطلب یہ کہ اسلامی قوانین نافذ کرو۔چنانچہ جب ضیاء الحق صاحب نے ۱۹۷۹ء میں اسلامی حدود نافذ کردیں تو دینی لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد یں دیتے تھے کہ اسلامی قوانین نافذ ہوگئے ہیں۔ پھر جب ان قوانین پر نہ عمل ہوا اور نہ ان کے خوشگوار اثرات ظاہر ہوئے تو نفاذِ شریعت بذریعہ اسلامی قوانین کے تصور کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔پھر یہ تصور ابھارا گیا کہ ہمارے دنیا دار سیاستدان شریعت نافذ کرنے کے نہ اہل ہیں اور نہ اس کی سچی خواہش و جذبہ رکھتے ہیں بلکہ جب علماء اور دینی عناصر کی حکومت آئے گی تو وہ شریعت نافذ کرے گی لیکن صوبہ سرحد میں ملک کے اہم دینی عناصر کو اقتدار مل گیا تو وہاں بھی شریعت نافذ نہ ہوسکی۔اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس صوبے میں اختیارات کم تھے اگر مرکز میں ہماری حکومت ہوتی تو ہم شریعت نافذ کردیتے۔ ہم کہتے ہیں کہ ان کو مرکز میں حکومت بنانے کا موقع مل جائے تو بھی یہ مؤثر طور پر شریعت نافذ نہیں کرسکتے سوائے چند قوانین پاس کردینے یا کچھ سطحی قسم کے ظاہری اقدامات کر دینے کے۔ کیونکہ شریعت تو معاشرے میں اس وقت نافذ ہوگی جب ہر فرد اپنے آپ کو شریعت کے مطابق بدلنا چاہے گا یعنی جب لوگوں کے ذہن وقلوب بدلیں گے اور اداروں کے اور ان کے چلانے والوں کی سوچ اور ڈھب بدلیں گے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام، تعلیمی اداروں، میڈیا، پولیس، وکلاء،عدلیہ اور بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے اور ان کے ذریعے شریعت نافذ ہوسکتی ہے تومعاف کیجئے وہ جنت الحمقاء میں بستا ہے ۔

پس جب نفاذِ شریعت کی حقیقی ضرور ت یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن و قلوب کو بدلاجائے اور ان کی سوچ، ان کے کردار اور ماحول کو بدلاجائے تاکہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام پر خوشی سے عمل کرنے لگیں تو اس کے لیے اقتدار کا انتظار کیوں ضروری ہے؟ دینی عناصر عوام کے تعاون سے اور اقتدار کے بغیر، جو بھی وسائل میسر ہیں ان کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ کام کیوں نہیں کرتے اور کس نے ان کا ہاتھ پکڑا ہے کہ وہ یہ کام نہ کریں؟ خلاصہ یہ کہ نفاذِ شریعت کا صحیح مفہوم اور طریقہ یہ ہے کہ دینی عناصر کوایک ہمہ گیر دینی تحریک کے ذریعے تعمیر اخلاق، خاتمۂ افتراق، صحیح رخ میں تعلیمی اداروں اور میڈیا چینلز کے قیام اور غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی ان کاموں کا مطالبہ کرتے رہنا چاہئے اور جو لوگ ایک صالح حکومت کے قیام کے لیے عملی کوششیں کر رہے ہیں، ان کی بھی حمایت کرنی چاہیے۔

سوم

ہم جس دینی تحریک کی بات کر رہے ہیں اس سے مراد محض علماء کرام کی کوئی نئی جماعت نہیں بلکہ یہ پاکستانی مسلمانوں کے دینی و دنیاوی اہداف کے حصول کی ایک اجتماعی تحریک ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ’ اسلامی‘ اور’ دینی‘ کا سابقہ یا لاحقہ اس کے نام کا حصہ ہو تاہم اس تحریک کا تناظر اور اہداف دینی ہیں اور رہیں گے ۔ مختلف مکاتب فکر کے معتدل مزاج علماء کرام، جو دین کے عصری تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں، یقینااس تحریک کا ہراول دستہ ہوں گے لیکن اس کی حقیقی قوت سول سوسائٹی کے اسلام پسند افراد ہوں گے بلکہ ہر وہ مسلمان اس کا فعال حصہ ہوسکتا ہے جو اچھے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا خواہاں ہو،انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں پر استوار کیے جانے کا متمنی ہو اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی چاہتا ہو۔

چہارم

مجوزہ دینی تحریک غیر سیاسی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خدانخواستہ سیاست میں حصہ لینا غیر اسلامی حرکت ہے بلکہ سیاسی قوت کو دینی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور موجودہ سیاسی نظام کی اسلامی حوالے سے اصلاح کی کوشش کرنا ایک اہم دینی ضرورت ہے لیکن سیاسی جدوجہد کی صرف ایک ہی صورت نہیں کہ پاور پالیٹکس میں حصہ لیا جائے اور حصول اقتدار کے لیے انتخابی اکھاڑے میں کودا جائے لہٰذا مجوزہ دینی تحریک اجتماعی سیاسی قوت کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے کے لیے حسب ضرورت متعدد اقدامات کر سکتی ہے لیکن انتخابی سیاست میں حصہ نہ لے گی کیونکہ آج کل کے معروضی حالات میں انتخابی جدوجہد ایک کُل وقتی کام ہے اور اس کے کرتے ہوئے دوسرے اہم دعوتی، اصلاحی اور عملی کام نظر انداز ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور مجوزہ تحریک چونکہ ان غیر سیاسی دینی کاموں کو بھی اہمیت دیتی اور اس پرافراد کی صلاحیتیں لگانا چاہتی ہے لہٰذا نہ وہ پاور پالیٹکس میں حصہ لے گی اور نہ کسی کی حریف بنے گی۔

پنجم

مجوزہ تحریک بنیادی طور پردعوت و اصلاح کی تحریک ہوگی ۔ دعوت و اصلاح کا کام نیچے سے شروع ہوکر اوپر کو جاتا ہے یعنی پہلے فرد کی اصلاح ، پھر اہل خانہ اور اعزہ و اقربا، برادری و قبیلہ ، گلی و محلے کی اصلاح اور پھر اداروں اور ریاست و معاشرے کی اصلاح ۔ معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے جب افراد کی اصلاح ہوگی تو معاشرے اور ریاستی اداروں کی بھی بتدریج اصلاح ہوتی چلی جائے گی۔

فرد کی اصلاح ہمارے نزدیک بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ:

  • قرآن حکیم سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تمام انبیاء کرام اور خصوصاًآخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطبین کی اصلاح کا جو لائحہ عمل دیا گیا تھا وہ تعلیم کتاب و حکمت کے ذریعے ان کے نفوس کے تزکیہ و تربیت ہی کا تھا لہٰذا تبدیلی کا نبوی منہاج بھی یہی ہے کہ فرد کی تبدیلی پر ترکیز کی جائے۔ 
  • یہ فرد ہے جسے آخرت میں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے نہ کہ کسی تحریک یا قوم کو۔
  • معاشرے اور ریاست کے قیام اور ان کی ضرورت و اہمیت کی کنہ پر اگر غور کیا جائے تو ہم بالآخر اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس کا سبب بھی یہی ہے کہ فرد کو راہ راست پر چلنے میں معاونت ملے اور اس کی زندگی سکھ اور سکون سے گزرے۔
  • دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلاب آئے ہیں اور تہذیبیں قائم ہوئی ہیں ان کی اساس فرد میں تبدیلی تھی نہ کہ محض نظم اجتماعی کی بہتری بلکہ اوّل الذکر ایک لحاظ سے ثانی الذکر کی پیشگی ضرورت (pre-requisite) ہے۔
  • لاریب اجتماعی تبدیلی بھی اہم اور مطلوب ہے لیکن اس کی بنیاد فرد کی تبدیلی ہی ہے لہٰذا فرد اور اس کی سیرت، اس کی تمناؤں، آدرشوں اور اہداف کو تبدیل کیے بغیر، تبدیلی کو محض ریاستی قوت سے اور اوپر سے تھونپا اور مسلط نہیں کیا جا سکتا اور اگر بالفرض کر بھی دیا جائے تو وہ عارضی اور نا پائیدار ثابت ہوتی ہے لہٰذامعاشرے میں پائیدار تبدیلی لانے کے لیے فرد کی تبدیلی اہم تر ہے۔

خلاصہ یہ کہ مجوزہ تحریک جو تبدیلی پاکستان کے مسلم معاشرے میں اجتماعی سطح پر لانا چاہتی ہے اس کے لیے وہ فرد کی تبدیلی کا راستہ اختیار کرے گی۔

ششیم

بعض علماء کرام اور دینی لوگوں کو اس مجوزہ تحریک کا لائحہ عمل دیکھ کریہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اس میں عقیدے کی اصلاح اور نماز، روزے اور داڑھی وغیرہ پر زور نہیں دیا گیا تو یہ کیسی دینی تحریک ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو تصور دین شائع اورمروج ہے، اس میں علماء کرام ان باتوں پر پہلے سے خوب توجہ دے رہے ہیں اس لیے ہم نے ان پر زور دینا ضروری نہیں سمجھا کہ یہ تحصیل حاصل ہوگا۔ دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں جوتصور دین بدقسمتی سے شائع اورمروج ہے اس میں دو باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں کے سارے مکاتب فکر کے ثقہ اور سنجیدہ علماء کرام خوب جانتے اور مانتے ہیں کہ وہ غلط ہیں لیکن حالات کے جبر نے انہیں نمایاں کردیا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک تو دین و دنیا کی تفریق کا مسئلہ ہے (جسے آج کل کی زبان میں سیکولرزم کہا جاتا ہے)۔ سارے علماء کرام جانتے اور مانتے ہیں کہ اسلام میں دین و دنیا کی کوئی تفریق نہیں ہے اور اسلام ادخلوا فی السلم کا فۃ کا علم بردار ہے لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اگر محلے کے لوگ نماز نہ پڑھیں تو یہ ’اسلامی مسئلہ‘ ہے لیکن محلے کا ایک مسلمان بھوک سے مر رہا ہو تو یہ ’اسلامی مسئلہ‘ نہیں ہے۔ ہماری رائے میںیہ غلطی مضمون سب پر واضح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کل مسلک کو دین کا مترادف سمجھ لیا گیاہے جو کہ ظاہر ہے سارے سنجیدہ علماء کرام جانتے اور مانتے ہیں کہ غلط ہے ۔

غرض یہ کہ دینیاتی امور اور عبادات وغیرہ کو ہم نے بظاہر اس تحریک میں براہ راست فوکس اور نمایاں نہیں کیا لیکن پوری تحریک کا تناظر اور فریم ورک ایسا رکھا ہے کہ یہ مقصد ان شاء اللہ بالواسطہ طور پرحاصل ہوجائے گا۔

ہفتم

اس وقت ملک میں کئی دینی سیاسی جماعتیں اسلامی حوالے سے سیاست کے میدان میں کام کر رہی ہیں اور بہت سی دعوتی و اصلاحی تحریکیں ، تنظیمیں اور ادارے دعوتی و اصلاحی میدان میں کام کررہے ہیں ۔ مجوزہ نئی تحریک ان میں سے کسی کی حریف نہیں ہوگی اور ان پر تنقید اوران کی تنقیص نہیں کرے گی بلکہ تحریک کا ماٹو سب کے لیے محبت اور ہر خیر سے تعاون ہوگا۔

(۳)

اس ناگزیر تمہیدی گفتگو کے بعد آئیے اب مذکورہ چار بنیادی مسائل کے حل کے لائحہ عمل کی طرف۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے حل کے لیے مجوزہ تحریک کو چار شعبے یا چار طرح کے ادارے قائم اور متحرک کرنے پڑیں گے:

۱۔ تعمیر اخلاق

اگر آپ دقت نظرسے دیکھیں اور غور کریں تو آپ پر عیاں ہوجائے گا کہ ہمارا اصل بحران اخلاقی ہے۔ حبِّ دنیا، حبِّ مال، حبِّ جاہ، جھوٹ، فریب، دھوکہ، رشوت، کرپشن،چوری، ڈاکے ، فحاشی ، عریانی وغیرہ ہماری سیرت بن چکے ہیں اور اس اخلاقی ابتری نے ہمیں دنیا میں کمزور ، رسوا اور تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اور مسلم روایت میں اس کا علاج ہے ایمان اور تعلق باللہ کی مضبوطی اور فکر آخرت لہٰذا اس تناظر میں مجوزہ تحریک لوگوں کے تعمیر اخلاق کے لیے چار سطحوں پر کام کرے گی:

i۔ نسل نو کی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں میں صحیح تعلیم و تربیت کا فعال نظام۔

ii۔ بڑوں (grown ups) کے لیے ایسی تربیت گاہوں کے قیام کی حوصلہ افزائی جن میں فرد میں تبدیلی کے لیے صحبت صالح اور کثرت ذکر جیسے منصوص اور آزمودہ وسائل استعمال ہوں اور جن میں تصوف کی مروجہ غیر اسلامی رسوم و بدعات قطعاً نہ ہوں۔

iii۔ میڈیا کے ذریعے مناسب ذہن اور ماحول کی تیاری۔

iv۔ گلی محلے کی سطح پر اخلاق سدھار کمیٹیوں کا قیام جو منکرات کو پھیلنے سے روکیں اور اوامر و معروفات پر عمل کرائیں اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

۲۔ اتحاد

باہمی افتراق و انتشار نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اختلاف رائے کو ہم بڑی مہارت سے دشمنی اورنفرت میں بدل لیتے ہیں اور حق کو صرف اپنی رائے اور مسلک تک محدود اور اس میں محصور سمجھتے ہیں۔ مجوزہ تحریک کا قیام ہی تحمل، بردباری اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کامظہر ہوگا کیونکہ اس میں مختلف دینی مسالک اور متنوع سیاسی مکاتب فکر کے لوگ باہم مل جل کر کام کریں گے۔ اس تحریک کا تعلیمی شعبہ بھی کوشش کرے گا کہ دینی تعلیم میں فرقہ واریت اور مسلک پرستی کا رجحان کمزور ہو اور مشترکہ پہلوؤں کو ابھارا جائے۔ اسی طرح اس تحریک کے تحت جو تربیت گاہیں کام کریں گی یا بزنس فورم قائم ہوں گے یا فلاحی مرکز بنیں گے وہ بھی بلا لحاظ دینی و سیاسی مسلک کام کریں گے اور اس طرح قوم میں اتحاد و یکجہتی کی فضا پروان چڑھے گی۔ اسی طرح تحریک بین الاقوامی سطح پر اتحاد امت اور قوموں کے درمیان پُر امن بقائے باہمی کی نقیب ہوگی۔

۳۔ تعلیم اور میڈیا

جہالت ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی بنیادی مسئلہ ہے کہ کم شرح تعلیم نہ صرف بیروزگاری کا سبب ہے اور اس نے سیاسی عمل کی افادیت کو گہنا دیا ہے بلکہ ہمیں اخلاقی و معاشرتی مسائل سے بھی دوچار کر رکھا ہے کیونکہ یہ صحیح تعلیم و تربیت ہی ہے جو دماغوں کو روشن کرتی اور دلوں کو بدلتی ہے۔ ترکی اور انڈونیشیا میں ہزاروں سکول اور بیسیوں کالج اور یونیورسٹیاں وہاں کی دینی تحریکیں چلارہی ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ لہٰذا تحریک کوشش کرے گی کہ ہر سطح کے ماڈل تعلیمی ادارے قائم کرے(اور موجودہ اداروں کی اصلاح کرے)تاکہ جو طلبہ جدید تعلیم حاصل کریں وہ دینی تعلیم و تربیت سے بھی بہرہ ور ہوں اور اچھے ڈاکٹر، انجنئیر۔۔۔بننے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے مسلمان بھی ہوں ۔ اور جو طلبہ دینی مدارس میں اسلام کی تخصصی تعلیم حاصل کریں وہ جدید علوم سے ناآشنا اور عصری تقاضوں سے غافل نہ ہوں تاکہ آج کے معاشرے کی مؤثر رہنمائی کرسکیں۔ ظاہر ہے اس کے لیے نصابات اور تربیت اساتذہ کے موجودہ مناہج پر نظر ثانی کرناہوگی اور تعلیمی اداروں کے موجودہ ماحول کو بدلنا ہوگا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ تعلیم اسلامی اقدار کے تناظر میں دی جائے نہ کہ مغربی تہذیب کی اندھی پیروی کرتے ہوئے۔

میڈیا آج کل غیر رسمی تعلیم کا بہت بڑا ذریعہ ہے جو لوگوں کے اذہان و قلوب اور فکر و عمل پر شدت سے اثر انداز ہو رہاہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو عناصر مسلمانوں کی راہ کھوٹی کرنا چاہتے ہیں وہ تعلیم اور میڈیا کو اسلام اور اسلامی اقدار سے انحراف کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس لیے تحریک نہ صرف اپنا ٹی وی چینل کھولے گی بلکہ موزوں تعلیم و تربیت سے ایسے ماہرین بھی تیار کرے گی جو ابلاغ کے فن میں مہارت رکھتے ہوں اور اسلامی ذہن بھی رکھتے ہوں تاکہ وہ جہاں بھی کام کریں اسلامی نظریات و اقدارکی حفاظت کی کوشش بھی کریں۔

۴۔ غربت کا خاتمہ

مجوزہ تحریک غربت کے خاتمے اور غریبوں کی مد دکے لیے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر کام کرے گی:

i۔ بزنس فورم کا قیام: تحریک ان لوگوں کو جو صنعت و تجارت کے شعبے میں کام کررہے ہیں اور تحریک کے مقاصد سے اتفاق رکھتے ہیں منظم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس سے ان کو اپنی صنعت و تجارت کوبڑھانے کا موقع ملے گا، باہمی روابط اور مواقع بڑھیں گے اور ان کا کاروبار پھلے پھولے گا۔تجارت کے غیر شرعی طریقوں سے بچنے کی مشاورت کے ساتھ ساتھ تحریک ان کو فی سبیل اللہ انفاق پر ابھارے گی اور ایسے شعبوں میں کام کرنے کا مشورہ دے گی جو اسلامی اور ملی لحاظ سے زیادہ اہمیت و افادیت رکھتے ہوں مثلاً تعلیم ،میڈیااور دیہی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کا قیام۔۔۔وغیرہ

ii۔ فلاحی مراکز کا قیام: تحریک گلی محلے کی سطح پر ایک ملک گیر نیٹ ورک قائم کرے گی جو اس علاقے کے کھاتے پیتے لوگوں کی اعانتوں سے ایک فنڈ قائم کرے گا اور اسی علاقے کے مستحق غریبوں ، یتیموں ، بیواؤں اور بیروزگاروں پر خرچ کرے گا تاکہ ان کے علاقے میں کوئی بھو ک سے خود کشی نہ کرے، لوگ بنیادی ضروریات کو نہ ترسیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ اس فنڈ سے علاقے میں فری ڈسپنسریاں قائم کی جائیں گی، غریب بچیوں کی شادیاں کی جائیں گی اور دیگر فلاحی کام کیے جائیں گے۔

iii۔ تحریک عمومی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے ووکیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کرے گی تاکہ غریبوں کے بچے وہاں کوئی ہنر سیکھ کر جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔

مجوزہ تحریک کی ضرورت و اہمیت

کسی ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں پہلے سے بہت سے دینی ادارے ، تنظیمیں اور جماعتیں موجود ہیں تو اب ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کسی جماعت اور تنظیم کے کام کی تنقیص نہیں کرتے لیکن جو تنظیمیں اور ادارے اس وقت موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں، ان کی محنت و کوشش کے باوجود معاشرے کے بگاڑ کا حال ہمارے سامنے ہے۔ اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ بگاڑ کی قوتیں زیادہ منظم اور طاقتور ہیں اور ان کے برے اثرات کا رد کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ نیز یہ کہ کام کرنے کے جو منہاج یہ جماعتیں اور ادارے اختیار کرچکے ہیں، ان کی ممکنہ افادیت تو حاصل ہوچکی اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی کام کے نئے منہاج سوچے اور آزمائے جائیں۔ موجودہ کاوشوں کے ناکافی ہونے کے دو ثبوت اظہر من الشمس ہیں:

ایک: یہ کہ پاکستانی معاشرہ بڑی تیزی سے مغربی فکر و تہذیب کے سیلاب میں بہتاچلاجا رہاہے اور اسلامی اقدار پر عمل دن بدن کم اور کمزور ہوتا جارہا ہے۔

دوم: دینی عناصر کی اصلاح کی موجودہ پُر امن کوششوں کے غیر مؤثر ہونے اور حکومتوں کے ناروا غیر اسلامی رویوں سے مایوس ہو کر اور تنگ آکر شمال مغربی سرحدی قبائلی علاقوں کے بعض دینی عناصر نے بذریعہ قوت اصلاح کا طریقہ اختیار کر لیاہے ۔ حکومت پاکستان اور ان عناصر کے درمیان مسلح جنگ نے خطے کے پیچیدہ حالات اور یورپ و امریکہ اور بھارت کی موجودگی اور مداخلت کی وجہ سے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے مسلمانوں کا خون بے دردی سے بہہ رہا ہے۔ مطلب یہ کہ مذکورہ بالا حالات یہ ثابت کرر ہے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو اسلامی اساس پر قائم رکھنے کے لیے کی جانے والی موجودہ پُر امن کوششیں ناکافی ہیں اور یہ کہ موجودہ حالات پر غور کر کے کام کے نئے راستے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ چنانچہ ایک نئی دینی تحریک کی ہماری تجویز ایک بہت بڑے خلا کو پُر کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ بھر پور قوت سے معاشرے میں روبہ عمل آجائے۔

کیا یہ سب کچھ ممکن ہے؟

کئی لوگ یہ تحریرپڑھ کر تبصرہ کریں گے کہ یہ ایک یوٹوپیا ہے، ایک تصوراتی بات ہے جو قابل عمل نہیں ہے ۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ بالکل قابل عمل منصوبہ ہے۔ ایسی تحریک چل سکتی ہے بلکہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ایسی تحریک ضرور چلنی چاہئے ۔ دیکھئے، آپ کے سامنے مثالیں موجود ہیں، خود پاکستان کی مثال لیجیے۔ اکیلا ایدھی زبردست فلاحی نیٹ ورک چلا رہا ہے ۔ ’اخوت‘ کروڑوں کے چھوٹے قرضے دے کر غریبوں کے چولہے جلا رہی ہے، اسی طرح کا کام بنگلہ دیش میں گرامین بنک کر رہا ہے۔انڈونیشیا کی جماعت نہضۃ العلماء ۱۳ یونیورسٹیاں، بیسیوں کالج اور ہزاروں سکول چلا رہی ہے۔ ترکی کی نورسی تحریک نے اپنے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال پھیلانے کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں میں ۶یونیورسٹیاں اور ۳۰۰ اسکول قائم کردیے ہیں۔ ان کے ۱۰۰ سکول امریکہ میں قائم ہیں جہاں امریکی بچے پڑھتے ہیں۔ غرض یہ نہ کہیے کہ کام نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو اچھی پلاننگ اور مؤثر لیڈر شپ سے یہ کام ہوسکتے ہیں اور ہمارے ملک میں ، الحمدللہ، ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد دینی ہے لہٰذا سب سے پہلے ایسے علماء کرام کو سامنے آنا چاہئے جو اس طرح کی تحریک کی بنیاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پھراگر اخلاص ، محنت، حکمت اور جذبہ آپ کے ساتھ رہا تو اس سوسائٹی سے آپ کو ایسے افراد ، ان شاء اللہ، بڑی تعداد میں مل جائیں گے جو اس تحریک کو اٹھا سکیں۔ اس کام کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس موضوع پر سوچ بچار کی جائے۔ ہم نے محض کچھ تجاویز سامنے رکھی ہیں جن میں سے کوئی چیزحرفِ آخر نہیں۔ ضروری ہے کہ بحث و تنقید سے اس تصور کو منقح کیا جائے تاکہ کوئی متفقہ اور قابل عمل بات سامنے آسکے۔

تلخیص مباحث

ہماری گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو اسلام پر قائم رکھنے کے حوالے سے موجودہ دینی کاوشیں ناکافی ثابت ہورہی ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایک نئی دینی تحریک اٹھے جس کے خدوخال یہ ہوں:

  • یہ ایک غیر سیاسی اصلاحی تحریک ہو۔
  • اس میں سارے دینی مسالک ، سیاسی مکاتب فکر اور سول سوسائٹی کے لوگ شامل ہوں۔
  • یہ تحریک سوسائٹی کے مؤثر طبقات اور افراد کو گراس روٹ لیول پر منظم اور متحرک کرے، ماڈل تعلیمی ادارے اور میڈیا چینلز قائم کرے، بزنس فورم اور فلاحی مراکز قائم کرے اور ان کے ذریعے تعمیر اخلاق اور غربت و جہالت کے خاتمے کی جدوجہد کرے۔ ھذا ما عندنا والعلم عند اللہ۔

آراء و افکار

(اپریل ۲۰۱۰ء)

Flag Counter