خود کش حملے: چند توجہ طلب پہلو

حافظ محمد سلیمان

موجودہ دور میں اس غلط تصور کو رواج دے دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہب اسلام کی پیدا وار یا اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہیں، حالانکہ یہ چیز واضح ہے کہ خود کش حملوں کا تعلق کسی خاص مذہب و ملت سے نہیں ہے۔ اگر ان کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ خود کش حملے دراصل سیاسی اور معاشرتی جبرواستبداد کی پیدا وار ہیں اور جہاں بھی مخصوص اسباب پائے جائیں گے، وہاں لوگ اس طرح کی کارروائیوں پر مجبور ہوں گے۔ انسان استبدادی نظام کو فطرتاً اور طبعاً پسند نہیں کرتے اور یہ چیزان کے عقل ومزاج کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے جب انہیں اپنی مظلومیت کا احساس وادراک ہو جا تا ہے تو وہ مستبدانہ نظام کے خلاف مزاحمت کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی بات اصولی طور پر ان مغربی استعماری قوتوں پر صادق آتی ہے جنہوں نے وسطی ایشیا پراپنی قوت وطاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمایا۔ اسی طرح جب انسان کے بنیادی حقوق، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، معاشرتی ہوں یا معاشی، سلب ہو جاتے ہیں تو قومیں اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنی طاقت کی حد تک اپنی زندگی کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ جب انہیں حصول انصاف اور آزادی وخود مختاری سے ناامیدی اور مایوسی ہو جاتی ہے تووہ اس صورت میں اپنی اور دوسروں کی زندگی کاامن وامان اور سلامتی پامال اور تہس نہس کر دیتی ہیں۔ کبھی خونزیزی کا سبب اور وجہ طبقاتی تقسیم ہو ا کرتا ہے۔ جو معاشرہ طبقاتی تقسیم میں مبتلا ہو اور وسائل چند مخصوص گروہوں اور افراد کے ہاتھوں میں ہوں تو محروم طبقات غیر روایتی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کا پہلو اختیار کرتے ہیں۔

انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ تمام حقوق میں سب سے زیادہ اہم حق جان کا تحفظ ہے، کیونکہ زندگی کے تحفظ کے بغیر نہ تو انفرادی ترقی ناممکن ہے اور نہ اجتماعی طورپر کوئی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ جب تک زندگی کی حفاظت کی ضمانت نہ ہو، زندگی کے مقاصد کا حصول ناممکن بن جاتا ہے۔ انسان کے مدنی حقوق میں اولین حق زندہ رہنے کا حق ہے اور اس کے مدنی فرائض میں سے اولین فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ کسی ذاتی فائدہ کی خاطر یاکسی ذاتی عداوت کی بنیاد پر اپنے ایک بھائی کو قتل کر دینا بدترین قساوت اور انتہائی سنگ دلی ہے جس کا ارتکاب کر کے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا ہونا تو درکنار، اس کادرجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی محال ہے۔ 

اسلام نے انسانی جان کو محترم قرار دیا ہے۔ احترام نفس کی جیسی صحیح اور موثر تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ بات مذہب اسلام کی خصوصیات میں شمار کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے افکار ونظریات کی بنیاد پر انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو امن اور تحفظ کا یقین دلاتا ہے اور اس بات کا درس دیتا ہے کہ کوئی انسان اپنے جذبات وخواہشات کی بنیاد پر دوسروں کے حقوق کو پامال نہ کردے اور انسانی جان ومال کو بلاوجہ ہلاک اور ضائع نہ کرے۔ مذہب اسلام میں انسانی جان کی ہلاکت اور اموال محترمہ کے ضیاع کو ایک قابل سزا جرم قرار دیاگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ناحق طور پر ہونے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ (المائدۃ،۵:۹۱) اس لیے کہ مذہب اسلام نے ہر انسان کو پوری آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق عطا کیا ہے اوراگر انسانی نظام حیات میں خلل واقع ہو جائے تو اس مقاصد شریعت یعنی حفاظت دین، حفاظت نفس، حفاظت عقل، حفاظت نسل اورحفاظت مال وغیرہ میں فساد لازم آئے گا۔ 

جہاں تک خود کش حملوں کا تعلق ہے تو میدان جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے فدائی کارروائیوں یا کسی دوسری صورت کو اختیار کرنے کی گنجایش ہے، لیکن ایک اسلامی ریاست اور سلطنت میں مسلمانوں یا معاہد غیر مسلموں کے خلاف کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنے کا جواز نہیں جس سے ناحق طور پر جانوں کی ہلاکت اور اموال کا ضیاع ہو۔ اس ضمن میں تشدد پسند عناصر کا رویہ اسلام کے حقیقی فلسفہ امن وامان کو مسخ کرنے اور اسلام کی ایک بے حد غلط تصویر دکھانے کا موجب بن رہا ہے۔ جو تنظیمیں اور جماعتیں ایک مسلم ریاست کے اندر مسلمانوں کے خلاف ان کارروائیوں اور حملوں کو جائز سمجھتی ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام جیسے پاکیزہ مذہب اور جہاد جیسے مقدس فریضہ کی اصل روح کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طرز عمل کے نتائج وعواقب کاادراک کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں وہ جہاد کی اصل حقیقت یعنی اعلاے کلمۃ اللہ ہی سے نا آشنا اور شرعی واخلاقی حدود وقیود سے رو گرداں تو نہیں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک شخص مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے، دوسرا شخص اس لیے جہاد کرتا ہے کہ دنیا میں اس کا چرچا ہو، تیسرا شخص اس لیے جہاد کرتاہے کہ فن سپہ گری کی اعلیٰ مہارت دکھائے توان میں سے فی سبیل اللہ کرنے والا کون سا ہے؟ جنا ب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صرف اس لیے جہاد کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ (بخاری، رقم:۲۵۹۹) سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اعلاے کلمۃ اللہ کی بجائے دین کا چہرہ مسخ کرنے اور لوگوں کو اس سے دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں؟

ان تنظیموں اور افراد کا مقصود اگر ان کارروائیوں سے معاشرے کی ایسی شخصیات یا عناصر کو ختم کرنا ہے جو ان کے خیال میں مذہب اور ملت کے لیے نقصان دہ ہیں تو اسلامی قانون میں اس کی بھی گنجایش نہیں۔ ملت ومذہب کی تقویم کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں کشت وخون نہ ہو اورنہ لوگوں کو جبر واکراہ کے ذریعے اسلامی احکام پر عمل پیرا کیا جائے۔ ایسے ماحول میں حکمت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن ا لمنکر کا فریضہ ادا کرنا چاہیے تاکہ ارباب اقتدار میں اسلامی احکام و قوانین کورائج کرنے کی طرف جھکاؤ پیدا ہو جائے اور عوام الناس اس پر عمل پیرا ہو ں۔ اگر اسلامی احکام پر عمل کرنے اور انھیں رواج دینے میں معاشرہ اور حکام کی طرف رکاوٹ پائی جائے تو اس وقت چاہیے کہ آدمی اپنی قوت وبساط کے مطابق احکام پر عمل پیرا ہو، اس لیے کہ عدم استطاعت کا شرعی عذر موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ’لا یکلف اللہ الاوسعہا‘ (البقرہ،۲:۲۸۶) میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اعتدال پسندی کا عملی مظاہر ہ کرے نہ یہ کہ معاشرہ میں خون ریزی اور فساد برپا کر دے جو کہ مصلحت شرعی اور مصلحت عامہ کے خلاف ہے۔

پھر یہ بات بھی اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ہے کہ جرم کی سزا مجرم ہی کو دی جانی چاہیے اور سزا بھی شرعی حدود وقیود کے مطا بق ہونی چاہیے۔ قرآن مجید نے عدل وانصاف پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’ولا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لاتعدلوا، اعدلوا‘ کہ کسی طبقے کے ساتھ دشمنی اور مخالفت تم کو ناانصافی کے راستے پر نہ لے جائے، بلکہ تم ان کے ساتھ بھی انصاف کا حق ادا کرو۔ (المائدۃ،۵:۸) ایسے ہی مذہبی معاملات میں بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے جملہ اخلاقی پہلووں پر غور وفکر اور مشاہداتی نتائج کی روشنی میں عدل وانصاف، مساوات اور رواداری وغیرہ جیسے امور کے مفقود ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ پھر یہ طرز عمل متعصبانہ اور جاہلانہ رویے کی نشاندہی کرتا ہے، حالانکہ تعصب تنگ نظری اور انتہاپسندی کی علامت ہوا کرتا ہے۔ 

اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ احتجاج کا قانونی راستہ ہمیشہ کھلا رکھا جائے۔ اگر احتجاج مبنی بر حقیقت ہے تو اسے قبول کیا جائے اور اگر خلاف واقعہ ہے تو متاثرین کو مطمئن کیا جائے۔ ملک کے ایک عام شہری کو بھی امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے دائرہ کار کا لحاظ رکھتے ہوئے ارباب اقتدار کو روکنے ٹوکنے کا حق حاصل ہے۔ اگر کچھ لوگ اسلامی نظریہ سے ہٹ کر کوئی غیر سنجیدہ طریقہ اختیار کریں تو ان کا بھی بہتر طریقہ پر جواب دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ادفع بالتی ھی احسن السیءۃ (مومنون: ۹۶) یعنی برائی کو بھی احسن طریقے سے دور کرو۔ گویا اسلام ہر آدمی کو ایک دائرہ کار دیتا ہے جس کے مطا بق وہ زندگی اختیار کرے۔ ایسی سرگرمیاں اور کارروائیاں جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو، منافرت اور عداوت کی چنگاریاں سلگاتی ہیں جو کسی وقت بھی پورے معاشرے کے امن وامان کو تباہی اور بربادی سے بدل سکتی ہیں، لہٰذا اسی خطرہ کے انسداد کے لیے یہ حکم ہوا کہ مخالفین کے سب وشتم کا جواب تلوار سے دینے کے بجائے ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ اس قسم کی نوبت بھی نہ آئے کہ دوسروں کی دل آزاری اور دل شکنی ہو۔ مذہب اسلام کی شناخت ہی یہی ہے کہ جبر وتشدد کا راستہ ترک کرکے اعتدال پسندی اور رواداری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ 

تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانے کو اس لیے بھی فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے کہ وہ تمام جنگی امور میدان کارزار میں جائز ہوا کرتے ہیں جن سے دشمن کو نقصان پہنچے، مگر ایک اسلامی ریاست میں ایسے امور کو اختیار کرنا جن سے اسلامی سلطنت کی بنیادیں کمزور ہوں، قومی املاک اور اثاثوں کو نقصان پہنچایا جائے اور نتیجتاً ملت کا شیرازہ بکھر جائے، قطعاً ایک مذموم امر ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ملک شام کی طرف ایک اسلامی لشکر روانہ کیا تو آپؓ نے لشکر کے امیر یزید بن ابی سفیانؓ کو حکم دیا کہ ’’عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، بستیاں ویران نہ کرنا، کوئی بکری یا اونٹ کھانے کے سوا ذبح نہ کرنا، کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ ہی جلانا، خیانت نہ کرنا، اور نہ بزدلی دکھانا۔‘‘ (موطاامام مالک ،رقم: ۱۳۴۷ ) 

اس معاملے کا یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دور حاضر میں عالم اسلام کے جتنے بھی ممالک ہیں، دوسروں کے مقابلہ میں قوت وشوکت میں کمزور اور ضعیف ہیں اور خود ان ممالک کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں سے مزید سیاسی انتشار وافتراق پیدا ہوگا جس سے عالم اسلام کی انفرادی اور اجتماعی قوت مستحکم ہونے کی بجائے مزید کمزور پڑ جائے گی، جبکہ جہاد وقتال کا مقصد کلمۃ اللہ کی بلند ی اور دین اسلام کی سربلندی ہے اور دنیا کو تخریب کاری اور فساد سے نجات دلانا ہے۔ ایسی صورتوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان چیزوں میں خلل اور فساد واقع ہوتا ہے اور بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے ان کارروائیوں کے خلاف ردعمل ظاہر ہوتا ہے جس سے مسلمان مزید مصائب ور مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جبکہ اسلامی قانون اس بات پر زور دیتا ہے کہ جہاد وقتال کا مقصد فتنہ کی سرکوبی ہے نہ کہ فتنہ وفساد میں مزید اضافے کا سبب بن جانا۔

جو حضرات ان پالیسیوں اور سرگرمیوں کو مطلقاً اچھا سمجھتے ہیں اور اس میں شریک ہیں، انھیں ماضی کے حالات پر بھی گہری نظر رکھنی چاہیے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی مختار اور نیم خودمختار حکومتیں قائم ہوں اور پھر خانہ جنگیوں اور باہم اختلافات کی وجہ سے باہم دست وگریباں ہوں اور مسلم دشمن عناصر اپنی قوت کے بل بوتے پر ان ریاستوں پر اپنا قبضہ جما لیں۔ یہی صورت حال زمانہ قدیم کے مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنی، چنانچہ اموی اور عباسی دورحکومت میں چھوٹی چھوٹی خود مختار اور نیم خود مختار حکومتیں قائم ہوئیں۔ آخر کار یہود ونصاریٰ نے ان اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام ریاستوں پر قبضہ جما لیا جو آج تک آزاد اور خود مختار نہ بن سکیں۔

آج صورت حال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نہ تو مسلمانوں کا کوئی سیاسی وزن ہے اور نہ سماجی مقام، نہ تعلیم میں ان کی حیثیت نمایاں ہے اور نہ معیشت میں۔ مسلمانوں کو دہشت گرد، انتہا پسند اور بنیاد پرست مشہور کر کے اس مقام پر پہنچا دیا گیا کہ وہ ایک قابل نفرت قوم بن گئے ہیں اور لوگ ان سے خوف کھاتے ہیں۔ آج بین الاقوامی معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ایسی راہ اور منصوبہ بنائیں جو دیر سے سہی، لیکن انھیں منزل مقصود تک پہنچائے جس سے ان کے مسائل بھی حل ہوں، ملی تشخص بھی باقی رہے اور وہ دنیا میں اسلام کی اشاعت وحفاظت کا ذریعہ بھی بنیں۔

حالات و واقعات