پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کا متن

ادارہ

پارلیمنٹ کے اس مشترکہ ان کیمرہ سیشن نے ان معاملات کو نہایت تشویش کی نظر سے دیکھا ہے جو قومی ریاست کی سالمیت اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات ایوان کے سامنے رہی ہے کہ ماضی میں آمرانہ حکومتوں نے ایسی پالیساں اختیار کیے رکھی ہیں جن کا مقصد قومی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنا تھا۔

یہ ایوان صورت حال پر پوری طرح اور تفصیلی غور وخوض کرنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ قوانین وضع کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے، شہریوں کو تشدد سے بچانے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے، معیشت کی تشکیل نو اور محروم طبقات کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ہم سب درج ذیل امور کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار کریں:

۱۔ یہ کہ ہمیں قومی سلامتی کی حکمت عملی پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے اور آزادانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان میں اور خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے دہشت گردی کے مقابلے کے طریق کار پر بھی دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ 

۲۔ یہ کہ عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا اتفاق رائے پیدا کر کے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکالمہ کے ذریعے سے کرنا چاہیے۔ 

۳۔ یہ کہ قوم اس بڑھتی ہوئی لعنت کے مقابلے کے لیے متحد ہے۔ رائے عامہ پرزور طریقے سے دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کی، جن میں فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کا فروغ بھی شامل ہے، مذمت کرتی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے بنیادی اسباب کو دور کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔

۴۔ یہ کہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا۔ قوم وطن عزیز میں کسی نوع کی مداخلت اور حملوں کے خلاف متحد ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں کے ساتھ موثر طریقے سے نمٹے۔

۵۔ یہ کہ پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف کسی نوع کے حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور اگر ملک میں کہیں غیر ملکی جنگ جو پائے جائیں تو انھیں ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا۔

۶۔ یہ کہ تصادم سے نمٹنے اور اس کو حل کرنے کے لیے بنیادی وسیلے کے طور پر اب مذاکرات ہی اولین ترجیح ہوں گے۔ ان تمام عناصر کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو پاکستان کے آئین اور قانون کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔

۷۔ یہ کہ شورش زدہ علاقوں، خصوصاً قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد (پختون خواہ) کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ طریقے اور جائز ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ لوگوں میں یقین پیدا ہو کہ ان کے مفادات امن وامان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کم ترقی یافتہ علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

۸۔ یہ کہ بلوچستان کے عوام سے سیاسی مذاکرات کیے جائیں گے، ان کی شکایات دور کی جائیں گی اور وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے کا عمل تیز رفتاری سے کیا جائے گا۔

۹۔ یہ کہ وفاق قانون کی حکمرانی کو قائم رکھے گا اور جب کبھی شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے ریاست کو مداخلت کی ضرورت محسوس ہو تو تصادم کے علاقے میں آباد غیر جانبدار شہریوں کو جانی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے پوری احتیاط سے کام لیا جائے گا۔

۱۰۔ یہ کہ وفاق کو جمہوری کثرت رائے، سماجی انصاف، مذہبی اقدار اور رواداری اور ۱۹۷۳ء کے آئین کے مطابق صوبوں کے درمیان وسائل کی مساوی تقسیم کے ذریعے سے مضبوط بنایا جائے گا۔

۱۱۔ یہ کہ مملکت شورش زدہ علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرے گی، روایتی اور مقامی جرگوں سے مدد لیتے ہوئے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے اور جتنی جلدی ممکن ہو، فوج کی جگہ قانون نافذ کرنے والی سول ایجنسیوں کو، جن کی کارکردگی کی صلاحیت کو بہتر بنایا گیا ہو، متعین کیا جائے گا، اور مشاورت کے ذریعے ایک قابل تسلسل سیاسی نظام کو مستحکم کیا جائے گا۔ 

۱۲۔ یہ کہ مغربی اور مشرقی سرحدوں پر (دو طرفہ) مفادات کو علاقائی امن اور تجارت کے ساتھ منسلک کر کے پاکستان کے تزویراتی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

۱۳۔ یہ کہ تشدد کا نشانہ بننے والوں کو معاوضہ ادا کر کے اور بے گھر ہونے والوں کی ان کے گھروں میں جلد از جلد آباد کر کے داخلی سطح پر تحفظ کے انتظامات کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی، دہشت گردی کے توسع پذیر اثرات پر پورے ملک میں قابو پایا جائے گا، اور ذرائع ابلاغ اور مذہبی (طبقات) کو شریک کار بناتے ہوئے رائے عامہ کی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔

۱۴۔ یہ کہ پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس قرارداد میں متعین کردہ اصولوں اور بتائے گئے لائحہ عمل پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کرے گی، راہنما خطوط فراہم کرے گی اور ان کے نفاذ کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ یہ ایوان قومی اسمبلی کی اسپیکر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے پارلیمانی لیڈروں سے صلاح مشورہ کر کے اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں۔ کمیٹی اجلاس کے موقع پر اپنے قواعد وضوابط خود وضع کرے گی۔ 

(انگریزی سے ترجمہ: ابو طلال)


حالات و واقعات