تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت‘‘

بیسویں صدی کے آغاز میں پنجاب میں احمدی تحریک کا ظہور ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مہدویت کے دعوے سامنے آئے تو مولانا عبید اللہ سندھی طبقہ علما میں غالباً واحد فرد تھے جنھوں نے اس تحریک کا تجزیہ سماجی سائنس کے اصولوں کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اس تحریک کے فروغ کا سبب عقائد اسلام کی دیدہ ودانستہ تحریف یا مسلمات سے انحراف کا کوئی شعوری فیصلہ نہیں ہے بلکہ من جملہ دیگر اسباب کے پنجاب میں پیر پرستی کی مضبوط روایت اور ایک خاص سماجی صورت حال کو اس کے اصل سبب کی حیثیت حاصل ہے۔ چونکہ پنجاب کے متوسط طبقات میں انگریزی حکومت کے نظام کے تحت سرکاری ملازمتوں میں جانے کی شدید خواہش موجود تھی اور مرزا صاحب نے انگریز دشمنی کی عمومی فضا میں وحی والہام کی سند پر انگریزی حکومت کے ساتھ تعاون کو ایک مذہبی فریضہ قرار دیا تھا، اس لیے ایک نفسیاتی ضرورت کے تحت، نہ کہ شعوری اعتقادی انحراف کے باعث، عوام اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونا شروع ہو گئے۔ مولانا کا خیال یہ تھا کہ اس تحریک کو ایک اعتقادی مسئلے کا رنگ دینا حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ ’’احمدیت ایک سماجی مظہر (Phenomenon) ہے۔ تحریک ختم نبوت جیسی تحریکیں نہ پہلے اس کا کچھ بگاڑ سکی ہیں اور نہ آئندہ بگاڑ سکیں گی، بلکہ ان سے اتحاد وربط اور قوت وصلابت پیدا ہوگی جیسا کہ اب تک ہوا ہے۔ احمدیت اور اس قسم کی دوسری علیحدگی پسند، رجعت پرست اور استعمار دوست مذہبی تحریکوں سے ایک ترقی پسند سماج اور سیکولر اور سوشلسٹ سیاسی نظام ہی کامیابی سے عہدہ برآ ہو سکے گا۔ اعتقادی ہتھیاروں سے یہ لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔‘‘ (افادات وملفوظات، مرتبہ پروفیسر محمد سرور، ص ۴۱۳، ۴۱۴)

تاہم حلقہ علما میں بالعموم اس کے مخالف نقطہ نظر کو پذیرائی حاصل ہوئی اور قادیانیت کو انگریز کا خود کاشتہ پودا باور کرتے ہوئے اس فرقہ نوزائیدہ کی تکفیر کی گئی۔ علما کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں قانونی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے، لیکن علما ہنوز مطمئن نہیں ہیں اور نظری طور پر یہ رائے رکھنے کے ساتھ ساتھ کہ قادیانی، فقہی حکم کے مطابق عام سطح کے کافر نہیں بلکہ ’زندیق‘ اور واجب القتل ہیں، اس بات کے بھی خواہش مند ہیں کہ سماجی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات روا نہ رکھے جائیں۔ زیر نظر کتابچہ میں اسی نقطہ نظر کی ترجمانی پر مبنی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مشتاق احمد اور طاہر عبد الرزاق کے قلم سے نکلی ہیں۔ 

ایک موقف کے ابلاغ کے پہلو سے تو کتابچے کا پیغام واضح ہے، تاہم ایک سوچنے سمجھنے والے قاری کے ذہن میں اس موقف کے حوالے سے جو نہایت بنیادی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں، ان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ مثلاً کتابچے کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ:’’یہود ونصاریٰ اور ان کی مثل کافروں کے ساتھ اسلام نے جس نرمی، حسن اخلاق، ہمدردی وغم خواری اور کاروباری معاملات کی اجازت دی ہے، قادیانی اس کے مستحق نہیں ہیں۔ ....... عام کافر سے صرف دلی دوستی کی ممانعت ہے اور دنیوی معاملات میں اشتراک جائز ہے، لیکن قادیانیوں سے تو دنیوی معاملات میں بھی اشتراک جائز نہیں ہے‘‘، (ص ۱۳) تاہم اس ’فرق‘ پر قرآن وسنت کے نصوص سے کوئی دلیل نہیں دی گئی۔ جو آیات واحادیث دلیل کے طور پر نقل کی گئی ہیں، ان میں، کسی امتیاز کے بغیر، مطلقاً غیر مسلموں سے دوستی قائم کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔

ص ۲ پر اس موقف کے حق میں یوں استدلال کیا گیا ہے کہ ’’ہر قادیانی اپنی آمدنی سے ایک معقول اور مقرر حصہ جماعت کے اشاعتی اور تبلیغی پروگرام کے لیے وقف کرتا ہے۔ اب جو مسلمان ان سے کاروبار کرے گا، ان سے کوئی چیز بنوائے گا یا خریدے گا تو اس کفر کی اشاعت میں اس مسلمان کا بھی حصہ ہو جائے گا جس کا گناہ ہونا بڑا واضح ہے‘‘، لیکن اس اشکال سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا کہ اس صورت میں امت مسلمہ کے لیے تمام غیر مسلم ممالک یا گروہوں سے تجارتی معاملات کم وبیش ناممکن قرار پائیں گے، اس لیے کہ دنیا کے ہر غیر مسلم ملک یا گروہ کے وسائل کا کچھ نہ کچھ حصہ لازماً ایسے کاموں پر خرچ ہوتا ہے جو اسلامی احکام کی رو سے جواز کے دائرے میں نہیں آتے۔

اسی طرح ص ۳۳ پر قادیانیت کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر اہل اسلام یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ کسی قادیانی دکاندار سے سودا سلف نہیں لیں گے، کسی قادیانی تاجر کو اپنی ایسوسی ایشن کا ممبر نہیں بنائیں گے، دفتروں، سکولوں اور کالجوں میں اور ہر معاشرتی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے تو ’’آپ دیکھیں گے کہ قادیانیت صرف چند ہفتوں میں دم توڑ جائے گی، ہزاروں قادیانیوں کو اپنے جرم کا احساس ہوگا اور یہ احساس انھیں حقیقت سوچنے پر مجبور کرے گا۔‘‘ قطع نظر اس سوال سے کہ ’’حقیقت سوچنے پر مجبور کرنے‘‘ کا یہ انداز حکمت دین کے مسلمات کے کس حد تک مطابق ہے، مذکورہ مفروضے کو اس درجے میں حتمی اور قطعی خیال کر لیا گیا ہے کہ کسی دوسرے احتمال کو زیربحث لانے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ نتیجے کے طور پر یہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جاتا ہے کہ اگر اس رویے سے قادیانیوں تک حق کا پیغام پہنچنے کے امکانات بالکل مسدود ہو جائیں تو ایسی صورت میں تبلیغ حق کا فریضہ کیسے انجام دیا جائے گا؟ 

کتابچے میں، غالباً سنجیدہ تحریروں کی کمی کی تلافی کے لیے، جذباتی نوعیت کے مواد کو بھی جگہ دینا پسند کیا گیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف عمومی طور پر تنفر کی جو فضا پائی جاتی ہے، اس میں علمی وفکری سوالات اور حکمت عملی سے متعلق امور پر سنجیدہ بحث کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور ناقص اور تیسرے درجے کے استدلالات کو بھی ہاتھوں ہاتھ لے لیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ ایڈیشن میں مذکورہ علمی نقائص کے ازالے کی طرف توجہ دی جائے گی۔ 

۴۸ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت درج نہیں۔

(عمار ناصر)

’’پیغام اسلام اقوام عالم کے نام‘‘

الہامی اور غیر الہامی ادیان میں اسلام کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے عالمگیر ہونے کا واضح طور پر اعلان کیا ہے: قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہان عالم کے نام دعوتی خطوط روانہ فرمانا اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کا پیغام پوری دنیا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام کو مختلف زبانیں سیکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اہل کتاب کے علما سے گفتگو اور خط وکتابت میں سہولت کے لیے آپ نے حضرت زید بن ثابت کو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔ ابن ہشام کی روایت کے مطابق آپ کے وہ تمام سفرا جنھیں آپ نے شاہان عالم کی طرف خطوط دے کر روانہ کیا، ان قوموں کی زبانوں سے واقف تھے۔

عصر حاضر میں اقوام عالم میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کو پوری انسانیت کے دین کے طور پر پیش کیا جائے۔ اہل مغرب کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان کا دلائل اور انسانی عقل کی روشنی میں بہتر انداز میں جواب دیا جائے۔ علاوہ ازیں مغربی فکر وفلسفہ کے منفی پہلوؤں پر مدلل اور مثبت تنقید کے بغیر اہل مغرب تک اسلام کا پیغام پہنچانا ناممکن ہے۔ 

زیر تبصرہ کتاب، جو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی علیہ الرحمۃ کی تصنیف ہے، ا س لحاظ سے ایک عمدہ کوشش ہے کہ اس میں مصنف مرحوم نے، جو خود بھی مغربی ممالک میں دعوت دین کا کام کرتے رہے ہیں، اہل مغرب کی طرف سے اسلام پر کیے جانے والے عمومی اعتراضات کا عمدگی سے جواب دیا ہے۔ یہ کتاب عام قارئین کے علاوہ ان مبلغین کے لیے بھی مفید ہے جن کو دوسری اقوام میں دعوت کے کام کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اگر اس کتاب کو دیگر زبانوں بالخصوص انگریزی میں بھی ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے تو اس کا افادہ زیادہ عام ہوگا۔ 

اشاعت المعارف، ریلوے روڈ، فیصل آباد نے اس کتاب کو شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔

(محمد اکرم ورک)

تعارف و تبصرہ