مئی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا سانحہ وفات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶؍ اپریل ۲۰۰۸ کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے اور جن کے دیکھنے کو اب آنکھیں ترستی...

ثقافتی انقلاب کی ضرورت

― ڈاکٹر محمد امین

پاکستان میں سیاسی تبدیلی عوام کے ہاتھوں آچکی۔ گو فوج کی لائی ہوئی آمریت اپنی بقا اور اپنی پالیسوں کے تسلسل کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ یہ بجھتی ہوئی شمع کی آخری بھڑک ہے۔ جب شاہوار ملک مشرق سے طلوع ہو چکا اور سپیدۂ سحر نمودار ہو چکا تو اب تاریکی کا وجود کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ اس کا مقدر یہی ہے کہ کو نوں کھدروں میں چھپتی پھرے اور اپنی نیستی کو قبول کر لے۔ یہ بھی تسلیم کر لیجیے کہ یہ تبدیلی تھوڑی غیر متوقع اور قدرے حیران کن ہے۔ اگر چہ اس تبدیلی کے لیے کئی سیاسی قوتیں میدان میں تھیں اور کشمکش و مزاحمت عرصے سے جاری...

سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت: ایک تعارف

― محمد زاہد صدیق مغل

کسی تہذیب کا تصور علم اس کے اہداف و مقاصد کے اظہار کا سب سے بلند ترین درجہ ہوتا ہے۔ در حقیقت تصور علم ہی وہ اساس ہے جہاں کسی تہذیب کے مقاصد علمی و فکری سطح پر متشکل ہوتے ہیں۔ ہر تصور علم ایک تہذیب کے حیات انسانی کی حقیقت کی بابت ما بعد الطبعیاتی ایمانیات کا مرہون منت ہوتا ہے۔ یعنی یہ سوال کہ علم کیا ہے کا جواب مقصد علم کے بغیر دینا ناممکن ہے اور یہ مقصد لازماً ایک ما بعد الطبعیاتی ایمان پر قا ئم ہوتا ہے ۔ یہی وہ بنیادی بات ہے جس پر غور نہ کر نے کے سبب کئی اہل علم و فکر نے مغربی علوم کو اسلامی تاریخ میں تلاش کرنے نیز ان کی اسلام کاری کرنے کی ٹھوکریں...

بجلی کا بحران ۔ چند تجاویز

― پروفیسر محمد شفیق ملک

اس وقت ملک عزیز میں جمہوری حکومت کی تشکیل مکمل ہوچکی ہے اور وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضاگیلانی نے مسائل اورپریشانیوں میں مبتلاپاکستان کے شہریوں کے لیے کچھ فوری اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹریڈیونین اور طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ ورکرز کی بنیادی تنخواہ چھ ہزار روپے ماہانہ کرنے کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت عوام کی توقعات پر پوری اترے گی اور قوم کو خوشحالی کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے توانائی کی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی نیک نیتی شک سے بالاتر ہے، ہماری دعا...

کیا فطرت أصلاً یا تبعاً مصدر شریعت ہے؟

― حافظ محمد زبیر

راقم الحروف نے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت‘ کا ایک تنقیدی جائزہ لیا تھا جو کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ فروری ۲۰۰۷ میں شائع ہوا۔ غامدی صاحب کے ایک شاگرد رشید جناب منظور الحسن صاحب نے ہماری اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت ‘کے دفاع میں ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۷ اور پھر ماہنامہ ’اشراق‘ اگست و ستمبر ۲۰۰۷ میں شائع ہوا۔ہمارے پیش نظر اس وقت منظور الحسن صاحب کی طرف سے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت‘ کے دفاع میں لکھا جانے والا مضمون ہے۔ قرآن ‘سنت اور محققین اہل لغت کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سے مراد وہ ابتدائی...

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے سانحہ ارتحال پر اہل علم ودانش کے تعزیتی پیغامات

― ادارہ

(۱) حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زادت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ڈاکٹر محمد دین کی پے در پے وفات حسرت آیات آپ کے لیے اور دوسرے متعلقین کے لیے تو رنج والم کا باعث ہے ہی، لیکن حضرت صوفی صاحب مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کے پر ہونے کی امید نہیں۔ یہ بڑا قومی سانحہ ہے۔ آج تو جو مہر تاباں غروب ہوتا ہے، اس کی جگہ معمولی چراغ بھی جلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب ایسے افراد پیدا ہی نہیں ہو رہے۔ علم وعمل کے جامع اور بزرگوں کے مزاج ومسلک سے بخوبی واقف، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے علوم کے...

آفتاب علم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

― سید احمد حسین زید

۶ اپریل ۲۰۰۸ بمطابق ۲۸؍ ربیع الاول ۱۴۲۹ھ بروز اتوار صبح دس بجے فکر ولی اللٰہی کے وارث اور ترجمان، مفسر قرآن، محقق ومورخ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی بانی مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ لاکھوں عقیدت مندوں، شاگردوں اور عزیز واقارب کو داغ مفارقت دے کر قبرستان کلاں گوجرانوالہ میں آسودۂ خاک ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنے دین کی اشاعت کے لیے منتخب کرتا ہے تو پھر اس پر خصوصی التفات فرماتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتی انھی چنیدہ افراد میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ...

ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

― مولانا محمد یوسف

پیکر علم وعمل، علماے حق کی تابندہ روایات کے امین شیخ المفسرین والمحدثین حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان صاحب سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ طویل علالت کے بعد ۶ اپریل ۲۰۰۸ء بروز اتوار صبح تقریباًساڑھے نو بجے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی وفات سے امت مسلمہ ایک نکتہ رس مفسر، عظیم محدث، مایہ ناز محقق ومولف، اسلامی علوم وفنون کے ممتاز مدرس اور علوم ومعارف ولی اللہٰی کے محقق ومدون سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ کی وفات ملک بھر کے تمام علمی، دینی، تحریکی حلقوں کے لیے سانحہ عظیم ہے۔ بہرحال دارفانی سے داربقا کی طرف ہر ذی روح کاانتقال ایک...

ڈاکٹر محمد دین مرحوم

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ملک بھر اور اندرونی ممالک سے تعزیتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ ہمیں ایک اور صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور بدھ (۹؍ اپریل ۲۰۰۸) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ بھی حضرت صوفی صاحب کی طرح کافی عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب وعلاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھیں ڈاکٹر کہا جاتا...

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شعر پڑھنے، سننے اور اس سے حظ اٹھانے کا ذوق بحمد اللہ تعالیٰ شروع سے رہا ہے مگر شعر گوئی کبھی زندگی کا معمول نہ بن سکی۔ طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے معروف شعرا اثر لدھیانوی مرحوم، عزیز لدھیانوی مرحوم، راشد بزمی مرحوم، بیکس فتح گڑھی مرحوم، شاکر سہارنپوری مرحوم، شہید جالندھری مرحوم اور طالب اعوان جیسے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا۔ شاعروں میں اہتمام سے شریک ہوتا اور ادبی مجالس سے استفادہ کرتا تھا۔ ایک بار اثر لدھیانوی مرحوم نے ایک طرحی مشاعرہ میں کچھ پڑھنے پر مسلسل اصرار بھی کیا جس کا طرح مصرع تھا: وفور کرب وغم سے خون دل بھی ہو گیا...

آہ ! حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ

― سید سلمان گیلانی

رہبر دین تھے وہ، ہادئ ایمان تھے وہ، فلک رشد وہدیٰ کے مہ تابان تھے وہ۔ ناز تھا علم کو جن پر وہ تھے ایسے عالم، فخر تھا جن پہ سخن کو وہ سخن دان تھے وہ۔ نصرت حق کے لیے وقف رہا ان کا قلم، اہل باطل کے لیے خنجر بران تھے وہ۔ زہد وتقویٰ میں تھے وہ مثل برادر صفدر، جس میں اوصاف ملائک ہوں وہ انسان تھے وہ۔ تعزیت ان کی میں فیاض سے زاہد سے کروں، اس کے والد تھے وہ اور اس کے چچا جان تھے وہ۔ (غم زدہ سید سلمان...