عوامی مفاد کے لیے قبرستان اور مسجد کی جگہ کا استعمال

قاضی محمد رویس خان ایوبی

میر پور میں بطور ضلع مفتی فرائض کی انجام دہی کے چودہ سالہ عرصہ میں بہت سے مسائل سامنے آئے جن پر راقم نے وقتاً فوقتاً شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوابات دے کر اور شرعی فتاویٰ جاری کر کے فقہاء اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ ان مسائل میں ٹیلی فون پر نکاح وطلاق کی شرعی حیثیت، سرکاری زمینوں پر بغیر اجازت مسجد کی تعمیر، کفار کی عدالتوں کے فیصلہ ہائے تنسیخ نکاح کی شرعی حیثیت، مقدمات زنا میں شرعی ثبوت دست یاب نہ ہونے پر ملزمان کے خلاف کارروائی، حدود آرڈیننس کی خامیاں اور خوبیاں اور دیگر بے شمار انفرادی واجتماعی مسائل زیر بحث آئے۔ ان سطور میں جس موضوع پر ہم گفتگو کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ کیا قبرستان یا مسجد کو عوامی مفاد کی خاطر کسی مصرف میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسانوں اور شہروں کے احوال مختلف اوقات اور ادوار میں بدلتے رہتے ہیں۔ کہیں آبادی بڑھتی ہے اور کہیں جزیروں کے جزیرے آفات سماویہ اور جنگوں سے برباد ہو جاتے ہیں۔ سابقہ ادوار اور آج کے حالات میں جو فرق ہے، اس کے مختلف مظاہر میں کثرت آبادی، جدید ضروریات، شہروں کی تعمیر وتزئین، سڑکوں کی تعمیر، تجارتی مراکز، ہوائے اڈے اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی میں لوگوں کی مالی حالت نہایت کمزور تھی۔ زمینداری پر گزارا کرنے والے لوگ، محنت کش لوہار، مستری، ترکھان اور حجام چند روپے کماتے اور اپنے ضروری اخراجات پورے کرتے تھے۔ دیہات میں لوگوں کی اپنی زمینیں ہوتی تھیں۔ اگر کوئی شخص فوت ہو جاتا تو اسے اسی کی موروثی زمین میں قبر کھود کر دفن کر دیا جاتا۔ چند سال پیشتر بلکہ اب بھی بہت سے ایسے دیہات اور قصبے موجود ہیں جہاں لوگ اپنے گھروں کے قریب اپنی زمینوں میں قبریں بنایا کرتے تھے۔ ایک ایک گاؤں میں مختلف برادریوں کے مختلف قبرستان بنتے چلے گئے۔ شہروں کی وسعت پذیری، نئی کالونیوں، چھاؤنیوں، ایئر پورٹس اور خشک گودیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی وجہ سے بہت سے قبرستان بھی ان نقشوں کی زد میں آ گئے جہاں درج بالا تعمیرات کی جانی تھیں۔ 

اسی طرح ہر گاؤں میں اپنی اپنی مسجد تعمیر کر لی جاتی تھی۔ چھوٹے سے گاؤں میں ہر برادری کا اپنا اپنا قبرستان ہوتا تھا اور اپنی اپنی مسجد۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی اور سڑکیں تعمیر ہوتی گئیں، قبرستان بغیر کسی فاصلے کے عین محلے کے درمیان میں آ گئے۔ کئی گاؤں اجڑ گئے تو مسجدیں ویران ہو گئیں۔ لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے اب ان میں نماز پڑھنے والا کوئی نہ رہا۔ پاکستان سے لوگوں نے مشرق وسطیٰ اور یورپ منتقل ہونا شروع کیا تو بہتر حالات کار اور اچھی آمدنی کی وجہ سے شہری سہولیات، مین سیوریج، ریلوے لائن، ہوائی اڈوں اور نئے شہروں کی تعمیرات نے زمانے کو انقلاب سے روشناس کرا دیا۔

آج نئے نئے شہر آباد ہو رہے ہیں۔ ان شہروں میں ہوائی اڈے، سڑکیں، شاپنگ سنٹرز، سکولز، کالجز، یونیورسٹیاں اور دانش گاہیں بن رہی ہیں۔ ان تیز رفتار ترقیاتی پروگراموں کی تکمیل کے لیے بعض اوقات مساجد اور قبرستان بھی زد میں آ جاتے ہیں۔ تو کیا ان ترقیاتی پروگراموں کو رو بہ عمل لانے کے لیے اشد ضرورت کے تحت جہاں کوئی متبادل حل ممکن نہ ہو، مساجد کو شہید کیا جا سکتا ہے؟ کیا قبرستان کو ہائی وے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی مجھ سے بہت سے اجتماعات میں کیا گیا۔ اسی سوال کا جواب ہم زیر نظر سطور میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں تلاش کریں گے۔

مسجدیں روئے زمین پر وہ مقدس مقامات ہیں جن کا احترام اور ادب کرنا ہر مسلمان کے لیے واجبات دینیہ میں سے ہے، کیونکہ یہ اللہ کے گھر ’کعبۃ اللہ‘ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں خالق کائنات کا نام بلند کیا جاتا ہے، جہاں سے وہ صدائے دل نواز گونجتی ہے جو خداوند عالم کی کبریائی اور عظمت کا گیت بن کر فضا میں وحدانیت کی مہک پھیلاتی ہے، جہاں پانچ وقت اللہ کے نیک بندے اپنی جبینوں سے رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر سجدے بجا لاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’روئے زمین پر سب سے مقدس مقام مسجدیں ہیں اور بدترین مقامات بازار۔‘‘ لہٰذا مساجد کی حفاظت اور ان کا احترام وادب ہر حال میں واجب ہے، لیکن اگر شہروں کی جدید خطوط پر منصوبہ بندی کے نتیجے میں سڑکوں کی توسیع یا ایئر پورٹس کی تعمیر کے نقشوں میں تعمیر شدہ مسجد حائل ہو جائے اور کوئی متبادل راستہ نہ ہو تو ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا پبلک مفاد کی خاطر مسجد کو منہدم کر کے دوسری جگہ متبادل مسجد بنائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں خیر القرون سے استفادہ کرنا ہوگا کہ وہی دور ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والے ہر ذی شعور اور صاحب بصیرت عالم دین کو معلوم ہے کہ مصالح عامہ کی خاطر یتیموں اور بیواؤں کی جائیداد اور اوقاف کی جائیدادوں کو پبلک کے مفاد میں معاوضہ طے کر کے اور اس کی ادائیگی کر کے انھیں یا تو منہدم کر دیا گیا یا اسی معاوضہ کے تحت کسی دوسری جگہ ان کی متبادل حکومت وقت نے تعمیر کرا دیں، کیونکہ بڑی مصلحت کے لیے چھوٹے اور محدود مفاد کو ترک کرنا یا تبدیل کرنا جائز ہے۔ اصل مقصد تو پبلک کو سہولت فراہم کرنا ہے، خواہ وہ مکان عبادت کے حوالے سے ہو یا دیگر تعمیرات کے حوالے سے۔ کیونکہ مساجد اور مقابر بھی پبلک کے عمومی مفاد کے لیے ہیں اور سڑکوں کی تعمیر بھی مفاد عامہ کے لیے ہے۔ خلفائے راشدین کے دور کا، جو ہمارے لیے احکام شرعیہ کا مثالی دور ہے، جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ہدایت کے ستاروں نے مفاد عامہ کے لیے جو فیصلے کیے، وہ دور حاضر کے مسائل کے لیے مشعل راہ ہیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص نے امیر المومنین عمر بن خطاب کو خط لکھا کہ کوفہ میں سرکاری خزانے میں چوروں نے نقب زنی کر کے بھاری رقم چرا لی ہے اور سرکاری خزانہ بازار میں واقع ہے جہاں ہمیشہ چوری کا خطرہ رہتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد کو حکم دیا کہ بازار کا کچھ حصہ گرا کر وہاں مسجد تعمیر کر دی جائے اور جہاں اس وقت مسجد قائم ہے، اس کو گرا کر سرکاری خزانہ کے لیے عمارت تعمیر کر دی جائے۔ (طبری) اس طرح مفاد سرکار کے لیے مسجد کو شہید کر کے وہاں خزانہ قائم کر دیا گیا اور بازار کا کچھ حصہ گرا کر وہاں مسجد تعمیر کر دی گئی۔ اس دور میں بے شمار صحابہ کرام موجود تھے، مگر کسی نے حضرت عمر کے اس اقدام کی مخالفت نہیں کی۔ 

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسائل ماردینیہ میں فرمایا ہے کہ حضرت عمر نے کوفہ کی قدیم مسجد کو بازار میں تبدیل کر دیا اور بازار کی جگہ نئی اور بڑی مسجد تعمیر فرما دی، لہٰذا اگر مفاد عامہ کا تقاضا ہو کہ سڑکیں کشادہ کی جائیں، نئے دار الحکومت تعمیر کیے جائیں اور قدیم مسجدیں گرا کر ان کی جگہ متبادل نئی مسجدیں جدید نقشوں کے مطابق بنائی جائیں تو ایسا کرنا نہ صرف درست ہے، بلکہ مقاصد شریعت کی منشا کے مطابق ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

ان ابدال المسجد لمصلحۃ راجحۃ مثل ان یبدل بخیر منہ او یبنی بدلہ مسجد آخر اصلح منہ لاہل البلد (فتاویٰ ابن تیمیہ)
عوامی مفاد کی خاطر مسجد کو گرا کر اس کے بدلے میں دوسری جگہ پہلی مسجد سے زیادہ وسیع اور گھروں کے قریب تر مسجد بنانا، جہاں عوام کو زیادہ فائدہ ہو، جائز ہے۔ 

اسلام آباد کی تعمیر کے وقت جی ٹی روڈ کی توسیع کے دوران میں گوجر خان کی ایک بڑی جامع مسجد سڑک میں آ گئی جسے شہید کر دیا گیا اور اس کی جگہ حکومت نے معاوضہ دے کر نئی جگہ مسجد تعمیر کرا دی۔ سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کی تعمیر کے وقت بھی بہت سی مساجد سڑکوں کی زد میں آ گئیں۔ حکومت سعودیہ نے پرانی مسجدوں کی جگہ جدید ڈیزائن کے مطابق لاکھوں ریال صرف کر کے نئی مسجدیں تعمیر کروائیں۔ مسجد نبوی کی توسیع میں کئی مساجد زد میں آئیں اور انھیں شہید کر کے مسجد نبوی میں توسیع کر کے وضو خانے اور وسیع وعریض فرش بچھائے گئے تاکہ زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جگہ کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح بحرین، قطر، منامہ، کویت، ڈھاکہ اور دیگر کئی اسلامی ملکوں میں کیا گیا، مگر کسی جید عالم دین نے اس عمل کو خلاف شریعت نہیں کہا۔ راول پنڈی میں نئی جیل تعمیر کی گئی۔ راقم الحروف خود پرانی جیل میں قیدی رہا ہے۔ وہاں بھی جیل کے اندر ایک خوب صورت مسجد تھی۔ اب نہ وہ جیل ہے اور نہ مسجد، کیونکہ جیل اڈیالہ منتقل ہو گئی ہے اور پرانی جیل کو دیگر اغراض کے لیے مختص کر کے اسے مسمار کیا جا رہا ہے۔ منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، راول ڈیم اور وارسک ڈیم کی تعمیر کے وقت سیکڑوں مسجدیں ڈیم کے نقشے میں آئیں۔ تعمیر مکمل ہونے پر جب پانی ذخیرہ کیا جانے لگا تو تمام مساجد اور قبرستان پانی میں آ گئے اور اب ان کا نشان تک باقی نہیں، اس لیے کہ ذخیرہ آب بڑی قومی ضرورت تھی۔ جو لوگ ان ڈیموں کی وجہ سے بے گھر ہوئے، انھیں جہاں آباد کیا گیا، وہاں گورنمنٹ نے سرکاری خرچ پر مسجدیں تعمیر کر کے دیں اور قبرستان کے لیے مفت زمین الاٹ کی گئی۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا گیا تو سینکڑوں مساجد اور مقابر اس کی زد میں آئیں گی، لیکن چونکہ پانی کی ضرورت پاکستان کے اجتماعی مفاد سے وابستہ ہے لہٰذا نسبتاً چھوٹے مفادات کو اس عظیم مفاد کی خاطر قربان کرنا عین تقاضائے شریعت ہے۔

اب دوسرے نکتے کی طرف آئیے کہ کیا قبرستان بھی مصلحت عامہ کے تحت مسمار کر کے سڑکوں یا دیگر پبلک مفاد کی تعمیرات کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں اس موضوع پر کیا راہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم نے جب مکہ سے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی تو مدینہ منورہ میں ایک مقام پر پہنچ کر آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اس جگہ کو اللہ تعالیٰ نے مسجد کے لیے منتخب فرما لیا ہے۔ یہ جگہ سہل اور سہیل نامی دو بچوں کی ملکیت تھی اور یہاں مشرکین کی کچھ قبریں اور کچھ کھجوروں کے درخت تھے۔ حضور ﷺ نے سہل اور سہیل کو معاوضے کی پیش کش کی جس کے جواب میں انھوں نے یہ ارادہ کیا کہ کوئی معاوضہ لیے بغیر یہ جگہ مسجد کے لیے ہبہ کر دیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کا معاوضہ ادا کر کے یہ جگہ ان سے خرید لی۔ حضور ﷺ نے درخت کٹوا دیے، قبریں مسمار کروا دیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائی جسے اب مسجد نبوی کہا جاتا ہے۔ 

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان کو مسمار کیے بغیر مسجد کی تعمیر ممکن نہ ہو یا مسجد کو وسعت نہ دی جا سکتی ہو تو قبرستان کو مسمار کیا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ یہ مشرکین کی قبریں تھیں، اس لیے مسمار کی گئیں، تو میرے خیال میں یہ بات درست نہیں اس لیے کہ اگر مشرکین کی قبریں ان کے شرک کی وجہ سے مسمار کی گئیں تو مکہ میں مقبرۃ المعلی میں ہزاروں مشرکین دفن تھے، حضور ﷺ فتح مکہ کے بعد اس قبرستان کو بھی مسمار فرما دیتے۔ بلا ضرورت عامہ غیر مسلموں کے قبرستانوں، عبادت خانوں کو اسلام نے منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی کفار کی قبروں کو تباہ کرنا ثواب کا کام ہے۔ البتہ مصلحت عامہ کے تحت نہ صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمانوں کے قبرستان کو بھی مفاد عامہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اہل مدینہ کی آبی ضروریات کے لیے ایک حوض بنایا گیا۔ اس جگہ شہدائے احد دفن تھے، مگر جب حوض کا منصوبہ بنایا گیا تو شہدا کی قبروں سے لاشیں نکال کر دوسری جگہ دفن کی گئیں۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ شہدا کے جسموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ پبلک مفاد کے منصوبے کی خاطر قبرستان کو استعمال کرنا جائز ہے۔ اہل سنت کے ائمہ اربعہ اس امر پر متفق ہیں کہ اگر میت کا کفن درست کرنا مقصود ہو یا قبر میں پانی داخل ہو رہا ہو یا کسی جگہ سے دیوار سرک گئی ہو اور مردہ نظر آ رہا ہو یا کسی اور بہتر مقام پر تدفین مقصود ہو تو ان حالات میں ضرورت کے تحت قبر سے لاش کو نکالنا اور اس گڑھے کو پر کر کے اس پر تعمیرات کرنا جائز ہے، چاہے وہ سڑک کی صورت میں ہو یا مسجد یا رفاہ عامہ کی کوئی اور تعمیر۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد شہداء احد میں پہلے شہید ہیں، انھیں شہادت کے بعد ایک اور شخص کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کر دیا گیا تھا۔ بعد ازں میں نے اپنے والد کو وہاں سے نکال کر علیحدہ قبر میں دفن کیا۔ میں نے چھ ماہ کے بعد اپنے والد کی لاش قبر سے نکالی۔ وہ بالکل تر وتازہ تھے، صرف ان کا کان علیحدہ ہو گیا تھا۔ اس واقعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے تحت لاش کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے۔ تاہم اس طرح کے واقعات قبر سے لاش نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے سے متعلق ہیں، لیکن اگر کہیں کسی قومی منصوبے کے تحت ایسا قبرستان زد میں آ جائے جس کوقائم ہوئے اتنی مدت گزر چکی ہو کہ ہڈیاں مٹی میں مل کر مٹی ہو گئی ہوں، تو ایسے قبرستان کو دوبارہ انسانی آبادی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہاں مکانات، دوکانیں، سکول، کالج اور مساجد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرح کے قبرستان کے لیے مدت قدامت تقریباً سو سال مقرر کی گئی ہے، لیکن یہ حد بھی کوئی حتمی اور یقینی نہیں کیونکہ ہر علاقے میں ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے اور گلنے سڑنے کا عمل وہاں کے موسمی حالات پر منحصر ہے۔ یورپ، امریکہ کی بعض ریاستوں، کشمیر، روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں میں شدید سردی پڑتی ہے اور برفانی موسم کی وجہ سے کئی کئی سال تک لاشیں موجود اور محفوظ رہتی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ، امریکہ کی بعض ریاستوں، پاکستان میں پنجاب اور بلوچستان میں سبی، تھرپارکر کا علاقہ شدید ترین گرم علاقہ ہے۔ اسی طرح افریقہ میں بعض علاقے شدید گرم ہیں جہاں گلنے سڑنے کا عمل تیزی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔

اسلام نے دوبارہ آبادی کے نقطہ نظر سے ہی قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کیا ہے، لہٰذا اصل میں یہ دیکھا جائے گا کہ جس منصوبے کی تکمیل کی خاطر قبرستان کو منہدم کیا جا رہا ہے، اس کی اہمیت اور ضرورت کس حد تک ہے اور وہ منصوبہ کہاں تک ملکی اور قومی مفاد میں ہے۔ یہاں ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ قبرستان تو وقف ہے اور میت سے اجازت لینا ناممکن ہے اور بلا اجازت اس زمین میں تصرف کس طرح جائز ہوگا؟ اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ ریاست کی انتظامیہ شرعاً ہر اس کام کا اختیار رکھتی ہے جو عوامی مفاد میں ہو اور ہر اس شخص کے مال میں تصرف کا اختیار حکومت وقت کو حاصل ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اوقاف کا کنٹرول حکومت کا حق ہے۔ قبرستان بھی چونکہ اراضی موقوفہ پر بنائے جاتے ہیں، اس لیے اس امر پر بھی حکومت کو ہی تصرف کاحق حاصل ہے۔ جیسے انفرادی ملکیت کو بوقت ضرورت مفاد سرکار میں حکومت ، مالک کی رضامندی کے بغیر ادائیگی معاوضہ کے بعد حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، اسی طرح حکومت وقت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مفاد عامہ کی خاطر قبرستان کو سڑک کے منصوبے میں شامل کر دے یا ایئر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن کے نقشے میں آنے والے قبرستان کو اس وقت مسمار کر دے جبکہ اس کا کوئی متبادل حل نہ ہو کیونکہ سڑکوں کی توسیع نہیں ہوگی تو ٹریفک میں خلل پڑے گا، حادثات کاخطرہ بڑھے گا جو کہ عوام کے لیے ضرر کا باعث ہوگا لہٰذا بڑے ضرر کو دور کرنے کے لیے چھوٹا نقصان جائز ہے۔

فقہا ے اسلام نے اس ضمن میں ایک نہایت اہم قانونی مسئلہ پر اظہار خیال فرمایا ہے جسے ’تترس بالمسلمین‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار دوران جنگ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو ڈھال بنا کر مسلم افواج پر حملے کریں یا مسجدوں کو مورچے کے طور پر استعمال کریں تو ان حالات میں کیا مسلمان افواج ان مسلمان مردوں اور عورتوں کو جنھیں کفار نے ڈھال بنا رکھا ہے، بمباری، گولہ باری یا کسی اور ذریعے سے ہلاک کر سکتی ہے جس سے دشمن کی یہ دیوار گر جائے ور اس پر براہ راست حملہ کیا جا سکے؟ یا کیا ایسی مسجد، مندر، سینی گاگ یا چرچ کو منہدم کیا جا سکتا ہے جسے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو؟ تمام فقہاے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ حملہ کرنے سے پہلے ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ ان مظلوم مسلمانوں کو یا دیگر مذاہب کے عبادت گزاروں کو بغیر نقصان پہنچائے سامنے سے ہٹا دیا جائے یا عبادت خانے دشمن سے کسی طریقے سے خالی کروا لیے جائیں، لیکن اگر سوائے بمباری، فائرنگ، گولہ باری یا آگ لگانے کے اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہ گیا ہو تو حالت اضطرار میں اس ڈھال کو ختم کرنے کے لیے کفار پر حملہ کی نیت سے بمباری کی جائے، یا فائرنگ اور آتش باری کی جائے اور اس طرح اگر اس دوران میں وہ مظلوم مسلمان مرد وزن مارے جائیں تو مسلمان افواج گناہ گار نہ ہوں گی اور نشانہ بننے والے مسلمان شہید ہوں گے، کیونکہ مصلحت عامہ اور ملک ووطن کو بچانے کی خاطر چند سو افراد کا شہید ہو جانا اس نقصان سے بہرحال کم ہے جو وطن پر قبضے اور اسلامی ریاست کی شکست کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ 

اسی قبیل سے یہ مسئلہ بھی متفق علیہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم دشمن ریاست کی جاسوسی کر رہا ہو اور اسے قتل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسے مسلمان کو موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے، تاہم جاسوسی کرنے والا شہید نہ ہوگا۔ ماضی قریب میںیکم محرم ۱۴۰۱ھ کو خانہ کعبہ پر جیہمانی گروپ کے قبضہ کے بعد علما نے ان کے قبضے سے حرم شریف کو واگزار کرانے کے لیے قابضین پر حملہ کرنے کی اجازت کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں حرم شریف کے میناروں پر گولہ باری کی گئی۔ حرم مکی کے تہہ خانے میں مسلسل ۱۶ دن تک باغیوں اور سعودی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا اور بالآخر ۱۶ دن کے بعد حرم شریف کو واگزار کرالیا گیا۔ اسی طرح سکھوں کے عظیم معبد گولڈن ٹمپل پر گولہ باری کی گئی کیونکہ حکومت ہند کے بقول سکھوں کے گولڈن ٹمپل کو ریاست کے خلاف جنگی مقاصدکا اڈہ بنا لیا گیا تھا۔

قومی مفاد میں قبرستان کو مسمار کرنے کی شرعی نوعیت واضح کرنے کے بعد اس ضمن میں بعض متعلقہ سوالات پر روشنی ڈالنا بھی یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ مردوں کے اجسام کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا قبرستان کو بلڈوز کر کے میدان بنا دیا جائے یا ہڈیوں اور لاشوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے؟ شریعت اسلامیہ کا قاعدہ ہے کہ اہون البلیتین ، دو نقصانوں میں سے جو کم نقصان والا عمل ہو، اسے اختیار کیا جائے تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ مثلاً حالت اضطرار میں اگر ایک طرف سور کا گوشت ہوا ور دوسری طرف بھیڑیے یا ریچھ کا گوشت ہو تو سور کو چھوڑ دیا جائے اور بھیڑیے کا گوشت استعمال کر لیا جائے۔ یہ بات ہر ذی شعور انسان کو معلوم ہے کہ قبروں سے مردوں کو نکالنا، ہڈیاں اکٹھی کرنا یا گلی سڑی لاشوں کو نکالنا فطرت سلیمہ اور نفیس الطبع افراد کے لیے کافی مشکل ہے، لیکن قبروں کو برابر کر دینا اور ان کی بالائی سطح کو کام میں لانا نہ صرف میت کی پردہ پوشی کا سبب ہے بلکہ اس کی حرمت اور توقیر کے منافی بھی نہیں اور نسبتاً محفوظ راستہ ہے۔ اس لیے اگر قبروں سے ہڈیاں ادھر ادھر منتقل کرنے کے بجائے انھیں ہموار کر دیا جائے اور پھر ان پر منصوبے کے مطابق روڈز یا ایئر پورٹس یا ریلوے لائن یا ڈیم تعمیر کر دیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اس طرح قبروں کی بے حرمتی بھی نہیں ہوگی اور میت اور زندہ آبادی کے مقاصد بھی پورے ہو جائیں گے۔ البتہ قبروں کی موجودگی میں ان پر بیٹھنا، تکیہ لگانا اور ان پر چلنا منع ہے۔ اس طرح قبور کی توہین ہوتی ہے اور اس سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ لیکن جب قبریں مٹ جائیں یا مفاد عامہ کے کسی منصوبے میں آ جائیں تو ان پر کی جانے والی تعمیرات توہین کے زمرے میں نہیں آتیں کیونکہ نشانات مٹ جانے سے احکام بدل جاتے ہیں، جیسے قرآن کریم کے اوراق دریا میں یا سمندر میں بہا دیے جائیں، تو اوراق کے گل جانے کے بعد ان کا وہ تقدس باقی نہیں رہتا اور کبھی کسی شخص نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جلے ہوئے یا گلے ہوئے اوراق کو بلا وضو چھونا جائز نہیں، اس لیے کہ اب حروف کی شکل باقی نہیں رہی۔ اسی طرح آڈیو ٹیپ کو جس میں قرآن کریم کی تلاوت ریکارڈ کی گئی ہو، بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز ہے، حائضہ عورت بھی ان کیسٹوں کو اٹھا سکتی ہے کیونکہ نہ ٹیپ ریکارڈر کے بغیر آڈیو کیسٹ سے آواز سنی جا سکتی ہے اور نہ ہی وی سی آر کے حروف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح قبروں کے مٹ جانے کے بعد ان کے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ قبر کا نشان تو صرف زندوں کے لیے ایک نفسیاتی تسلی کی علامت ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ قبروں کو مٹانے سے مردوں پر بعد الموت جو احوال وارد ہوتے ہیں، ان میں تو کوئی خلل واقع نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک عالم برزخ میں پیش آنے والے احوال کا تعلق ہے تو ان کا ا س جہان سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر انسانی حیات بعد الموت بھی دنیوی حیات ہوتی تو بند قبر میں آکسیجن، مردے کا اٹھ کر بیٹھنا، سوال وجواب، کھانا پینا اور دیگر ضروریات زندگی کیسے اور کہاں سے پوری ہوتیں؟ معلوم ہوا کہ حیات برزخیہ کا وجود تو ہے مگر ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ حیات کافر ومسلم سب کو حاصل ہے کیونکہ اگر کافر کے لیے اس حیات کا انکار کر دیا جائے تو پھر عذاب کفار کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ فراعنہ مصر کی لاشیں مصر کے عجائب گھر میں پڑی ہیں اور سیاح ان کی تصویریں لیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میوزیم میں رکھنے سے فرعون عذاب سے بچ گئے۔ عذاب ہو رہا ہے، لیکن کیسے ہو رہا ہے، یہ کیفیت صرف اللہ کے علم میں ہے یا بطور معجزہ انبیاء علیہم السلام یا بطور کرامت اولیاء اللہ پر منکشف ہوتی ہے۔ جیسے حضور ﷺ دو قبروں کے قریب سے گزرے تو چیخ پکار کی آواز سنی۔ آپ کا خچر بدک گیا تو آپ نے سواری سے اتر کر دو تر وتازہ ٹہنیاں قبروں پر گاڑ دیں اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے۔ ایک چغل خور تھا اور دوسرا پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا۔ اس طرح کے دیگر واقعات بے شمار اولیاء اللہ سے منقول ہیں۔ اس موضوع پر امام جلال الدین سیوطی کی کتاب نور الصدور اور مولانا سرفراز خان صفدر کی کتاب تسکین الصدور میں متعدد واقعات درج ہیں۔ اگرچہ بعض واقعات سنداً نہایت ضعیف ہیں، لیکن اس سے نفس موضوع یعنی عذاب وثواب قبر کے عقیدے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

بے شمار لوگ جنگوں میں ہلاک ہوتے ہیں، زلزلوں میں مارے جاتے ہیں، سب کی راکھ، خون اور ہڈیاں مکس ہو جاتی ہیں، مگر قانون الٰہی کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا اور سوال وجواب کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ عذاب وثواب کا تعلق عالم برزخ سے ہے جس کی ہمیں کوئی خبر نہیں کہ کس کو کتنا عذاب ہو رہا ہے یا کون جنت الفردوس کے مزے لوٹ رہا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ومن وراء ہم برزخ الی یوم یبعثون۔ روز قیامت تک، مرنے والوں اور زندوں کے درمیان عالم برزخ ہے۔ قبر کا وہ گڑھا جو ہمیں نظر آتا ہے، اگر یہی گڑھا عذاب وثواب کا مرکز ہو تو پھر ذرا غور کیجیے کہ جن لوگوں کو درندے کھا جاتے ہیں، جو بحری جہازوں میں غرق ہو کر مچھلیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا ہوائی حادثوں میں جہازوں میں آگ لگ جانے سے راکھ کے ڈھیر میں بدل جاتے ہیں، ان کو عذاب قبر کیسے ہوگا یا سوال وجواب کی صورت کیا ہوگی اور نم کنومۃ العروس کب، کیسے اور کہاں کہا جائے گا؟ لہٰذا میرا قطعی اور یقینی دلائل کی بنا پر یہ عقیدہ ہے کہ عذاب قبر حق ہے لیکن قبر سے کیا مراد ہے؟ یہ امر تفصیل طلب ہے۔ میرے علم ویقین کی حد تک قبر ہر وہ جگہ ہے جہاں مرنے والے کے ذرات موجود ہیں، خواہ وہ مچھلیوں کے پیٹ میں ہیں یا جنگلی درندوں کے پیٹ میں یا بکھر کر فضاؤں میں تیر رہے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ دفن ہیں، ان کے عذاب وثواب کا تعلق بھی برزخ سے ہے او رجو درندوں کے پیٹ میں ہیں، ان کا تعلق بھی برزخ سے ہے۔ سوال وجواب، منکر نکیر کی آمد، عذاب وثواب برحق ہیں مگر ایسے عالم میں ہیں جن کا ہمارے اس عالم دنیوی سے اسباب ظاہری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ اس کی کیفیات ہماری سمجھ میں آ سکتی ہیں۔ یہ خالصتاً یومنون بالغیب سے متعلق ہے جس پر ہمارا ایمان ہے۔ کیفیات پر ہم اس حد تک گفتگو کر سکتے ہیں جس حد تک احادیث صحیحہ میں ہمیں بتایا گیا ہے۔ اس سے زیادہ اپنی عقل وخرد کو لڑانے والے راہ راست سے بھٹک سکتے ہیں، اس لیے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ عالم برزخ کو ایک حقیقت سمجھ کر اس کی تفصیلات میں جائے بغیر ایمان لائے اور جوکچھ رسالت مآب ﷺ سے بسند صحیح منقول ہے، اسے اپنے ایمان کا جزو بنائے۔


آراء و افکار