نومبر و دسمبر ۲۰۰۸ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ۸؍اکتوبر کو طلب کر لیا ہے جس میں حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان پارلیمنٹ کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔ اجلاس میں امن وامان کی صورت حال پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ صدر اور وزیر اعظم کا یہ اقدام موجودہ حالات میں یقیناًخوش آئند ہے اور اس سے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کا موقع ملے گا، وہاں حکومت کے ذمہ دار حضرات بھی عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے عوام کے جذبات اور تاثرات سے مزید...

علمائے کرام کی ارکانِ پارلیمنٹ سے درد مندانہ اپیل

― ادارہ

معزز ارکانِ پارلیمنٹ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان جن نامساعد حالات سے گذر رہاہے،او رجس نازک صورتِ حال سے دوچار ہے، اور اس نے پوری پاکستان قوم کو جس تشویش او رفکر میں مبتلا کررکھا ہے ،وہ اہلِ نظر پر پوشیدہ نہیں۔ الحمدﷲ!کہ قومی اسمبلی،سینٹ کے منتخب ممبران او رحکومت کے سرکردہ افراد اس پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس نازک صورتِ حال پر غور کرنے کے لیے جمع ہیں۔اس اہم موقع پر ہماری یہ قومی اور شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کی خدمت میں اپنی کچھ گذارشات پیش کریں،تاکہ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور ملک کے موجودہ...

پارلیمنٹ کے معزز ارکان کی خدمت میں پاکستان شریعت کونسل کی عرضداشت

― ادارہ

(اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ۸؍ اکتوبر ۲۰۰۸ کو شروع ہونے والے اجلاس کے موقع پر پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ارکان پارلیمنٹ اور قومی پریس کی خدمت میں مندرجہ ذیل عرض داشت پیش کی گئی۔)۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بگرامی خدمت معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ ملک بھر کے محب وطن اور اسلام دوست عوام بالخصوص علماے کرام اور دینی حلقوں کے لیے یہ بات باعث مسرت واطمینان ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے ۸؍اکتوبر ۲۰۰۸...

پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کا متن

― ادارہ

پارلیمنٹ کے اس مشترکہ ان کیمرہ سیشن نے ان معاملات کو نہایت تشویش کی نظر سے دیکھا ہے جو قومی ریاست کی سالمیت اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات ایوان کے سامنے رہی ہے کہ ماضی میں آمرانہ حکومتوں نے ایسی پالیساں اختیار کیے رکھی ہیں جن کا مقصد قومی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنا تھا۔ یہ ایوان صورت حال پر پوری طرح اور تفصیلی غور وخوض کرنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ قوانین وضع کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے، شہریوں کو تشدد سے بچانے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے، معیشت کی تشکیل نو اور محروم طبقات کے...

جدیدیت کے خلاف مسلم معاشرے کا ردعمل ۔ نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت

― ڈاکٹر محمد امین

امت مسلمہ علمی، تہذیبی ، سماجی ، معاشی، دفاعی اور سیاسی شعبوں میں اپنی برتری ایک ہزار سال تک برقرار رکھنے کے بعد جب زوال پذیر ہوئی تو اس کے دو بنیادی سباب تھے۔ ایک اس کی اپنے نظریہ حیات سے مستحکم وابستگی میں کمزوریاں در آئیں اور دوسرے اس کی حریف صلیبی اور یہودی قوتوں کی سازشیں جنہوں نے نہ صرف مسلم معاشرے کو مغلوب کیا بلکہ اس پر قبضہ کر کے اسے پنے فکر ونظر کے مطابق قوت سے بدل ڈالاتاکہ مسلمان آئندہ کبھی سر نہ اٹھاسکیں اور ہمیشہ ان کے غلام ہی رہیں ۔ لیکن اسلام چونکہ اپنے ماخذ سمیت محفوظ موجود تھا اور وہ مزاجاً کفر سے مغلوبیت کو قبول نہیں کرتا...

آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل

― محمد مشتاق احمد

مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح تصادم میں مبتلا ہیں ۔ یہ مسلح تصادم خواہ مسلمانوں میں سے بعض افراد نے شروع کیا ہو یا ان پر غیروں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہو ، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آداب اور قواعد لوگوں کے لیے واضح کیے جائیں جن کی پابندی ان پر اسلامی شریعت اور موجود بین الاقوامی قانون کی رو سے لازم ہے ۔ ایک افسوسناک امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ بہت سے لوگوں...

پاکستان کی جہادی تحریکیں: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ

― حافظ محمد زبیر

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے اپریل ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب سیف الحق صاحب کی طرف سے القاعدہ اوردوسری معاصرتحریکوں کے جہاد پر ایک تنقیدی تحریرشائع ہوئی ۔اس تحریر کے جواب میں جون ۲۰۰۸ء میں سید عرفان اللہ شاہ ہاشمی کا ایک خط شائع ہوا ۔مزید برآں اگست ۲۰۰۸ء کے شمارے میں سیف الحق صاحب کی تحریر پر شدید رد عمل کا اظہار دو خطوط کی صورت میں پڑھنے کو ملا ‘ جن میں سے ایک خط جناب مولانا محمد فاروق کشمیری صاحب کا تھا جبکہ دوسرا قاضی محمد حفیظ کا ‘۔جناب سید عرفان صاحب‘ مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کے شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کے حق میں جذبات قابل قدر...

خود کش حملے: چند توجہ طلب پہلو

― حافظ محمد سلیمان

موجودہ دور میں اس غلط تصور کو رواج دے دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہب اسلام کی پیدا وار یا اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہیں، حالانکہ یہ چیز واضح ہے کہ خود کش حملوں کا تعلق کسی خاص مذہب و ملت سے نہیں ہے۔ اگر ان کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ خود کش حملے دراصل سیاسی اور معاشرتی جبرواستبداد کی پیدا وار ہیں اور جہاں بھی مخصوص اسباب پائے جائیں گے، وہاں لوگ اس طرح کی کارروائیوں پر مجبور ہوں گے۔ انسان استبدادی نظام کو فطرتاً اور طبعاً پسند نہیں کرتے اور یہ چیزان کے عقل ومزاج کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے جب انہیں اپنی مظلومیت کا احساس...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) گرامی قدر حضرت والد صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بین الاقوامی سطح پر غیر مسلم لابیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ان کے موثر جواب کے لیے مسلم رہنما اسلامی ٹی وی چینل اور کیبل کا سوچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں علما کی دو رائے سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طبقہ، جس کی قیادت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب مدظلہ اور مولانا علی احمد سراج صاحب مدظلہ وغیرہ کر رہے ہیں، یہ کہتا ہے کہ ایسا ٹی وی چینل اور کیبل جائز اور درست ہے جس میں فوٹو بھی آتی ہے اور ان حضرات نے آپ کے حوالے سے ایک خبر شائع کی جو کہ اخبارات میں شائع...