حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے سانحہ ارتحال پر اہل علم ودانش کے تعزیتی پیغامات

ادارہ

(۱)

حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زادت مکارمکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ڈاکٹر محمد دین کی پے در پے وفات حسرت آیات آپ کے لیے اور دوسرے متعلقین کے لیے تو رنج والم کا باعث ہے ہی، لیکن حضرت صوفی صاحب مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کے پر ہونے کی امید نہیں۔ یہ بڑا قومی سانحہ ہے۔ آج تو جو مہر تاباں غروب ہوتا ہے، اس کی جگہ معمولی چراغ بھی جلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب ایسے افراد پیدا ہی نہیں ہو رہے۔ علم وعمل کے جامع اور بزرگوں کے مزاج ومسلک سے بخوبی واقف، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے علوم کے شارح وناشر، قرآن کریم کے قابل رشک مفسر، حدیث نبوی کے کامیاب ترین ماہر محدث کہاں میسر ہیں! اب تو لگتا ہے:

زندگی بے کیف ہے بے رنگ ہے تیر ے بغیر
نام بھی جینے کا گویا ننگ ہے تیرے بغیر
جو سکوں آباد رہتا تھا جوار قلب میں
آہ وہ صد میل وصد فرہنگ ہے تیرے بغیر
اب نہ احساس مسرت ہے نہ کچھ احساس غم
دل کے آئینے پہ ایک زنگ ہے تیرے بغیر
یاس کی ظمت الم کی چار سو تاریکیاں
صبح نور افروز بھی شب رنگ ہے تیرے بغیر

جناب محمد دین مرحوم کے احوال قابل رشک ولائق تقلید ہیں۔ بزرگوں سے مضبوط تعلق اور اس کے نتیجے میں تعلق مع اللہ کی دولت سے سرشار وسرفراز حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں مستعد ومحتاط، یہ ایسی صفات ہیں کہ آج ان کا قحط روز افزوں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل واجر جزیل عطا ہو۔ 

والسلام

(شیخ الحدیث حضرت مولانا) سلیم اللہ خان (دامت برکاتہم)

صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان

(۲)

بخدمت گرامی اقدس حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز صفدر صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوں گے۔

حضرت صوفی صاحب قدس اللہ سرہ کے انتقال کی خبر یہاں برطانیہ میں نہایت صدمہ اور افسوس سے سنی گئی۔ پاکستانی چینلوں خاص طور پر جیو پر حضرت صوفی صاحبؒ کے وصال کی خبر بعض اکابرین کے تعزیتی جملوں کے ساتھ سارا دن چلتی رہی۔ برطانیہ میں علما فون کر کے ایک دوسرے سے تعزیت کرتے رہے۔ بند ہ کو بھی بہت سے تعزیتی فون آئے۔

حضرت صوفی صاحب قدس اللہ سرہ آج کے شر وفساد کے دور میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ بندہ نے حضرت صوفی صاحبؒ کو انتہائی انکسار، تواضع اور سادگی کا پیکر پایا۔ بندہ نے جب بھی حضرت صوفی صاحب کی خدمت میں حاضری دی، انھیں ایک چھوٹے سے سادہ کمرے میں سادہ سی چارپائی پر جلوہ افروز پایا۔ آپ انتہائی شفقت ومحبت عنایت فرماتے۔ آپ سے مل کر ہمیشہ اپنائیت کا احساس ہوتا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے عنوان سے جو ٹوٹی پھوٹی کوششیں ہم لوگ یہاں کر رہے ہیں، ان میں حضرت صوفی صاحب کی توجہات اور دعائیں شامل حال محسوس کیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صوفی صاحبؒ سے اس قدر علمی، دعوتی، فکری وتصنیفی کام لیا کہ کوئی بڑی سے بڑی اکیڈمی نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں چھوٹی سی جگہ بیٹھ کر انتہائی کم وسائل بلکہ کس مپرسی کی حالت میں حضرت صوفی صاحب کا اس قدر وسیع ووقیع کام کر جانا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ کے ایک ایک وارث نے پچھلی امتوں کے انبیا کی طرح کام کیا۔ 

حضرت صوفی صاحب نے بلامبالغہ تفسیر، حدیث، دعوتی مضامین اور علمی مقالات کی صورت میں ہزاروں صفحات تحریر فرمائے۔ حضرت صوفی صاحب کی تحریروں میں ہمیشہ علماے دیوبند کا ٹھیٹھ، خالص، صحیح اور عزیمت والا موقف سامنے آتا رہا۔ گزشتہ نصف صدی میں پورے برصغیر میں بعض علمی مسائل خاص طور پر وحدت الوجود پر نیز حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ پر جو تحریریں سامنے آئیں، آپ نے پورے طبقہ علما کی طرف سے فرض کفایہ ادا فرمایا۔ بندہ کے نزدیک آپ حضرت شیخ الہندؒ ، حضرت شیخ الاسلام مدنی کے پرعزیمت ومجاہدانہ سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی تھے۔ آپ کی زندگی علما کے لیے مشعل راہ ہے۔ 

بدقسمتی سے عرصہ سے علما کا رجحان اجتماعی ذمہ داریوں اور عملی میدانوں سے فرار ہو کر پرسکون گوشوں میں بیٹھ کر تدریسی، تعلیمی، تصنیفی کام کرنے کی طر ف بڑھ رہا ہے۔ اس قحط الرجال کے دور میں جب کوئی شخصیت رخصت ہوتی ہے تو اس کی جگہ بڑی حد تک خالی ہی رہتی ہے۔ صوفی صاحب بھی ایک ایسی ہی عظیم شخصیت تھے جن کا خلا پر ہونا بظاہر بہت مشکل ہے۔ 

اللہ تعالیٰ حضرت صوفی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے، اعلیٰ علیین اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، پس ماندگان کو آپ کے اوصاف وکمالات کا حامل بنائے۔ آپ نے علم وعمل، عزیمت وکردار کے جو چراغ روشن کیے، ان شاء اللہ ان کی روشنی قائم دائم رہے گی۔ جامعہ نصرت العلوم اور آپ کے تربیت کردہ سیکڑوں علما، خاص طور پر مولانا محمد فیاض خان دامت برکاتہم اور مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم حضرت صوفی صاحب کا مشن جاری رکھیں گے۔ 

صوفی صاحب کا وصال تمام پس ماندگان خاص طور پر حضرت والا کے لیے انتہائی غم واندوہ کا باعث ہے اور اس عمر میں حضرت والا کے لیے جان کاہ صدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا اور تمام پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازے اور اللہ تعالیٰ حضرت والا کا سایہ تادیر ملت اسلامیہ پر قائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

محتاج دعا

(مولانا) محمد عیسیٰ منصوری

لندن

(۳)

برادر مکرم مولانا زاہد الراشدی صاحب زید فضلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آج اخبارات میں آ پ کے عم محترم شیخ التفسیر حضرت مولانا عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پڑھ کر بہت صدمہ پہنچا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت مولانا عبد الحمید سواتیؒ کے تبحر علمی اور ان کے زہد وتقویٰ کے باوصف ان کی شگفتہ مزاجی ہر زائر اور ملاقاتی کو گرویدہ بنا لیتی تھی۔ علم وادراک اور فہم وشعور کے اعتبار سے پاکستان کے بنجر بیابان میں حضرت صوفی سواتی صاحبؒ نے اسلام کے صحیح عقائد ونظریات کی ایسی تخم ریزی کی کہ ویرانہ بہار آفریں گلشن سے آراستہ ہو گیا اور معاشرہ اس کی عطر بیزی سے مہک اٹھا۔ حضرت مولانا علیہ الرحمہ فکر ولی اللہٰی کے صحیح شارح اور ترجمان تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ کی رفاقت میں وہ دفتر آزاد لاہور میں کئی مرتبہ تشریف لائے اور اپنی گراں قدر تجاویز اور مشوروں سے اس فقیر کو نوازا تھا مگر میری محرومی کہ ان کی تیمار داری کے ارادے سے گوجرانوالہ میں حاضری کا کئی مرتبہ پروگرام بنانے کے باوجود حرماں نصیب ہی رہا تا آنکہ ان کے سفر آخرت کی افسوس ناک خبر ملی۔ بہت افسوس اور صدمہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں اور گناہوں کو معاف کر دے، حضرت مولانا عبد الحمید سواتی کو جنت الفردوس میں مقام علیین سے سرفراز فرمائے اور آپ سب اہل خانہ اور احباب واقربا کو صبر وتحمل کی توفیق سے نوازے، آمین۔

حضرت مولانا عبد الحمید سواتی کے داغ مفارقت سے پاکستان ایک عظیم اور عبقری شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ یہ صرف شہر گوجرانوالہ یا پاکستان کا نہیں، عالم اسلام کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آپ کی دینی، علمی وادبی اور تحقیقی خاندانی روایات کی کڑی ٹوٹنے سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے، وہ مشکل ہی سے پر ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ غیب سے ایسے اسباب فراہم کر دے کہ حضرت صوفی صاحب کی روشن کردہ دینی وعلمی شمع ہمہ جہت درخشاں وتابندہ رہے اور ہمیں استفادے کے مواقع فراہم کر کے ہمارے ظلمت کدۂ فکر ونظر کو منور فرماتا رہے۔ آمین۔

آپ کا شریک غم

(مولانا) مجاہد الحسینی

فیصل آباد

(۴)

مکرمی ومحترمی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

عرض کہ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پڑھ کر انتہائی صدمہ ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بلاشبہ حضرت صوفی صاحب مرحوم ہمارے اکابر واسلاف کے سلسلۃ الذہب کی ایک روشن کڑی تھے جن کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، لیکن رب کائنات کے قائم کردہ نظام موت وحیات کی حکمتیں برحق ہیں۔ اللہ رب العزت حضرت صاحب کی جملہ دینی خدمات کو قبول فرما کر ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کے قائم کردہ گلشن علم وعرفاں جامعہ نصرۃ العلوم کو مزید ترقیات سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔

(مولانا) سیف الرحمن

ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان

حیدر آباد

(۵)

محترم ومکرم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب زاد مجدہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مورخہ ۷ اپریل کے اخبارات میں یہ روح فرسا خبر پڑھنے کو ملی کہ بانی مدرسہ نصرۃ العلوم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دار فانی سے دار بقا کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک شخص کا سانحہ ارتحال نہیں، ایک دور اور علمی تحریک سے محرومی ہے۔ حدیث مبارک کے مطابق علم نہیں اٹھتا بلکہ صاحبان علم اٹھ جاتے ہیں۔

بلاشبہ صوفی صاحب کی زندگی کا ہر لمحہ علم نبوت کی ترویج میں گزرا۔ نصرۃ العلوم کی صورت میں ایک شاندار علمی درس گاہ قائم فرمائی جس کا فیض جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔ ان کے ہزاروں پھیلے ہوئے شاگرد ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کی نجات کے لیے اس سے بڑھ کر وسیلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر دروس القرآن کا سلسلہ جو مرتب ومدون ہوا ہے، یہ بھی علمی دنیا کے لیے ایک سرمایہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے فیض کو سدا جاری رکھے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کی علمی وتدریسی وتصنیفی خدمات کے پیش نظر ان کی یاد میں خصوصی نشست رکھی جائے، نیز الشریعہ میں ان کی خدمات پر جامع مضمون شائع کیا جائے۔

خیر اندیش

ڈاکٹر محمد عبد اللہ

اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی لاہور

مکاتیب