سر سید احمد خان اور تاریخی افسانے

یوسف خان جذاب

ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ءکے شما رے میں ’’تا ریخی افسا نے اور اُ ن کی حقیقت ‘‘ کے عنوا ن سے میرا ایک تا ثر اتی مضمو ن شا ئع ہوا تھا جو دراصل پر وفیسر شا ہد ہ قا ضی صاحبہ کے مضمو ن (الشریعہ، مئی ۲۰۰۵) سے شروع والے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے شمارے میں ضیا ء الد ین لا ہوری صاحب نے میر ے مضمو ن کے جواب میں ایک تحریر لکھی ہے، تا ہم ان کا جوا ب میر ے مضمو ن کے فقط ایک حصے سے متعلق تھا، اسی لیے انھو ں نے اسے ’’سر سید کے بار ے میں تار یخی افسا نو ں کی حقیقت‘‘ کا عنو ان دیا ۔ اگر چہ لا ہور ی صا حب کو سید صا حب کے بار ے میں میر ی رائے سے اختلا ف ہے، تاہم مضمون کے بنیادی مدعا سے انھوں نے اتفاق ظاہر کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں

’’سر سید کے بار ے میں ایسی با تو ں کو بھی حقیقت کے روپ میں پیش کر نے کی کو شش کی گئی ہے جو خود تا ریخی افسانوں کے ضمن میں آ تی ہیں۔‘‘ ( الشر یعہ ،اکتو بر ۲۰۰۵، صفحہ۲۱) 

بلاشبہ سید صا حب کی شخصیت کے گر د عقید ت کا ایک خو ل چڑھا دیا گیاہے، لیکن ایسا خول کس ’’مسلم شخصیت‘‘ کے گر د مو جود نہیں؟ یہ تو مسلما نو ں کی موروثی بیما ری ہے کہ عقید ت کے زیر اثر وہ اپنی پسندیدہ شخصیات کی اجتہا دی لغزشوں کو بھی بڑ ھا چڑ ھا کر پیش کر تے ہیں۔ یہ اس امت کا المیہ ہے ۔ ان شخصیتو ں نے خو د کبھی اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر قرار نہیں دیا۔ یہ ہم ہیں جو انھیں زمین سے اٹھا کر آ سمان پر بٹھا دیتے اُور اُ ن کی ہر با ت کو وحی کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ عظیم شا عر رحمان با باؒ نے اس رویے کی عکاسی یوں کی ہے : ’’میں نے اُن درویشو ں کی پرواز کا مشا ہد ہ کیا ہے جو ایک قد م اُ ٹھا کر عر ش کو چھو لیتے ہیں ۔ ‘‘

میں نے اپنے مضمو ن میں صو فیا ئے کر ام کے حوالے سے اس حقیقت کی طر ف اشار ہ کیا تھا ، تاہم صو فیا ئے کر ام پر بس نہیں، ہمار ے علما ے کرا م کا حال بھی یہی ہے کہ اند ھی تقلید اور عقید ت کے گہر ے جذبات کے تحت ائمہ کر ام کی ہر با ت کو حر ف آ خر تصور کر تے ہیں اور مولانا مفتی محمد شفیع کے الفاظ میں حد یث کو بھی ’حنفی‘ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف سید صاحب ہی کی شخصیت کو بڑ ھا چڑ ھا کر پیش نہیں کیا گیا، یہ ملمع کار ی ہر بڑی مسلم شخصیت پر ہو ئی ہے۔ سید صاحب تو ماضی قریب کی شخصیت ہیں اور اُن کی شخصیت پر چڑھایا جانے والا گرد وغبار نسبتاًکم ہے۔ ور نہ جو ں جو ں ہم ما ضی میں سفر کرتے جاتے ہیں، مسلم شخصیتو ں کے گرد عقیدت وتقدس کے افسانوی ہا لے نمایا ں ہو تے چلے جا تے ہیں۔ میں دوسر ی مسلم شخصیتو ں کی ملمع کار ی کو سید صا حب کے حوالے سے وجہ جو از نہیں بنا رہا، میرا مد عا صرف یہ ہے کہ سید صاحب کا معاملہ کو ئی استثنا ئی معاملہ نہیں ۔ 

سیدصا حب ایک ذہین انسا ن تھے اور انسا نی دماغ سے لغز شیں اور خطا ئیں سر زد ہو تی ہیں، اس لیے انہو ں نے جو کچھ کہا اور لکھا، اسے حر ف آ خر کا در جہ نہیں دیا جا سکتا ۔ اُ ن کی با تیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی۔ تاہم ایک نقاد کا فر ض بنتا ہے کہ جب وہ کسی شخصیت پر قلم اُٹھا ئے تو پہلے اس کے موقف اور فکر کی اس کے زاویہ نگاہ سے دیانت دارانہ طریقے سے وضاحت کرے اور پھر دلائل کی روشنی میں اُس کی درستی یا نا درستی کو واضح کر ے۔ کسی کے موقف کی استدلالی غلطی کو واضح کرنے کے بجائے اس کی نیت اور ذا ت پر حملہ آور ہو نا ایک غیر علمی اور غیر سنجیدہ رویہ ہے اور نقاد کے دائر یہ کا ر سے با ہر ہے۔ کو ئی شخص کوئی کا م کس محرک کے تحت کر تا ہے، اس کا تعلق نیت جاننے سے ہے اور نیتوں سے خدا ہی واقف ہے۔ خد ا سے ڈرنے والے عا لم کبھی اس دائرے میں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اسی لیے حضر ت مو لا نا قا سم نانوتوی نے سر سید کے خلا ف کفر کے فتو ے پر دستخط نہیں کیے۔ محترم لا ہور ی صا حب نے اپنی تنقید میں اس اصو ل کا خیا ل نہیں رکھا ۔ انہوں نے اپنے مضمو ن میں اور خصو صاً سر سید کے متعلق اپنی کتا بو ں میں اُ ن کی شخصیت کے متعلق بعض قطعی فیصلے صادر کیے ہیں ، حالانکہ انھیں کو چاہیے تھا کہ وہ سید صاحب کے مذکورہ موقف کے پس منظر میں کارفرما ان کے بنیادی فکری استدلال کو واضح کر کے اس پر تنقید کرتے اور پھر قار ی کو مو قع دیتے کہ وہ ان سے اتفاق یا اختلا ف کر ے۔ 

میں نے لکھا تھا کہ سید صا حب پر انگر یز وں کی وفاداری اور مجا ہد ین آزادی کی مخبر ی کا الزا م لگا نا سر اسر ظلم اور نا انصا فی ہے۔ اس کے جو اب میں لا ہور ی صا حب نے مکتو با ت سر سید سے یہ فقرے نقل کیے ہیں کہ 

’’بڑا شکر خد ا کا ہے کہ اس نا گہا نی آ فت میں جو ہندو ستا ن میں ہوئی، فد وی بہت نیک نا م اور سر کار دولت مدار انگر یزی کا طر ف دار اور خیر خواہ رہا ۔‘‘ ( الشریعہ ، اکتو بر ۲۰۰۵،صفحہ ۲۱ ) 

پھر بتاتے ہیں کہ انہیں اس خیر خواہی کا صلہ انعا م وا کرام کی صور ت میں ملا۔ لاہور ی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ علی گڑ ھ تحر یک کا واحد مقصد انگر یز وں کی و فادار ی تھا۔ اس کے حق میں انھوں نے سید صاحب کا درج ذیل اقتباس نقل کیا ہے :

’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خد ا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطا عت اور فر ما نبر داری او ر پور ی وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سا یہ عا طفت میں ہم امن و اما ن کی زند گی بسر کرتے ہیں ۔ خدا کی طر ف سے ہمار ا فر ض ہے۔ میر ی یہ رائے آ ج کی نہیں بلکہ پچا س ساٹھ بر س سے میں اس رائے پر قا ئم اور مستقل ہوں۔ ‘‘ ( ص ۲۲) 

میں نے اپنے مضمو ن میں اگر سرسید صاحب پر انگریزوں کی وفاداری کے الز اما ت کو’’ظلم اور نا انصا فی‘‘ قرار دیا تو اس سے میرا مطلب یہ تھا کہ ان الزاما ت کے حوالے سے سر سید کا موقف صحیح تناظر میں پیش نہیں کیا گیا۔ تنقید میں پس منظر کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر تنقید میں فقط ’’مجر د حقا ئق‘‘ پیش کیے گئے ہوں اور ان ’’حقا ئق‘‘ کا رشتہ تاریخی وواقعاتی سیا ق و سبا ق سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسی تنقید علمی لحاظ سے کوئی وزن نہیں رکھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر لکھنے والے والے کا اپنا ایک زاویہ نگاہ ہو تا ہے جس کے تحت وہ لکھتا ہے۔ سید صا حب بھی باقا عد ہ ایک فکر ی نظام کے تحت لکھ رہے تھے۔ انگر یزوں کے حوالے سرسید صاحب کا موقف ان کے رائے میں ایک مذ ہبی اساس رکھتا تھا، جیسا کہ ’’ہمارا مذ ہبی فر ض ہے ‘‘ اور ’’ خد ا کی طرف سے ہمارا فر ض ہے‘‘ کی قسم کے جملو ں سے واضح ہے۔ اپنی ’’تفسیر القرآن‘‘ میں وہ لکھتے ہیں : 

’’ اسلام فساد اور دغا اور غدروبغا وت کی اجا زت نہیں دیتا۔ جس نے اُن کو امن دیا ہو، مسلما ن ہو یا کا فر، اس کی اطا عت اور احسان مندی کی ہد ایت کر تا ہے ۔ کا فرو ں کے سا تھ بھی جو عہد و اقرار ہوئے ہو ں، ان کو نہا یت ایما ن داری سے پورا کر نے کی تا کید کر تا ہے ۔ خود کسی پر ملک گیر ی اور فتو حا ت حا صل کر نے کو فو ج کشی اور خو نر یز ی کی اجا زت نہیں دیتا ۔ کسی قو م یا ملک کو اس غر ض سے کہ اس میں با لجبر اسلام پھیلا یا جا وے، حملہ کر کے مغلو ب و مجبور کر نے کو پسند نہیں کر تا ، یہا ں تک کہ کسی ایک شخص کو بھی اسلام قبو ل کر نے پر مجبور کر نا نہیں چا ہتا ۔ صرف دو صورتوں میں اسے تلوار پکڑ نے کی اجازت دی ہے ۔ ایک اس حالت میں جبکہ کافر اسلام کی عد اوت سے اور اسلا م کو معد وم کر نے کی غر ض سے ، نہ کسی ملکی اغر اض سے ، مسلما نو ں پر حملہ آور ہوں۔ کیو نکہ ملکی اغر اض سے جو لڑ ائیا ں واقع ہو ں، خواہ مسلما ن مسلما نو ں میں ، خواہ مسلما ن و کا فرو ں میں ، و ہ دنیا وی با ت ہے ۔ مذ ہب سے کچھ تعلق نہیں ہے ۔ دوسر ے جبکہ اس ملک یا قوم میں مسلما نو ں کو اس وجہ سے کہ وہ مسلما ن ہیں ، ان کی جان و ما ل کو امن نہ ملے اور فر ائض مذ ہبی کے ادا کر نے کی اجا ز ت نہ ہو ۔۔مگر اس حا لت میں بھی اسلا م نے کیا عمدہ طر یقہ ایما نداری کا بتا یا ہے کہ جو لو گ اس ملک میں جہا ں بطور رعیت کے رہتے ہو ں، یا امن کا علا نیہ یا ضمناً اقرار کیا ہو اور گو صر ف بو جہ اسلام ان پر ظلم ہو تا ہو تو بھی ان کو تلوار پکڑ نے کی اجا زت نہیں دی ۔ یا اس ظلم کو سہیں یا ہجر ت کر یں یعنی اس ملک کو چھو ڑ کر چلے جا ویں ۔ ہا ں جو لو گ خو د مختار ہیں اور اس میں امن لیے ہو ئے یا بطور رعیت کے نہیں ہیں، بلکہ دوسر ے ملک کے با شند ے ہیں، ان کا ان مظلو م مسلمانوں کے بچا نے کی جن پرصر ف اسلا م کی وجہ سے ظلم ہو تا ہے یا ان کے لیے امن اور ان کے لیے ادائے فر ض مذ ہبی کی آ زادی حا صل کر نے کو ، تلوار پکڑ نے کی اجاز ت دی ہے۔لیکن جس وقت کو ئی ملکی یا دنیا وی غر ض اس لڑا ئی کا با عث ہو، اس کو مذ ہب کی طرف نسبت کر نے کی کسی طر ح اسلام اجا ز ت نہیں دیتا۔‘‘ ( بحوالہ نقش سر سید، ضیا ے الدین لا ہور ی ، صفحہ ۶۹)

سید صا حب ایک دور اند یش آ دمی تھے ۔ انہیں انگر یزی استعمار کی طا قت کا علم تھا ۔ اس لیے وہ معروضی حالات میں ان کی اطا عت کا مشور ہ دیتے تھے۔ زما نہ دراز تک انگر یزی حکومت کے دوام کی خواہش سے بھی ان کا مقصد مسلما نو ں اور انگر یزوں کے در میان بے اعتمادی کی خلیج کو پا ٹنا اور فا تح ومفتو ح کے در میان اعتماد کی فضا کو بحا ل کر نا تھا ۔ انہیں مسلمانوں کی پسما ند گی کی درست وجہ معلو م تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ انہو ں نے زیا دہ زور مسلما نو ں کی تعلیم پر دیا۔ علی گڑ ھ تحریک حقیقی معنو ں میں ایک علمی تحر یک تھی۔ سید صا حب عقل پر ست تھے ۔ اس عقل پر ستی نے انہیں دور اند یش بنا دیا۔ اپنے مذ ہبی مطا لعے نے انہیں اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ کام نتیجہ رخی (Result Oriented) ہو نا چا ئیے ۔ بے نتیجہ ٹکراؤ کا کو ئی فائدہ نہیں۔ چنا نچہ اس جذ بے کے تحت انہو ں نے مسلما نو ں کو اطا عت فر نگ کا مشورہ دیا اور ان کی توجہ کا رُ خ تعلیم کی طر ف مو ڑنے کی کوشش کی۔ 

مولانا خلیل احمد سہارنپوری، جو دیوبندی مکتب فکر کے ایک جید عالم دین اور حدیث کی مشہور کتاب سنن ابو داؤد کے شارح ہیں، اسی طرح کے ایک اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’آپ نے انگریزوں کی نسبت اعتراض فرمایا ہے کہ ابتداے سلطنت سے انگریزوں کا مطمح نظر حرارت ایمانی کا قلوب سے سلب کرنا تھا جو انھوں نے متعدد اور مختلف طریقوں سے اپنے مقصود کے حاصل کرنے کی تدبیریں کیں اور اس میں کامیاب ہو گئے اور من جملہ ان تدبیروں کے علی گڑھ کالج کی بنا بھی ہے کہ جس کے بانی نے حب مال وجاہ کی آڑ میں ترقی دنیا کا سبز باغ دکھلا کر مسلمانوں کے دلوں سے وہ تنفر اور توحش عن النصاریٰ بالکل نکال دیا جو اسلام کے لیے روح رواں تھا۔ اس کے متعلق مجھ کو اسی قدر عرض کرنا ہے کہ آپ غور فرماویں کہ یہ قصور کس کا ہے۔ نصرانیوں کا قصور ہے یا آپ کا؟ اجی صاحب وہ تو تمھارے دین کے دشمن ہیں، وہ جو کچھ کریں تھوڑا ہے۔ اس میں تو آپ اپنی شکایت کیجیے کہ آپ نے کیوں ان کا اثر قبول کر لیا۔ اور اگر غور کر کے دیکھو تو فی الحقیقت جس زمانہ میں انگریز ہندوستان میں آتے ہیں، اس وقت اسلامی سلطنت ہندوستان میں برائے نام رہ چکی تھی اور پنجاب میں سکھوں کا نہایت تسلط ہو گیا تھا۔ اگر انگریز ان کا قلع قمع نہ کرتے تو آج تمام ہندوستان میں سکھوں کا ڈنکا بجتا۔ ان کا طرز حکومت جو کچھ تھا اور جو کچھ وہ اسلام اور اسلامیات کی مزاحمت کرتے تھے، وہ آپ سے مخفی نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ہندوستان پر ان کی سلطنت ہو جاتی تو آج مسلمانوں سے بھنگیوں اور چماروں کی طرح بیگار لی جاتی۔
میرے خیال میں تو خدا کی رحمت مسلمانوں پر ہوئی کہ انگریز آئے اور انھوں نے سکھوں کا قلع قمع کیا اور ایک مہذب سلطنت قائم ہو گئی جس نے مذہب کی آزادی کو اپنا اولیں فرض قرار دیا۔ یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے دماغ سلطنت کے قابل نہ رہے تھے اور اگر عام مسلمانوں نے کچھ قلیل سی کوشش کی بھی ، کیونکہ تقدیر موافق نہیں تھی، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ علاوہ ازیں آپ الزام انگریزوں کے سر لگاتے ہیں کہ انھوں نے تدبیریں کر کے ہندوستانیوں سے حرارت وغیرت ایمانی کو سلب کر دیا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ترکی ومصر میں جہاں مسلمانوں کی بڑی زور کی سلطنت تھی، وہاں کس نے غیرت ایمانی کو سلب کر دیا تھا؟ کیا ہم نے ہی تم کو یہ تعلیم کیا تھا کہ تم ہمارے برے اوصاف تو لے لیجیو او رخبردار ہمارے بھلے اوصاف کو مت چھونا۔
رہا بانی علی گڑھ کا قصہ، ا س کا جواب بھی اس ہی تقریر سے پیدا ہو سکتا ہے۔ بانی علی گڑھ کی نیت کا علم خدا ہی کو ہے کہ اس نے اس کالج کی بنا کس نیت پر ڈالی۔ اگر اس کی نیت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں سے حرارت وغیرت ایمانی سلب ہو جاوے تو اس کا محاسبہ خدا تعالیٰ شانہ کے یہاں ہے اور اگر اس کی یہ نیت نہیں تھی بلکہ اس کی نیت محض دنیاوی ترقی تھی جس طرح میں گزشتہ تقریر میں عرض کر آیا ہوں تو پھر فرمائیے کہ یہ ہمارا ظن کیا ظن فاسد نہیں ہوگا؟‘‘ (ماہنامہ الصیانہ، لاہور دسمبر ۲۰۰۲، ص ۹۱، ۲۰)

دیوبندی مکتب فکر کے ایک دوسرے جید عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:

’’سید احمد بڑے حوصلے کا آدمی تھا، مگر انھوں نے خواہ مخواہ دین میں ٹانگ اڑا کر اپنے آپ کو بدنام کیا، ورنہ ان کو تو لوگ دنیا کا تو ضرور ہی پیشوا بنا لیتے۔ بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ....... یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، ج ۱۱، ص ۲۶۷۔ ۲۶۹)

جہا ں تک اس با ت کا تعلق ہے کہ سر سید مجا ہد ین آزادی کی مخبر ی کر تے رہے تو لا ہور ی صا حب کے دلا ئل سے یہ با ت ثا بت نہیں ہو تی۔ ان ئل سے زیا دہ سے زیا دہ یہ با ت سا منے آ تی ہے کہ سرسید مسلما نو ں کی ان مسلح کا روائیو ں کو بنظر حقار ت دیکھتے تھے ۔ خفیہ خط و کتا بت سے ہر گز یہ مطلب اخذ نہیں ہو تا کہ وہ جاسو سی کے مجر م تھے۔ وہ ہر حا ل میں انگر یزی حکو مت کے خیر خواہ تھے اور یہ وفادار ی اورخیر خواہی ، جیسا کہ اوپر بیا ن کیا گیا ، ان کی مسلما نیت اور مذ ہبیت کا ثمر ہ تھا۔ سر سید صا ف اور کھر ے انسا ن تھے۔ وہ اس با ت کو اپنی مذ ہبیت اور مسلما نی کے خلا ف تصور کر تے تھے کہ ایک طر ف حکو مت کی نو کر ی کریں اور دوسر ی طرف در پر دہ ا ن کے خلا ف سر گرم عمل ر ہیں ۔ لفظ ’’ نمک حر ام‘‘ سے واضح ہو تا ہے کہ بغاوت کرنے والے دوغلی پا لیسی اختیار کیے ہو ئے تھے۔ بد قسمتی سے دور انحطاط میں مسلما ن اغیار کو دھو کا دینے کو بھی اخلا قیا ت میں شمار کر تے ہیں۔ سر سید اس قسم کی اخلا قیا ت کی مخا لف تھے چنا نچہ لکھتے ہیں:

’’ جہاد مسلما نو ں کا ایک مذ ہبی مسئلہ ہے۔اس کے قواعد ایسے قا عد ے پر مبنی ہیں جس میں ذرا بھی دغا اور فر یب اور غدر و بغاوت اور بے ایما نی نہیں۔‘‘ ( بحو الہ افکار سر سید، از ضیا ء الد ین لا ہور ی ، صفحہ ۲۲۳)

سر سید نے جن لو گو ں کو باغیوں سے بچا یا، دو جو ہ کی بنیا د پر ان کو بچانا صحیح تھا ۔ اول یہ کہ سر سید ان کے نوکر تھے اور دوم یہ کہ یہ لو گ سول انتظا میہ سے متعلق تھے اور مسلما نو ں کے سا تھ حا لت جنگ میں نہیں تھے ، اس لیے ان پر ہا تھ اٹھا نا اسلا می جنگی اخلا قیا ت کے منا فی تھا۔ تاہم یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ سر سید احمد خان نے مجا ہد ین آ زادی کو جو گا لیا ں دی ہیں، وہ ناقابل دفاع ہیں اور اس کے لیے وہ ہ رب العزت کی بارگاہ میں جواب دہ ہو ں گے ۔ 

لا ہور ی صا حب نے علما کی طرف سے سر سید کی مخالفت کا سبب واضح کرتے ہوئے شیخ اکر ام کا مند رجہ ذیل پیر اگراف نقل کیا ہے:

’’ان کی سب سے زیا دہ مخا لفت اس وقت ہو ئی جب انہوں نے تہذ یب الا خلا ق جا ری کیا اور ان مذ ہبی عقا ئید کا اظہار کیا ، جنہیں عا م مسلما ن تعلیم اسلا می کے خلا ف اور ملحدانہ سمجھتے تھے۔ مثلاًشیطا ن ، اجنہ اور ملا ئیک کے و جو د سے انکار، حضر ت عیسیٰ ؑ کے بن با پ پید ا ہو نے یا زند ہ آسمان پر جا نے سے انکار ، حضر ت عیسیٰ ؑ اور حضر ت مو سیؑ کے معجز ات سے انکار وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۵، ص ۲۴)

یہ درست ہے کہ مذکورہ امور سے متعلق سرسید کی را ئے جمہور علما ے کر ام سے جد ا ہے اور انہوں نے ان مخلو قا ت اور معجزا ت کے حوالے سے عقلی طور پر تاویل کی راہ اختیار کی ہیں ، تاہم شیخ اکرا م کی اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ علما نے سر سید کی مخا لفت فقط مذ ہبی نظر یا ت کی بنا پر کی۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ اِ ن نظریات کی بنا پر انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ اس کے علاوہ علما مغربی تعلیم کے بھی مخالف تھے۔ اُنھوں نے لوگوں کو اِس حد تک اس سے برگشتہ کیا تھا کہ وہ انگریز وں کے مادی فوائد کی چیزوں سے بھی نفرت کرتے تھے۔ اکبر الہ آبادی کی شاعری مسلمانوں کے اِ س رجحان کی غمازی کرتی ہے۔ مولانا وحیدالدین خان نے لکھا ہے کہ جب ہندوستان میں ریل کی پٹڑیاں بچھائی جانے لگیں تو اس دور کے لو گوں نے اسے لو ہے کی زنجیر یں پھیلا نے کے مشا بہ قرار دیا۔ پچھلے دنو ں میر ے ایک سا تھی نے وزیر ستا ن کے چند سفید ریشو ں کا حال بیا ن کیا کہ وہ بجلی کے تارو ں کوانگر یز وں کی چا ل با زی سمجھتے تھے اور وہ سڑ کو ں اور ہر قسم کے ترقی یا فتہ کا مو ں کے دشمن تھے۔ اکابر اور معاملہ فہم علما کا موقف ممکن ہے مختلف ہو، لیکن انگر یز ی تعلیم کے بار ے میں علما کے عمومی رویے کی عکاسی پشتو کے ان اشعار سے ہوتی ہے جو سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسر ی نسل کو منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: ’’ جو کوئی سر کار ی مدرسے میں سبق پڑ ھے گا، وہ دوزخ میں غوطے کھا ئے گا اور جو کوئی درس نظا می کا طا لب علم ہے، وہ جنت میں شہد کھا ئے گا۔‘‘

اس کے علاو ہ سرسید اپنے سیاسی نظریات کے لحاظ سے کانگرس کے سخت مخالف تھے جبکہ علما ے کر ام مذکورہ پارٹی کی لیڈ ر شپ کا دم بھر تے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی رقم طراز ہیں : 

’’ علما کی طرف سے سر سید احمد خان کی مخا لفت کی سب سے بڑ ی و جہ انڈین نیشنل کانفر نس اور کا نگر س میں مسلمانوں کی شر کت کے خلا ف سر سید احمد خان کا مو قف تھا ۔ سر سید احمد خان مسلما نو ں کو علیحدہ قو م سمجھتے تھے ۔ ۱۸۸۳ء میں بلد یا تی اداروں کی نما ئند کے مسلہ پر جد ا گا نہ انتخا ب کا پہلا نعرہ سر سید ہی نے لگا یا تھا ۔ جبکہ دیو بند کے علما ء نے وطنی قو میت کی بنیاد پر مسلما نوں کی کا نگر س میں شر کت کو از روئے اسلام جا ئز قرار دیا تھا ۔ ۱۸۸۷ء میں علما ئے لدھیا نہ نے انڈین نیشنل کا نفر نس میں مسلما نو ں کی شرکت کے حق میں علما ے کر ام سے بڑ ے پیما نہ پر فتو یٰ حا صل کیا ۔ اس فتو یٰ کی تفصیلا ت ر سالہ نعر ہ الا برار (۱۸۹۰ ) میں در ج ہیں۔ اس فتو یٰ پرسو علما ء کے دستخط ہیں " ( ا حیا ئے علو م ، لا ہو ر، نو مبر ۲۰۰۵ ء صفحہ ۲۷)

سر سید کے سب سے بڑ ے مخا لف مو لا نا ابو الکلا م آ زاد کی ۱۹ فروری ۱۹۴۹ ؁ء کی تقر یر کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے جس میں وہ سر سید کی سیا سی فکر کا گلہ یو ں کر تے ہیں :

’’ مسلما نو ں کے اس سیاسی تعطل کے لیے اگر چہ مختلف اسبا ب جمع ہو گئے تھے لیکن اس کی سب سے بڑ ی ذمہ داری مر حو م سر سید احمد خان کی سیا سی رہنما ئی پر تھی جواس تعلیمی ادارے کے با نی اول تھے۔ انہو ں نے ۱۸۸۶ ؁ء میں مسلما نا ن ہند کو نہ صرف کا نگر س سے علیحد ہ رہنے کا مشور ہ دیا بلکہ سیا سی حقو ق کے تما م مطا لبو ں کی مخا لفت پر آمادہ کر دیا۔‘‘( بحوالہ مو لانا آ زاد ، سر سید اور علی گڑ ھ از محمد ضیا الدین انصار ی ، صفحہ ۶۷) 

سر سید کی اس سیا سی فکر کی ایک کڑ ی ترکی کی خلا فت تھی جس کے وہ مخا لف تھے ۔ ڈاکٹر علی صدیقی نے لکھا ہے:

" علما ے دیوبند کے لیے سر سید احمد خان کی مخا لفت کی ایک و جہ عثمانی خلیفہ کو عا لم اسلام کا روحا نی سر براہ ما ننے سے انکار بھی ہے۔‘‘ ( احیا ئے علوم ، لا ہو ر ، نو مبر ۲۰۰۵ء، صفحہ ۲۷ ) 

مند ر جہ با لا بحث سے پتہ چلتا ہے ۔ کہ سر سید کی مذ ہبی نظر یا ت کے علا وہ کچھ دیگر عو امل بھی تھے ۔ جس کی و جہ سے وہ علما ء کی نظر میں بمثل خار تھے۔ شیخ محمد اکرام کی یہ با تیں چو نکہ وز ن دار نہیں تھیں اس لیئے مو ج کوثر کے بعد کے ایڈ یشنو ں میں نہیں ملتی ہیں۔

شخصیات