ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور جناب جاوید احمد غامدی

آصف محمود ایڈووکیٹ

(۱)

کیا جناب جاوید احمد غامدی مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور کیا تعبیر دین میں وہ مرزا غلام احمد کی متعین کردہ راہوں کے راہی ہیں؟ جناب مولانا زاہد الراشدی جیسے جید عالم دین کی زیر نگرانی شائع ہونے والے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے مطابق اس کا جواب اثبات میں ہے۔

چھڑکے ہے شبنم آئینہ برگ گل پر اب
اے عندلیب وقت وداع بہار ہے

’’الشریعہ ‘‘کسی دوسرے درجے کے رسالے کا نام نہیں، بلکہ مبالغہ نہ ہو تو میں اسے پاکستان کے چند نمایاں ترین علمی جرائد میں شمار کروں گا۔ جناب عمار خان ناصر بڑی محبت سے ہر ماہ مجھے اس کا شمارہ بھیجتے ہیں جسے میں پورے اہتمام کے ساتھ پڑھتاہوں۔ عمار خان ناصر اس کے مدیر بھی ہیں اور یہی بات میرے لیے باعث حیرت ہے کہ جو جریدہ عمار خان ناصر جیسے سنجیدہ نوجوان کی زیر ادارت شائع ہوتاہو، جس کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی ہوں اور جس کی سرپرستی مولانا سرفراز خان اور مولانا عبد الحمید سواتی جیسی شخصیات کررہی ہوں، اس میں اتنی سطحی چیز کس طرح شائع ہوگئی جو اگر شام کو شائع ہونے والے کسی اخبار کے مدیر کو بھیجی جاتی تو وہ بھی اسے شائع کرنے کی بجائے ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کرتے۔

مذہبی طبقے کے ہاں اختلاف کبھی بھی حدود کے اندر نہیں رہ سکا۔ جہاں فہم دین کا اختلاف ہو، وہیں کفر کے فتوے سامنے آگئے۔ مولانا مودودی جیسے جید عالم دین تک کو نہیں بخشا گیا اور ایک ’مودودی سو یہودی‘ جیسے نعرے اس ملک کی سڑکوں پر لگائے گئے۔ ’’شکوہ‘‘ لکھنے پر اقبال کو دین سے خارج کردیا گیا اور قائد اعظم جیسی شخصت کو بھی ’کافر اعظم‘ کے خطابات سے نوازا گیا۔ دین کی محبت کا یہ اظہار جب اپنے جوبن پر ہوتاہے تو پھر فکری زوال اتنا شدید ہوجاتاہے کہ ہمیں ہر چیز سازش نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر اسرار عالم جیسی شخصیت دعویٰ کرتی ہے کہ لڑکی کا کار ڈرائیو کرنا یہودی سازش ہے اور ’الشریعہ‘ میں شائع ہوتاہے کہ جاوید غامدی ،مرزا غلام احمد کے راستے پر چل رہے ہیں۔

دلیل کبھی ہمارا سرمایہ ہوتی تھی اور ہمارے اہل علم کے درمیان اختلاف بھی اسی وجہ سے رونما ہوتا تھا۔ آج بھی ہم ائمہ اربعہ کے اختلافات کو پڑھیں تو گاہے دونوں جانب سے اتنے مضبوط دلائل ملتے ہیں کہ آدمی حیرت زدہ ہو کر سوچتاہے کہ کس کو اختیار کرے اور کس کو نہ کرے۔ جاوید غامدی صاحب پر یہ الزام پڑھ کر میں نے فوری طور پر صاحب مضمون کے دلائل جاننے کی کوشش کی۔ میری خوش قسمتی کہ صاحب مضمون نے اہتمام کے ساتھ لکھا کہ ان ان دلائل کی وجہ سے وہ جملہ متجددین کو مرزا قادیانی کی راہ کا راہی سمجھتے ہیں۔ ذرا یہ چارج شیٹ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے:

یہ متجددین حدود قوانین پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ سیکولر سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کی مدد کرتے ہیں۔جو تنظیمیںآزادی نسواں کی تحریکیں چلاتی ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اہل مغرب سے ہمیں مفاہمت کرنی چاہیے کیونکہ وہ اہل کتاب ہیں۔ آخر حضر ت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے بھی تو پیغمبر ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ مغرب نے اسلامی اصول اپنا لیے ہیں، اس لیے وہ غالب اور بالادست ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ حدیث اور سنت میں فرق ہے ۔یہ خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موسیقی کی حمایت کرتے ہیں ۔ان کے مطابق مسلمانوں کے انحطاط کی وجہ ان کی مادی انحطاط ہے۔

اگر اس چارج شیٹ کی وجہ سے جناب غامدی پر یہ الزام عائد کیا جا سکتاہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی راہوں کے راہی ہیں تو پھر اطمینان رکھیے آپ نے دین کی خدمت کا حق ادا کردیا۔ آج صرف جاوید احمد غامدی نہیں، اس ملک کی غالب اکثریت کے یہی خیالات ہیں۔ خود میرے جیسا طالب علم کہتاہے کہ حدود آرڈیننس صحیفہ جہالت ہے۔ میرے اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے کئی پروفیسر حضرات حدیث وسنت کے فرق سے لے کر خاندانی منصوبہ بندی تک اسی موقف کے قائل ہیں جس کی پاداش میں جاوید صاحب سمیت جملہ متجددین کو مرزا غلام احمد قادیانی کی راہوں کا راہی قرار دیا گیا ہے۔ جرم اگر یہی ہے تو اس ملک کی تقریباً ۵۰فیصد آبادی اس کا ارتکاب کرتی ہے، اور ہم جیسے طالب علم تو ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ تو کیا ہم سب غلام احمد قادیانی کے پیروکار ہیں؟ میں اپنی بات ایک بار پھر دہرادوں کہ اس ملک میں کبھی سیکولرازم آیا تو اس کے ذمہ دار اہل مذہب ہوں گے جن کا فہم دین اتنا ناقص ہوجائے گا کہ معاشرے کے سنجیدہ لوگ اسے قبول نہیں کرپائیں گے۔

(بشکریہ روزنامہ ’جناح‘ لاہور)

(۲)

(’الشریعہ‘ بحث ومباحثہ اور آرا وافکار کے تبادلہ کے لیے ایک فورم ہے جس میں مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان پر تنقید وتبصرہ شائع ہوتا رہتا ہے اور خود ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر ، مدیر اورمجلس ادارت کے دیگر ارکان کی آرا پر بھی سخت اور تیز وتند تبصرے اس کے صفحات پر چھپتے رہتے ہیں۔ بطور ایک ادارے کے’ الشریعہ‘ جناب جاوید احمد غامدی کے بہت سے افکار وخیالات سے اختلاف رکھتا ہے، تاہم قارئین جانتے ہیں کہ ’الشریعہ‘ کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والی کسی بھی تنقید میں کبھی طعنہ بازی اور الزام تراشی کا پست اسلوب اختیار نہیں کیا گیا۔ ۲۰۰۱ میں مولانا زاہد الراشدی اور جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے اہل قلم کے مابین روزنامہ ’جنگ‘، روزنامہ ’اوصاف‘ اور روزنامہ ’پاکستان‘ کے صفحات پر بعض اہم مباحث پر ایک سنجیدہ علمی مکالمہ ہوا تھا جو بعد میں مزید اضافوں کے ساتھ ماہنامہ ’اشراق‘ اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں بھی شائع ہوا۔ اس مکالمے میں مولانا زاہد الراشدی کے رویے اور اسلوب تحریر کو خود جناب غامدی صاحب اور ان کی ترجمانی کرنے والے اہل قلم نے سراہا تھا اور اسے علمی بحث ومباحثہ کا ایک مثالی نمونہ قرار دیا تھا۔ ذیل میں بعض تحریروں کے اقتباسات نقل کیے جا رہے ہیں۔ غامدی صاحب کے طرز فکر پر بطور ایک ادارے کے ’الشریعہ‘ کی رائے وہی ہے جو ان تحریروں میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ’الشریعہ‘ کے صفحات پر شائع ہونے والی دیگر تنقیدوں کے ذمہ دار خود ان کے مصنفین ہیں۔ مدیر)


’’جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں۔ صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانش ور ہیں اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ..... حضرت مولانا حمید الدین فراہی برصغیر پاک وہند کے سرکردہ علماے کرام میں سے تھے۔ مولانا شبلی نعمانی کے ماموں زاد تھے۔ ان کے اساتذہ میں مولانا شبلی کے علاوہ مولانا عبد الحئ فرنگی محلی، مولانا فیض الحسن سہارن پوری اور پروفیسر آرنلڈ شامل ہیں۔ دینی درسیات کی تکمیل کے بعد انھوں نے جدید تعلیم بھی حاصل کی اور بیک وقت عربی، اردو، فارسی، انگلش اور عبرانی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ حیدر آباد دکن کے دار العلوم کے پرنسپل رہے جسے بعد میں ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ کے نام سے یونیورسٹی کی شکل دے دی گئی اور کہا جاتا ہے کہ دار العلوم کو ’’جامعہ‘‘ کی شکل دینے میں مولانا فراہی کی سوچ اور تحریک بھی کارفرما تھی۔ بعد میں حیدر آباد کو چھوڑ کر انھوں نے لکھنو کے قریب سرائے میر میں ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ کے نام سے درس گاہ کی بنیاد رکھی اور قرآن فہمی کا ایک نیا حلقہ قائم کیا جو اپنے مخصوص ذوق اور اسلوب کے حوالے سے انھی کے نام سے منسوب ہو گیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ان کے نزدیک قرآن فہمی میں عربی ادب، نزول قرآن کے دور کے عربی لٹریچر اور روایات اور اس کے ساتھ عرف وتعامل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ حدیث وسنت کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر ’’خبر واحد‘‘ کو ان کے ہاں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو ’’محدثین‘‘ کے ہاں تسلیم شدہ ہے اور وہ احکام میں ’’خبر واحد‘‘ کو حجت تسلیم نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے بعض علمی معاملات میں ان کی اور ان کے تلامذہ کی رائے جمہور علما سے مختلف ہو جاتی ہے۔ مولانا فراہی کے بعد ان کے فکر اور فلسفہ کے سب سے بڑے وارث اور نمائندہ حضرت مولانا امین احسن اصلاحی تھے جنھوں نے کچھ عرصہ قبل وفاقی عدالت میں شادی شدہ مرد وعورت کے لیے زنا کی سزا کے طور پر ’’رجم‘‘ کے شرعی حد نہ ہونے پر دلائل فراہم کیے تھے اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ رجم اور سنگ سار کرنا شرعی حد نہیں ہے۔ اس کے پیچھے بھی ’’خبر واحد‘‘ کے احکام میں حجت نہ ہونے کا تصور کارفرما تھا۔ یہ ایک مستقل علمی بحث ہے کہ احکام وقوانین کی بنیاد شہادت پر ہے یا خبر پر، اور خبر اور شہادت کے نصاب ومعیار میں کیا فرق ہے؟ اس میں فقہا کے اصولی گروہ میں سے بعض ذمہ دار بزرگ ایک مستقل موقف رکھتے ہیں جبکہ جمہور محدثین اور علمی فقہا کا موقف ان سے مختلف ہے اور ہمارے خیال میں مولانا حمید الدین فراہی کا موقف جمہور فقہا اور محدثین کے بجائے ’’بعض اصولی فقہا‘‘ سے زیادہ قریب ہے۔ اسی وجہ سے ہم اسے ان کے ’’تفردات‘‘ میں شمار کرتے ہیں اور ’’تفردات‘‘ کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ ہر صاحب علم کا حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے بشرطیکہ وہ ان کی ذات یا حلقے تک محدود رہے۔ البتہ اگر کسی ’’تفرد‘ کو جمہور اہل علم کی رائے کے علی الرغم سوسائٹی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ فکری انتشار اور ایک نئے مکتب فکر کے قیام کا سبب بنتا ہے اور یہی وہ نکتہ اور مقام ہے جہاں ہمارے بہت سے قابل قدر اور لائق احترام مفکرین نے ٹھوکر کھائی ہے اور امت کے ’’اجتماعی علمی دھارے‘‘ سے کٹ کر جداگانہ فکری حلقوں کے قیام کا باعث بنے ہیں۔ بہرحال محترم جاوید احمد صاحب اور ان کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب کا تعلق اسی علمی حلقے سے ہے اور مولانا امین احسن اصلاحی کے بعد اس حلقہ علم وفکر کی قیادت غامدی صاحب فرما رہے ہیں۔‘‘ 

(الشریعہ مئی ۲۰۰۱، ص ۷، ۸)

’’جہاں تک غامدی صاحب کو جہاد کے بارے میں قادیانیوں کے موقف کا موید ظاہر کرنا ہے تو یہ سراسر زیادتی ہے اس لیے کہ ان کا موقف قطعاً وہ نہیں ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد کے سرے سے منسوخ ہونے کا اعلان کیا تھا بلکہ اس نے جھوٹی نبوت کا ڈھونگ ہی جہاد کی منسوخی کے پرچار کے لیے کیا تھا، جبکہ غامدی صاحب جہاد کی فرضیت اور اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں البتہ جہاد کے اعلان کی مجاز اتھارٹی کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ مگر اس بارے میں ان کی رائے امت کے جمہور اہل علم سے مختلف ہے جس پر ہم تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کر چکے ہیں۔ میر ااختلاف غامدی صاحب کے ساتھ یہ نہیں ہے۔ اپنے سابقہ مضامین میں عرض کر چکا ہوں کہ میں انھیں حضرت مولانا حمید الدین فراہی کے علمی مکتب فکر کا نمائندہ سمجھتا ہوں اور حضرت مولانا فراہی کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھی اور حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کی ہے، البتہ امت کے جمہور اہل علم کے علی الرغم ان کے تفردات کو میں قبول نہیں کرتا اور غامدی صاحب سے میں نے یہی عرض کیا ہے کہ علمی تفردات کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ امت کے اجتماعی علمی دھارے سے الگ کسی نئے مکتب فکر کا عنوا ن نظر آنے لگیں، امت میں فکری انتشار کا باعث بنتا ہے اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو اسے عالمی فکری استعمار کی ان کوششوں سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جو ملت اسلامیہ کو ذہنی انتشار اور فکری انارکی سے دوچار کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہیں۔‘‘ 

(الشریعہ، مئی ۲۰۰۱، ص ۵۸)

’’مختلف دینی اور علمی موضوعات پر ان کا ایک مستقل نقطہ نظر اور اسلوب فکر ہے جس کا اظہار ان کے مضامین کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے ہر نتیجہ فکر سے اتفاق کیا جائے اور ہم بھی جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں، ان کے فکر واسلوب سے بلاتامل اختلاف کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مختلف پیش آمدہ دینی وملی مسائل پر دیگر مکاتب فکر کی طرح ان کے نقطہ نظر سے بھی آگاہی حاصل کی جائے اور علمی بحث ومباحثہ اور مکالمہ کی صورت میں بحث وتمحیص کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔‘‘ 

(الشریعہ، جون ۲۰۰۴، ص ۵۰)

آراء و افکار