اگست ۲۰۰۵ء

سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۰ جون ۲۰۰۵ کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ نشست میں لندن کے مختلف علاقوں کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے سوشل گلوبلائزیشن کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔...

دینی مدارس پر دہشت گردی کا الزام

― ادارہ

لندن میں خود کش دھماکوں کے ذریعے جو جانیں ضائع ہوئی ہیں او رخوف وہراس کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس سے دنیا کا ہر با شعور شخص پریشان ہے اور دنیا بھر کے امن پسند لوگ اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس کا شکار ہونے والے افراد اور خاندانوں کے ساتھ ہم دردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس کا سب سے بڑا فورم وفاق المدارس العربیۃ پاکستان بھی اس تشویش واضطراب میں دنیا کے امن پسند افراد اور حلقوں کے ساتھ شریک ہے اور پرامن شہریوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ افراد، خاندانوں اور پوری برطانوی قوم کے ساتھ ہم دردی...

مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت اور اس کی تشکیل میں مسلمانوں کا کردار

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

شمالی امریکہ میں نائن الیون کے اندوہ ناک حادثے کے بعد مغربی یورپ میں سیون سیون کے بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ مغربی میڈیا نے حسبِ روایت چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ حیرت زدگی اقوامِ عالم کو اس شدت کے ساتھ ماتم پر مجبور نہیں کر سکی جس کی توقع اہلِ مغرب کے یک رخی سوچ کے حامل افراد کر رہے تھے۔ اس قسم کے حادثات جہاں آنے والے وقت کی سختی اور پیچیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں، وہاں مغربی استعماریت کے داخلی ڈھانچے کے دیمک زدہ ہونے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں...

اشتعال انگیز واقعات پر مسلم امہ کا رد عمل

― مولانا نظام الدین

سوال: آپ کے علم میں ہے کہ فاشسٹ عناصر نے تاج محل کے تاجیشوری مندر ہونے کا شوشہ چھوڑ کر باسی کڑھی کو ایک بار پھر ابال دینے کی کوشش کی ہے۔ پیش بندی کے طور پر شاہجہاں وممتاز محل کی قبروں کو بنیاد بنا کر تاج محل کو سنی سنٹرل وقف بورڈ میں قبرستان کے طور پر مندرج کرنے کی بات ملت کے دردمند افراد نے کہی ہے۔ کیا یہ اقدام فاشسٹ عناصر اور شر پسندانہ عناصر کو روکنے کے لیے کافی ثابت ہوگا؟ آپ کے نزدیک اس کا پائیدار حل کیا ہے؟ جواب: تاج محل کو آج کل ہی تاجیشوری کا مندر نہیں کہا جا رہا ہے، یہ پراپیگنڈا آج کا نہیں ہے۔ ایک انگریز مورخ برس ہا برس قبل اس قسم کی زہر...

احیائی تحریکیں اور غلبہ اسلام

― ڈاکٹر محمد امین

میں اس مجلس کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہاں مجھے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ کنوینر صاحب نے واضح کیا ہے کہ اس مجلس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں قیام نظام خلافت اور نفاذ اسلام کے لیے جو بہت سی جماعتیں کام کر رہی ہیں، ان کے اتحاد کے بارے میں غور کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں اتحاد کے موانع کیا ہیں اور ان موانع کا سدباب کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز ان میں اتحاد کے لیے موثر لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔ اس مجلس میں مجھ سے پہلے مختلف احیائی تحریکوں کے مندوبین نے، جو بلاشبہ بہت سمجھ دار، پڑھے لکھے اور جہاں دیدہ افراد...

عوامی مفاد کے لیے قبرستان اور مسجد کی جگہ کا استعمال

― قاضی محمد رویس خان ایوبی

میر پور میں بطور ضلع مفتی فرائض کی انجام دہی کے چودہ سالہ عرصہ میں بہت سے مسائل سامنے آئے جن پر راقم نے وقتاً فوقتاً شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوابات دے کر اور شرعی فتاویٰ جاری کر کے فقہاء اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ ان مسائل میں ٹیلی فون پر نکاح وطلاق کی شرعی حیثیت، سرکاری زمینوں پر بغیر اجازت مسجد کی تعمیر، کفار کی عدالتوں کے فیصلہ ہائے تنسیخ نکاح کی شرعی حیثیت، مقدمات زنا میں شرعی ثبوت دست یاب نہ ہونے پر ملزمان کے خلاف کارروائی، حدود آرڈیننس کی خامیاں اور خوبیاں اور دیگر بے شمار انفرادی واجتماعی مسائل زیر بحث آئے۔ ان سطور میں جس موضوع پر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آج ڈاک سے غیر متوقع طو رپر کئی برسوں کے بعد اچانک ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا جون کا شمارہ ملا۔ مسرت اور تعجب کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کی ورق گردانی کی۔ مسرت آپ کی عنایت اور مجلے کے نئے ’’رنگ‘‘ پر اور تعجب اس پر کہ اچانک اس خاکسار کی یا د کس طرح تازہ ہو گئی اور آپ کو میرا نیا پتہ کس طرح معلوم ہو گیا۔ ۹، ۱۰ سال قبل آپ کا مجلہ میرے پاس آتا تھا اور یہ عام دینی مدارس کے مجلات کی طرح تھا، لیکن اس شمارے سے معلوم ہوا کہ آپ نے نیا فکری منہج اختیار کیا ہے۔ مجلہ کے مضامین اور خاص طور پر ’’طلاق...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’شرح اسلامی قانون شفعہ‘‘۔ برطانوی دور حکومت میں ۱۹۱۳ء میں پنجاب میں قانون شفعہ نافذ کیا گیا جس نے ۱۹۸۶ء اور ۱۹۹۱ء میں ہونے والی بعض ترامیم کے ساتھ موجودہ قانون شفعہ کی شکل اختیار کی ہے۔ زیر نظر کتاب میں معروف قانون دان سلیم محمود چاہل صاحب نے اس قانون کی شق وار شرح کی ہے اور اس ضمن میں بعض دفعات اور عدالتی فیصلوں کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔ مصنف کی تنقید کے بعض نکات قابل غور ہیں، چنانچہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن ۱۹۷۲ میں مزارع کو شفعہ کا اولین حق دار قرار دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف نے بجا طور پر بتایا ہے کہ...