اصولوں پر تنقید

طالب محسن

حافظ زبیر صاحب کا ایک طویل مضمون ’الشریعہ‘ (مئی ۲۰۰۶) میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں حافظ صاحب نے استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے ’’اصولوں‘‘ پر تنقید کی ہے اور بعض اطلاقی مسائل کو بھی بطور مثال زیر بحث لائے ہیں۔ ہم ان اطلاقی مسائل مثلاً رجم کی سزا، حضرت مسیح کی دوبارہ آمد اور دجال وغیرہ پر بحث کو اس وقت تک کے لیے مؤخر کر رہے ہیں جب تک اصول کی بحث مکمل نہیں ہوجاتی۔ 

حافظ صاحب کے مضمون کا اصولوں سے متعلق حصہ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ استاد محترم کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ کے مندرجات پر تنقید نہیں ہے، بلکہ انھوں نے بعض غیر متعلق اقتباسات سے، جن میں سے اہم اقتباسات استاد محترم کی تحریر بھی نہیں ہیں، خود کچھ اصول اخذ کیے ہیں اور پھر ان پر تنقید کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کا مضمون واضح طور پر علمی دھاندلی کا نمونہ ہے۔ انھیں اگر استاد محترم کے اصول پر تنقید کرنا تھی تو انھیں ’’اصول ومبادی ‘‘میں بیان کردہ اصولوں پر تنقید کرنی چاہیے تھی اور اگر وہ دوسری آرا کو زیر بحث لانا چاہتے تھے تو ان آرا سے متعلق نصوص کو زیر بحث لاتے اور یہ واضح کرتے کہ استاد محترم متعلقہ نص کا مفہوم طے کرنے میں کہاں غلط ہیں۔ حافظ صاحب نے اصل میں کچھ تحقیقی نتائج کو سامنے رکھا ہے۔ ان نتائج تک پہنچنے کے اصول خود دریافت کیے ہیں اور انھیں استاد محترم کی طرف منسوب کرکے اپنے تئیں اصولی تنقید کی مثال قائم کر ڈالی ہے۔بہرحال اگر ہم ان خود دریافتہ اصولوں کا جائزہ لیں تو تین بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:

۱۔ تصور کتاب

۲۔ سنت کی تعریف

۳۔ مقام حدیث

حافظ صاحب کے نزدیک استاد محترم کا تصور کتاب غلط ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’غامدی صاحب کے نزدیک کتاب اللہ سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ کتاب الٰہی ہے یعنی تورات، انجیل اور صحف ابراہیم بھی اس میں شامل ہیں۔ ‘‘ ۱ ؂

ہم یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ حافظ صاحب کا استاد محترم سے منسوب کردہ یہ تصور کتاب ان کا خود ساختہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ استاد محترم نے اپنی کتاب ’’اصول ومبادی ‘‘میں کتاب اللہ سے ان کی کیا مراد ہے، واضح الفاظ میں بیان کی ہے۔لکھتے ہیں:

’’یہ وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، اور اپنے نزول کے بعد سے آج تک مسلمانوں کے پاس ان کی طرف سے بالاجماع اس صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہی وہ کتاب ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اور جسے آپ کے صحابہ نے اپنے اجماع اور قولی تواتر کے ذریعے سے پوری حفاظت کے ساتھ بغیر کسی ادنیٰ تغیر کے دنیا کو منتقل کیا ہے۔‘‘ ۲ ؂

حافظ کہہ سکتے ہیں کہ اس اقتباس سے تو ان کی بات کی نفی نہیں ہوتی۔ اگر وہ اس سے پہلے ماخذ کے حوالے سے لکھا گیااصل الاصول پیش نظر رکھیں تو یہ بات کہنا ممکن نہیں۔ استاد محترم نے لکھا ہے:

’’دین کاتنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ انھی کی ہستی ہے جس سے قیامت تک بنی آدم کو اس کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریر وتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی رہتی دنیا تک دین حق قرارپائے‘‘۔۳؂

اس اقتباس کے شروع میں تنہا ماخذ اور اس کے آخری جملے میں قول وفعل اور تقریر وتصویب کے الفاظ حافظ صاحب کے دریافت کردہ اصول کی ہر پہلو سے تغلیط کر دیتے ہیں۔یہاں یہ بیان کردینا بھی مفید مطلب ہے کہ استاد محترم کے نزدیک یہود ونصاریٰ کی الہامی کتب کی افادیت کیا ہے۔ اپنی کتاب اصول ومبادی میں لکھتے ہیں:

’’الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب، یہود ونصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب واشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے۔‘‘ ۴؂

اس اقتباس میں صریح الفاظ میں صرف یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید کے کن موضوعات کو سمجھنے میں یہ کتب فائدہ مند ہیں۔ ان الفاظ سے جو شخص کتاب الٰہی کا ایک مختلف تصور درآمد کرتا ہے، اس کی خدمت میں یہی عرض کیا جاسکتا ہے: 

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

حافظ صاحب نے قرآن ہی کی طرح سنت کی ایک تعریف بھی استاد محترم سے منسوب کی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’جہاں تک سنت کا معاملہ ہے تو غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوتی بلکہ سنت سے مراد سنت ابراہیمی ہے، یعنی دین کی وہ روایت جو حضرت ابراہیم سے جاری ہوئی۔‘‘ ۵؂

ہمیں نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے یہ نتیجہ کیسے نکالا ہے۔ اس لیے کہ استاد محترم کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ سنت ابراہیمی کا ذکر صرف تاریخی پہلو کو بیان کرنے کے لیے ہے، ماخذکی حیثیت سے نہیں ہے۔ استاد محترم نے لکھا ہے:

’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایاہے۔‘‘ ۶؂

اس تعریف میں تجدید واصلاح اور جاری فرمانے کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ اوپر ہم استاد محترم کا ایک اقتباس نقل کرچکے ہیں جس میں واحد ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کو قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں عبارتوں کو ملا کر پڑھیں تو اس بات سے انکار ناممکن ہو جاتا ہے کہ استاد محترم کے نزدیک ہمارے لیے ماخذ صرف وہی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا ہو۔ یہ بات کہ وہ عمل حضور سے پہلے بھی موجود تھا، ایک اضافی اطلاع ہے، شرط یا تعریف کا حصہ نہیں ہے۔ حافظ صاحب اس بیان سے غالباً قارئین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سنت کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر امت سے ہٹ کر ہے۔ استاد محترم کے اقتباسات سے واضح ہے کہ ہم دین لینے کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ قرآن وسنت ہی کو ماخذ مانتے ہیں۔ البتہ حافظ صاحب استاد محترم کے ان بیانات میں کوئی غلطی پاتے ہیں تو ہم ان کی تنقید کا خیر مقدم کریں گے۔

تیسرا نکتہ مقام حدیث سے متعلق ہے۔ حافظ صاحب نے لکھا ہے:

’’غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا، یعنی حدیث سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا ہر گز کوئی اضافہ نہیں ہوتا جبکہ علمائے اہل سنت کے نزدیک قرآن کی طرح حدیث سے بھی دین ثابت ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت انھوں نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے۔‘‘ ۷؂

حافظ صاحب نے اگر اتنا ہی لکھا ہوتاکہ غامدی صاحب کے نزدیک حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا یعنی حدیث سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا تو ہم اسے نامکمل بیان قرار دیتے اور ان سے درخواست کرتے کہ وہ اصول ومبادی کے ابتدائی دو صفحات ذرا دقت نظر سے دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ حدیث کے بارے میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے، وہ کس پہلو سے غلط ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ اس اصول کے تحت انھوں نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے‘‘۔ اس اضافے نے یہ بات واضح کردی ہے کہ حافظ صاحب استاد محترم کی بات سمجھے بغیر اس کی غلطی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جملے کے دونوں اجزا غلط ہیں۔ یہ بھی کہ رجم کا انکار کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ وہ حدیث کے بارے میں کسی نقطہ نظر کا نتیجہ ہے۔ ہمارے ناقدین کے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ علمی تنقید کا پہلا تقاضا ہی پورا نہیں کرتے۔ حافظ صاحب پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں۔ کیا وہ یہ بات نہیں جانتے کہ جس نقطہ نظر کو غلط قرار دیا جارہا ہے، اس کی غلطی کا صحیح تعین ضروری ہے۔ اگر غلطی صحیح طور پر متعین نہیں کی گئی یا قائل کا نقطہ نظر پوری طرح نہیں سمجھا گیا تو یہ عمل علمی دیانت کے خلاف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ناقدین کچھ اسباب کے تحت ہماری تغلیط تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اس کے لیے بالعموم یہ بنیادی تقاضا پورا نہیں کرتے، جس کے باعث ان کے قلم تہمت جیسے قبیح جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 

حافظ صاحب نے رجم کو یہاں بطور مثال بیان کیا ہے، اس لیے ہم اس کو باقاعدہ موضوع بنانے کے بجائے محض یہ وضاحت کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ اصل سوال کیا ہے؟امت میں یہ سوال ہمیشہ سے زیر بحث ہے کہ رجم کے واقعات کا مبنی قرآن میں کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں زنا کی سزا صریح الفاظ میں بیان ہوئی ہے اور وہ سو کوڑے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے صریح حکم کو چھوڑ کر کوئی اور رائے اختیار کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی مرحوم نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا آیت محاربہ کے تحت دی ہے۔ یہ نقطہ نظر صریح طور پر رجم کی سزا کا اثبات ہے۔ اسے کسی طرح بھی انکار قرار دینا درست نہیں۔ ہم حافظ صاحب سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس نقطہ نظر کو رجم کی سزا کے انکار پر محمول کرنے کے بعد وہ کس طرح مطمئن ہیں کہ ان سے ناانصافی نہیں ہوئی جبکہ قرآن مجید کا صریح حکم ہے کہ تمھیں ہر حال میں عدل کی بات کہنی ہے، خواہ معاملہ دشمن ہی کا کیوں نہ ہو۔

اب ہم حدیث کے مسئلے کو لیتے ہیں۔ یہاں بھی استاد محترم کے نقطہ نظر کو غلط رنگ دیا گیا ہے۔ استاد محترم کے نزدیک: 

’’دین کاتنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ انھی کی ہستی ہے جس سے قیامت تک بنی آدم کو اس کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریر وتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے‘‘۔ 

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا ہم ان سے براہ راست یہ دین نہیں لے سکتے۔ ہمارے لیے اس دین کا ماخذ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب استاد محترم ان الفاظ میں دیتے ہیں: 

’’اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی وعملی تواتر سے منتقل ہوا۔‘‘ ۸؂ 

یہ جملہ ایک واضح نکتہ بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا سارا دین بے کم وکاست صحابہ کے اجماع وقولی وعملی تواتر کے ماخذ سے دستیاب ہے۔ استاد محترم کے اس بیان کی روشنی میںیہ بیان ناقص ہے کہ ان کے نزدیک حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی یہ کہے کہ ان کے نزدیک دین کا کوئی مستقل بالذات جزو خبر واحد پر منحصر نہیں ہے تو یہ بات درست ہے۔چنانچہ حدیث کے مشمولات کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے: 

’’دین سے متعلق جو چیزیں ان (احادیث ) میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن وسنت میں محصور اسی دین کی تفہیم وتبیین اور اس پر عمل کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔‘‘ ۹؂

حافظ صاحب اگر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو اس بات پر تنقید کریں اور اس کی غلطی دلائل سے واضح کریں۔ انھوں نے جو بات لکھی ہے، اس کو غامدی صاحب کا نقطہ نظر قرار دینا بات کو الجھانے کا باعث تو ہو سکتا ہے، لیکن اسے کوئی علمی خدمت قرار دینا ممکن نہیں۔ 

استدراک

حافظ صاحب کے مضمون کا بڑا حصہ رجم کی سزا، یاجوج ماجوج کے مصداق کے تعین اور حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے حوالے سے استاد محترم کی غلطیوں اور حافظ صاحب کے قراردادہ اصولوں سے استاد محترم کے انحراف کی وضاحت بر مبنی ہے۔ ہم نے ان بحثوں میں پڑنے سے اس وجہ سے احتراز کیا ہے کہ پہلے بنیادی باتیں طے ہوجائیں ۔ اگر ان میں حافظ صاحب استاد محترم سے موافقت کر لیتے ہیں یا غلطی واضح ہونے کی صورت میں ہم اپنی اصلاح کر لیتے ہیں تو اگلی بحثوں کے فیصل ہونے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ چنانچہ ہماری حافظ صاحب سے گزارش ہے کہ اگر وہ ہمارے مضمون کے جواب میں قلم اٹھائیں تو استاد محترم کے بیان کردہ ان بنیادی اصولوں کی غلطی بیان کرنے تک محدود رہیں تاکہ بحث ایک رخ پر چلتے ہوئے کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ سکے۔

ایک دوسری چیز کو بھی ہم نے اپنے اس مضمون میں موضوع نہیں بنایا۔ میرے جس مضمون کے جواب میں حافظ صاحب نے یہ مضمون لکھا ہے، اس میں مرکزی بات یہ نصیحت تھی کہ تنقید لکھنے میں طعن وتشنیع اور محرکات کے درپے ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ حافظ صاحب نے اس حوالے سے یہ لکھاہے کہ خود استاد محترم کی تحریریں بھی طعن وتشنیع سے خالی نہیں ہوتیں۔ اگرچہ اس حوالے سے یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ استاد محترم کی تنقید نگاری اور ہمارے ناقدین کے اسلوب بیان میں بہت فرق ہے۔ مزید یہ کہ استاد محترم کی تحریروں میں شاید ہی ایسی کسی تنقید کی مثال مل سکے جو سوئے ظن یا تنابز بالالقاب جیسی اخلاقی قباحت کا مظہر ہو۔ ہمارے نزدیک اصل خرابی یہ ہے۔ اس سے ہمیں بھی انکار نہیں ہے کہ تنقید وتجزیہ کرتے ہوئے قلم میں سختی آہی جاتی ہے۔ سخت تنقید اور چیز ہے اور دین کی سکھائی ہوئی اخلاقیات میں کمزوری دوسری چیز ہے۔لیکن ہم حافظ صاحب کی اس نصیحت کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ اگر استاد محترم کے قلم سے کوئی غلط بات نکلی ہے تو اس کی بھی اصلاح ہونی چاہیے۔


حوالہ جات

۱ ؂ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶ ص۲۴

۲ ؂ اصول مبادی، ص۱۰

۳ ؂ ایضا، ص۹

۴ ؂ اصول ومبادی صفحہ۵۲ 

۵ ؂ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶، ص۲۴

۶ ؂ اصول ومبادی،ص۱۰

۷ ؂ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶، ص۲۳

۸ ؂ اصول ومبادی، ص۹

۹ ؂ اصول ومبادی، ص۱۱


آراء و افکار