تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’شرح اسلامی قانون شفعہ‘‘

برطانوی دور حکومت میں ۱۹۱۳ء میں پنجاب میں قانون شفعہ نافذ کیا گیا جس نے ۱۹۸۶ء اور ۱۹۹۱ء میں ہونے والی بعض ترامیم کے ساتھ موجودہ قانون شفعہ کی شکل اختیار کی ہے۔ زیر نظر کتاب میں معروف قانون دان سلیم محمود چاہل صاحب نے اس قانون کی شق وار شرح کی ہے اور اس ضمن میں بعض دفعات اور عدالتی فیصلوں کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔ 

مصنف کی تنقید کے بعض نکات قابل غور ہیں، چنانچہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن ۱۹۷۲ میں مزارع کو شفعہ کا اولین حق دار قرار دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف نے بجا طور پر بتایا ہے کہ یہ نہ صرف فقہی مسلمات کے منافی ہے، بلکہ خود قرآن مجید نے حسن سلوک کے حوالے سے والدین، قریبی اعزہ، قرابت دار پڑوسی اور غیر قرابت دار پڑوسی کے مابین جو ترتیب قائم کی ہے، اس کی روح کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح طلب مواثبت اور طلب اشہاد کی فقہی تفصیلات پر، جو کہ سراسر استنباطی ہیں، اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے کیا جانے والا اصرار فی الواقع قابل نظر ثانی ہے۔ طلب مواثبت کے شرط ہونے کے حق میں قاضی شریح کے ایک اثر (انما الشفعۃ لمن واثبہا) سے استدلال کیا جاتا ہے جسے سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں میں حدیث کے طور پردرج کر دیا گیا۔ ان پہلووں پر مصنف کی تنقید واقعتا قابل توجہ ہے۔ تاہم مصنف کا اصل زور بیان قانون کی متنازعہ جزئیات کی علمی غلطی واضح کرنے کے بجائے تیز وتند عمومی تنقیدوں میں صرف ہوا ہے۔ کتب احادیث اور فقہا و اہل علم کی آرا پر تبصرے کا انداز حدیث وفقہ کے ذخیروں کو’’عجمی سازش‘‘ قرار دینے والے ایک مخصوص مکتب فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کتاب کا اسلوب بیان آسانی سے گرفت میں آنے والا نہیں۔ علامہ اقبال کی نظمیں، قانون شفعہ کی شقوں پر فنی ونیم فنی تبصرے، غیر متعلقہ قرآنی آیات، فوجی وسیاسی حکمرانوں پر تنقید اور لاطائل بحثیں، یہ سب عناصر کسی مناسبت یا ربط کے بغیر کتاب کے صفحات پر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کتاب کا آخری تہائی حصہ ہی ایسا ہے جس میں کسی بڑے انحراف کے بغیر قانون کی تشریح وتعبیر پر توجہ مرکوز رکھی جا سکی ہے۔ فقہی اصطلاحات سے براہ راست واقفیت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ ’’شفیع‘‘ ( حق شفعہ رکھنے والے) کو ’’شافعی‘‘ لکھا گیا ہے۔ پروف خوانی کی زحمت غالباً گوارا نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں قرآنی آیات کا متن بھی بعض جگہ ناقص اور محرف ہو گیا ہے۔ 

۲۴۰ صفحات کی یہ کتاب ’’سلیم محمود چاہل، میاں ضیاء الحق روڈ، سول لائن گوجرانوالہ‘‘ سے طلب کی جا سکتی ہے۔ کتاب پر قیمت درج نہیں۔ (عمار ناصر)


تعارف و تبصرہ