مکاتیب

ادارہ

(۱)

مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج ڈاک سے غیر متوقع طو رپر کئی برسوں کے بعد اچانک ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا جون کا شمارہ ملا۔ مسرت اور تعجب کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کی ورق گردانی کی۔ مسرت آپ کی عنایت اور مجلے کے نئے ’’رنگ‘‘ پر اور تعجب اس پر کہ اچانک اس خاکسار کی یا د کس طرح تازہ ہو گئی اور آپ کو میرا نیا پتہ کس طرح معلوم ہو گیا۔ ۹، ۱۰ سال قبل آپ کا مجلہ میرے پاس آتا تھا اور یہ عام دینی مدارس کے مجلات کی طرح تھا، لیکن اس شمارے سے معلوم ہوا کہ آپ نے نیا فکری منہج اختیار کیا ہے۔ مجلہ کے مضامین اور خاص طور پر ’’طلاق ثلاثہ کا مسئلہ‘‘ اور لوئی ایم صافی کے انگریزی مضمون کا ترجمہ: ’’تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام کا مسئلہ‘‘ اس کے گواہ ہیں۔ کاش کہ لفظ مسئلہ کی تکرار دونوں جگہ نہ ہوتی اور مترجم کا نام درج ہوتا۔ امریکہ میں مسلمان خواتین کے حوالے سے اسنا (ISNA) امریکہ کے اس نو مسلم بھائی کا تجزیہ بڑا حقیقت مندانہ اور درد مندانہ ہے اور اس میں اپنے وطن کے دینی مدارس کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ عاصمہ جہانگیر جیسی خواتین کے ظہور کا سبب خواتین کی مناسب دینی تعلیم وتربیت میں علما کی تقصیر ہے۔

طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں اب غور وفکر کی دعوت سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کو باطل قرار دے کر قرآنی اور مسنون طلاق پر عمل ضروری ہے اور ہمارے شریعت کورٹ کو اس بارے میں دو ٹوک فیصلہ کر دینا چاہیے۔ مولوی سلمان الحسینی صاحب اور مرحوم مولانا پیر کرم علی شاہ الازہری دونوں نے طلاق ثلاثہ بیک مجلس کے خلاف آواز اس لیے اٹھائی کہ ان دونوں صاحبان نے عرب ممالک میں پڑھا ہے۔ جس زمانے میں، میں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ کے کلیۃ العلوم الاجتماعیۃ میں فل پروفیسر تھا، اس وقت (انیسویں صدی کے آٹھویں عشرے میں) سلمان صاحب جامعہ کے کلیۃ الدعوۃ میں ماجستیر (M.A) کے طالب علم تھے جہاں بیشتر مصری اساتذہ پڑھاتے تھے۔ اور مرحوم پیر کرم شاہ تو الازہر ہی کے فاضل تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے ان مرحوم عالم کی (جن سے صرف ایک بار اسلام آباد میں ۱۹۸۸ میں میری ملاقات ہوئی تھی) طلاق ثلاثہ کے خلاف مدلل رائے پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ اب تو عرب ممالک سے میرا رشتہ منقطع ہے، لیکن یاد پڑتا ہے کہ مصر وشام میں عرصہ ہوا کہ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کو غیر نافذ قرار دیا جا چکا ہے۔ میرے اساتذہ بھی کلیۃ الشریعۃ، جامعہ دمشق میں شامی ومصری تھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ وہاں اب یہ مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔

ہمارے یہاں کے علماء نے تو حالات سے آنکھیں بند کر لینے اور تحجر کی قسم کھا رکھی ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب مرحوم نے طلاق ثلاثہ کے سبب قادیانی اور عیسائی بن جانے کے جن واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان میں سب علماے دین کے لیے بڑا سامان عبرت ہے۔ یہ علما قرآن وحدیث کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، ان کی دہائی بھی دیتے ہیں، لیکن اس مسئلے میں وہ قرآن وحدیث کو بھول جاتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت عمرؓ نے طلاق ثلاثہ کو بطور تعزیر نافذ کر دیا تھا۔ اب کون سی چیز ہے جو ہم کو ’الطلاق مرتان‘ کے قرآنی حکم سے روک رہی ہے؟

جعلی قرآن ’’الفرقان الحق‘‘ پر بھی آپ کے مجلہ میں ناقدانہ مضمون بہت چشم کشا ہے۔ مضمون نگار صاحبان نے اچھا کیا کہ مختلف ویب سائٹس کے پتے دے دیے۔

کاش کہ آپ مولانا عتیق الرحمن صاحب سنبھلی کا مضمون علامہ اقبالؒ کے خلاف شایع نہ کرتے۔ مرحوم نے جو تنقید مولانا حسین مدنیؒ کی وطنی قومیت (کانگریس سے اتحاد) پر کی تھی، وہ اب پرانی بات ہو گئی۔ اس کو اچھالنے سے اب کیا فائدہ؟ ویسے میں عتیق الرحمن صاحب سنبھلی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ لکھنو میں صرف مولوی عتیق الرحمن کہلاتے تھے۔ آپ کی شاید ان سے ملاقات لندن میں ہوئی، جو موصوف کو اتنا پسند آیا کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ اور علامہ اقبال کی زندگی پر انھوں نے وہ طنز کیے ہیں جو تکلیف دہ ہیں۔ کسی بھی برصغیر کے عالم نے انگریزی تہذیب پر وہ بھرپور اور گہری تنقید نہیں کی ہے جو علامہ مرحوم نے کی تھی۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال دوسری دنیا کے انسان ہیں۔ میرا ان کے ساتھ عمان ایک کانفرنس میں ایک ہفتہ کا ساتھ ۱۹۹۲ میں ہوا تھا۔ اس وقت اس کا صحیح اندازہ ہوا۔ انھوں نے تو اپنے والد مرحوم کی درویشانہ سادہ زندگی پر بھی بہت گھٹیا تنقید کی ہے۔ ویسے آپ کو بتاؤں کہ نصف صدی قبل استاذی ومربی مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے جو خود اہل اللہ میں سے تھے، ایک دوسرے اہل اللہ مولانا الیاس رحمہ اللہ کا قول اس نظم کے بارے میں مجھے سنایا تھا کہ اقبال کو یہ کہنے کا حق تھا۔

امید ہے کہ آیندہ آپ کا مجلہ آتا رہے گا۔

والسلام۔ خاکسار

(ڈاکٹر) رضوان علی ندوی

مکان نمبر ۵، پی اسٹریٹ، خیابان سحر

فیز VII، ڈی ایچ اے، کراچی

(۲)

محترم ومکرم جناب مدیر الشریعہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔

بلاشک وشبہہ ’الشریعہ‘ ایک علمی، فکری اور ادبی رسالہ ہے جسے پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے اور آپ کی وسعت ظرفی بھی یقیناًقابل آفریں ہے، لیکن شکوہ آپ سے یہ ہے کہ بعض دفعہ آپ اتنی وسعت ظرفی سے کام لیتے ہیں کہ آپ کے رسالے میں اغیار کے افکار ونظریات بلا کسی تردید وتنقید کے نظر آتے ہیں۔ اسی قبیل کا ایک مضمون جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں طلاق ثلاثہ سے متعلق پروفیسر محمد اکرم ورک صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ اس میں موصوف نے بہت سی ایسی باتیں ذکر کی ہیں جن کے مطالعے سے یقیناًقارئین کے اذہان میں طلاق ثلاثہ کے متعلق تشکیک وخلجان پیدا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ترقی، مسلمات میں تشکیک پیدا کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ ترقی تو بالکل اس کے معکوس ہے۔ موصوف کی اس کاوش میں سوائے ایک دو باتوں کے، باقی سب توہمات اور مغالطات ہیں جن کو ذکر کر کے قارئین کے نظریات کو بری طرح جھنجھوڑا گیا ہے۔ اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔

۱۔ پہلی عرض تو یہ ہے کہ موصوف نے طلاق ثلاثہ کے متعلق اہل سنت والجماعت کے مسلک کو بعض صحابہ کرامؓ کا مسلک بتایا جو کہ سراسر خیانت ہے، کیونکہ حضرت عمرؓ کے فیصلے کے بعد کسی صحابی نے بھی آپ کے فیصلے سے عدول نہیں کیا یا اس کے خلاف فتویٰ نہیں دیا۔ بقول موصوف اگر کسی صحابی کا اس فیصلے سے اختلاف تھا یا اس کے برعکس فتویٰ دیا تو ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین۔ اس کے برعکس امام المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس (جو کہ فریق مخالف کی دلیل کے راوی بھی ہیں) کے فتاویٰ سنن ابی داؤد میں اپنی روایت کے خلاف موجود ہیں۔ معلوم ہوا، ان کا بھی مسلک اپنی روایت کے موافق نہیں، چہ جائیکہ ہم دیگر صحابہ کرامؓ سے یہ توقع رکھیں۔

۲۔ موصوف نے حضرت عمرؓ کے اس فیصلے کو خالصتاً اجتہادی اور سیاسی فیصلے پر محمول کیا جو کہ وقتی مصلحت کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ گویا حضرت عمرؓ نے ایک منصوص حکم کو اپنی عقل سے وقتی مصلحت کے پیش نظر تبدیل کر دیا اور پھر صحابہ کرامؓ نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف حضرت عمرؓ کے سیاسی حکم پر عمل کیا۔ (العیاذ باللہ) اور پھر ائمہ اربعہ، تمام محدثین بشمول امام بخاریؒ اور تمام فقہاء کرام (سوائے علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے تلامذہ) نے بھی بارہ سو سال تک اس اصل حکم پرعمل نہیں کیا، بلکہ حضرت عمرؓ کے سیاسی فیصلے پر عمل کرتے اور کراتے رہے۔ گویا جو علت حضرت عمر کے دور میں تھی، وہ بارہ سو سال تک رہی۔ پھر مسلمانوں میں اہل حدیث کے نام سے ایک فرقے نے جنم لیا اور انھوں نے اس مسئلے کو سمجھا جس کو جملہ محدثین وفقہاء کرام نہ سمجھ سکے۔ فیا للعجب! جب یہ بات نہیں تو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فیصلہ محض معاشرتی وسیاسی نہیں تھا، بلکہ اصل حکم ہی یہ تھا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہوں۔ باقی قرن اول کو خصوصیت صحابہ کرامؓ پر محمول کریں گے اور وہ اس لائق بھی تھے۔

۳۔ موصوف نے زیر بحث مسئلے کو ہر دور میں مختلف فیہ مسئلہ قرار دیا جو کہ تسلیم نہیں، کیونکہ علامہ ابن تیمیہؒ کا تفرد اس مسئلے کی اجماعیت کے لیے مضر یا مانع نہیں اور میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ائمہ اربعہ کا اس مسئلے میں اتفاق ہے اور آج تک پوری دنیا میں مسلمانوں کے یہی چار فقہی مسلک ہیں۔ تو گویا ائمہ اربعہ سے لے کر آج تک اس مسئلے میں اجماع ہی نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ باقی رہا اہل حدیث حضرات کا اختلاف تو ان کی تو اپنی عمر ڈیڑھ پونے دو سو سال سے زیادہ نہیں۔ ان کے اختلاف کو ہر دور کا اختلاف کیسے تسلیم کر لیا جائے؟

۴۔ موصوف نے تقلید جامد اور فقہی مسلکوں کے خول میں بند رہنے کے بجائے وسعت نظر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ مشورے کا شکریہ تو مخاطب پر لازم ہے۔ میں تو صرف مخاطب کی تعیین کا فیصلہ موصوف سے کرانا چاہتا ہوں۔ جناب عالی! آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ایک شخص جملہ صحابہ کرام وجملہ محدثین وجملہ فقہاء کرام کے مسلک کو اپناتا ہے اور دوسرا پوری امت کو خیر باد کہہ کر علامہ ابن تیمیہؒ کی عملی تقلید کرتا ہے تو مقلد جامد کون ہوا؟

۵۔ موصوف نے اس مسئلے پر ازسرنو غور کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔ موصوف کی اس سے کیا مراد ہے؟ اگر تو مراد یہ ہے کہ فقہاء کرام مصالح امت کو نظر انداز کر کے محض تقلید جامد کی بنا پر اس مسئلے پر مصر رہے تو اس کا بطلان واضح ہے۔ اور اگر موصوف کی مراد یہ ہے کہ ان تمام اکابر کے مسلک کوسیاست پر محمول کر کے اپنے اجتہاد سے یہ رائے قائم کی جائے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی، چاہے طلاق دینے والا اس بات پر مصر بھی ہو کہ میں نے تین کی نیت کی تھی (کیونکہ اس امر کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں)، گویا مدعی سست گواہ چست کا عملی نمونہ پیش کر کے اسے اقرب الی الحق گردانیں اور امت مسلمہ کے لیے مفید تر سمجھیں تو شاید ہی کسی مسلم کا ضمیر اس کی اجازت دے۔

ہمیں تو ڈر ہے کہ موصوف کے اس مشورے پرعمل کرنے سے اصلاح امت کے بجائے عدم اعتماد علی السلف کی وجہ سے کہیں مزید فساد نہ پیدا ہو جائے اور پھر مجتہد مطلق نہ پیدا ہونے شروع ہو جائیں اور پھر ہم پر شاعر کا یہ شعر نہ صادق آئے ؂

تزئین کائنات کا تو ہی نقیب تھا
تو نے ہی اپنے ہاتھ سے گلشن جلا دیے

والسلام

محمد یوسف بھکروی

متخصص جامعہ مدنیہ، کریم پارک۔ لاہور

(۳)

۲۰ جون ۲۰۰۵

محترم ومکرم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے اور دعوتی، تعلیمی اور دینی سرگرمیوں میں کوشاں ہوں گے۔ 

ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے فکر ونظر کی تازگی کے لیے موصول ہو رہا ہے۔ بظاہر مجلہ پچاس کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ان صفحات میں جو مواد ہوتا ہے، وہ نہایت قیمتی اور فکر انگیز ہوتا ہے۔ مجلہ کو جب تک اول تا آخر پڑھ نہ لیا جائے، چین نہیں آتا۔

ماہ جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں ’الفرقان الحق‘ (The True Furqan) پر تحقیقی مضمون بلاشبہ امت مسلمہ کے لیے چشم کشا مضمون ہے۔ فاضل مقالہ نگاروں کی قابل قدر کاوش ہے۔ مضمون کے مندرجات سے احساس ہوتا ہے کہ نام نہاد استعمار عسکری میدان کے بعد مسلمانوں کی متاع عزیز قرآن حکیم کو بھی مشق ستم بنائے ہوئے ہے۔ قرآن حکیم کی اس انداز میں بے حرمتی کے بعد مسلمانوں کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس پر کھلے عام احتجاج نہ کریں ، بالخصوص ہمارے اہل قلم اس طرف توجہ نہ دیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کی قیادت کب بیدار ہوگی اور اہل قلم کب اس طرف توجہ دیں گے؟

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے اپنے مضمون ’’سر اقبال بنام حسین احمد‘‘ میں نہایت نازک مگر اہم مسئلہ پر قلم اٹھایا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی کے بار ے میں اپنے کلام میں جو کچھ کہہ دیا، وہ ہم نے من وعن قبول کر لیا اور اس نقطہ نظر سے ہٹ کر ہم سوچنے کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں۔ مولانا سنبھلی نے اس دور کا پس منظر دکھا کر جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، اس پر بھی غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سوال یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے موقف سے جو رجوع کیا تھا، اس کو قبول عام کیوں حاصل نہ ہوا؟

محترم لوئ ایم صافی نے مغرب کی تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ مضمون پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب میں مسلمان کن مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے حل کے لیے مسلمانوں کے پاس کوئی متفقہ لائحہ عمل بھی ہے یا نہیں۔ امت مسلمہ کو بحیثیت مجموعی اہل مغرب مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر محمد اکرم ورک نے بھی علما وفقہا کی توجہ ایک ابھرتے ہوئے مسئلہ ’طلاق ثلاثہ‘ کی طرف دلائی ہے۔ ان کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض علما کو اس بار ے میں تشویش ہے۔ اس بارے میں بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل طے ہو جائے تو پاکستانی سوسائٹی خاندانی انتشار سے بچ سکتی ہے۔

الغرض ’الشریعہ‘ کے تمام سلسلے اور تمام قلم کار خوب ہیں۔ ایسے مضامین کے بہترین انتخاب پر آپ کو اور آپ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی علمی وفکری جدوجہد کو قبول فرمائے۔

برادرم محمد عمار خان ناصر اور دیگر احباب کو سلام۔

والسلام۔ نیا زمند

ڈاکٹر محمد عبد اللہ

شعبہ علوم اسلامیہ۔ پنجاب یونیورسٹی۔ لاہور

(۴)

گرامی قدر جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج عالی بخیریت ہوں گے۔

آپ کا رسالہ ماشاء اللہ دیگر مذہبی رسائل کے مقابلے میں بالکل جدا اسلوب کا حامل اور دل چسپ موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود بعض اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ 

جون کے شمارے میں امریکی قرآن ’’الفرقان الحق‘‘ پر بہت عمدہ مضمون شائع ہوا ہے۔ میں اسے اپنے رسالے میں آپ کے رسالے کے حوالے سے اگست ۲۰۰۵ کے شمارے میں شائع کر رہا ہوں۔ لوئ ایم صافی کا مضمون فکری انتشار اور گنجلک خیالات پر مشتمل ہے۔ ایسے مضامین نہ عوام کے لیے مفید ہیں، نہ اہل علم کے لیے۔ ص ۴۴ کا بے ہودہ سوال اگر شائع کرنا تھا تو جوا ب دینے کا بھی اہتمام کیا جاتا۔

(ڈاکٹر) صلاح الدین ثانی

162 سیکٹر 8/L اورنگی ٹاؤن کراچی

۰۵؍۰۶؍۱۱

(۵)

باسمہ تعالیٰ

مکرمی ومحترمی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

الشریعہ (جون ۲۰۰۵) میں ’الفرقان الحق .....‘ نظر سے گزرا۔ عمدہ گرفت ہے۔ مصنف کے عربی کے معیار کا تو اندازہ مضمون سے ہو گیا، مگر قرآن نے انسانی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے جو پائیدار اصول دیے ہیں، جو حقیقتاً قرآن کا چیلنج ہے، ’الفرقان الحق‘ اس حوالے سے کیسے پایا گیا؟ اس پہلو کی تشنگی محسوس ہوئی۔ اگر یہ پہلو بھی سامنے آ جائے تو بہت اچھا ہو۔ 

شکریہ! والسلام

امجد عباسی

عباسی منزل، نور پارک

حیدر روڈ، اسلام پورہ، لاہور

۵۰/۷۰/۲۰

(۶)

محترم ومکرم جناب علامہ زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزشتہ کچھ عرصہ سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ پڑھنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔ الحمد للہ کافی معلوماتی مواد پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو مزید مستحکم فرمائے۔ 

جولائی ۲۰۰۵ کے شمارے میں حافظ عبد الرشید صاحب نے شیعہ حضرات کی مستند کتب سے ان کے مخالف اسلام عقائد نقل کر کے ان کے دعواے ایمان کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ میں اس مکتوب کے ذریعے سے دور حاضر میں شیعہ کے امام اور ایرانی انقلاب کے بانی جناب خمینی کی چند مزید عبارتیں قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں تاکہ شیعہ حضرات کے عقائد وخیالات کی حقیقت اور نکھر کر سامنے آ جائے۔

جون ۲۰۰۵ میں جناب خمینی کی برسی کے موقع پر پاکستان کے اکثر اخبارات میں ایسے مضامین شائع ہوئے جن میں خمینی صاحب کو اسلام کا ہیرو، اسلامی انقلاب کا علم بردار اور بہت سے ایسے القابات سے نوازا گیا جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ خمینی صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ انھوں نے خلفاے راشدین پر کفر کے فتوے لگائے ہیں اور اسلامی بنیادوں پر کلہاڑا چلا کر انھیں منہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔خمینی صاحب کی اہم ترین کتاب ’الحکومۃ الاسلامیۃ‘ہے جو ایرانی انقلاب کی فکری بنیاد کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے صفحہ ۴۹ پر خمینی صاحب رقم طراز ہیں: ’’جب کوئی عالم وعادل فقیہ حکومت کی تشکیل کے لیے اٹھ کھڑا ہو تو وہ معاشرے اور اجتماعی معاملات میں ان تمام امور واختیارات کا مالک ہوگا جو نبی کے زیر اختیارات تھے اور تمام لوگوں پر اس کی سمع وطاعت واجب ہوگی اور یہ صاحب اقتدار فقیہ نظام حکومت، سماجی مسائل اور امت کی سیاست کے جملہ معاملات کا اسی طرح مالک ومختار ہوگا جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور امیر المومنین حضرت علیؓ مالک ومختار تھے۔ ‘‘

یہ ’ولایت فقیہ‘ کا نظریہ ہے جس میں خمینی صاحب نے حاکم کے اختیارات کو نبی کے اختیارات سے ملا دیا ہے ۔ اس نظریے کے ڈانڈے اہل تشیع کے عقیدۂ امامت سے جا ملتے ہیں جس کی رو سے اماموں کا رتبہ انبیا سے بھی برتر ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ ۵۲ پر خمینی صاحب لکھتے ہیں: ’’امام کو وہ اعلیٰ مقام، بلند درجہ اور تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے حکم واقتدار کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ہمارے مذہب کے ضروری اور بنیادی عقائد میں یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہمارے امام ، مقام ومرتبہ کی جس بلندی پر فائز ہیں، وہاں تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

خمینی صاحب کے انقلاب کو اسلامی انقلاب قرار دینے والے دانش وروں سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسلامی عقائد ہیں؟ کیا اسلام میں حاکم کی اطاعت اسی طرح واجب ہوتی ہے جیسے نبی کی؟ اور کیا ائمہ واقعی مقام ومرتبہ میں انبیا سے بھی بڑھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ختم نبوت کا انکار نہیں ہے؟ کیا ختم نبوت کا منکر مسلمان ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو پھر خمینی صاحب کے انقلاب کو کس بنیاد پر اسلامی انقلاب شمار کیا جا رہا ہے؟

اب خمینی صاحب کی ایک اور کتاب ’کشف الاسرار‘ کے چند اقتباس ملاحظہ فرمائیے جن سے اندازہ ہوگا کہ خمینی صاحب نے کس طرح خلفاء راشدین کے ایمان وکردار پر حملہ کیا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۱۹ پر حدیث قرطاس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ’’یہ بے ہودہ کلام کفر وزندقہ کی بنا پر ظاہر ہوا ہے۔‘‘ مزید لکھا ہے، ’’کتب تاریخ وحدیث کی طر ف مراجعت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفر آمیز گفتگو کرنے والا عمر تھا۔‘‘ (نعوذ باللہ)

اسی طرح حضرت عثمانؓ اور حضرت معاویہؓ پر کیچڑ اچھالتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ہم ایسے خدا کو جانتے اور اس کی پرستش کرتے ہیں جس کے سارے کام عقل کی بنیاد پر قائم ہیں اور عقل کے خلاف وہ کوئی کام نہیں کرتا ہے، نہ کہ ایسے خدا کی جو خدا پرستی، عدالت اور دین داری کی بلند عمارت تیار کر کے خود اس کی ویرانی کے درپے ہو جائے اور یزید، معاویہ اور عثمان جیسے بدقماشوں کو امارت وحکومت سپرد کر دے۔‘‘ (صفحہ ۱۰۷)

خمینی صاحب کے ان نظریات سے ہر ذی شعور شخص پریہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ خمینی ازم اور اسلام دو علیحدہ علیحدہ نظریے ہیں۔ ان کی حقیقتیں اور بنیادیں جدا جدا ہیں۔ لہٰذا ہم جدید دور کے دانش وروں سے دست بستہ عرض کریں گے کہ خدارا اس انقلاب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مصلحت کے بت کو پاش پاش کر کے حقیقت حال کا واشگاف اظہار فرمائیں۔

والسلام

حافظ محمد عثمان

متعلم مدرسہ اشرف العلوم۔ گوجرانوالہ

مکاتیب