علوم القرآن کی مختصر تاریخ و تدوین

محمد جنید شریف اشرفی

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعثت با سعادت کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں، ان میں امت کو آیات قرآنیہ کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ان کے معانی کے بارے میں تعلیم دینا بھی شامل تھا۔ آج ہمارے پاس جس طرح قرآن صامت موجود ہے، اسی طرح قرآن ناطق یعنی آپ ﷺ کی بتلائی ہوئی تشریحات بھی اسی طرح محفوظ ہیں جس طرح آپﷺامت کو دے کر گئے تھے۔ آپ ﷺ کے بعد صحابہؓ نے اور پھر تابعین اور تبع تابعین نے قرآن مجید اور اس کی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے میں اس طرح پھیلایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ انسانی قاصر ہے۔ 

قرآن حکیم نے جہاں اہل عرب کو اپنے جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز کر دیا، وہاں ما فرطنا فی الکتاب شئ (الانعام /۳۸) اور ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئ و ھدی و رحمۃ و بشری للمسلمین (النحل/۸۹)کہہ کر اقوا م عالم کو علوم و معارف کے ان پوشیدہ خزانوں سے روشناس کرایا جس کے بعد کرہ ارض کی جاہل ترین قوم کا شمار مہذب ترین قوموں میں ہونے لگا اور وہ کرہ ارض کے تخت و تاج کے وارث بھی بنے۔

علوم و فنون اور معارف قرآنیہ کی نشرو اشاعت آپ ﷺ کے ارشادات مبارکہ کی بدولت ہوئی جن میں علم کے حصول اور نشرو اشاعت کو فضیلت اور برتری کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (۱) (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا)۔ آپ ﷺکا ارشاد گرامی ہے:

’’سیکھو قرآن اور اس کو پڑھو۔ قرآن پڑھنے اور سیکھنے والے کے لیے قرآن کی مثال ایسے ہے جیسے مشک بھری ہوئی تھیلی کہ اس کی خوشبو تمام مکا ن میں پہنچتی ہے۔ اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا اور وہ اس کے سینے میں محفوظ ہے، اس تھیلی کی مانند ہے جو مشک پر باندھی گئی ہے‘‘ (۲)

آپ ﷺ کے ان ارشادات کی بدولت علمائے اسلام نے قرآن حکیم کو اپنی تحقیق کا مرکز و محور بنایا اور بہت سے علوم و فنون کی بنیادڈالی۔ قرآن حکیم اور اس سے متعلقہ علوم مثلاً اسباب نزول آیات ،جمع قرآن ، ترتیب قرآن ، علم ترجمہ ، علم تفسیر، علم الخط والرسم،علم النحو والصرف ، تلاوت وتجوید،محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ ، معرفت سور مکیہ و مدنیہ وغیرہ پر اس قدر لکھا گیا کہ کسی دوسری آسمانی کتاب پر نہیں لکھا گیا۔

آپ ﷺکے اولین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے جو خالص عرب اور اہل زبان ہونے کی وجہ سے قرآن کے اسلوب اور اس کی دلالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔ مزید یہ کہ نزول قرآن کے وقت خود صحابہ کرامؓ موجود تھے اور قرآن ان کے سامنے نازل ہو رہا تھا، لہٰذا نزول قرآن کی کیفیت، آیات کے سبب نزول اور ناسخ و منسوخ وغیرہ امور سے جس درجے میں صحابہؓ واقف تھے، بعد کا کوئی شخص ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیر قرآن کے سلسلے میں نبی کریمﷺ کی احادیث کے بعد قول صحابیؓ پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔علامہ ابن تیمیہ نے لکھا ہے : 

’’و حینئذ اذا لم نجد التفسیر فی القرآن ولا فی السنۃ رجعنا فی ذلک الی اقوال الصحابۃ فانھم ادری بذلک لما شاھدوہ من القران والاحوال التی اختصوا بھا ولما لھم من الفھم التام والعلم الصحیح‘‘۔ (۳)

صحیح بخاری میں حضرت ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضور ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک باغ میں تھا اور آپﷺ کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ یہودیوں کا ایک گروہ اس طرف سے گزرا۔ ان میں سے کسی نے کہا کہ آپ سے روح کے متعلق دریافت کیا جائے۔ بعض نے کہا کہ ان سے مت پوچھو۔ وہ کوئی ایسی بات فرمائیں گے جو تمھیں ناگوار گزرے گی، مگر وہ لوگ آپ کے سامنے آگئے اور کہا، اے ابو القاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے سنا اور کچھ دیر خاموش دیکھتے رہے۔ میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پس میں پیچھے ہو گیا یہاں تک کہ وحی ختم ہوئی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: یسئلونک عن الروح قل ھو امر ربی (الاسرا/۸۵) (لوگ آپ سے روح سے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے) (۴) 

اس سے معلوم ہو اکہ جب آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بنفس نفیس موجود تھے اور ان سے بہتر اس آیت کے سبب نزول کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے بھی بعد میں یہ دعویٰ کیا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے:

’’عن عبداللہ قال والذی لا الہ غیرہ ما من کتاب اللہ سورۃ الا انا اعلم حیث نزلت وما من آیۃ الا انا اعلم فیم انزلت و لو اعلم احدا ھو اعلم بکتاب اللہ منی تبلغہ الابل لرکبت الیہ‘‘ (۵)

اس طرح جب بھی قرآنی آیات کو سمجھنے میں صحابہ کرام کو مشکل پیش آتی تو نبی ﷺ اس کی تبیین فرما دیتے، کیونکہ آپ پر اللہ کی طرف سے تبیین کتاب کا فریضہ عائد کیا گیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (النحل/۴۴)

مفسرین نے لتبین للناسکی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس سے مراد آپﷺ کا قرآن میں مجمل مقامات کی وضاحت اور اس میں وارد ہونے والے اشکالات کو دور کرنا ہے۔ (۶)

خلاصہ کلام یہ کہ عہد نبوی میں علوم القرآن کو نبیﷺ کے بنفس نفیس موجود ہونے کی وجہ سے تحریری صورت میں لانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور جہاں کہیں کوئی دشواری صحابہ کرام کوپیش آتی، نبی کریم ﷺ خود اس کا حل فرمادیتے۔

علوم قرآنیہ کے تدریجی ارتقا اور اس ضمن میں علمائے اسلام کی مساعی اور عرق ریزی کااگر سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں قرآن با ضابطہ طور پر جمع ہوا اور جس خط میں وہ لکھا گیا، وہ رسم عثمانی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس طرح خط کوفی ، خط نسخ ، خط ثلث، خط نستعلیق وغیرہ کی ترویج ہوئی اور کتابت نے ایک مستقل فن کی شکل اختیار کر لی (۷)۔ جب حضرت علیؓ کا دور آیا تو انہوں نے قرآن حکیم کو عجمی اثرات سے محفوظ رکھنے اور تلاوت قرآن میں سہولت کے پیش نظر ابوالاسوالدؤلی سے نحو کے قواعد مرتب کروا کر اعراب القرآن کی بنیاد ڈالی۔ اس کو ابتدائے علم اعراب قرآنی کہہ سکتے ہیں۔(۸)

رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہی صحابہؓ ایک دوسرے سے معانی قرآن اور تفسیری مطالب دریافت کرتے تھے ۔ قرب رسول اور ذکاوت طبعی کے تفاوت کی بنا پر فہم قرآن میں تمام صحابہ کرام برابر نہ تھے، لہٰذا جن صحابہ کرامؓ کو معانی و معارف میں دسترس حاصل تھی، وہ دوسروں کو قرآن حکیم سمجھاتے تھے۔ ان میں خلفائے راشدین کے علاوہ عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عباسؓ، ابی بن کعبؓ ، ابو موسیٰ الاشعریؓ ، اور عبداللہ زبیرؓ شامل ہیں۔(۹)

صحابہؓ کے بعد تا بعین کا طبقہ ہے جنھوں نے مشاہیر صحابہ کرامؓ سے قرآن اور اس کے علوم و معارف کو سیکھا۔ ان میں سعید بن جبیر (م۹۵ ھ)،مجاہد بن جبر (م ۱۰۳ھ)، عکرمہ مولیٰ ابن عباس( م ۱۰۷ھ)، قتادہ بن دعامۃ السدوسی ( م۱۱۷ھ)، عبداللہ بن عامر الیحصبی (۱۱۸ھ، عطاء بن ابی مسلم خراسانی (م۱۳۵ھ) نے علم تفسیر ، علم اسباب نزول ، علم مقطوع و موصول قرآن ، علم ناسخ و منسوخ اور علم غریب قرآن کی اساس فراہم کی ۔(۱۰)

اس کے بعد علما نے باقاعدہ تفاسیر ترتیب دیں جن میں تفسیر ابن جریر طبری ، تفسیر زمخشری ، تفسیر فخرالدین رازی ، تفسیر نسفی ، تفسیر الخازن ، تفسیر ابن حیان ، تفسیر بیضاوی ، تفسیر الجلالین ،تفسیر قرطبی، تفسیر آلوسی قابل ذکر ہیں۔(۱۱)

علوم القرآن کی مختلف انواع پر مستقل تالیفات کا سلسلہ دوسری صدی ہجری میں شروع ہو چکا تھا۔ ابو عبید قاسم بن سلام (م۲۲۴ھ)نے فضائل قرآن ، ناسخ و منسوخ اور قراآت پر تالیفات رقم کیں ، علی بن مدینی ( م ۲۳۴ھ)،نے اسباب النزول پر کتاب لکھی ، ابن قتیبہ ( م ۲۷۶ھ)نے مشکل القرآن پر کتاب تالیف کی ، محمدبن خلف بن المرزبان ( م ۳۰۹) نے ’’الحاوی فی علوم القرآن ‘‘ستائیس اجزاء میں لکھی (۱۲)۔ غالباً یہ پہلی کتاب ہے جس کے عنوان میں پہلی مرتبہ علوم القرآن کی اصطلاح استعمال ہوئی لیکن اس میں علوم القرآن کی کون سی کون سی انواع تھیں، اس کے بارے میں معلومات میسر نہیں، کیونکہ یہ کتاب مفقود ہے۔ اس کا تذکرہ کتابوں ہی میں ملتا ہے ۔ابو بکر محمد بن قاسم الانباری (م۳۲۸ھ)نے ’’عجائب علوم القرآن ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا موضوع قرآن کے فضائل اور اس کا سات حروف پر نازل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں مصاحف کی کتابت اور آیات و کلمات اور سورتوں کی تعداد کا بھی ذکر ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ اسکندریہ کے مکتبہ البلادیہ میں موجود ہے (۱۳)۔ محمد بن عزیز ابو بکر سجستانی ( م۳۳۰ھ)نے ’’ غریب القران ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب یوسف مرعشلی کی تحقیق سے بیروت سے ۱۹۸۹ میں شائع ہوئی ۔ اس دور میں احمد بن جعفر ابن المناری ( م ۳۳۶ھ)نے علوم القرآن پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ ابن الجوزی( م ۵۹۷ھ) نے ان کے متعلق لکھا ہے: ’’میں نے ابو یوسف قزوینی کی تحریر سے نقل کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ابوالحسین بن المناری جید قاریوں اور بڑے محدثین میں سے تھے۔ علوم القرآن پر ان کی ۴۰سے زائد کتب ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۲۱کتب سے تو میں واقف ہوں اور باقی کتب کے متعلق میں نے سنا ہے۔‘‘ ابن الجوزی کا کہنا ہے کہ ان کی تصنیفات میں سے ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے چند ٹکڑے میری نظر سے گزرے۔ ان میں مجھے ایسے فوائد ملے جو اس دور کی کسی دوسری کتاب میں نہیں پائے جاتے ۔(۱۴)

محمد بن علی الا دفوی ( م ۳۸۸ھ)نے ’’الاستغناء فی علوم القرآن ‘‘ تالیف کی۔ ابو بکر باقلانی ( م ۴۰۳ھ)نے ’’اعجازالقرآن‘‘کے نام سے کتاب لکھی جو کہ سید احمد صقر کی تحقیق سے ۱۹۶۴ء میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ عبدالجبار ہمدانی (م ۴۱۵ھ) نے ’’المغنی فی اعجاز القرآن‘‘ تالیف کی۔ یہ کتاب قاہرہ سے ۱۹۷۶ء میں شائع ہوئی ۔ علی بن ابراہیم ابن سعید الحوفی ( ۴۳۰ھ) نے ’’اعراب القرآن‘‘تالیف کی۔ اس کے علاوہ ’’ البرہان فی علوم القرآن‘‘ کے نام سے قرآن کی ایک تفسیر بھی لکھی جو کہ تیس جلدوں میں تھی۔ ان میں سے ۱۵ جلدیں غیر مرتب مخطوطے کی شکل میں موجود ہیں۔ دراصل یہ قرآن کی تفسیر ہے، مگر اس میں مصنف نے ابتدائے قرآن سے آخر تک ایک ایک آیت پر علوم قرآن کی روشنی میں بحث کی ہے۔ نحو ، لغت ، اعراب ، نزول ، ترتیب ، قراء ت ، معانی ،تفسیر، معقول ، غرض کوئی زاویہ تشنہ نہیں چھوڑا۔(۱۵) ابن الجوزی (م ۵۹۷ھ) نے علوم القرآن پر الحوفی کے انداز میں ’’فنون الافنان فی عجائب علوم القرآن ‘‘ لکھی۔ اس کی تحقیق ڈاکٹر حسن ضیاء الدین تمر نے کی ہے اور یہ بیروت سے ۱۹۸۷ء میں شائع ہوئی ہے۔ عبدالعزیز بن عبدالسلام ( م ۶۶۰ھ)نے’’ مجاز القرآن ‘‘تحریر کی۔ علم الدین سخاوی (م۶۴۳ھ) نے ’’جمال القراء و کمال القراء‘‘ تالیف کی۔ اس کتاب میں قراء ت کے علاوہ علوم القرآن کے دیگر مباحث کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب عبدالکریم زبیدی کی تحقیق سے بیروت سے ۱۹۹۳ء  میں شائع ہوئی۔ ابو شامہ مقدسی کی تالیف ’’المرشد الوجیز الی علوم تتعلق بالکتاب العزیز ‘‘ہے۔ اس میں نزول قرآن اور جمع قرآن کے علاوہ قرا ء ت سے متعلق جامع اور مفصل بحث ہے ۔ طیار آلتی فولاج کی تحقیق سے ۱۹۷۵ء میں بیروت سے شائع ہوئی ہے۔ علامہ بدرالدین زرکشی ( م ۷۹۴ھ)کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘  کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے موضوع پر پہلی ایسی جامع کتاب ہے جس میں علوم القرآن کی سینتالیس انواع سے بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کی یہ خصوصیت اس کو علوم القرآن پر لکھی گئی تمام کتابوں سے ممتاز کرتی ہے۔

علامہ جلال الدین بلقینیؓ ( ۸۲۴ھ) کی کتاب ’’ مواقع العلوم من مواقع النجوم ‘‘ہے۔ اس کے چھ باب تھے جن میں علوم القرآن کی تقریباً ۱۵۰ انواع پر بحث کی گئی ہے۔ (۱۶) علامہ سیوطی نے اپنی کتاب الاتقان کے مقدمہ میں اس کتاب کاذکر کیا ہے، لیکن یہ کتاب مفقود ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب’’ الاتقان فی علوم القرآن‘‘ ہے۔ علامہ سیوطی نے اتقان کے علاوہ بھی علوم القرآن کی مختلف انواع پر مستقل کتب لکھی ہیں جن میں ’’تناسق الدرر فی تناسب السور‘‘، ’’لباب النقول فی اسباب النزول‘‘ ، ’’ مفہمات الاقران فی مبہما ت القرآن‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔ علامہ کی تمام تالیفات میں سے ’الاتقان‘ ایک نمایاں اور منفرد تالیف ہے۔ اس کتاب میں علامہ سیوطی نے زرکشی کی ’البرہان‘ میں مذکور انواع پر ۳۳ انواع علوم کا اضافہ کیا اور علوم القرآن کی ۸۰ ۱ نواع سے بڑی مفصل بحث کی ہے ۔ علوم القرآن کے موضوع پر اس کتاب کوایک اہم ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔اس کے بعد علوم القرآن پر جتنا بھی کام ہوا، بیشتر اس کی شرح و اختصار کے زمرے میں آتا ہے ۔

’’اعجاز القرآن ‘‘از مصطفی الرافعی ،’’ المعجزۃ الکبری ۔۔۔القرآن‘‘ از محمد ابو زہرہ ، ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ از طاہر الجزائری،’’ منہج الفرقان فی علوم القرآن‘‘ از محمد علی سلامہ ، ’’مناہل العرفان فی علوم القرآن‘‘ از محمد عبد العظیم زرقانی ، ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ از ڈاکٹر صبحی الصالح ، ’’مباحث فی علوم القران‘‘ از مناع القطان ، علوم قرآن سے متعلق موجودہ دور کی مشہور کتب ہیں۔ 

کرہ ارض کا وہ حصہ جو آج ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے، تاریخ میں برصغیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اقوام عالم کی نظریں تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اس خطے پر مرکوز رہیں ۔ بالخصوص اہل عرب جن کی معیشت کا انحصار زیادہ تر تجارت پر تھا، اسلام کی آمد سے بہت پہلے اس خطے کے ساتھ تجارتی روابط قائم کر چکے تھے ۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی یہ تعلقات اسی طرح برقرا ررہے اور اس خطے میں اسلام کی ابتدائی اشاعت بھی انہیں عرب تاجروں کی بدولت ممکن ہوئی ۔ عہد خلافت راشدہ میں اسلامی سلطنت کی حدود دور دور تک پھیل گئیں اور عہد فاروقی ہی میں صحابہ کرامؓ برصغیر میں داخل ہو گئے۔ 

محمد بن قاسم نے جب سندھ پر حملہ کیا تو یہ وہ زمانہ تھا جب اسلامی سلطنت کی حدود ایشیا، روس ، اور اسپین تک پہنچ چکی تھیں۔ لہٰذا فطری طور پر ان علاقوں کے لوگ نہ صرف قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بلکہ انہوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے پر اپنی زندگیاں صرف کر دیں ۔ کتب اسماء الرجال میں ہمیں بہت سے سندھی مسلمانوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے تحصیل علم کی خاطر دور دراز کے سفر کیے اور سندھ میں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔عبدالر حیم دیبلی سندھی کے متعلق حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں: 

’’قال العقیلی قال لی جدی قدم علینا من السند شیخ کبیر کان یحدث عن الاعمش ‘‘ (۱۷)
’’عقیلی کہتے ہیں کہ میرے دادا نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں ( بصرہ میں ) سندھ سے ایک بہت بڑے شیخ آئے جو اعمش سے حدیث کی روایت کرتے تھے ۔‘‘

سندھ کے علما کی علوم اسلامیہ میں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ الطرازی لکھتے ہیں :

’’و فی العصر العباسی نجد علماء الدیبل بالکثرۃ ومعظمھم ھاجروا الی البلاد العربیۃ والاقلیۃ بقوا فی بلاد السند وانشغلوا بنشرالعلوم الاسلامیۃ‘‘ (۱۸)
’’دور عباسی میں ہم کثرت سے ایسے علما پاتے ہیں جنہوں نے بلاد عرب کی طرف ہجرت کی اور بہت کم ایسے تھے جو سندھ میں رہے اور علوم اسلامیہ کی اشاعت میں مشغول ہوئے۔‘‘

علامہ سمعانی ؒ چوتھی صدی ہجری کے ایک ہندی عالم کی تفسیر میں دلچسپی اور اخذ روایات میں ذوق و جستجو کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’ابو جعفر محمد بن ابراھیم الدیبلی (الھندی )المکی العالم المفسر یروی کتاب التفسیر عن ابی عبداللہ سعید بن عبدالرحمن المخزومی روی عنہ ابو الحسن احمد ابن فراس المکی و ابو بکر بن محمد ابراھیم بن علی ‘‘ (۱۹)
’’ابو جعفر محمد بن ابراہیم الدیبلی ہندی مکی جو عالم و مفسر تھے انہوں نے ابو عبداللہ عبدالرحمن مخزومی سے کتاب التفسیر روایت کی ہے اور ان سے ابو الحسن احمد بن ابراہیم بن فراس مکی اور ابوبکر محمد بن ابراہیم بن علی نے روایت کی ہے ۔‘‘

ڈاکٹر عبداللہ الطرازی نے سندھ اور پنجاب کی تاریخ پر مشتمل اپنی کتاب میں ایک عربی عالم ’’العراقی ‘‘(متوفی ۲۷۰ھ)کے متعلق لکھا ہے کہ ہ منصورہ کے شاندار عالم اور شاعر تھے ۔ جنہوں نے فن تفسیر میں دو شاندار کتابیں تصنیف کیں ۔ ایک ’’فی تفسیر القرآن‘‘ اور دوسری ’’ترجمۃ القرآن بالسندیہ‘‘۔(۲۰)

قاضی زاہد الحسینی اپنی کتاب ’’تذکرۃ المفرین ‘‘ میں برصغیر کے پہلے مفسر قرآن ’’الکشی ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ ’’گچھ ‘‘کے مقام پر دوسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے۔ طلب علم کے لیے ارض عرب کا سفر کیا۔ حدیث میں دو مسندیں تالیف فرمائیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی ایک تفسیر بھی لکھی جس کو ہر زمانے میں مقبولیت حاصل رہی ۔ (۲۱)

کچھ لوگوں نے ’’گچھ ‘‘ کو سمرقند کا علاقہ قرار دیا ہے، لیکن یاقوت الحموی اس کے متعلق لکھتے ہیں :

’’کس ایضا مدینۃ بارض السند مشھورۃ ذکرت فی المغازی و ممن ینسب الیھا عبد بن حمید بن نصر واسمہ عبدالحمید الکسی صاحب المسند‘‘ (۲۲)
’’کس سندھ کاایک مشہور شہر ہے جس کا ذکر مغازی میں ملتاہے اور اس شہر کی طرف عبد بن حمید بن نصر منسوب ہیں جن کا اصل نام عبدالحمید الکسی ہے جنہوں نے مسند تالیف کی ۔‘‘

جہاں تک برصغیر پاک و ہند کی مقامی زبانوں میں علوم قرآنیہ کی آبیاری کاتعلق ہے تو اس ضمن میں قاضی اطہر مبارکپوری نے اپنی کتاب’’ رجال السند و الہند ‘‘ میں عجائب الہند مصنفہ بزرگ بن شہریار کے حوالہ سے ایک روایت تفصیلاً بیان کی ہے۔ 

’’اکبر ملوک قشمر مھروک بن رایق (ملک الور)کتب فی سنۃ سبعین و مئتین الی صاحب المنصورۃ و ھو عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز لیسئلہ ان یفسر لہ شریعۃ الاسلام بالھندیۃ ۔۔۔وکا ن فیما حکا ہ عنہ انہ سالہ ان یفسر لہ القرآن بالھندیۃ ففسرلہ‘‘ (۲۳)
’’کشمیر کے راجہ مہروک نے ۲۷۰ھ میں منصورہ( سندھ) کے حاکم امیر عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیزکو لکھاکہ میرے لئے( ایک آدمی بھیجا جائے ) جو میرے لیے ہندی میں شریعت اسلامی کی و ضاحت کرے ۔ اس کے متعلق یہ بھی حکایت ہے کہ اس نے ہندی زبان میں قرآن مجید کی تفسیر کرنے کے لیے کہا تو اس نے کر دی ۔‘‘

خلیق احمد نظامی نے اپنی کتاب ’’حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی ‘‘میں، جمیل نقوی نے ’’اردو تفاسیر‘‘ میں، ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم شرف الدین نے ’’قرآن حکیم کے اردو تراجم ‘‘میں اور عبدالصمد صارم نے ’’تاریخ التفسیر‘‘میں مذکورہ بالا روایت سے اسی بات کو ثابت کیا ہے کہ علوم قرآنیہ کے حوالے سے برصغیر کی مقامی زبان میں لکھا جانے والا یہ اولین ترجمہ ہے ۔(۲۴)

لاہور میں قرآن و حدیث کے علوم کی اشاعت کا سہرا شیخ اسماعیل لاہوری کے سر ہے۔ تذکرہ علماء ہند میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ شیخ اسماعیل (م۴۴۸ھ)لاہوری عالم محدث اور مفسر تھے۔ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے لاہور میں علم تفسیر و حدیث کی اشاعت کی ۔(۲۵)

قاضی اطہر مبارکپوری ان کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’کان من اعاظم المحدثین و اکابر المفسرین و ھو اول من جاء بالحدیث والتفسیر الی لاہور‘‘ (۲۶)
’’یہ عظیم محدثین اور اکابر مفسرین میں سے تھے۔ یہ پہلے آدمی ہیں جو لاہور میں تفسیر و حدیث کو لائے۔‘‘

عہد تغلق میں علوم قرآنیہ کی نشرو اشاعت کے حوالے سے صاحب تفسیر ملتقط سید محمد حسن (۸۲۵ھ) کا نام، جو گیسو دراز کے لقب سے مشہور ہیں، خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بارے میں علامہ شریف عبدالحئی فرماتے ہیں:

’’کان عالما کبیر ا ولہ مصنفات کثیرۃ منھا تفسیرالقرآن الکریم علی لسان المعرفۃ و تفسیر القرآن علی منوال الکشاف ‘‘ (۲۷)
’’یہ بہت بڑے عالم تھے جن کی تصانیف بے شمار ہیں جن میں سے ایک’’ تفسیر القرآن الکریم علی لسان المعرفۃ‘‘ اور دوسری ’’تفسیر القرآن علی منوال الکشاف‘‘ ہے ۔‘‘

اس عہد کے نامور مفسر قرآن علاء الدین بن احمد المہائمی ہیں جن کی تفسیر ’’تبصیر الرحمن و تیسیر المنان ‘‘ ہے۔ مولوی عبدالرحمن ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کی تصانیف میں سے تفسیر رحمانی بھی ہے جس کو تفسیر مہائمی بھی کہتے ہیں۔ا نہوں نے آیت مبارکہ ’الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین‘ میں بارہ کروڑ تراسی لاکھ چوالیس ہزارپانچ سو چوبیس وجوہ اعراب بیان کی ہیں۔(۲۸)

ڈاکٹر زبیر احمد رقمطراز ہیں کہ اس میں قرآنی قصص اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔۔۔نیز یہ کہ ایک آیت سے پہلے اور اس کے بعد جو آیتیں ہیں، ان میں باہمی ربط کی وضاحت بھی کی گئی ہے ۔(۲۹)

برصغیر میں علوم قرآنیہ کی فارسی اور اردو زبان میں نشرو اشاعت کا آغاز باقاعدہ طور پر بارھویں صدی ہجری میں ہوا۔ جہاں تک اردو زبان کا تعلق ہے تو اس ضمن میں جمیل نقوی اپنی کتاب ’’اردو تفاسیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’بہرحال شمالی ہند میں پہلی باقاعدہ اور معیاری اردو تفسیرنگاری کی ابتداء بارھویں صدی ہجری کے اواخر سے ہوئی ۔ شمالی ہند کی مقبول عام تفسیر شاہ مراد اللہ انصاری سنبھلی کی تفسیر ’’خدائی نعمت المعروف تفسیر مرادی ‘‘ہے (۳۰)۔شاہ مراد اللہ پہلے اردو مفسر ہیں جنھوں نے اپنی تفسیر ’’تفسیر مرادی ‘‘ میں روز مرہ زبان اختیار کی ہے۔ (۳۱)

قلی بن پادشاہ قلی (م۱۱۱۱ھ)کی کتاب ’’مجمع الفوائد ‘‘ میں ضبط الفاظ قرآنی ، اعراب قرآت مشہورہ ، ائمہ سبع اور بیان معانی و تفسیر پر مشتمل ہے اور متعلقات قرآن مجید پر اس انداز میں بحث کی گئی ہے کہ تمام ضروری باتیں سمجھ میں آجائیں۔ یہ کتاب ۱۱۱۱ہجری میں اورنگ زیب کے عہد میں تصنیف ہوئی ۔

’’انوار الفرقان و ازھار القرآن ‘‘، شیخ غلام نقشبندی لکھنوی (م۱۱۲۶ھ)کی تصنیف ہے۔ اس کے دو نسخے رام پور لائبریری میں موجو دہیں۔ اس کے مقدمے میں تفسیر کی ضرورت و اہمیت اور شان نزول پر بحث کی گئی ہے ۔

علامہ احمد بن ابی سعید الامیٹھوی المعروف بہ ملا جیون نے احکا م ا لقرآن کے موضوع پر ایک تصنیف’’ تفسیرات احمدیہ‘‘ کے عنوان سے لکھی جو کہ قرآنی احکام کے حوالے سے ایک مستند تفسیر ہے۔ اس میں قرآن حکیم سے ساڑھے چار سو آیتیں منتخب کر کے ان سے اخذ ہونے والے احکام کو شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا گیاہے ۔اس تفسیر کو احکام القرآن کے موضوع پر برصغیرمیں لکھی جانے والی سب سے پہلی تفسیر کا درجہ حاصل ہے۔ 

’’ نجوم الفرقان ‘‘، مصطفی بن محمد سعید جونپوری کی تصنیف ہے جو کہ قرآن مجید کی آیات کی تخریج کے لیے اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں لکھی گئی ۔اس کا قلمی نسخہ رام پور کی لائبریری میں موجود ہے ۔

ملاّعلی اصغر بن عبدالصمد قنوجی (م۱۱۴۰) نے اپنی تفسیر’’ ثواقب التنزیل فی انارۃ التاویل‘‘میں اعجاز القرآن سے متعلق سات مسائل پر بحث کی ہے۔ پہلا مسئلہ نزول قرآن کا ہے ،دوسرا مسئلہ جبرئیل کتنی آیات لے کر آئے ، تیسرا نزول وحی کی کیفیت ، چوتھا مکی اور مدنی آیات کے بیان میں، پانچواں ترتیب نزول ، چھٹا جمع قرآن اور ترتیب قرآن ، اور ساتواں مسئلہ ان سات حروف سے متعلق ہے جن کی بنیاد نبی اکرم ﷺ کی روایت ’انزل القرآن علی سبعۃ احرف‘ پر ہے۔ اس کے علاوہ حروف مقطعات کے متشا بہات میں سے ہونے پربڑی مدلل بحث ہے ۔

برصغیر میں علوم القرآن کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ (م۱۱۷۶ھ)کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ برصغیر میں سب سے پہلے جامع انداز میں افادہ عام کے لیے قرآنیات پر آپ ہی نے لکھا۔ (۳۲) علوم القرآن پر آپ کی کتاب’’ الفوزالکبیر فی اصول ا لتفسیر‘‘ بہت معروف کتاب ہے جس کے اردو ،عربی ، انگریزی میں بھی تراجم ہو چکے ہیں۔ علوم قرآنیہ کے حوالے سے آپکی دوسری تصنیف ’’فتح الخبیرِ ‘‘ ہے جس میں شان نزول کے حوالے سے عمدہ بحث کی گئی ہے۔’’تاویل الاحادیث ‘‘اور’’المقدمۃ السنیۃ‘‘ کے عنوان سے بھی آپ کی تصنیفات ہیں ۔ اول الذکر کتاب میں معجزات انبیا کے اسرار و رموز اور ان کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں جبکہ ثانی الذکر میں، جو کہ فارسی زبان میں ہے، ترجمہ اور تفسیر کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔

خلیق احمد نظامی نے ’’حیات شیخ عبدالحق ‘‘ اور ڈاکٹر سالم قدوائی نے ’’ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ میں ’یاد ایام‘ مصنفہ سید عبدالحئی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’میرے نزدیک ہندوستان کے ہزار سالہ دور میں حقائق نگاری میں شاہ ولی اللہ دہلوی کا کوئی نظیر نہیں۔‘‘ (۳۳)

ناصر بن حسین حسنی(م ۱۲۰۰ھ)کی تصنیف ’’الجداول النورانیہ فی استخراج آیات القرآنیہ ‘‘ تخریج آیات قرآنیہ کے سلسلے میں لکھی گئی تمام کتابوں سے خاصی مختلف ہے۔ اس کتاب میں آیت یا جزء آیت کے استخراج کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے ہے۔ کتاب کے مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے ایک کتاب اسی فن کی اور لکھی تھی جس میں اواخر آیات سے استخراج ہوتا تھا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا خاندان اس اعتبار سے مسلمانانِ برصغیر کا محسن ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کا رشتہ قرآنِ پاک اور حدیث نبوی سے جوڑا ۔ آپ کے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م۱۲۲۳ھ )نے اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تدریس قرآن کا فریضہ سر انجام دیا اور تقریباًساٹھ سال تک دہلی میں درس قرآن دیتے رہے ۔

تیرہویں صدی ہجری میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیرِعزیزی کے نام سے ایک شاندار تفسیر لکھی۔ یہ ایک نامکمل تفسیر ہے جو سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کے تقریباً نصف یعنی آیت ’وعلی الذین یطیقونہ‘ تک کے حصے پر اور پھر آخر سے انتیسویں اور تیسویں پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے ۔ باقی اجزا کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ آیا شاہ صاحب نے ان کی تفسیر لکھی ہی نہیں تھی یا وہ لکھنے کے بعد ناپید ہو گئی۔ نامکمل ہونے کے باوجود اس تفسیر کے جو اجزا دستیاب ہیں، وہ علوم قرآنیہ کے بیش بہا ذخائر پر مشتمل ہیں۔ مختلف قرآنی موضوعات پر شاہ عبدالعزیز ؒ کے خیالات کوکتابی شکل میں آپ کے شاگرد شاہ رفیع الدین مراد آبادی نے مرتب کر لیا تھا جس کا نام انہو ں نے ’’الافادات العزیزیہ‘‘ رکھا۔ یہ خیالات شاہ صاحب ہی کی عبارت سے تھے جو انہوں نے شاہ رفیع الدین صاحب کو خطوط کی شکل میں لکھے تھے۔ ان میں ربط آیات، متشابہات قرآن،اسرار قصص و احکام اور لطائف نظم قرآن وغیرہ پر بحث ہے ۔

’’مقدمہ تفسیر فتح العزیز‘‘، ڈاکٹر زبید احمدنے اپنی کتاب ’’ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ میں اس کو شاہ عبدالعزیز صاحب کی تصنیف کہا ہے، مگر شاہ صاحب کی کتابوں میں اس کا نام نہیں ملتا۔ یہ کتاب مندرجہ ذیل دس مبحثوں میں تقسیم ہے: (۱)مبحث الکلام (۲)مبحث الوحی و کیفیۃ(۳)مبحث الانزال والتنزیل(۴)مبحث التفسیر والتاویل (۵)مبحث الموضوع و شرفہ و شرف الغا نیہ (۶)مبحث نزول القرآن علی سبعۃ احرف(۷)مبحث القراءۃ المتواترۃوالمشہورۃ والشاذۃ (۸)مبحث تحریف القرآن والفرقان والمصحف والسورۃ والآیۃ (۹)مبحث فضائل القرآن (۱۰)مبحث وجہ اعجاز القرآن۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر قرآن پر ہی اکتفا نہیں فرمائی بلکہ انہوں نے سب سے پہلے برصغیر میں عوامی سطح پر درس قرآن بھی شروع کیا جس سے نہ صرف عامۃ الناس کی علوم قرآنیہ میں رغبت میں اضافہ ہوا بلکہ ان کے اعمال و کردار کی اصلاح بھی ہوئی ۔

’’نثر المرجان فی رسم نظم القرآن‘‘ شیخ محمد غوث بن ناصرالدین ارکاٹی مدراسی (م۱۲۳۸ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کے رسم الخط کی وضاحت کی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں یہ کتاب موجود ہے اور پورے قرآن کے تمام الفاظ کواس میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر لفظ کو الگ الگ کر کے دکھایا ہے کہ کس طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ’’تعداد الاسماء فی القرآن‘‘مصنفہ غلام حسین (م۱۲۴۱ھ)اکیس صفحوں پر مشتمل مختصر رسالہ ہے جس میں ان ناموں کا ذکر ہے جو قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نام انبیا کے ہیں۔’’رسالہ رسم خط کلام اللہ ‘‘ مصنفہ محمد کامل چڑیا کوٹی، اس رسالے میں قرآن مجید کے مختلف الفاظ کے رسم الخط کو واضح کیا گیا ہے ۔

’’تقریب الافھام فی آیات الاحکام ‘‘مصنفہ مفتی محمد قلی کنشوری بن محمد حسین متوفی ۱۲۶۰ھ کی کتاب ہے جو قرآنی احکام کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی متوفی ۱۲۹۷ھ کی تصانیف میں علوم قرآنیہ کے حوا لے سے ’’اسرار قرآنی ‘‘ کے نام سے ایک مختصر رسالہ ہے جس میں علوم قرآنیہ کے مختلف موضوعات پر بحث کی گئی ہے ۔

’’اوضح البیان فی بیان اسامی القرآن‘‘ ، سید ابو تراب جعفری ( م۱۲۷۸ھ) کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کے ان تمام ناموں کی توجیہات بیان کی گئی ہیں جن کا ذکر امام رازی اور سیوطی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ ’’السبع المثانی‘‘ ، سید محمد بن دالدار علی لکھنوی (۱۲۸۴ھ)کی تصنیف ہے جو کہ شیعہ عالم ہیں۔ انہوں نے یہ رسالہ قرا ء ۃ و تجوید سے متعلق لکھا ہے اور اس فن کی ضروری باتوں کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس میں پچیس ورق ہیں ۔عبدالکریم ٹونکی کا رسالہ ’’سبیل الرسوخ فی علم الناسخ والمنسوخ ‘‘ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ترتیب نزول سور کی تفصیل ہے ، دوسرے باب میں اقسام سور بہ اعتبار ناسخ و منسوخ کا بیان ہے ، تیسرے میں احکام نسخ ، اس کی قسمیں اور آیات ناسخہ و منسوخہ کا ذکر ہے ، چوتھے باب میں آیات مخصوصہ کا ذکر ہے جن سے خاص خاص احکام مستنبط ہوتے ہیں ۔ ’’آیات الاعجاز‘‘، مولانا عبدالرشید کشمیری (م ۱۲۹۸ھ) کی تصنیف ہے جو کہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل حد الاعجاز و وجوہہ پر ہے، دوسری فصل فی ما نزل من القرآن علی لسان بعض الصحابۃ، تیسری فصل فی قدر المعجزمن القرآن پر مشتمل ہے ۔

چودھویں صدی ہجری میں علامہ صدیق حسن بھوپالی متوفی۱۳۰۷ ؁ھ کی کتابیں علوم القرآن کے حوالے سے مشہور ہیں جن میں ’’افادۃ الشیوخ بمقدارالناسخ والمنسوخ‘‘ اور ’’الاکسیر فی اصول التفسیر ‘‘ شامل ہیں۔

’’مرآۃ التفسیر‘‘،ذوالفقار احمد نقوی بھوپالی (م ۱۳۱۶ھ) کی تصنیف ہے۔ اس رسالے میں مصنف نے تفسیر اور متعلقات تفسیر کا ذکر کیا ہے ۔ یہ ایک قسم کا انڈیکس ہے جس سے مفسرین اور علم تفسیر پر جو کچھ بھی کام ہوا ہے، اس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔

’’الفاظ القرآن مسمی بہ نجوم الفرقان جدید لتخریج آیات القرآن‘‘ مولانا اہل اللہ فقیراللہ (م۱۳۳۱ھ ) کی تصنیف ہے۔ یہ قرآن کریم کے الفاظ کی فہرست ہے جس کی مدد سے کسی بھی آیت کو آسانی کے ساتھ تلاش کیا جا سکتا ہے ۔’’ملخص التفاسیر ‘‘سید محمد ہارون زنگی پوری ( م۱۳۳۷ھ) کی تصنیف ہے جو کہ مختلف ابواب میں منقسم ہے۔ ان ابواب کو مقدمہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔ 

’’مفردات القرآن ‘‘ مولانا حمید الدین الفراہی ؒ (م۱۳۴۹ھ) کی تصنیف ہے۔ اس میں مصنف نے اہم قرآنی الفاظ کے معانی بیان کیے اور ان کا صحیح مفہوم واضح کیا ہے ۔ یہ بھی بیان کیا ہے کہ قرآن مجید غریب الفاظ سے خالی، ضبط و نظم میں لاثانی، اور عربوں کے خطبوں اور ان کے اشعار و محاورات سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔ علامہ حمید الدین فراہی ؒ متوفیٰ ۱۳۴۹ ؁ھ نے علوم القرآن کی مختلف انواع پر کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں اسالیب القرآن ، اقسام القرآن، امعان فی اقسام القرآن ، تفسیر نظام القرآن ، التکمیل فی اصول التاویل ، دلائل النظام ، مفردات القرآن وغیرہ آپکی گراں قدر تالیفات ہیں۔

’’کنز المتشابہات ‘‘ کے مصنف حافظ محمد محبوب علی ہیں یہ کتاب دائرۃ المعارف سے ۱۳۴۱ ؁ھ میں شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے ایسی آیتوں کو جمع کیا ہے جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ اس کتاب کے شروع میں انہوں نے ایک مقدمہ لکھا ہے جو عربی اور اردو دونوں ہی زبانوں میں ہے ۔یہ کتاب حفاظ کے لیے بہت مفید ہے ۔

’’مشکلات القرآن ‘‘مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ (۱۳۵۲ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں ان آیا ت کی توضیح کی گئی ہے جن کو مشکل تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ توضیحات بیشتر عربی میں اور چند جگہوں پر فارسی میں ہیں ۔ کتاب کے شروع میں تفصیلی مقدمہ مولانا محمد یوسف بنوری کا ہے جس میں انہوں نے مصنف کے حالات زندگی لکھے ہیں ۔ نیز تفسیر کے ضروری قواعد و ضوابط ، اہل حق اور اہل باطل کی تفسیروں کا فرق اور اسی قسم کی بہت سی اہم باتوں کو بیان کیا ہے ۔

’’وجوہ المثانی مع توجید الکلمات والمعانی ‘‘ مولانااشرف علی تھانوی (م۱۳۶۲ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کی سات قراء توں کا بیان ہے اور قرآت کے تمام اختلافات کو بیان کیا گیا ہے ۔ آخر میں اس فن سے متعلق کچھ اصول بھی بیان کر دیے ہیں ۔ اسی طر ح ’’سبق الغایات فی نسق الآیات ‘‘بھی مولانا تھانوی کی تصنیف ہے۔ یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جس میں آیات قرآنی کا ربط اور مطالب اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ سورتوں کا خلاصہ اور شان نزول بھی لکھ دیا گیا ہے ۔ ’اشرف السوانح‘ میں علوم قرآنیہ پر آپ کی تصانیف کی تعداد پچیس بیان کی گئی ہے جن میں ’’ تنشیط الطبع ‘‘، ’’وجوہ المثانی‘‘ ،’’ تجوید القرآن ‘‘، ’’جمال القرآن‘‘ ،’’ یادگار حق القرآن ‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔

جہاں تک تجوید و قرآت کا تعلق ہے، اس ضمن میں برصغیر میں کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں’’شرح سبعہ‘‘ شیخ القراء مولانا قاری ابو محمد محی الاسلام ؒ کی تصنیف ہے۔ اس میں قراء سبعہ اور ان کے رواۃ کے مختصر حالات نہایت دلچسپ پیرایے میں درج ہیں۔ اس کے بعد قرا ء ا ت سبعہ کے اصولی اور فرعی مسائل نہایت تحقیق کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ’’افضل الدرر‘‘ علامہ شاطبی کے قصیدہ رائیۃ کی نہایت نفیس اور محققانہ شرح ہے جو کہ قاری عبدالرحمن ابن محمد بشیر خاں صاحب مکی ثم الہ آبادی کی تصنیف ہے ۔ مولانا قاری ضیاء الدین صاحب ؒ الہ آبادی کی کتاب’’ خلاصۃ البیان ‘‘(عربی ) اور ’’ضیاء القراء ت‘‘(اردو) عمدہ کتابیں ہیں۔ مولانا قاری عبدالوحید صاحب الہ آبادی کی ’’ہدیۃ الوحید ‘‘ اور مولانا قاری عبدالخالق صاحب علی گڑھی کی ’’تیسیر التجوید‘‘ بھی ایک عمدہ اضافہ ہیں۔’’توضیح العشرفی طیبۃ النشر‘‘ اردو زبان میں مختصر، جامع اور محققانہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ’’المعانی الجلیلہ شرح عقیلہ ‘‘رائیہ کی شرح ہے۔ یہ دونوں کتابیں مولانا حافظ قاری عبداللہ صاحب گنگوہی ثم مرادآبادی کی تصنیف ہیں ۔قاری فتح محمد صاحب پانی پتی کی کتاب ’’عنایات رحمانی ‘‘قصیدہ شاطبیہ کی اردو شرح، ’’اسہل الموارد‘‘ قصیدہ رائیہ کی شرح ، اور’’ کاشف العسر‘‘ شرح ناظمۃ الزہر عمدہ کتابیں ہیں۔ ’’تیسیر الطبع فی اجراء لسبع‘‘( اردو) ، ’’مفید الاطفال ‘‘، اور تحفۃ الاطفال کی شرح اور اردو میں ’’مفید الاقوال‘‘ یہ تینوں کتابیں قاری محمد حسین صاحب مالیگانوی کی تصنیف ہیں۔ 

’’کاشف الابہام‘‘ ، یہ حمزہ اور ہشام کی ان وقفی وجوہ میں ہے جو کلمات مہموز میں بوقت وقف پیدا ہوتی ہیں ۔ ’’ضیاء البرہان فی الجواب علی خط القرآن‘‘قرآن کے رسم قیاسی پر ایک مدلل رسالہ ہے ۔ یہ دونوں کتابیں مولانا قاری ابن ضیاء محب الدین احمد صاحب الہ آبادی کی تصنیف کردہ ہیں ۔’’ احیاء المعانی‘‘ کے نام سے علم قراء ت میں ایک نہایت جامع اور مفید ترین کتاب حضرت مولانا حافظ قاری ظہیر الدین صاحب معروفی اعظمی کی تالیف ہے ۔ 

سر سید احمد خان ، علامہ اسلم جیراجپوری ، علامہ تمنا عمادی ، عبداللطیف رحمانی وغیرہ نے علمائے جمہور سے اختلاف کرتے ہوئے جمع و تدوین قرآن ، ناسخ و منسوخ آیات جیسے اہم قرآنی موضوعات پر جداگانہ افکار و نظریات پیش کیے۔ علامہ اسلم جیراجپوری کی ’’تاریخ القرآن ‘‘ ، ’’ارض القرآن ‘‘ اور ’’نکات القرآن‘‘ جبکہ علامہ تمنا عمادی کی’’ جمع القرآن ‘‘ اور ’’اعجاز القرآن و اختلاف قراء ات ‘‘اس موضوع پر نئی فکر کی عکا سی کرنے والی اہم کتب ہیں۔

ماضی قریب میں مولانا شمس الحق افغانی ، مولانا مالک کاندھلوی، قاضی مظہر الدین بلگرامی ،مولانا گوہر رحمن ،مولانا تقی عثمانی،مولانامفتی عبدالشکور ترمذی،مولانا عبدالشکور لکھنوی نے علوم قرآنیہ کے سلسلے میں انتہائی گراں قدر خدمات سر انجام دیتے ہوئے اس موضوع پر کتابیں تصنیف فرما کر اردو زبان میں علوم القرآ ن پر جامع کتب کے خلا کو پر کیا ہے۔

علمائے برصغیر کے تعارف اور خدمات کے باب میں نزھۃالخواطر، حدائق الحنفیۃ ، ماثر الکرام ، الثقا فۃ الاسلامیہ فی الہند،تذکرہ علمائے ہند ،علماء ہند کا شاندار ماضی ،تذکرہ مشائخ دیو بند،تذکرہ علماء پنجاب،تاریخ المفسرین،تذکرہ قاریان ہند ،ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں، وغیرہ گراں قدر تالیفات موجود ہیں جن سے علماء پاک و ہند کی وہ علمی بصیرت و حکمت آشکارا ہو تی ہے جس کا اعتراف عرب کی علمی دنیا بھی ہر دور میں کرتی چلی آ رہی ہے۔


حوالہ جات

(۱) صحیح البخاری ، کتاب فضائل القرآن ، باب خیرکم من تعلم القرآن 

(۲) خطیب تبریزی، مشکوۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن

(۳) ابن تیمیہ، مقدمہ فی اصول التفسیر، ۳۰، مکتبہ العلمیۃ 

(۴) بخاری، کتاب الاعتصام،

(۵) صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ

(۶)ابو حیان اندلسی ، البحر المحیط، ج:۶،ص:۵۳۴، بیروت ، ۱۹۹۲، آلوسی ، روح المعانی ،ج:۸،ص:۲۲، بیروت ۱۹۹۷

(۷)صالحہ عبدالحکیم ، قرآن حکیم کے اردو تراجم، ص۵۴، قدیمی کتب خانہ، کراچی

(۸)الزرقانی، مناھل العرفان فی علوم القرآن، ج:۱، ص:۲۸

(۹)قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص:۵۵

(۱۰)ابن ندیم ، الفہرست، ص:۵۱تا ۵۷، مصر ۱۳۴۸

(۱۱)قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص:۵۶

(۱۲)الداؤدی ، طبقات المفسرین، ج:۱،ص:۱۴۱، تحقیق علی محمد عمر ، مصر۱۹۷۶

(۱۳)صبحی صالح ، مباحث فی علوم القرآن ، ص:۱۲۲،بیروت ۱۹۶۸

(۱۴)ابن الجوزی ، کتاب المنتظم ، ج:۶،ص:۳۸۸،حیدر آباد دکن۱۳۵۷ھ

(۱۵)قرآن حکیم کے اردو تراجم، ص: ۵۷، مناھل العرفان ،ج:۱،ص:۲۸

(۱۶)مباحث فی علوم القرآن ۱۷۶

(۱۷)ابن حجر ، لسان المیزان،ج:۴، ص:۵

(۱۸)عبداللہ الطرازی ،موسوعۃ التاریخ الاسلامی والخصارۃ الاسلامیۃ لبلادالسند والبنجاب فی العھد العرب،ج:۱،ص:۴۶۹

(۱۹)سمعانی،الانساب ،ج:۵،ص:۵۴۰

(۲۰)عبداللہ الطرازی ،موسوعۃ التاریخ الاسلامی والخصارۃ الاسلامیۃ لبلادالسند والبنجاب فی العھد العرب،ج:۱،ص:۴۶۹

(۲۱)تذکرۃ المفسرین،ص:۵۴

(۲۲)معجم البلدان، ج:۴،ص:۴۶۰

(۲۳)رجال السند والھند :ص۲۵۴، عرب وہند کے تعلقات، ص:۲۱۵

(۲۴)حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی ، ص: ۳۴، جمیل نقوی ، اردو تفاسیر ص:۲۲، عبدالصمد صارم ،تاریخ تفسیر ،ص:۴

(۲۵)مولوی رحمان ،تذکرۃ علماء ہند ، ص:۱۱۱، حدائق حنفیہ ص:۱۹۴

(۲۶)قاضی اطھر مبارکپوری ، رجال السند والھند ص۷۹

(۲۷)نزہۃ الخواطر ، ج:۳،ص۱۶۳

(۲۸)تذکرہ علماء ہند، ص۳۵، حدائق حنفیۃ ،ص:۳۱۷

(۲۹)عربی ادبیات میں پاک و ہند کا حصہ، ص:۴۵۵

(۳۰)اردو تفاسیر ، ص ۲۵

(۳۱)المرجع السابق 

(۳۲)زاہد الحسینی ، تذکرۃ المفسرین ، ص:۱۷۰

(۳۳)حیات شیخ عبدالحق دہلوی، ص:۳۵،ہندوستانی مفسرین اور انکی عربی تفسیریں، ص:۳۷


قرآن / علوم قرآن