ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ تین سال کے لیے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کو فورم کا چیئرمین اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے جبکہ لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کا باقاعدہ مرکز قائم کرنے اور فورم کی سرگرمیوں کو مختلف ممالک تک وسیع کرنے کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا جو ۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی برکت اللہ، مولانا محمد عمران خان جہانگیری، مولانا عبد الحلیم ندوی، مولانا سہیل باوا، الحاج غلام قادر، محمد اعظم، مولانا محمد سلمان آف ڈھاکہ، مولانا نجم العالم، مولانا مشفق الدین، غلام جعفر، مولانا محمد اکرم ندوی، مسرور احمد اور محمد اشرف نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ مولانا زاہد الراشدی، مولانا مشفق الدین اور مولانا محمد فاروق ملا نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور ڈھاکہ میں ورلڈ اسلامک فورم کے تعاون سے قائم ہونے والی ’’سید ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کیا۔

مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے پاکستان، بھارت، امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں مختلف اجتماعات سے خطاب کیا جبکہ مولانا زاہد الراشدی نے متحدہ عرب امارات، برطانیہ، سعودی عرب اور امریکہ کے مختلف شہروں میں دینی اجلاسوں میں شرکت کی اور متعدد علمی وفکری اجتماعات سے خطاب کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم کا قیام عملی اور فکری جدوجہد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور ہم اپنی بساط کے مطابق اس محاذ پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلام کے بارے میں دنیا میں جو منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کے ازالہ کے لیے اور اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کے لیے جس علمی اور فکری محنت کی ضرورت ہے، اس کی طرف دینی حلقوں اور علماء کرام کو توجہ دلانے اور متحرک کرنے کے لیے فکری بیداری کی سعی کرنا ورلڈ اسلامک فورم کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور جبر وتشدد کی کسی بھی شکل کو دین کی دعوت کے لیے جائز نہیں سمجھتے اور تعلیم اور میڈیا کے وسائل اور ذرائع کو ہی اس جدوجہد کا سب سے مناسب اور موثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے ذرائع ابلاغ، لابیاں اور بین الاقوامی ادارے اسلام کے مختلف احکام کے بارے میں جو شکوک وشبہات پھیلا رہے ہیں اور اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کی علمی وفکری سطح پر سامنا کرنے کی ضرورت ہے اور عالم اسلام بالخصوص مغربی ممالک کے دینی مراکز کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ علمی وفکری اشکالات وشبہات کا جواب علمی وفکری زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے اور یہ علماء کرام اور دانش وروں کی ذمہ داری ہے۔ 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لندن میں ’’دار المعارف الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے ورلڈ اسلامک فورم کا مستقل مرکز قائم کیا جائے گا جس میں مسجد، مکتب اور اکیڈمی کا نظام قائم ہوگا اور علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد ورلڈ اسلامک فورم کے نومنتخب سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مختلف ممالک میں دینی حلقوں اور علماء کرام سے رابطے قائم کریں گے اور اہم مقامات پر علمی وفکری سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی دینی ضرورت یہ ہے کہ مغرب کی ثقافتی یلغار کا ادراک حاصل کیا جائے اور انسانی حقوق کے عنوان سے اسلامی احکام وقوانین پر جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان کے اسباب وعوامل کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر سنت نبوی اور خلافت راشدہ کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کو آج کی زبان واسلوب میں دنیا کے سامنے لایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ علماء کرام کو جدید ذرائع اور اسلوب سے استفادہ کرنا چاہیے اور دینی مدارس میں بین الاقوامی زبانوں اور حالات حاضرہ کے بارے میں جدید ترین معلومات سے طلبہ کو روشناس کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

خصوصی تربیتی کورس کی تکمیل

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام فضلاے درس نظامی کے لیے خصوصی تربیتی کورس برائے سال ۲۰۰۴ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ جنوری سے ستمبر ۲۰۰۴ تک جاری رہنے والے اس کورس کے دوران شرکا کو حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب، تاریخ اسلام، تقابل ادیان، سیاسیات، معاشیات، حالات حاضرہ، اسلامی احکام وجدید قوانین کے تقابلی مطالعہ اور انگریزی وعربی زبانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریر وتصنیف کی تربیت دی گئی۔ کورس کے اختتام پر ۱۱ ستمبر بروز ہفتہ کو اکادمی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے دور جدید کے علمی وفکری تقاضوں اور اس حوالے سے علما پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی وضاحت کی۔ اس موقع پر کورس کے شرکا میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ شرکا کے نام حسب ذیل ہیں:

مولانا محمد طاہر اقبال (بھکر)، مولانا مطیع الرحمن (بھکر)، مولانا محمد زمان (شیخوپورہ)، مولانا محمد عارف (بالاکوٹ)، مولانا عبد القیوم (بھکر)

فکری نشست کا انعقاد

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۷ ستمبر ۲۰۰۴ بعد از نماز عصر ختم نبوت کے موضوع پر ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز مولانا مطیع الرحمان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور دیگر مقررین نے تحریک ختم نبوت میں علما کے شاندار کردار کا ذکر کیا اور ۱۹۵۳ کی تحریک کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ کے دن کو، جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے رائے عامہ کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا، پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن قرار دیا۔ تقریب میں سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی یادگار خدمات کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ مہمان خصوصی الشیخ حبیب النجار کے مختصر بیان اور دعا پر تقریب اختتام کو پہنچی۔

مدرسہ نصرۃ العلوم کے شرکاء دورہ حدیث کی آمد

۷ ستمبر ۲۰۰۴ کو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سال رواں کے شرکاء دورۂ حدیث نے الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی دعوت پر اکادمی کا دورہ کیا اور اکادمی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والے ٹی پارٹی میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولانا محمد داؤد صاحب بطور مہمان خصوصی تشریف لائے اور طلبہ کو اپنے مختصر اور موثر خطاب سے نوازا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمد عمار ناصر نے اکادمی کے مقاصد اور پروگراموں کا مختصر تعارف پیش کیا، جبکہ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف نے طلبہ اور دیگر مہمانوں کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ 

عربی لینگویج کورس کا انعقاد

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۱۱ شوال تا ۱۰ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے لیے ایک ۳۰ روزہ عربی لینگویج کورس کا اہتمام کیا گیا جس سے ایک درجن کے قریب شرکا مستفید ہوئے۔ کورس کے دوران میں شرکا کو عربی بول چال کی مشق کرانے کے علاوہ روز مرہ محاوروں اور جدید عربی اصطلاحات سے واقفیت بہم پہنچائی گئی۔ شرکا کی خواہش پر انھیں ابتدائی انگریزی زبان کی تعلیم بھی دی گئی۔ کورس میں تعلیم وتدریس کے فرائض مولانا محمد عامر انور، مولانا عمار ناصر، پروفیسر مولانا سعید اللہ اور جناب محمد تنویر نے انجام دیے۔ شرکا کے لیے مختلف علمی وفکری موضوعات پر محاضرات کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مقررین میں پروفیسر میاں انعام الرحمن، پروفیسر محمد اکرم ورک، مولانا محمد یوسف، مولانا عمار ناصر، پروفیسر مولانا سعید اللہ اور چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ شامل تھے۔ کورس کے اختتام پر ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۴ کو شرکا کے اعزاز میں افطار پارٹی دی گئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی، جناب عثمان عمر ہاشمی، چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ اور اکادمی کے دیگر رفقا شریک ہوئے۔ اس موقع پر شرکا کو اسناد اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔


اخبار و آثار