ڈاکٹر محمد دین مرحوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ملک بھر اور اندرونی ممالک سے تعزیتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ ہمیں ایک اور صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور بدھ (۹؍ اپریل ۲۰۰۸) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ بھی حضرت صوفی صاحب کی طرح کافی عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب وعلاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا، ورنہ وہ ڈسپنسر تھے۔ اسی حیثیت سے انھوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔

ڈاکٹر محمد دین مرحوم کا بیعت کا تعلق حضرت لاہوریؒ سے تھا اور یہ صرف تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حضرت لاہوریؒ کے طریقہ پر زندگی بھر ذکر واذکار کرتے رہے۔ جب تک معذور نہیں ہوئے، شاید ہی زندگی میں کوئی دن ایسا آیا ہو کہ ان کی رات کا آخری حصہ اللہ اللہ کی ضربوں سے نہ گونج رہا ہو۔ بڑے اہتمام اور توجہ کے ساتھ ذکر کرتے تھے۔ شب زندہ دار بزرگ تھے۔ حضرت لاہوریؒ کی وفات کے بعد انھوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ساتھ بیعت کا تعلق قائم کر لیا مگر غالباً حضرت شیخ الحدیث کی ہدایت پر ذکر واذکار کا معمول وہی حضرت لاہوریؒ والا رہا۔ عبادات میں فرائض و نوافل کے معمولات کی پابندی کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اکل کھرے انسان تھے اور ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے تھے۔ وہ ڈسپنسر کے طور پر سرکاری ملازمت کے دوران ڈیوٹی کے لیے خود چن کر ایسے دور دراز ہسپتالوں کا انتخاب کرتے جہاں پیشہ ورانہ خیانت اور بدعنوانی کا امکان کم سے کم ہوتا اور ہر معاملہ میں پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے۔ 

ہمارا خسر داماد کے طور پر اڑتیس سال ساتھ رہا ہے۔ اس دوران مجھے یاد نہیں کہ ان سے مجھے کوئی ایسی شکایت ہوئی ہو جسے واقعتا شکایت کہا جا سکتا ہو اور میں نے بھی ان کے مکمل احترام کے ساتھ ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ انھیں مجھ سے کوئی شکایت نہ ہو۔ میرے ساتھ جب بھی ملاقات ہوتی، دینی تحریکات کے حوالے سے بات کرتے، مسئلہ مسائل کا ذکر ہوتا، کسی نہ کسی دینی معاملہ کا تذکرہ کرتے یا کسی بزر گ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ ابھی چند روز قبل ہم دونوں میاں بیوی ان کی بیمار پرسی کے لیے گلیانہ گئے تو سخت تکلیف کے عالم میں تھے۔ تکلیف کی شدت سے منہ سے ہائے ہائے بھی نکل رہا تھا مگر ہر سانس کے ساتھ اللہ اللہ کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ رسم ورواج اور بدعات سے طبعی تنفر تھا۔ خاندان کے کسی ایسے فنکشن میں ان کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جس کے بارے میں انھیں علم ہو جاتا کہ کوئی خلاف شرع بات وہاں ہوگی۔ 

بعض بزرگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے زمانے کے لوگوں میں سے نہیں تھے اور ڈاکٹر محمد دین رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی تکلف کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع اس دور کے نہیں بلکہ پچھلے کسی زمانے کے بچھڑے ہوئے بزرگ تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقا م عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔ 

اخبار و آثار