جولائی ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’حدود آرڈنینس‘‘ ایک بار پھر ملک بھر میں موضوع بحث ہے اور وہ لابیاں از سر نو متحرک نظر آرہی ہیں جو اس کے نفاذ کے ساتھ ہی ا س کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی تھیں اور قومی اور عالمی سطح پر حدود آرڈنینس کے خلاف فضا گرم کرنے میں مسلسل مصروف چلی آرہی ہیں۔ اس سے قبل ہم متعدد بار اس مسئلے کے بارے میں معروضات پیش کرچکے ہیں، لیکن موجودہ معروضی صورت حال میں ایک بار پھر اس سوال کا جائزہ لینا ضروری ہو گیاہے کہ ’’حدود آرڈنینس ‘‘کیاہے ؟ اس کے نفاذ کی مخالفت میں کون کون سے طبقے پیش پیش ہیں اور وہ اس کے خاتمہ کے لیے کیوں سرگرم عمل ہیں؟ ’’حدود‘‘ اسلامی فقہ...

بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت، ترجیحات اور تقاضے

― پروفیسر محمد اکرم ورک

...

مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک

― پروفیسر اختر حسین عاصم

صاحب کتاب جناب ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس نے اپنی کتاب’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں‘‘ میں اس دور کا ایک انتہائی حساس موضوع چھیڑا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر خوب غوروفکر کیاجائے اور امت کا صاحب دانش اورصاحب علم طبقہ بالخصوص اجتماعی طور پر اس عمل میں شریک ہو۔اس موضوع کے مختلف پہلو سامنے لائے جائیں اور ایک ٹھوس لائحہ عمل تجویز کیاجائے۔یہ بات خوش آئندہے کہ ہمارے نوجوان اسکالر نے اس سلسلے میں قلم اٹھایا ہے۔ ہوسکتاہے کہ ان کی یہ تحریر اس عمل کے لیے مہمیز کا کام دے جائے۔ مصنف نے اپنی اس کتاب کو تین ابواب میں...

تین طلاقوں کے بارے میں جمہور علماء کا موقف

― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ایک مجلس میں یا ایک جملے میں تین طلاقوں کے وقوع کے بارے میں بحث ایک عرصے سے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں جاری ہے اور مختلف حضرات کے مضامین اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں۔ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاے امت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک جملے سے دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی واقع ہو تی ہیں، جبکہ مستند اہل علم کا ایک گروہ جس کی نمایاں ترجمانی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے رفقا کرتے ہیں، اس صورت میں ایک طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہے۔ اس مسئلے پر جمہور علما کے موقف کی وضاحت کے لیے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ’’عمدۃ الاثاث...

اصولوں پر تنقید

― طالب محسن

حافظ زبیر صاحب کا ایک طویل مضمون ’الشریعہ‘ (مئی ۲۰۰۶) میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں حافظ صاحب نے استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے ’’اصولوں‘‘ پر تنقید کی ہے اور بعض اطلاقی مسائل کو بھی بطور مثال زیر بحث لائے ہیں۔ ہم ان اطلاقی مسائل مثلاً رجم کی سزا، حضرت مسیح کی دوبارہ آمد اور دجال وغیرہ پر بحث کو اس وقت تک کے لیے مؤخر کر رہے ہیں جب تک اصول کی بحث مکمل نہیں ہوجاتی۔ حافظ صاحب کے مضمون کا اصولوں سے متعلق حصہ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ استاد محترم کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ کے مندرجات پر تنقید نہیں ہے، بلکہ انھوں نے بعض غیر متعلق اقتباسات...

’’قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ ۔ تنقیدات پر ایک نظر

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’ قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ ‘‘ پر چند تنقیدی آرا سامنے آئی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں یوسف جذاب صاحب نے اپنے خط میں مضمون کے پہلے حصے پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے، لیکن زیادہ تر احباب کی تنقید ہمارے مضمون کے دوسرے حصے کے متعلق ہے جس میں بطور کیس سٹڈی ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث پر قرآنی سیاق میں نقد اور قرآنی منشا کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہم یہاں یوسف صاحب کی تنقید سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور ’’ذبیح کون‘‘ کی بحث کی ضرورت اور افادیت پر مبنی...

نئی نسل کے ذہنوں میں گردش کرتے حساس سوالات

― آصف محمود ایڈووکیٹ

میرے ماموں طاہر چوہدری ایک عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ شادی بھی وہیں کی، صاحب اولاد ہیں ، آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل میں ان سے ملنے گاؤں آیا تو ان سے تفصیلی نشست رہی جس میں انھوں نے تفہیم دین کے حوالے سے چند سوالات اٹھائے۔ ان میں کچھ سوالات ایسے تھے جن پر میں نے انھیں مطمئن کر دیا، تاہم ایسے سوالات بھی تھے جن کا جواب میرے جیسے طالب علم کے پاس نہ تھا اور میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ان سوالات کو میں صاحبان علم کے سامنے رکھوں گا اور ان کے جوابات آپ تک پہنچا دوں گا۔ ہماری گفتگو ایک نجی گفتگو تھی تاہم اس نشست میں جو سوالات اٹھائے گئے، ان...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ سلام و رحمت، مزاج شریف؟ جون کے شمارے میں میثاق جمہوریت کے حوالے سے آپ کا کلمہ حق نظر نواز ہوا۔ کلمہ حق واقعی کلمہ حق ہے۔ آپ نے جس حسن توازن سے اظہار فرمایا، وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ پڑھنے کے لائق ہر تحریر کو پورے غور سے پڑھتا ہوں اور ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اس میں سے کوئی بات لائق توجہ ہو تو قلم اٹھایا جائے۔ مدت سے حسرت تھی کہ آپ کی تحریر میں سے کوئی ایسی بات پکڑ لوں، ہمیشہ ہی ناکام رہا۔ آپ کی ہر تحریر نے پہلے سے زیادہ خراج لیا اور آپ کے لیے نیازمندی کے احساسات میں اضافے کا باعث ہوئی۔ زیر بحث تحریر سے بھی میرے...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’انکشاف حقیقت‘‘۔ ایک اہل حدیث عالم نے ’’احناف کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں انھوں نے بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فقہ حنفی کے بیشتر مسائل احادیث نبویہ کے خلاف ہیں، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ فقہ حنفی کی بنیاد قرآن کریم، سنت نبوی اور آثار صحابہ پر ہے اور احناف کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد ان مآخذ پر نہ ہو۔ استنباط واستدلال یا احادیث وآثار میں ترجیحات میں اختلاف کی بات ہو سکتی ہے اور یہ ہر فقہ میں موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ فقہ حنفی یا دوسرے ائمہ کرام کی فقہیں نعوذ باللہ رسول...

جولائی ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۷