قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار

پروفیسر شیخ عبد الرشید

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ایک آئین پسند، جمہوری فکر کے حامل راہنما تھے جنہوں نے جمہوری جدوجہد، آئینی سیاست اور عوامی حمایت سے پاکستان حاصل کیا اورحصول آزادی کے فیصلہ کن ایام میں ۹جون ۱۹۴۷ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ’’میں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ جب فیلڈ مارشل آرمی کو فتح سے ہمکنار کرتاہے تو اس کے بعد سول اتھارٹی کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔‘‘ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ قائداعظم نئی ریاست میں سویلین کنٹرول کے حامی اور خواہشمند تھے۔ وہ ملک میں جمہوری نظام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ہی کوشاں تھے۔ اس حوالے سے ان کی سوچ شروع ہی سے واضح تھی۔ ۱۹۴۶ء میں دہلی میں رائٹرز Reuters کے نامہ نگار ڈون کیمپبل(Doon Campbell) کو انٹر ویو دیتے ہوئے قائداعظم نے کھلے الفاظ میں اظہار کیا کہ ’’نئی ریاست جدیدجمہوری ریاست ہو گی جس میں اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہو گا اور نئی قوم کے اراکین کو شہریت کے مساوی حقوق حاصل ہو ں گے۔‘‘

ایک مدبر راہنما کے طورپر معمار پاکستان کا وژن حقیقت پسندانہ اور لائق تقلید ہے۔ وہ سول اور ملٹری امور پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ تقسیم ہند سے پہلے بھی برطانوی حکمران سول و ملٹری معاملات میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے لارڈ چیمسفورڈ کے دور میں بمبئی میں ہونے والی صوبائی کانفرنس میں شرکت کی اور مشورہ دیا کہ ہندوستان میں کرائے کی فوج کی بجائے ایک قومی فوج (Citizen Army) تشکیل د ی جائے۔ قائداعظم کے مطالبے پر ہی ڈیرہ دون (بھارت) میں انڈین ملٹری اکیڈمی قائم کی گئی اور فوج کے لیے کمیشنڈ آفیسر تیار کیے گئے، تاہم نو آبادیاتی حکمرانوں نے سامراجی تسلط کی مضبوطی کے لیے لارڈ میکالے کی فکر پر مبنی نئی حکمت عملی اپنائی کہ ہندوستان میں ایسا طبقہ پیدا کر دیا جائے جو سامراجی آقاؤں اور مقامی رعایا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکے۔ یہ طبقہ رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہو مگر فکرو عمل، رسم و رواج اور اقتدار کے اعتبار سے برطانوی ہو۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں سول اور ملٹری زعما پر میکالے کے فلسفے کا سب سے زیادہ اثر ہوا اور گندمی انگریزوں کا طبقہ پیدا ہو گیا۔ بریگیڈیئر شمس الحق نے لکھا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو فتح نہیں کیا بلکہ ہندوستان سے ہی دیسی فوج بھرتی کر کے پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا اور لگ بھگ ڈیڑھ سوسال اسی دیسی فوج کے سہارے پورے برِصغیر پر قبضہ قائم رکھا۔ انگریزوں کی افواج میں بعد میں بھی گورا سپاہیوں کی تعداد ایک تہائی سے زیادہ نہ ہوئی، البتہ افسر ہندوستانی فوج میں بھی سب کے سب انگریز ہی پیدا ہوا کرتے تھے۔ ان انگریز افسروں کے سہارے ہی برصغیر میں انگریزوں کی سلطنت قائم تھی ۔‘‘ 

نو آبادیاتی دور میں سول ملٹری تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ فوج کا کنٹرول حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں تھا جبکہ مقامی کنٹرول گورنمنٹ آف انڈیا کا تھا۔ یعنی بھارت کی فوج اور دفاعی امور پربرطانیہ کا کنٹرول تھا، بھارتی مجلس قانون ساز کو صرف دفاعی بجٹ پر نظر ثانی کرنے کا اختیار حاصل تھا ۔ بھارت کے راہنما مطالبہ کیا کرتے تھے کہ دفاعی اخراجات پر مکمل اختیار دیا جائے اور دفاع کا محکمہ وزیر کے حوالے کیا جائے جو مجلس قانون ساز کو جوابدہ ہو ۔ ۱۹۳۵ء کے ایکٹ میں بھی دفاع اور خارجہ امور کے اختیارات گورنر جنرل کو دیے گئے تھے جو اسمبلی کو جوابدہ نہیں تھا، چنانچہ برصغیر میں حکومت میں سول اور ملٹری دونوں شریک کار کے طور پر کام کرتے تھے۔ فوج کی یہ حیثیت استعماری تقاضوں کے مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب تقسیم ہند کے بعد اگست ۱۹۴۷ء میں برطانوی حاکموں نے ان تمام سول اور فوجی ملازمین و افسران کو جو نو آبادیاتی ہندوستان میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، انہیں جبری ریٹائر کر دیا اور متاثرین نے شکایت و احتجاج کی صدا بلند کی تو انہیں حکومت برطانیہ نے جواب دیا کہ وہ ایک غلام ملک میں ’’آقائی ذہنیت ‘‘ کے ساتھ اپنے فرائض سرا نجام دیتے رہے ہیں۔ اس آقائی ذہنیت کو ایک جمہوری ملک برطانیہ عظمیٰ کی سروسز میں شامل نہیں کیاجا سکتا۔ مگراسے تاریخ کے جبر کے علاوہ کیا کہیے کہ برطانیہ کے برعکس پاکستان اور بھارت نوآبادیاتی دور کے سامراجی تربیت یافتہ فوجی زعما کو بحال رکھنے پر مجبور تھے کہ یہاں کوئی متبادل کیڈر نہ تھا۔ نو آزاد مملکت کے راہنماؤں کا فرض تھا کہ وہ سامراجی فوج کی آقائی ذہنیت اور حکمرانہ طرز فکر و عمل کو تبدیل کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کرتے لیکن پاکستان میں دستور ساز اسمبلی نے آرمی ایکٹ ۱۹۱۱ء کو بالکل اُسی طرح اپنا لیاجیسے وہ تھا، حالانکہ یہ ایکٹ برطانوی آقاؤں نے اپنے نو آبادیاتی مفادات کے تحفظ، رعایا کے حقوق کو سلب کرنے اور آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے بنایا تھا۔ مگر ہم نے اس استعماری و نو آبادیاتی آرمی ایکٹ کو کسی ترمیم کے بغیر قبول کر کے جمہوری پاکستان پر پہلی ضرب لگائی ۔ 

برصغیر پاک و ہند کی فوج کا جدوجہد آزادی ہند یا تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہ تھا چنانچہ حصول آزادی کے دوران فوجیوں کے دل میں پاکستان سے محبت اور والہانہ وابستگی کے جذبات جنم نہ لے سکے۔ تقسیم ہند کے فیصلہ کن مرحلے پر بھی مسلمان فوجی دل ہی دل میں بھارتی فوج کا حصہ رہ کر اپنا مقام اور اسٹیٹس قائم رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ علیحدہ ہو کر ان کی عسکری حیثیت اور شناخت کم ہو جائے گی، چنانچہ وہ پاکستان آرمی کی بجائے انڈین آرمی کہلانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس کا پہلا اظہار تب ہوا جب جنوبی ایشیا میں سلامتی سے وابستہ برطانوی جرنیلوں نے تقسیم ہندکی مخالفت کی، بلکہ ان کا خیال تھا کہ تقسیم کی صورت میں بھی دونوں ریاستیں فوجی کنفیڈریشن کے طور پر مشترکہ دفاعی نظام میں رہیں گی۔ انہوں نے بالخصوص فوج کی تقسیم کی شدید مخالفت کی، لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں یہ کہہ کر دھمکا یا کہ اگر پاکستان کو اپنی فوج کا کنٹرول نہ دیا گیا تو وہ ۱۴؍اگست کو اقتدار قبول نہیں کریں گے۔ ۳۰جون ۱۹۴۷ء کو افواج کی تقسیم کے لیے قائم کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بھارت اور پاکستان کے فوجی اثاثوں کا تناسب ۶۴اور ۳۶تھا جو کم و بیش ہندوؤں اور مسلمانوں کے تناسب کے برابر تھا۔ چار لاکھ فوج میں سے پاکستان کو تقریباً ۳۳فیصد یعنی ڈیڑھ لاکھ فوج ملی۔ پاکستان کو چار ہزار فوجی افسران کی ضرورت تھی، لیکن اس کے پاس صرف ڈیڑھ ہزار افسر تھے جن میں پانچ سو برطانوی تھے ایک میجر جنرل ، ۲بریگیڈیئر اور ۵۳کرنل تھے۔ گیارہ مسلم ملٹری افسر سول سروس میں شامل ہو گئے۔ عارضی کمیشن ، شارٹ سروس اور اہلیت و تجربے کے بغیر قبل از وقت ترقیاں دے کر اس کمی کو پورا کیا گیا۔ فوج اور اثاثوں کی تقسیم کے مسائل کو پیش نظر رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حصے میں آنے والی مسلم فوج پیشہ وارانہ لحاظ سے ایک کمزور فوج تھی ۔ 

یہ فوجی افسران تقسیم کے وقت بھی آزادی کے بجائے نوکریوں ،اپنی ترقیوں اور مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ سپریم کمانڈر سرکلا وڈآکن لیک کے پرائیویٹ سیکرٹری میجر جنرل شاہد حامد اپنی کتاب ’’DisastrousTwilight‘‘ میں آزادی سے چند روز پہلے فوجی افسران سے قائداعظم کی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ۳؍اگست ۱۹۴۷ء کو انہوں نے اپنے گھر پر جنرل آکن لیک، بحریہ و فضائیہ کے سربراہان، پرنسپل سٹاف آفیسرزوغیرہ کو مدعو کیا اور قائداعظم کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی۔ تقریب میں قائداعظم خوشگوار باتیں کرنے کے موڈ میں تھے۔ وہ صرف اس وقت رنجیدہ و سنجیدہ ہوئے جب ایک فوجی افسر نے پاکستان میں ترقی کے بارے میں سوال کر دیا۔ قائداعظم نے جذباتی ہو کر سوال کرنے والے کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا: ’’آپ مسلمان یا تو آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں یا دھم سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ آپ متوازن راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ تمام ترقیاں اپنے وقت پر ہوں گی اور پاگل پن سے یا جلد بازی میں نہیں کی جائیں گی۔‘‘ انہی افسران کے ایک اور سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی قائداعظم ان فوجی افسران کے ارادے اور خیالات بھانپ گئے اور بڑے دو ٹوک انداز میں فرمایا: ’’ پاکستان کی منتخب حکومت سول افراد پر مشتمل ہو گی۔ جو بھی جمہوری اصولوں کے برعکس سوچتاہے، اُسے پاکستان کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ میجر جنرل شاہد حامد کے بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ مسلمان فوجی افسران کو آزادی اور حصول پاکستان کی خوشی کم اوراپنی نوکریوں اور ترقیوں کی فکر زیادہ تھی ۔ ایک مدبر راہنما کی حیثیت سے قائداعظم کواس ملاقات میں ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ فوجی افسران پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر بنانے کی کوششیں کریں گے، چنانچہ انہوں نے بغیر کسی ابہام کے واضح کر دیا کہ یہاں منتخب سول حکومت ہو گی اور جو اس کے برعکس خواہش رکھتاہے، وہ پاکستان منتقل ہونے کا خیال دل سے نکال دے۔

پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے انحراف کے ارادے رکھنے والے فوجی افسران کو بابائے قوم کی جانب سے اس سے زیادہ واضح انتباہ اور کیا ہو سکتاتھا، مگر اس کے باوجود نو آبادیاتی عہد کے تربیت یا فتہ یہ افسران اپنی سوچ اور عمل میں تبدیلی نہ لا سکے اور پاکستان کی آزادی کے دن بھی ان آقائی ذہنیت کے حامل افسران نے آنے والے دنوں کی نحوست کا اظہار کردیا۔ ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خاں فوجی افسران کے اس رویے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’۱۴؍اگست کا دن تھا۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کراچی میں ایک استقبالیہ دے رہے تھے جس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو مدعو کیا گیا تھا۔ حاضرین میں د فاعی ملازمتوں کے چند عہدیدار بھی تھے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ قائد اعظم اپنے مہمانوں کے درمیان بے تکلفی سے گھوم پھر رہے ہیں، وہ فوجی افسر بھی قائداعظم کے قریب آگئے۔ انہیں وردی میں د یکھ کر قائدا عظم نے پوچھ لیا کہ آپ لوگ کیسے ہیں؟ اس بے تکلفی سے اس گروپ کے ایک افسر کرنل اکبر خاں (بعد میں راولپنڈی سازش کیس والے میجر جنرل اکبر خاں) کو حوصلہ ملا اور انہوں نے دفاعی حکمت عملی پر اپنے خیالات کی وضاحت شروع کر دی۔ جوشِ بیان میں انہوں نے ایسے معاملات پر جو ایک جمہوری نظام میں کسی سول حکومت کی ذمہ داری ہوتے ہیں، یہ مشورہ دینا شروع کر دیا کہ دفاعی ملازمتوں کا انتظام کس طرح چلانا چاہیے۔ ابھی کرنل اکبر نے بات پوری نہیں کی تھی کہ قائداعظم نے ان کی گفتگو درمیان سے ہی قطع کر دی۔ اپنی انگلی اٹھا کر انہوں نے اکبر خاں پر کڑی نظر ڈالی اور دھیمے لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا کہ’’ یہ نہ بھولیے کہ آپ لوگ جو مسلح افواج میں ہیں، عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی آپ لوگ نہیں بناتے۔ یہ ہم شہری لوگ ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ جو ذمہ داری آپ کو سونپی جائے، اسے پورا کریں۔‘‘ 

قائداعظم فوجی افسران کے رویے کا مسلسل مشاہدہ کر رہے تھے اور بھانپ گئے تھے، چنانچہ انہوں نے ہر موقع پر سول اداروں اور سول قیادت کی بالادستی کی پر زور تلقین کی۔ وہ سول و ملٹری ملازمین کو پیشہ وارانہ سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے حامی تھے، مگر ابتدائی دنوں میں ہی مسلمان فوجی افسران کی بدمستی و من مانی کی شکایات ملنے لگیں۔ قائد اعظم کے خدشات کو تقویت اس وقت ملی جب ایوب خاں کو مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری دی گئی۔ سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو رپورٹ پیش کی کہ ایوب خاں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور اس کا رویہ پیشہ وارانہ نہیں ہے۔ قائداعظم نے رپورٹ کی فائل پر لکھا کہ ’’میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔‘‘ ابتدائی مہینوں میں قائداعظم کو ملٹری افسران کی سول اتھارٹی کی تابعداری کے حوالے سے ایک اور تجربہ ہوا۔ میجر جنرل شاہد حامد کے مطابق ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم نے کمانڈر انچیف سرڈگلس گریسی کو حکم دیا کہ افواج پاکستان کو جموں و کشمیر بھیجا جائے اور سری نگر اور درہ بانہیال پر قبضہ کر لیا جائے۔ جنرل گریسی نے گورنرجنرل کے احکامات کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ جنرل گریسی کے پرائیویٹ سیکرٹری ولسن کے مطابق ماؤنٹ بیٹن نے گریسی کو فون کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے فوج کو کشمیر کی جانب روانہ کیا تو وہ یقین کر لے کہ اسے’’ نائٹ ہُڈ‘‘ کا خطاب نہیں ملے گا۔ گریسی نے اس کی مشروط اطاعت کی ۔ ‘‘ جنرل گریسی کی حکم عدولی نے ملک میں فیصلہ سازی کے عمل پر سوالیہ نشان لگادیا۔ جنرل گریسی کے گورنر جنرل کے احکامات سے انکار نے فوج کے تابعداری نظام کا پول بھی کھول دیا۔ ایسی فوج جس کی روایت میں سول حکومت کی وفاداری شامل ہو، وہ سیاسی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ فوجی تنظیم کی اساس تابعداری ہے۔ ہر رینک اپنے سے اوپر والے کی اطاعت کرتاہے۔ یہ سلسلہ اعلیٰ فوجی مناصب تک جا پہنچتا ہے جہاں military top brass سول اتھارٹی کی مطیع ہوتی ہے، یعنی فوج کا مطلب ہی حکم بجا لانا ہے ۔ ان معنوں میں جنرل گریسی نے سربراہ مملکت کے حکم کی تعمیل نہ کر کے فوج کے مستقبل کے ارادوں کو آشکارا کر دیا۔ 

فوج کی پیشہ وارانہ امور کے بجائے دیگر امور میں دلچسپی کے حوالے سے ایک اورواقعہ ایوب خاں نے خود نوشت سوانح عمری’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں درج کیا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں جی او سی تھے جب یکم جنوری ۱۹۴۸ء کو وہاں کے طلبہ اپنے مطالبات کے لیے سخت احتجاج کر رہے تھے۔ انہوں نے اسمبلی کی عمارت پر حملہ کرنا چاہا۔ ایوب خاں نے فوجی یونٹ کی مددسے اسمبلی کو گھیرے میں لے لیا اور طلبہ کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے سے روکا ۔ اسی واقعہ کی وضاحت Brain Cloughleyنے اپنی کتاب میں یوں کی ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایوب خاں کو احساس ہوا کہ سیاستدان ہنگامی صورتحال میں فوج کی مدد کے بغیر اپنا تحفظ نہیں کر سکتے۔ ایوب خاں نے جی او سی کی حیثیت سے وہاں کے اپوزیشن لیڈر محمد علی بوگرہ سے یہ الفاظ کہے کہ Are you looking for a bullet?کیا تم گولی کا انتظار کر رہے ہو؟ اسی ایک جملے کے نفسیاتی تجزیے سے اندازہ ہو جاتاہے کہ فوج کے عام افسر ۱۹۴۸ء میں ہی سیاستدانوں پر غلبہ پا چکے تھے۔

باوجود یکہ پاکستان کی آزادی میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اس آزادی کے تحفظ کے لیے پاکستان کو ایک فوج کی ضرورت تھی، خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کی ناکامی نے سکیورٹی کو پاکستان کی اولین ترجیح بنا دیا تھا ۔ میجر جنرل شیر خاں کی ہدایت پر قدرت اللہ شہاب نے ۴۸۔۱۹۴۷ کی کشمیر جنگ کے بارے میں تحقیق کی تو ظاہر ہوا کہ کشمیر کی جنگ کے دوران میجر یحییٰ خاں اور لیفٹیننٹ کرنل اعظم خاں محاذ سے بھاگ گئے تھے اور انہوں نے اپنی رجمنٹ کے جوانوں تک کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ایسی کمزور فوج کو مضبوط بنانے کا احساس ملک بھر میں پیدا ہوا چنانچہ سول حکمرانوں نے ابتدائی سالوں میں ملک کا ستر فیصد بجٹ دفاع پر خرچ کرنا شروع کر دیا۔

مذکورہ واقعات اور فوجی افسران کے رحجانات ہی تھے جنہوں نے بابائے قوم کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ ۲۵ مارچ ۱۹۴۸ کو مشرقی بنگال کے گزٹیڈ افسروں سے خطاب کرنے گئے تو انہوں نے اسی پس منظر میں سرکاری ملازمین کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا اور فرمایا ’’دوسرانکتہ مختلف محکموں میں عوام الناس کے ساتھ آپ کے رویے اور برتاؤ کا ہے۔ آپ جہاں بھی ہوں، پرانے تاثر کو ذہن سے نکال دیجیے۔، آپ حاکم نہیں ہیں، آپ کا حکمران طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ کا تعلق خدمت گاروں کی جماعت سے ہے۔ عوام الناس میں یہ احساس پیدا کر دیجیے کہ آپ ان کے خادم اور ان کے دوست ہیں۔‘‘ قائداعظم کی یہ تقریرسول اور ملٹری افسران کے لیے ضابطہ اخلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ان کی حدود کا تعین ہے اور سیاست سے دور رہنے کی تلقین و پابندی بھی۔ 

جنرل گریسی سے ایوب خاں تک فوجی افسران کی اہلیت و کارکردگی، عزم اور عزائم دیکھنے کے بعد جب بانی پاکستان ۱۴؍جون ۱۹۴۸ء کو پہلی اور آخری دفعہ سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر افسران کو فراموش کردہ فرض شناسی یاد دلائی اور’’ایک دو بہت اعلیٰ عہدے کے افسران‘‘ کی لاپرواہی کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب میں انھوں نے ان افسران کو خبردار کیا کہ ان میں سے بعض افسران پاکستان سے کیے ہوئے اپنے حلف کے مضمرات سے آگاہ نہیں ہیں۔ پھر انہوں نے دوران تقریر ان فوجی افسران کو یاد دہانی کے لیے ان کا ’’حلف‘‘ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اسے سمجھیں۔ انہوں نے فوجی افسران کے حلف کی یادداشت کو تازہ کرنے کے فوری بعد فرمایا کہ ’’جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ جذبہ ہی اصل اہمیت کا حامل ہے، میں چاہوں گا کہا کہ آپ اس آئین کا مطالعہ کریں جو اس وقت پاکستا ن میں نافذ ہے اور اس کے حقیقی آئینی اور قانونی تقاضوں کا ادراک کریں۔ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ڈومینین کے آئین کے وفادار رہیں گے، میں چاہتاہوں کہ آپ اسے یاد رکھیں اور وقت ملنے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کا مطالعہ کریں جسے پاکستان میں نافذ کرنے کے لیے قبول کر کے، گورنر جنرل کی منظوری سے موافق بنایا گیا ہے۔ یہی قانونی پوزیشن ہے۔‘‘ قائداعظم کا فوجی افسران سے خطاب بڑا واضح اور غیر مبہم ہے جس میں تکرار کے ساتھ آئین اور حلف کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ چونکہ قائداعظم کی زندگی ہی میں فوج نے آئین اور حلف سے ماورا سرگرمیاں شروع کردی تھیں، اس لیے آئین پسند گورنر جنرل کو خود انہیں آئین اور حلف کی اطاعت کی یاد دہانی اور تاکید کرنا پڑی مگر سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ مسلح افراد کا کردار قائداعظم کے ارشادات و فرمودات کے بالکل برعکس رہا۔

گورنر جنرل اور بابائے قوم سے وفاداری کاایک اور مظاہرہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۴۸ کو بھی دیکھنے کو ملا۔ جب شدیدبیماری کے عالم میں بابائے قوم کو آرمی کی ایمبولینس میں ایئر پورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس لے جایا رہا تھا تو انتہائی ڈسپلن اور مثالی کارکردگی والی فوج کی ایمبولینس مختصر راستے میں ہی خراب ہو گئی اور وفادار فوج کوئی متبادل انتظام نہ کر پائی اور قائداعظم کسمپرسی کے عالم میں برلب سڑک آرمی ایمبولینس میں ہی دم توڑ گئے۔ یہ المناک واقعہ قائداعظم کے ساتھیوں اور سول ملٹری ملازمین کی بے حسی اور بانی پاکستان سے محبت کے فقدان کا نمایاں مظہرہے۔ وہ قائداعظم جو بار بار زعما کو یہ یاد کراتے رہتے تھے کہ ’’مجھے یقین ہے کہ جمہوریت ہمارے خون میں شامل ہے۔ یقیناًیہ ہماری ہڈیوں کے گودے میں ہے۔ صدیوں کے ناموافق حالات نے ہمارے خون کی گردش کو سرد کر دیا ہے۔ خون منجمد ہو چکا ہے اور ہمارے جسم کی شریانیں کام نہیں کر رہیں۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ خون دوبارہ گردش کرنے لگا ہے۔ اب یہاں عوام کی حکومت ہو گی۔‘‘ قائداعظم آشنا تھے کہ فوج فکر، ذہن، مزاج اور فطرت کے لحاظ سے نوآبادیاتی فوجی روایات کی امین ہے۔ اسے مزاج ، فطرت اور سٹرکچر کے اعتبار سے آزاد پاکستان کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔ جو بانی پاکستان آقائی ذہنیت کو برا بھلا کہہ کر عوام کی حکمرانی کا درس دیتے تھے، انہیں آرمی ایمبولینس میں سڑک پر عوام کے سامنے تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا اور پھر ان کی وفات کے بعد ان کے افکار کو بھی ان کی میت کے ہمراہ تابوت میں بند کر کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے افکار و نظریات نے ریاست میں ڈیکوریشن پیس کی حیثیت حاصل کر لی اور پھر سول ملٹری بیوروکریٹ یا طالع آزما جنرل نے جیسے چاہا، قائداعظم کے ویسے ہی سرکاری اقوال نشر ہونے لگے۔ قائداعظم کی زندگی میں ہی اور پھر ان کی وفات کے بعد بھی فوج نے قائد کے تصورات کی بجائے ان کے خد شات کو سچ کر دکھایا ۔ ۱۹۵۱ء کی راولپنڈی سازش سے لے کر اب تک فوج کی مداخلت، آئین اور حلف سے انحراف قائداعظم کی روح کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ 

افکار قائداعظم کے برعکس حکمرانی کا عزم لے کر بیرکوں سے نکلے ہوئے فوجی افسران جب بنگلوں میں پہنچے تو واپسی کا راستہ ہی بھول گئے۔ گویا اپنے فرض کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ورنہ کیا مشرقی پاکستان علیحدہ ہوتا؟ سیاچن اور کارگل کی ہزیمت ہمیں اٹھا نا پڑتی؟ قائداعظم کی آنکھیں بند ہونے کے بعد جرنیلوں اور ان کے بڑھائے ہوئے سیاسی مہروں نے قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو اہمیت دی۔ اقتدار پر بالواسطہ اور بلاواسطہ قبضوں کا سلسلہ جاری ہو گیا اور پھر اپنے قبیلے کے دیگر ساتھیوں یعنی اعلیٰ افسران کی ہمدردیوں اور وفاداریوں کے لیے بے پناہ مراعات کا بازار گرم ہوا۔ قومی اداروں کی سربراہی سے لے کر غیر ملکی سفارتی عہدوں تک کو اپنے ساتھی جرنیلوں یادیگر فوجی عہدیداران کے حوالے کر دیاگیا۔ جرنیلوں اور وردی کی چھتری تلے سانس لینے والے عوامی حمایت سے محروم ابن الوقت ٹولے نے ملی مفادات کا سودا نہایت سستے داموں شروع کر دیا۔ اس روش اور تسلسل و دوام کے باعث ہر طرف مایوسیوں، ناامیدیوں اور غیر یقینی کے مہیب سائے پھیل گئے اور اب تو یہ صورتحال ہے کہ الامان و الحفیظ۔

گزشتہ چھ دہائیوں سے قائداعظم کے تصورات اور ان کا پاکستان نو آبادیاتی نظام کی باقیات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ حکمران ٹولے کو تو اپنے مفادات سے فرصت نہیں مگر قائداعظم کی بے چین روح چودہ کروڑعوام کی حرکت کی منتظر ہے جن کی حکمرانی کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔ جب تک پاکستان میں جمہوریت حقیقی معنوں میں بحال نہیں ہو جاتی، فوج بیرکوں میں واپس جا کر اپنے حلف اور آئین کی حدود کی پابند نہیں ہو جاتی، سول اداروں اور سویلین قیادت کی بالادستی قائم نہیں ہو جاتی، قائداعظم کی روح کو قرار نہیں آسکتا۔ کیا ہم اتنے بے حس اور اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ بابائے قوم کے پاکستان کو آزاد کرانے کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہو سکتے؟ کیاکارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ہے؟ 

قائداعظم نے ہمیں انگریز آقاؤں کی غلامی سے نجات دلائی لیکن قائداعظم کے پاکستان میں بسنے والے ۱۴کروڑ عوام میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں لارڈ میکالے کے فکری سانچے میں ڈھلنے والے آقائی ذہنیت کے حامل فوجی طالع آزماؤں سے نجات دلاسکے۔ جب تک وطن عزیزمیں فوج کی سیاست میں مداخلت اور حکمرانی جاری رہے گی، قائداعظم کا پاکستان معرضِ وجود میں نہیں آسکے گا۔ فوجی طالع آزماؤں نے بانی پاکستان اور شہدائے پاکستان کی جمہوری کاوشوں سے حاصل کردہ پاکستان کو اپنی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا۔ کیا موجودہ پاکستان قائداعظم کا پاکستان ہو سکتا ہے؟ سادہ الفاظ میں کیا قائداعظم کے پاکستان میں فوج کا کوئی سیاسی کردار ہو سکتاہے؟ یہ سوال ہمارے تاریخی ارتقا کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ 

شخصیات

مئی ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۵

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت
مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار
پروفیسر شیخ عبد الرشید

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت
ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکاتیب
ادارہ

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
ادارہ

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی
ادارہ