اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

یہ ایک حقیقت اور صداقت ہے کہ ایسا نظامِ حکومت جو تمام قوموں، ملکوں اور ساری دنیا کے لیے ہو، بڑے سے بڑے مفکر و فلاسفر انسان اور انسانوں کی کوئی بھی سوسائٹی مرتب نہیں کر سکتی۔ پس اس کے لیے لامحالہ حقیقت کے متلاشی اور صداقت شعار انسانوں کو مذہب کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ مذہب ہی وہ ضابطہ حیات ہے جو انسان کی اس کے ہر شعبہ زندگی، انفرادی اور اجتماعی میں رہنمائی کرتا ہے اور وہ ایسا ضابطہ حیات ہے جو ایسے انسان کامل پیدا کرتا ہے جن میں انصاف ہو، انسانیت ہو، مساوات و رواداری ہو، انسانی حقوق کا احترام ہو، نوع انسانی کی خدمت ہو، سب کے ساتھ بھلائی و ہمدردی ہو اوروہ ایسے انسان پیدا کرتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لیے امن و سلامتی کے خواہش مند ہوں۔ مذہب ہی انسان کا رشتہ خدا سے جوڑتا ہے اور ماورا ہستی کا تصور اس کے ذہن و دماغ میں پیدا کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہر انسان اپنے سے بالاتر ہستی کے آگے اپنے آپ کو جواب دہ یقین نہیں کرتا، اس میں مذکورہ بالا صفات ہر گز پیدا نہیں ہو سکتیں۔ 

مذہب وہ ضابطہ حیات ہے جس کا واضع خود خدا ہے۔ اس کی بنیاد وحدتِ انسانیت پر ہے اور انسانیت کی وحدت، فطرت و فکرپر اور مساوات پر رکھی گئی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سارے ادیان و مذاہب اور فلسفوں کا اصل اصول یہی فکر ہے۔ اس کو ضمیرِ انسانی یا دین اور فطرت اللہ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ خدا کو معلوم تھا کہ انسان خود ضابطہ حیات اپنے لیے نہیں بنا سکتا، لہٰذا خدا نے جیسا کہ موجوداتِ عالم کی بقا و نشوونما کے لیے ہر اس چیز کی فراہمی کا انتظام کیا جس کی ضرورت کا تصور کیا جا سکتا تھا، اسی خدا نے اس کی سب سے بڑی ضرورت کا بھی انتظام کیا جس کے بغیر پوری نوع انسانی کی زندگی کا غلط ہو جانا یقینی تھا۔ اس بڑی اور اہم ضرورت کے لیے خدا نے جو ضابطہ زندگی وضع کیا ہے، اسی کا نام مذہب اور دین ہے اور اسی کی ترجمانی انبیا و صلحا اور حکما کرتے آئے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اصلی مذہب میں باہر سے کدورتیں شامل ہوتی گئیں اور بار بار نئے ڈرانے والوں اور خوش خبری دینے والوں کی ضرورت پڑتی رہی۔ چنانچہ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں نظامِ زندگی ان برگزیدہ انبیا کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم ہوا، یہ زمین جنت کا نمونہ اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن گئی۔ اس کے متعلق ہر قوم اور ہر ملک کے لوگوں میں گزشتہ سنہری زمانوں کے قصے کہانیاں اب تک کم و بیش چلی آرہی ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ ہر زمانے اور ہر ملک و قوم میں خدا کے برگزیدہ انبیا مذہب کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور ایک ایک چیز پر عمل کرکے بھی دکھاتے رہے ہیں۔ بے شک یہ سارے کے سارے مذاہب اپنے اپنے زمانے میں حق تھے اور درست تھے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس جہان میں گزشتہ برگزیدہ رسولوں کے اسوہ اعمال اور ان کی تعلیمات کا اس وقت صحیح صحیح موجود ہونا تو درکنار، ان کے دوچار سو سال بعد بھی ان کے ٹھیک ٹھیک دنیا میں موجود ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اور اس کا بھی کوئی صاحبِ علم و عقل انکار نہیں کرسکتا کہ آسمانی کتب میں سے صرف قرآن کریم اور خدا کے رسولوں میں سے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و رہنمائی اس وقت دنیا میں بے کم و کاست محفوظ ہیں۔ گزشتہ تیرہ چودہ سو سال کے نشیب و فراز اور مسلمان قوم کی ساری نالائقیوں اور گمراہیوں کے باوجود محمد رسول اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی معرفت آئی ہوئی پوری کی پوری تعلیمات آج بھی اسی طرح موجود و محفوظ ہیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑا تھا۔ اور یہ کوئی اتفاقِ زمانہ کی بات نہیں، قرآن کریم نے بتلا دیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کا آخری نبی اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے، اور یہ دونوں آئندہ ہمیشہ کے لیے ہدایت کا واحد ذریعہ ہیں اور ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔ اس بات کا ثبوت کہیں باہر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کتاب و سنت کا ایک ایک پہلو آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ 

پس ا ب طالبان حق و حقیقت کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ دوسرے تمام منبع ہائے ہدایت ( جنہیں لوگوں نے اپنی تحریف و تصرف سے گدلا کر دیا ہے) کو چھوڑ کر صرف قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں ااور انہی دونوں کی راہنمائی اختیار کریں۔ اس اختلافِ مذاہب ہی کو تو دور کرنے کے لیے خداے برتر و بزرگ نے سابقہ تعلیمات کو جو مختلف اقوام اور مختلف ممالک میں ابتدا سے وقتاً فوقتاً نازل کی جاتی تھیں، یکجا کر کے قرآن کریم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا اور بتا دیا کہ اللہ کی طرف سے آنے والے سب ہادیوں کی یہی تعلیم تھی اور سب اللہ کے سچے پیغامبراور برگزیدہ بندے تھے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سب کو سچا تسلیم کرنا اور ان پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار انسان کو دائرہ حق پرستی سے خارج کر دیتا ہے۔ اس لیے قرآن جب سے نازل ہوا ہے، ساری دنیا کے لیے ہدایت نامہ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لیے رسول بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں۔ 

قرآن مجید کے برحق ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ایسی تعلیم دیتا ہے جو سب انسانوں کے فطری رجحانات کی آئینہ دار اور ساری نوع انسانی کے فائدہ کے لیے ہے اور قرآن کی عالم گیریت محض اس بنا پر ہے کہ وہ کل انسانیت کی کتاب ہے۔ قرآن کی تعلیمات انسانیت کی طرح عالم گیر، ہمہ گیر اور دائمی ہیں۔ وہ ہر ملک کے لیے ہیں، ہر قوم کے لیے ہیں اور ہر زمانہ کے لیے ہیں۔ یہ اس لیے کہ قرآن کریم دینِ اسلام کا ترجمان ہے اور دین اسلام کسی ایک ملک قوم یا زمانہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اسلام تمام انسانیت کا دین ہے اور ہر زمانہ کے لیے ہے اور قرآن کریم ہی اس دین کا قانونِ اساسی ہے۔ قرآن مجید جیسا کہ اپنے نظریات میں بے نظیر ہے، ایسا ہی عملیات میں بھی اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ کسی کتاب کا اعلیٰ اور عمدہ ہونا صرف اس اعتبار سے نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کتاب نظری حیثیت سے بلند اور بے مثل ہے بلکہ اس کتاب کو عمل و نتیجہ سے دیکھا جانا بھی ضروری ہے، یعنی اس اعتبار سے کہ وہ کتاب خارج میں معاشرہ پر کیا اثر ڈالتی ہے اور اس پر عمل کرنے سے کیسے نتائج مرتب ہوتے ہیں اور یہ کس قسم کی سوسائٹی پیدا کرتی ہے۔ پس قرآن مجیدکو جب اس اعتبار سے دیکھا جاتا ہے تو قرآن اپنے عملی نتائج کے اعتبار سے بھی بے نظیر کتاب ثابت ہوتی ہے۔ جیسی سوسائٹی قرآن نے بنائی، اس سوسائٹی سے بہتر سوسائٹی کوئی کتاب بھی پیدا نہیں کر سکی۔ اس سے قرآن کی عظمت کا صحیح اندازہ ہو سکتا ہے ( مثلاً جو لوگ زانی تھے ، قرآن کی تعلیم و تربیت سے عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ بعض لوگ اشتراکیت کی بڑی مبالغہ سے توصیف کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک نامکمل ہے ۔ )

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انسانیت کے لیے رسول و نبی ہونا ان شرائط سے ثابت ہوتا ہے کہ :

(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص قوم یا نسل یا طبقہ کی بھلائی کے لیے نہیں، بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کیا ہے ۔ 

(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اصول پیش کیے جو تمام دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور جن میں انسانی زندگی کے تمام اہم مسائل کا حل موجود ہے ۔

(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کسی خاص زمانہ کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر زمانے اور ہر حال میں یکساں مفید ، یکساں صحیح اور یکساں قابلِ پیروی ہے ۔ 

(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اصول پیش کرنے پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ اپنے پیش کردہ اصولوں کو زندگی میں عملاً جاری کر کے دکھایا ہے اور ان کی بنیا د پر ایک جیتی جاگتی سوسائٹی قائم کر کے دکھا دی ہے۔

پس جو شخص بھی سلامتئ فکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرے گا، وہ ایک نظر میں یہ محسوس کر لے گا کہ یہ کسی قوم پرست یا محبِ وطن کی زندگی نہیں ہے بلکہ ایک محبِ انسانیت اور عالم گیر نظریہ رکھنے والے انسان کی زندگی ہے جن کی نگاہ میں تمام انسان یکساں تھے۔ کسی خاندان، کسی طبقے، کسی قوم، کسی نسل یا کسی ملک کے خاص مفاد سے انہیں دلچسپی نہیں تھی۔ امیر و غریب، اونچ اور نیچ، کالے اور گورے، عرب اور غیر عرب، مشرقی اور مغربی، سامی اور آرین، سب کو وہ ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی ہی میں حبشی، ایرانی، رومی، مصری، اسرائیلی اسی طرح رفیقِ کار بنے جس طرح عرب، اور ان کے بعد زمین کے ہر گوشے میں ہر نسل و قوم کے انسانوں نے ان کو اسی طرح اپنا رہنما تسلیم کیا جس طرح ان کی اپنی قوم نے۔ اسی کا کرشمہ ہے کہ آج ہندوستانی کی زبان سے بھی اس شخص علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف سنی جا رہی ہے جو صدیوں پہلے عرب میں پیدا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص قوموں اور مخصوص ملکوں کے وقتی اور مقامی مسائل سے بحث کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ اپنی پوری قوت انسانیت کے اسی بڑے مسئلے کو حل کرنے پر صرف کردی جس سے تمام انسانوں کے سارے چھوٹے چھوٹے مسائل خود حل ہو جاتے ہیں۔ وہ بڑا مسئلہ کیا تھا؟ انسان کی خدا سے بغاوت، یہ بغاوت تمام خرابیوں کی جڑ ہے، اس لیے کہ خدا سے باغی ہو کر انسان لازمی طور پر دو میں سے ایک صورت اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ اپنے آپ کو خود مختار اور غیر ذمہ دار سمجھ کر من مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے اور یہ رویہ اس کو ظالم بنا دیتا ہے، یا پھر وہ خدا کے سوا دوسروں کے آگے سر جھکانے لگتا ہے اور اس سے بے شمار فساد کی صورتیں دنیا میں پیدا ہوتی ہیں، اس لیے کہ ایسا کرنا حقیقت کے خلاف ہے اور جو کام حقیقت کے خلاف ہو، اس کے نتائج برے نکلتے ہیں ۔ 

اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خیالی نقشہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس نقشہ پر ایک زندہ سوسائٹی پیدا کر کے دکھا دی۔ انہوں نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں لاکھوں انسانوں کو خدا کی حکومت کے آگے سر اطاعت جھکانے پر آمادہ کر لیا اور ان کوجمع کر کے خالص ایک خدا کی بندگی پر ایک نظامِ اخلاق ، نظام تمدن ، نظامِ معیشت اور نیا نظامِ حکومت بنایا اور تمام دنیا کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کردیا کہ وہ جو اصول پیش کر رہے ہیں، اس پر کیسی زندگی بنتی ہے اور دوسرے اصولوں کی زندگی کے مقابلے میں وہ کتنی اچھی ، پاکیزہ اور کتنی صالح ہے ۔ 

یہ وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردارِ عالم اور پیغمبرِ عالم کہتے ہیں ۔ جب مذہب اسلام سب کے لیے ہے اور اس کی کتاب قرآن سب کے لیے ہے اور اس کا رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لیے ہے، یہ تینوں چیزیں بلا تفریق انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں جن پر کسی کا حق دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں ہے ، جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے، پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس کے خلاف کسی کو تعصب رکھنے یا نظر انداز کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

اس وقت ہر ملک و قوم کے عقل مند حلقوں کا رجحان اس طرف ہو رہا ہے کہ اپنے اپنے فکری نظاموں کو عالم گیر اور انسانیت کا ترجمان بنا کر پیش کررہے ہیں اور تمام دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے متحدہ بین الاقوامی حکومت کی ضرورت پیش کی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسلام ( جس سے بہتر انسانیت کے لیے کوئی مذہب، کوئی فلسفہ، کوئی تمدن اور کوئی قانون میسر نہیں آ سکتا) جو سب کے لیے بلا تفریق، مذہب قرار دیے جانے کا مدعی ہو اور وہ بہترین نظامِ حکومت پیش کر سکتا ہو، پھر بھی اسلام جیسے عالم گیر اور بہترین نظامِ زندگی پیش کرنے والے مذہب سے حقیقت کے متلاشی اور صداقت کے خواست گار، عقل مند اور مفکر انسانوں کا پہلو تہی کرتے رہنا حیرت انگیز ہے اور بے انصافی ہے۔ 

غیر از خدا ہر چہ پرستند ہیچ نیست 
بے دولت است آں کہ بہ ہیچ اختیار کرد 

(خدا کے علاوہ لوگ جس کسی کو بھی پوجتے ہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ شخص بڑا محروم القسمت ہے جو بے حیثیت چیز کا انتخاب کر لے۔)

مذہب اسلام کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا، ایک حقیقت اور نفس الامر بات کو بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کوئی خوش فہی ، حسنِ عقیدت اور مبالغہ پر مبنی نہیں ہے۔ اگر دنیا والے امن اور سلامتی کی زندگی چاہتے ہیں توان کو چاہیے کہ ٹھنڈے دل سے بخوشی و رضامندی ابھی سے اسلام کو تسلیم کر لیں، ورنہ آئندہ چل کر ٹھوکریں کھانے کے بعد لامحالہ ان کو اسلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اگر غیر مسلم عقیدتاًاور مذہباً تسلیم نہ کرنا چاہیں تو ان کو اختیار ہے، اسلام کی طرف سے جبراً مطالبہ نہیں، لیکن نظماً اور سیاسۃً بھی اسلام سے بہتر کوئی نظام نہیں۔ اگر کسی صاحب کو اس کے متعلق تردد ہو تو وہ اسلام کے اصول و فروع کا مطالعہ کرکے اپنی تسلی کر سکتا ہے، یہاں سب باتیں تفصیل سے بیان نہیں کی جا سکتیں۔ 

اسلام اور عصر حاضر

مئی ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۵

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت
مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار
پروفیسر شیخ عبد الرشید

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت
ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکاتیب
ادارہ

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
ادارہ

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی
ادارہ