تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’الامام زید‘‘

۱۹۸۷ء میں علماے کرام کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا اتفاق ہوا اور ایرانی راہ نماؤں سے مختلف امور پربات چیت ہوئی تو اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ ایران کے دستور میں زیدی فرقہ کے اہل تشیع کو اثنا عشری اہل تشیع کے ساتھ شمار کرنے کے بجائے احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے ساتھ فقہی اقلیتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہم زیدیوں کو تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اثنا عشریوں کے ساتھ ہی سمجھا کرتے تھے مگر ایرانی دستور کی اس دفعہ نے تجسس پیدا کیا کہ اس فرق کی تحقیق کرنی چاہیے۔ چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد لندن کی ایک لائبریری میں امام زید بن علیؓ کے بارے میں مصر کے نامور محقق الاستاذ ابو زہرہ کی تصنیف نظر سے گزری تو اندازہ ہوا کہ زیدی مذہب اور اثنا عشری مذہب میں واقعتا اتنا فرق موجود ہے کہ اثنا عشری اہل تشیع کے لیے انھیں اپنے ساتھ شامل کرنا آسان نہیں ہے۔

حال ہی میں مجھے پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ کی خدمت میں حاضری دینے کا موقع ملا تو انھوں نے مجھے اپنی طرف سے الاستاذ ابو زہرہ کی یہ کتاب ہدیہ کے طور پر مرحمت فرمائی اور معلوم ہوا کہ یہ کتاب اب حضرت شاہ صاحب مدظلہ کی نگرانی میں لاہور سے طبع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں امام زیدؒ کی حیات مبارکہ، جدوجہد، خدمات، علمی مقام ومرتبہ، اعتقادی وفقہی موقف اور شہادت کے بارے میں محققانہ انداز میں بحث کی گئی ہے۔

امام زید، حضرت امام زین العابدینؒ کے فرزند اور حضرت امام باقرؒ کے بھائی تھے۔ انھوں نے اموی خلافت کے خلاف خروج کیا اور شہادت سے ہم کنار ہوئے۔ زیدی فرقہ کی نسبت انھی سے ہے اور الاستاذ ابو زہرہ نے حضرت امام زیدؒ کے افکار وخیالات میں دوسرے اہل تشیع کے ساتھ جس فرق کی نشان دہی کی ہے، اس کے مطابق امام زید بن علی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ:

  • حضرت علیؓ کو دوسرے تمام صحابہ کرام پر فضیلت حاصل ہے، لیکن خلافت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا حق تھی اور ان کے نزدیک مفضول کے مقابلے میں افضل کی امامت جائز ہے۔
  • حضرت علیؓ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کی وصیت اور نص نہیں کی تھی۔
  • امام کے لیے عادل اور فاطمی ہونا افضل ہے، شرط نہیں۔
  • اما م معصوم نہیں ہوتا اور اس کے فیصلوں میں دوسرے ائمہ کی طرح خطا وصواب، دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔
  • ایک وقت میں مختلف مقامات پر دو امام بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں واجب الاتباع ہوں گے۔
  • اہل بیت میں سے امام وہی ہوگا جو خود داعی ہو۔ دوسرے لفظوں میں تقیہ درست نہیں ہے۔
  • امام کے غائب ہونے اور دوبارہ واپس آنے کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔
  • امام کا علم القائی نہیں، بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح درسی اور تعلیمی ہوتا ہے۔
  • امام کے لیے معجزہ کا بھی کوئی تصور نہیں ہے۔

مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ زیدی فرقہ کے بارے میں یہ تحقیقی تعارفی کتاب حضرت سید نفیس شاہ صاحب مدظلہ کی نگرانی اور سرپرستی میں ’’دار النفائس‘ کریم پارک، راوی روڈ لاہور کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس سے علماے کرام کو اس فرقہ کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

’’تعلیمات نبوی اور آج کے زندہ مسائل‘‘

معروف روحانی پیشوا اور محقق عالم دین حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے خانوادہ کے چشم وچراغ مولانا سید عزیز الرحمن کو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں سیرت نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطالعہ وتحقیق اور عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے کا خصوصی ذوق مرحمت فرمایا ہے اور وہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واسوہ کو موضوع بنا کر خاصا وقیع کام کر رہے ہیں۔ ان کی ادارت میں ’السیرۃ عالمی‘ کے عنوان سے ایک ضخیم علمی شش ماہی مجلہ سال میں دو مرتبہ ارباب ذوق کی فکری وعلمی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے اور اس کے علاوہ مختلف عنوانات پر ان کے مقالات حالات حاضرہ کے تناظر میں سیرت نبوی کے متنوع پہلووں کی تشریح واشاعت کا ذریعہ بنتے ہیں۔

زیر نظر کتاب ان کے سات وقیع مقالات کا مجموعہ ہے جو اس موضوع پر ان کے ایوارڈ یافتہ مقالات ہیں۔ ان میں خاص طور پر انسانی حقوق، اسلامی ریاست وحکومت، عدم برداشت کا بین الاقوامی رجحان، معاشرتی احتساب، نظام تعلیم، نیا عالمی نظام اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل کو انھوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ وسیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے جو آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔

ہم ایک عرصہ سے گزارش کر رہے ہیں کہ دینی اداروں میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں سیرت نبوی کے ازسرنو مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مولانا سید عزیز الرحمن اس سمت میں موثر پیش رفت کر رہے ہیں اور ہم ان کی اس جدوجہد کی کامیابی اور قبولیت کے لیے دعاگو ہیں۔

چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب القلم، فرحان ٹیرس، ناظم آباد نمبر ۲، کراچی ۱۸ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۴۰ روپے ہے۔

(ابو عمار زاہد الراشدی)

تعارف و تبصرہ