نومبر ۲۰۰۴ء

شیعہ سنی کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاہور، سیالکوٹ اور ملتان میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو نئے الم ناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوس ناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں، انھوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے کہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ ہم ایک بار پھر اپنی مساجد میں دروازے بند کر کے سنگینوں کے سائے میں نمازیں ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ا س سے شاید دونوں طرف کے کچھ جذباتی اور انتہا پسند نوجوانوں کے جذبات کو تھوڑی بہت تسکین ملتی ہو یا اس خونی کھیل کو جاری رکھنے کے خواہش مند حلقوں کے مقاصد کچھ آگے بڑھتے ہوں مگر دین، قوم اور ملک...

علامہ اقبال کا نظریہ شعر و ادب

― پروفیسر محمد یونس میو

علامہ اقبال کے نظریہ شعر کا جائزہ لینے سے قبل اس بنیادی اور اصولی بحث سے اعراض ممکن نہیں کہ آخر شعر وادب کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ یہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر کسی فنی شاہکار اور فن پارے کی عظمت کا تعین کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان۔ ۱ ؂ انسان کی ابتدائی اور قدیم ترین زندگی میں، جسے پتھروں کا زمانہ کہا جاتا ہے، فن برائے فن کی جھلک نظر آتی ہے۔ ۲ ؂ فن میں مقصدیت کا عمل دخل بھی کوئی نیا اور جدید نہیں ہے۔ یہ اپنی قدامت کے لحاظ سے قدیم یونان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے اٹھارویں صدی عیسوی میں ’’فن برائے فن‘‘ ۳؂ یا ’’فن...

یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا مسئلہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

۱۹۵۲ میں چھ ریاستوں ( بیلجیم، فرانس ، جرمنی ، اٹلی، لکسمبرگ اور نیدر لینڈ) سے جنم لینے والی یورپی یونین، ۱۹۷۳ میں پہلی توسیع ( ڈنمارک، آئر لینڈ، یو ۔کے)، ۱۹۸۱ میں دوسری توسیع (یونان)، ۱۹۸۶ میں تیسری توسیع (پرتگال ، سپین)، ۱۹۹۵ میں چوتھی توسیع (آسٹریا ، فن لینڈ اور سویڈن)، اور ۲۰۰۴ میں پانچویں توسیع (قبرص، چیک ری پبلک، اسٹونیا ، ہنگری، لیٹویا ، لیتھونیا، مالٹا ، پولینڈ، سلوویکیا اور سلووینیا) سے گزر کر ۲۰۰۷ میں چھٹی توسیع (بلغاریہ ، رومانیہ) سے ہمکنار ہوگی کہ بلغاریہ اور رومانیہ سے رکنیت کی بابت مذاکرات (Accession negotiations) ۲۰۰۰ سے شروع ہو چکے ہیں۔ ایشیا...

سنی شیعہ کشیدگی کا مسئلہ

― ادارہ

(۱) وقت کی یہ ستم ظریفی بھی دیدنی ہے کہ جب مذہب کے نام پر مذہبی روح کو کچلا جا رہا تھا اور مذہب ہی کے نام پر اللہ کی زمین پر انسانی خون بہ رہا تھا ، اس وقت اسلام نے انسان کو اس کا بھولا ہوا سبق یا د دلایا اور فرمایا کہ انسان اپنی فکر اور عمل میں آزاد ہے۔ اس کے سامنے نیکی اور برائی کی دونوں راہیں کھلی ہیں۔ اپنی مر ضی سے جس راہ کو اختیار کر نا چاہے ،کر سکتا ہے۔ مسلم مفکرین نے مزید کہا کہ کائنات میں قدم قدم پرپھیلے ہوئے خدائی کاموں کا مشاہدہ و مطالعہ ایک مقدس کام ہے۔ یہ مطالعہ، یہ غور وفکر ایسی ذات گرامی کا پتہ دیتا ہے جواس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔...

’’برہمن‘‘ کی پختہ زناری بھی دیکھ

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

بش اور بلیر اینڈ کمپنی کو ’’برابر کی چوٹ‘‘ کا اب تک کوئی نہ مل رہا تھا۔ یہ کمی بالآخر عراق میں فلوجہ کے ابو مصعب الزرقاوی نے پچھلے دنوں پوری کی۔ مگر افسوس کہ یہ کمی جس مقابلہ میں پوری ہوئی، اس میں بھی جیت کمپنی کی ہوئی۔ زرقاوی برابر رہ کر بھی ہار گئے۔ برابر وہ اس معنی میں رہے کہ مسٹر بلیر نے اگر ان کے مطالبہ پر جھکنے سے انکار کیا اور شدید اندرونی دباؤ کے باوجود انکار پر قائم رہے تو زرقاوی نے بھی ہر طرف سے آنے والی اپیلوں کے دباؤ کا اسی ’’ثابت قدمی‘‘ سے مقابلہ کیا اور اپنا قول کہ ’’عراقی عورتوں کو امریکن جیلوں سے نکلواؤ ورنہ تمھارا آدمی،...

مجید امجد کی دو نظمیں

― پروفیسر طارق محمود طارق

مجید امجد (1914...1974) کی شاعری کا صرف ایک مجموعہ (شبِ رفتہ) ان کی زندگی میں شائع ہو سکا۔ اس میں پندرہ غزلیں اور بیشتر نظمیں ہیں ۔ مجید امجد کے ہاں روایتی شعرا کی سی لفظی گھن گرج موجود نہیں۔ سخت بات کہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ بہت دھیما رہتا ہے ۔ درخت ، مجید کی شاعری کا بنیادی استعارہ ہے جو شہر کی کلیت میں انسانی زندگی کی انتہائی مثبت قدروں کا حامل ہے اور اس کی موجودگی افراط و تفریط کے جدید عہد میں ’’قطب نما‘‘ کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے ۔ درخت سے وابستہ حیاتیاتی اثبات (Biological Assertion) کو جب مجید امجد معاشرتی سطح پر منطبق کرنے آ تے ہیں تو سانس کی ڈوری برقرار...

ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس

― ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ تین سال کے لیے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کو فورم کا چیئرمین اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے جبکہ لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کا باقاعدہ مرکز قائم کرنے اور فورم کی سرگرمیوں کو مختلف ممالک تک وسیع کرنے کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا جو ۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی برکت اللہ، مولانا محمد عمران...

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عطیہ کتب

― ادارہ

کراچی سے ہمارے ایک نہایت مشفق اور کرم فرما بزرگ، جنھوں نے اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی، الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے وقتاً فوقتاً کتب عنایت فرماتے رہتے ہیں۔ ان کی طرف سے درج ذیل کتب موصول ہو چکی ہیں۔ ہم اس کرم فرمائی پر ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ (۱) اقبال کا سائنسی منہاج فکر۔ پروفیسر تقی خان۔ اقبال اکیڈمی حیدر آباد، انڈیا۔ ۲۰۰۲ء۔ (۲) ہندی اردو لغت۔ راجہ راجیسور راؤ اصغر ۔ مقتدرہ قومی زبان پاکستان۔ ۱۹۹۸ (۳) فرہنگ سیرت۔ سید فضل الرحمن۔ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی۔ ۲۰۰۳ء۔ (۳) تذکرہ قاریان ہند۔ مرزا بسم اللہ بیگ۔ میر محمد کتب خانہ کراچی۔...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت‘‘۔ بیسویں صدی کے آغاز میں پنجاب میں احمدی تحریک کا ظہور ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مہدویت کے دعوے سامنے آئے تو مولانا عبید اللہ سندھی طبقہ علما میں غالباً واحد فرد تھے جنھوں نے اس تحریک کا تجزیہ سماجی سائنس کے اصولوں کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اس تحریک کے فروغ کا سبب عقائد اسلام کی دیدہ ودانستہ تحریف یا مسلمات سے انحراف کا کوئی شعوری فیصلہ نہیں ہے بلکہ من جملہ دیگر اسباب کے پنجاب میں پیر پرستی کی مضبوط روایت اور ایک خاص سماجی صورت حال کو اس کے اصل سبب کی حیثیت حاصل...