مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک

پروفیسر اختر حسین عاصم

(ڈاکٹر ہمایوں عباس (شعبہ اسلامیات جی سی یونیورسٹی) کی کتاب ’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کاتدارک تعلیمات نبوی ؑ کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی منعقدہ ۶؍ مئی ۲۰۰۶ء بمقام ہمدرد سنٹر لاہور میں پڑھا گیا۔)


جناب صدر اور حاضرین محترم!

صاحب کتاب جناب ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس نے اپنی کتاب’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں‘‘ میں اس دور کا ایک انتہائی حساس موضوع چھیڑا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر خوب غوروفکر کیاجائے اور امت کا صاحب دانش اورصاحب علم طبقہ بالخصوص اجتماعی طور پر اس عمل میں شریک ہو۔اس موضوع کے مختلف پہلو سامنے لائے جائیں اور ایک ٹھوس لائحہ عمل تجویز کیاجائے۔یہ بات خوش آئندہے کہ ہمارے نوجوان اسکالر نے اس سلسلے میں قلم اٹھایا ہے۔ ہوسکتاہے کہ ان کی یہ تحریر اس عمل کے لیے مہمیز کا کام دے جائے۔

مصنف نے اپنی اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیاہے ۔پہلے باب میں انہوں نے مذہبی انتہا پسندی کے مفہوم اور محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ باب اس اعتبارسے بہت اہم ہے کہ اس میں مذہبی انتہا پسندی کا مفہوم متعین کیاگیاہے ،کیونکہ جب تک بنیادی مسئلے کا تعین نہ ہو،بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔

انتہا پسندی دراصل ایک طرز عمل کا نام ہے۔ اگرکوئی شخص پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتاہے ،دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے دائرے میں اپنی رائے پر عمل کرنے دیتاہے، باہمی تعلقات اور باہمی مکالمہ پر یقین رکھتاہے ،افہام وتفہیم سے کام لیتاہے تو اس کایہ طرز عمل اس بات کی شہادت ہے کہ وہ انتہا پسند نہیں ۔لیکن اگر وہ کسی دوسری رائے کو برداشت کرنے پر بھی تیارنہیں، اگر وہ مخالفین کو زندہ رہنے کا حق دینے پر آمادہ نہیں، اگر وہ باہمی مکالمہ اور باہمی رواداری پر یقین نہیں رکھتا تو بلاشبہ اس کا یہ ر ویہ انتہا پسندانہ کہلائے گا۔

میری رائے میں اصل مسئلہ کسی عقیدے یا نظریے کا حامل ہونا نہیں، بلکہ ایک تربیت کا ہے ۔ہم نے اپنے معاشرے میں افراد کی اس سطح پر تربیت کی ہی نہیں۔ ہمیں یہ درس نہیں دیاجاتا کہ ہم دوسروں کے ساتھ رائے کے اختلاف کے باوجود معاشرتی سطح پر خوشگوار تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ ان سے انسانی سطح پر اور پھر وسیع ترا سلامی اخوت کی سطح پر باہمی احترام کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔ہمیں گھروں میں بڑوں کی طرف سے اور منبر ومحراب سے علمائے کرام کی طرف سے جب پکڑ لو ،پکڑ لو اور مار دو ماردو کا سبق ملے گا تو اس کے منفی اثرات تو لامحالہ ہمیں بھگتنے پڑیں گے۔ افہام وتفہیم کا راستہ کھلا رکھاجائے ،دوسروں کی بات کو اگر وہ دلائل کے ساتھ ہے ،سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور ایک دوسرے کو برداشت کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ انتہاپسندی سے پاک نہ ہوجائے۔

اس مسئلے کے تدارک کے حوالے سے جو یہ حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ ہر قسم کی اختلافی تحریروں پر پابندی لگادی جائے ،ا س میں کچھ حدوں کی نشان دہی ضروری ہے۔ اگر تو کوئی تحریر محض دشنام طراز ی پر مشتمل ہے اور اس میں مار دو پکڑ لو کا درس ہے، اس کی زبان اخلاق سے گری ہوئی ہے تو ایسی کتابوں کی اشاعت کا کوئی جواز نہیں اور ایسی کتابوں کی اشاعت پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے۔ اس باب میں دوآرا ممکن ہی نہیں۔ لیکن شائستگی ،علمی وقار اوردیانت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی جانے والی اختلافی تحریروں اور بحث مباحثے کی راہ کھلی رکھنی چاہیے، ورنہ معاشرے میں ایسی گھٹن پیداہوگی کہ پورا معاشرہ یا تو ایک مردہ معاشرے بن جائے گا اور یا پھر پریشر ککر کی طرح اس میں پریشر جمع ہوتا جائے گا اور پھر ایک دن ایک دم پھٹے گا اورپورے معاشرے کو انارکی Anarchy)) کا شکار کردے گا۔

صاحب صدر!

مذہبی انتہا پسندی کی دو سطحیں ہیں۔ ایک، کسی بھی دین کے اندر موجود مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان نفرت اور دشمنی اور دوسرے، مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور دشمنی۔ان میں سے ہر ایک سطح پر مسئلہ کی نوعیت کچھ مختلف ہوجاتی ہے لیکن ایک پہلو جو بڑا عجیب ہے، میں اس کی نشان دہی کرنا چاہتاہوں۔نرالا قصہ یہ ہے کہ عقلی طور پر تو مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مناقشت، نفرت یادوری زیادہ ہونی چاہیے اور ایک کلمے اور ایک دین کے ماننے والوں کے درمیان نفرت یادوری کا اصلاً تو جواز ہی نہیں ،لیکن اگر ہو تو اس میں شدت نہیں ہونی چاہیے ۔لیکن یہ عجیب قصہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں مسلمانوں نے آپس کے تنازعات میں تو شدت پسندی سے کام لیا ہے ،لیکن دوسرے ادیان ومذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کا رویہ عام طورپر رواداری اور برداشت کا ہی رہاہے۔

معاشرے میں انتہا پسندی کی بڑی وجوہات کا اگر تجزیہ کیاجائے تو اس میں جہالت ایک بڑے عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ دین سے بے خبری، خود قرآن وحدیث سے بے خبری۔ قرآن کی تلاوت مفہوم سمجھے بغیر کی جاتی ہے ۔اس عمل کے ثواب اور اس کی برکات سے انکار نہیں،لیکن قرآن کتاب ہدایت ہے ۔ہدایت پر عمل کرنے کے لیے پہلے اسے سمجھنا ضروری ہوتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ مطالب اور مفاہیم کو سمجھ کر کریں تو اس سے کئی معاملات سلجھ سکتے ہیں اور انتہاپسندی میں کمی آسکتی ہے۔ ہمارے ہاں ہر کس وناکس حساس سے حساس مسئلے پر بڑی قطعیت سے رائے دینے کا عادی ہے ،حالانکہ اکثر ان کے پاس قرآن اور حدیث کا علم سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ اس قطعیت میں ایک بے جا ضد شامل ہوجاتی ہے۔

دوسرا عنصر برداشت اور رواداری کی عدم موجودگی ہے۔ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر برداشت سے محروم ہوتاجارہاہے، عجلت پسندی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر طیش میں آجانا ،ہتھیار اٹھا لینا ،مرنے مارنے پر تیار ہوجانا ہمار ا معمول بن چکاہے۔ اس رویے کی تہذیب اور اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔انسان کو مخالفانہ رائے کو حوصلے سے سننے کی تربیت کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ اختلافی بات کو بڑے مہذب طریقے اور سلیقے سے کرنے کا فن بھی سیکھنا چاہیے۔

مصنف نے بجا طور پر نشان دہی کی ہے کہ ایک دوسرے پر کفر اور شرک کے فتوے لگانے سے انتہا پسندی کو فروغ مل رہاہے۔یہ بات اصولی طور پر طے ہوجانی چاہیے کہ تمام کلمہ گو جو رسول عربی ﷺ کو اللہ کا آخری رسول اور پیغمبر مانتے ہیں، مسلمان ہیں اور ان کے درمیان فقہی اختلافات کے باوجود کسی کو کسی پرکفر اورشرک کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے۔ جہاں تک فقہی اختلافات کا تعلق ہے، اس ضمن میں توسع سے کام لینا چاہیے۔

اس کتاب کے دوسرے باب میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نبوی تعلیمات سے جورہنمائی ملتی ہے، اسے واضح کیاگیاہے۔ اس باب میں مصنف نے ایسی بہت سی مثالیں نقل کی ہیں جن سے امت کے سلف صالحین اور بزرگوں کا اس معاملے میں طرز عمل سامنے آتاہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابن عمرؓ خارجیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ امام احمد بن حنبلؒ کا یہ قول سامنے آتاہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کسی کے پیچھے پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھے گا، وہ بدعتی ہے ۔ابن حزمؓ نے فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہؓ کا موقف او ر عمل واضح کیاہے اور مثالیں دی ہیں کہ وہ فاسق کے پیچھے بھی نمازپڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ فتاوی ٰ عام ہیں کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور اکثر ایسی صورتوں میں ہمارے علمائے کرام نماز کو لوٹانے یا دوبارہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔

مصنف نے تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں انسانی جان کی حرمت واضح کی ہے ۔اس حرمت کی خلاف ورزی کی صورت میں جو سخت وعید یں آئی ہیں ،ان کو بیان کیاہے۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ پر ایمان بھی رکھتاہو لیکن انسانی جان اور مومن کی جان کے بارے میں آپ کی اتنی صریح تعلیمات کو پس وپشت ڈالتاہو، اسے اپنے ایمان کے متعلق از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہی نہیں، اسلام تو کسی بھی دین کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کو چھیڑنے یا ان سے تعرض کرنے سے بھی سختی سے منع کرتاہے۔ انسانی جان کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عزت نفس کے تحفظ پر خصوصی زور دیتاہے ۔ایک دوسرے پر عیب لگانا، طعنے دینا، اشاروں کنایوں یا واضح لفظوں میں کسی کی اہانت کرنا، کسی کو کم قدر یا حقیر جاننا، ان سب سے سختی سے منع کرتا ہے۔ ایسا دین ،قتل وغارت گری کی کیوں کر اجازت دے سکتاہے۔

تیسرے باب میں فاضل مصنف نے اتحاد کی تلقین کی ہے۔اس باب میں انہوں نے انتشار کے مفہوم اور اس کے محرکات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔قرآن کے اندر نہ صرف اتحاد کی تلقین موجود ہے بلکہ اس کی بنیاد بھی واضح کی گئی ہے ۔حبل اللہ سے تمسک اور فرقہ واریت کی سخت ممانعت ’ولا تفرقوا‘ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ انتشار کسی بھی صورت میں پسندیدہ نہیں قراردیاگیا۔ہمیں کتاب میں ایک دلچسپ بحث ۷۳ فرقوں والی مشہور حدیث کے مفہوم سے متعلق ملتی ہے ۔مختلف علمائے امت کے موقف کی روشنی میں اس روایت کے صحیح مفہوم کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مصنف نے مختلف ادیان کے ماننے والوں میں انتہا پسندی کے موضوع پر بھی آخر میں تین صفحات میں روشنی ڈالی ہے،لیکن لگتاہے کہ یہ پہلو مصنف کی بحث کے دائرے سے خارج تھا اور اس میں تشنگی کا احساس ہوتاہے ۔اس کتاب کی کسی اگلی اشاعت میں اس باب میں مفصل بحث آنی چاہیے۔

مجموعی طورپر مصنف کی یہ کوشش قابل قدر ہے۔کتا ب کے مختلف مباحث پر نظر ڈالنے سے یہ خوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے جن علمائے کرام کی آرا نقل کی ہیں، وہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس سے مصنف کا توسع سامنے آتاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روایت کو آگے بڑھایا جائے۔

ہم منتظر رہیں گے کہ مصنف اس سلسلے کو آگے بڑھائیں اور رواداری اور توسع کے جذبے کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر امت کے علما اس طرز عمل کو اپنالیں تو ہمارامعاشرہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔

آراء و افکار