مجید امجد کی دو نظمیں

پروفیسر طارق محمود طارق

مجید امجد (1914...1974) کی شاعری کا صرف ایک مجموعہ (شبِ رفتہ) ان کی زندگی میں شائع ہو سکا۔ اس میں پندرہ غزلیں اور بیشتر نظمیں ہیں ۔ مجید امجد کے ہاں روایتی شعرا کی سی لفظی گھن گرج موجود نہیں۔ سخت بات کہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ بہت دھیما رہتا ہے ۔ درخت ، مجید کی شاعری کا بنیادی استعارہ ہے جو شہر کی کلیت میں انسانی زندگی کی انتہائی مثبت قدروں کا حامل ہے اور اس کی موجودگی افراط و تفریط کے جدید عہد میں ’’قطب نما‘‘ کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے ۔ درخت سے وابستہ حیاتیاتی اثبات (Biological Assertion) کو جب مجید امجد معاشرتی سطح پر منطبق کرنے آ تے ہیں تو سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے کروڑوں نفوس ان سے کہلوا لیتے ہیں :

وہی اک فکر اس کو بھی ،مجھے بھی
کہ آنے والی شب کیسے کٹے گی 

مجید امجد نے جب شاعری کی دنیا میں قدم رکھاتھا ، اس وقت برصغیر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا رنگِ سخن ہی ’’طرزِ فغاں‘‘ قرار پا چکا تھا ۔مجید امجد نے اس اقبالی فضا میں بھی اپنی حساسیت کی ندرت قائم رکھی ۔ اپنی نظم ’’حرفِ اول‘‘ کے آخری بند میں کہتے ہیں :

بیس برس کی کاوشِ پیہم 
سوچتے دن اور جاگتی راتیں 

ان کا حاصل

اک یہی اظہار کی حسرت

ادب کے سنجیدہ ناقدین مجید امجد کے ان سوچتے دنوں اور جاگتی راتوں تک رسائی ’’شبِ رفتہ ‘‘ کے توسط سے پاتے ہیں اور اظہار کی حسرت کھنگالتے رہتے ہیں ۔ پروفیسر طارق محمود طارق کا شمار بھی ایسے ناقدین میں ہوتا ہے ۔ پروفیسر صاحب نے ان سطور میں اپنے ممدوح کی دو نظموں پر مختصراً لیکن بہت ہی معتبر انداز سے قلم اٹھایا ہے ۔ یوں سمجھیے کہ ان نظموں کی معنویت اجاگر کر کے طارق صاحب نے مجید امجد کی بنیادی فکر کے بے کراں پہلوؤں کو گرفت میں لینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ (پروفیسر میاں انعام الرحمن)]

توسیع شہر 

نظم کا عنوان ’توسیع شہر‘ معکوس معنی رکھتا ہے ، یعنی بظاہر یہ شہر کی توسیع ہے مگر در حقیقت ہم زندگی کے معانی کو محدود کر رہے ہیں اور زندگی کی طرف ہمارا نقطہ نظر کشادگی اور وسعت کا حامل ہونے کی بجائے ، ماضی کی نسبت محدود تر ہے ۔ مجید امجد کہتے ہیں کہ وہ درخت جو نہر کے کنارے بیس برس سے سایہ کناں تھے ، اب انھیں کاٹا جا رہا ہے ۔ درخت کاٹنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ درخت کتنے پر سایہ ، کتنے ہرے بھرے اور کتنے خوبصورت تھے ۔ انھیں صرف اس قیمت سے سروکار ہے جو ان درختوں کی فروخت سے انھیں حاصل ہوگی ۔ یہ درخت جن کی سانس کا ہر جھونکا ایک طلسم تھا اور اس گاتی نہر کے قریب اور لہلہاتے کھیتوں کی سرحد پر جو بانکے پہریداروں کی طرح کھڑے تھے ۔ 

درخت اس طرزِ زندگی کا حوالہ ہے جس میں زندگی اور فطرت کے حسن سے سچی وابستگی میسر تھی اور زندگی کی ترجیحات مادی نہیں تھیں بلکہ روحانی تھیں ۔ آج کا انسان فطرت کے حسن سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ وہ درختوں کی خوبصورتی محسوس نہیں کر سکتا ، بلکہ درختوں کو کاٹ کر ان کی جگہ سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہے ۔ شہر کی یہ توسیع اس طرزِ زندگی اور طرزِ احساس کے خاتمے کا نتیجہ ہے ، جو فطرت کے خوبصورت مظاہر کے ساتھ وابستگی پر مبنی تھا۔ شہر کی یہ توسیع اس بد صورت طرزِ زندگی کی توسیع ہے جو مصنوعی پن اور مادی ترجیحات پر مبنی ہے۔ 

مجید امجد کہتے ہیں کہ اگر درختوں کا حسن بے معنی ہے تو پھر شاعر کا شعر اور فنکار کا فن بھی بے معنی اور بے مصرف ہے ۔ زندگی کے دیگر مظاہر کی طرح درخت بھی ہمارے احساسِ حسن کی تسکین کرتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حسنِ فطرت سے وابستگی کھو چکے ہیں ، کچھ عجب نہیں کہ فنونِ لطیفہ بھی ان کے لیے بے معنی اور بے مصرف ہو کر رہ جائیں اور شاعر کی سوچ ’’لہکتی ہوئی ڈال‘‘ بھی ان کے قاتل تیشوں کی زد میں آجائے ۔ 

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال 

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل 

پیش رو

اس یخ کدہ یقین غم میں
دیکھو یہ شگفتہ دل شگوفے 
ماحول نہ کائنا ت ان کی
اک نازِ نمو حیات ان کی

مجید امجد کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ اپنے وسیع تر مفہوم میں زندگی جبروالم سے عبارت ہے ۔ مگر اس کائناتی جبر کے سامنے زندگی کو خوبصورتی اور رجائیت کے اسباب بھی میسر ہیں ۔ زندگی ’’یخ کدہ یقین غم ‘‘ ہے یعنی زندگی کامجموعی اور dominant پہلو زندگی کی سنگین اور بے رحم واقعیت اور اس کا یاس و الم کا پہلو ہے ، مگر الم کی یہ شدت انسانی زندگی کی خوشیوں اور خوبصورتیوں کو اور زیادہ گراں قدر بنا دیتی ہے ۔ الم کے وسیع تر منظر کے سامنے یہ فرصتِ نشاط ہمارے لیے زندگی سے وابستگی کا سامان ہے ۔ کائناتی حوالے سے انسانی زندگی ٹھٹھرا دینے والا الم ہے مگر انسانی زندگی کی گزراں اور بے ثبات خوشیاں ہمارے لیے نشاطِ آئندہ کی نوید بھی بنتی ہیں اور ہمارے لیے امید اور حوصلگی کا سامان بھی رکھتی ہیں ۔ 

زندگی کے عرصہ الم کی بے برگ مسافتوں میں ( خزاں زدگی میں ) اور چاروں طرف پھیلی ہوئی پت جھڑ میں ایک شاخ پر کچھ پھول کھل رہے ہیں ۔ یہ پھول بہار کی آمد کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ان کی دسترس میں نہ ماحول ہے اور نہ کائنات ۔ (ماحول نہ کائنات ان کی )، یعنی ماحول اور کائنات کے عوامل ان کی دسترس اور ان کی بساط سے ماوراء ہیں ۔ زندگی کا وسیع تر منظر اور مہ و سال کی گردشیں ان کے وجود سے بے نیاز اسی طرح برپا رہیں گی ۔ زندگی کی لا متناہیت کے سامنے ان پھولوں کی ’’حیات یک لمحہ‘‘ کچھ حقیقت نہیں رکھتی ۔ انسانی زندگی کی گزراں اور لمحاتی خوشیاں، جبروالم کی دائمی واقعیت کے سامنے بے بساط ہیں ۔ ان کی بساط صرف ’’اک ناز نمو‘‘ ایک لمحہ گزراں ہے ۔ 

یہ پھول جو فصل بہار کے پیش رو ہیں ، لمحہ بھر کھل کر مرجھا جائیں گے ۔ مگر ان کی راکھ سے پھولوں بھری صبح نو کے سائے طلوع ہوں گے ۔ بہارو خزاں کا حوالہ انسانی خوشیوں اور غموں کا حوالہ ہے ۔ عہدِ خزاں روبہ اختتام ہے ۔ کچھ ’’زود شگفت شوخ کلیاں ‘‘ کھل کر بہار کی آمد کا اعلان کر رہی ہیں ۔ ان کلیوں کی حیات دو لمحہ اس حوالے سے بے حد اہم اور با معنی ہے کہ ان کے بعد چمن کی تقدیر خزاں نہیں بلکہ بہار ہے ۔ گویا یہ پھول جنہیں ایک مہلتِ مختصر میسر ہے ، ایک نئے موسم اور ایک نئے عہد کا اشارہ ہیں ۔ 

تاریخی حوالے سے انسانی تاریخ کے ہر عہد اور ہر انقلاب کا نقطہ آغاز ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی حیثیت ایک عہد کے نقیب کی ہوتی ہے ۔ وہ ایک نئے عہد کی آمد کی خبر دیتے ہیں ، خواہ یہ عہد اپنی بھر پور شکل میں اور اپنے تمام تر مقتضیات کے ساتھ ان کے بعد ہی برپا ہو ۔ 


ادبیات