مئی ۲۰۰۷ء

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۳؍اپریل ۲۰۰۷ کو لاہور میں ’’اسلام اور مغرب کے درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار کی رپورٹ خبر کے طور پر شائع کی ہے جس کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز (پائنا) نے کیا ہے اور صدارت ملک کے معروف دانش ور اور قانون دان جناب ایس ایم ظفر نے فرمائی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد اور دیگر ارباب دانش کے علاوہ اسپین سے تشریف لانے والے دو معروف دانش پروفیسر پری ویلانووہ اور پروفیسر راحیل بیونو بھی...

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت

― مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

یہ ایک حقیقت اور صداقت ہے کہ ایسا نظامِ حکومت جو تمام قوموں، ملکوں اور ساری دنیا کے لیے ہو، بڑے سے بڑے مفکر و فلاسفر انسان اور انسانوں کی کوئی بھی سوسائٹی مرتب نہیں کر سکتی۔ پس اس کے لیے لامحالہ حقیقت کے متلاشی اور صداقت شعار انسانوں کو مذہب کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ مذہب ہی وہ ضابطہ حیات ہے جو انسان کی اس کے ہر شعبہ زندگی، انفرادی اور اجتماعی میں رہنمائی کرتا ہے اور وہ ایسا ضابطہ حیات ہے جو ایسے انسان کامل پیدا کرتا ہے جن میں انصاف ہو، انسانیت ہو، مساوات و رواداری ہو، انسانی حقوق کا احترام ہو، نوع انسانی کی خدمت ہو، سب کے ساتھ بھلائی و ہمدردی...

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار

― پروفیسر شیخ عبد الرشید

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایک آئین پسند، جمہوری فکر کے حامل راہنما تھے جنہوں نے جمہوری جدوجہد، آئینی سیاست اور عوامی حمایت سے پاکستان حاصل کیا اور حصول آزادی کے فیصلہ کن ایام میں ۹جون ۱۹۴۷ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ’’میں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ جب فیلڈ مارشل آرمی کو فتح سے ہمکنار کرتاہے تو اس کے بعد سول اتھارٹی کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔‘‘ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ قائداعظم نئی ریاست میں سویلین کنٹرول کے حامی اور خواہشمند تھے۔ وہ ملک میں جمہوری نظام اور جمہوریت کے فروغ کے...

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت

― ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

میرے لیے یہ بڑی خوش قسمتی اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر مجھے اس علمی ادارے میں حاضری کا شرف بخشااور آپ حضرات سے ملنے اور آپ حضرات کی زیارت کاموقع مرحمت فرمایا۔ لیکچراور گفتگو تو ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد تو کسی علمی ادارے میں آنا، کسی علمی ادارے کو دیکھنا اور احباب سے ملاقات و گفتگو کرنا ہوتا ہے، اس لیے کہ احباب سے ملاقات اور علمی احباب سے ملاقات بجائے خود ایک علمی مجلس ہوتی ہے اور بجائے خود ایک ثواب کا اور ایک عبادت کا کام ہے۔ باقی یہ کہ میں کیا گفتگو کروں گا؟ میں جو گفتگو کروں گا، وہ یقیناًپہلے سے آپ حضرات کے علم میں...

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

اجتہاد کی عام فہم تعریف کریں تو اسے ’’ماہرین قانون و شرع کی، متعینہ اصولوں کی روشنی میں، مسائل اور احکام معلوم کرنے کی پر خلوص اور انتہائی کاوش کا نتیجہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح یہ منصب یقینی طور پر علماے کبار اور ماہرین کا ہے۔ اس پر ہمیں ان کا منصب ہر لحاظ سے تسلیم ہے۔ وہ اس بارے میں کسی اجارہ داری کا دعویٰ کریں یا نہ کریں، ہم ان کی یہ حیثیت بلا شرکت غیرے مانتے ہیں۔ اس تسلیم و رضا کے ساتھ ساتھ سوال، بحث اور جائزے کا حق بھی اہل حق تسلیم کریں گے۔ اس طرح اجتہادی مسائل کی دو سطحیں ہیں: علمی اور طالبانہ۔ علمی سطح پر یہ حق اہل علم و فن آپس میں استعمال...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) لندن، ۷ اپریل ۲۰۰۷ء۔ محترم مولیٰنا راشدی دام لطفہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ پچھلے چار مہینے ہندوستان میں گزرے۔ گزشتہ ہفتے واپسی ہوئی تو یہاں مارچ کا الشریعہ دیکھا۔ ’’اسلام کے نام پر انتہا پسندی‘‘کا جو قصہ ’’ کلمۂ حق ‘‘میں رقم کیا گیا ہے، اس سے بہ صد رنج تصدیق ہوئی کہ روزنامہ جنگ وغیرہ سے جو صورت اور نوعیت اس قصہ کی سامنے آر ہی ہے، وہ ٹھیک ہی ہے۔مگر معاملہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اور اس کے بارے میں آپ کا جو شدید احساس و اضطراب تحریر میں نمایاں ہے، اس کو دیکھتے ہوئے’’ کلمۂ حق‘‘ کا حق ادا ہوتا نظر نہیں آیا۔ یہ اگر واقعۃً ’’افسوسناک...

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

رگِ خواب، قربِ گریزاں اور حریم حمد کے بعد منیر الحق کعبی کا نیا مجموعہ کلام دشتِ وصال کے نام سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ اس شعری مجموعے میں اگرچہ تخیل اور اسلوب کی چند نئی جہتیں پر پرزے نکالتی محسوس ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود کعبی کے شعری سبھاؤ کی روایتی پرچھائیاں دشت سے لے کر وصال تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: ’’تازہ ہوائے صبح پھر دل کو خطاب کر گئی، باغ کی ہر کلی کھلی ، کھل کے گلاب کر گئی۔ یاد کے شاخسار پر گل جو کھلے بکھر گئے، خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی۔ تھل کے ہر ایک ذرے میں پنوں کا عکس دیکھ کے، سسی وصال کے لیے خود کو کباب کر گئی۔‘‘...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’پرویز صاحب کا فہم قرآن‘‘۔ غلام احمد پرویز صاحب کے فہم دین اور ان کے پیش کردہ افکار پر علمی حلقوں کی جانب سے مختلف نوع کی تنقیدیں سامنے آ چکی ہیں۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اپنے ایک خطاب میں مدرسہ فراہی کے مخصوص ذوق کے تناظر میں پرویز صاحب کے اس طریق تفسیر کی خامیاں واضح کی تھیں جس کے تحت وہ قرآنی الفاظ کا مدعا ومفہوم طے کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کے تنقیدی زاویہ کو خورشید احمد ندیم صاحب نے اپنے ایک مضمون میں مزید مثالوں سے واضح کیا۔ یہ تنقید اہل علم میں دلچسپی سے پڑھی گئی اور پرویز صاحب کے فکر سے متاثر بعض حضرات کے لیے بھی، جن میں زیر نظر کتابچہ...

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی

― ادارہ

۳۱ مارچ ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہد الراشدی کے مضامین کے دو مجموعوں کی اشاعت کے موقع پر ان کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ مضامین کے یہ دو مجموعے ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ اور ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ تقریب رونمائی سے پروفیسر غلام رسول عدیم، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر محمد شریف چودھری، پروفیسر محمد اکرم ورک اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کے علاوہ جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانش ور جناب نادر عقیل انصاری نے...

مئی ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۵

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت
مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار
پروفیسر شیخ عبد الرشید

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت
ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکاتیب
ادارہ

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
ادارہ

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی
ادارہ