سنی شیعہ کشیدگی کا مسئلہ

ادارہ

(۱)

وقت کی یہ ستم ظریفی بھی دیدنی ہے کہ جب مذہب کے نام پر مذہبی روح کو کچلا جا رہا تھا اور مذہب ہی کے نام پر اللہ کی زمین پر انسانی خون بہ رہا تھا ، اس وقت اسلام نے انسان کو اس کا بھولا ہوا سبق یا د دلایا اور فرمایا کہ انسان اپنی فکر اور عمل میں آزاد ہے۔ اس کے سامنے نیکی اور برائی کی دونوں راہیں کھلی ہیں۔ اپنی مر ضی سے جس راہ کو اختیار کر نا چاہے ،کر سکتا ہے۔ مسلم مفکرین نے مزید کہا کہ کائنات میں قدم قدم پرپھیلے ہوئے خدائی کاموں کا مشاہدہ و مطالعہ ایک مقدس کام ہے۔ یہ مطالعہ، یہ غور وفکر ایسی ذات گرامی کا پتہ دیتا ہے جواس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس سے رشتہ جوڑے بغیر انسانی روح کو قرارنہیں ملے گا۔

تا ریخ مذہب میں اسلام نے فکری آزادی جو اعلان کیا تھا،اس پر مغرب میں بہت کچھ لکھا گیا، لیکن بیسویں صدی میں برصغیر کے معروف مارکسی انقلابی دانشور ایم این ،رائے (M.N .Roy) نے اپنی کتاب The Historical Role of Islam میں ایک نئے انداز سے لکھا : ’’آخری بڑے مذاہب میں اسلام عظیم ترین مذہب تھا ۔چنا چہ اس نے تمام مذاہب کی بنیادوں کو ڈ ھادیا ۔ اس کا یہ عمل اس کی تاریخی عظمت کی روح ہے۔‘‘

اسلام اور عربی تعلیمات کا مرکز وہی تاریخی سر زمین ہے جہاں پر پرانی مصری ،اشوری، یہودی ،ایرانی ،اور یونانی تہذیبیں اٹھیں ،ٹکرائیں اور زوال پزیر ہوئیں۔ پہلی تہذیبوں کا مثبت نتیجہ یہ تھا کہ انھوں نے عرب کلچر کے خدوخال بنانے میں حصہ لیا اور محمد ﷺکے عظیم نظریہ تو حید نے ان پرانی قوموں کے مذہبی اصولوں کو اپنا لیا۔

مسلم دنیا کی فکری اورعملی کامیابیوں کے بعد مسلم معاشرے پر زوال آیا۔ایسا کیوں ہوا؟ اس پر لکھتے ہوئے M.N.Roy نے لکھا : ’’جب آزادی فکر کا، جس کی اجازت صحرائی لوگوں کو سادہ عقیدے (اسلام)نے دی تھی، ٹکراؤمسلمانوں کے ارباب اقتدار کی دنیاوی دلچسپیوں سے ہواتو قرطبہ کے والی نے مذہبی رہنماوں کے اصرار پر ایک فرمان جاری کیا جس میں دوزخ کی آگ کے حوالے سے مذہبی بنیادوں پر ملحدانہ خیالات کی مذمت کی گئی۔ اسلام کی مقدس ترین تعلیم کی مذمت دراصل انسانی ترقی کے تنزل کی ابتداتھی۔‘‘

سپین میں آزادی فکر کے نام لیواعربوں کے ساتھ دین ودانش کے دشمنوں نے جو سلوک کیا ، تاریخ آج تک اس کے ماتم سے فارغ نہیں ہو سکی۔

یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ اہل پاکستان کی اکثرت (شیعہ سنی) جو تو حید و رسالت کے مضبوط رشتوں میں منسلک ہے اور اسلام کی عظیم فکری اور روحانی روایات کی وارث، ابھی تک پوری طرح سے مذہبی فرقہ واریت سے نجات حاصل نہ کر سکی۔ گزشتہ مئی میں کراچی میں جو ہولناک فسادات ہوئے ہیں، اس نے بتادیا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کس مقام پر کھڑے ہیں۔ صد افسوس ہم نے بڑی بے رحمی سے اپنی شاندار مذہبی اور روحانی روا ت کوبحیرہ عرب میں غرق کر دیا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ہم نے نہ صرف اپنے ہی بھائیوں کا خون اللہ کے گھرمیں بہایابلکہ سڑکوں پرچلنے والے عام لوگ بھی فرقہ واریت کی آگ میں جلے۔ ان کی کاریں یا دکانیں جلادی گئیں۔ کیا کوئی مذہبی ،اخلاقی اورسیاسی ضابطہ ہمیں اس بھیانک رویے کی اجازت دیتا ہے؟ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جدید دور اپنے جلو میں نئی صحت مند روایات لایا ہے۔ افسوس نہ تو ہم اپنی کلاسیکل فکری اور روحانی روایات کا تحفظ کر سکے اور نہ ہی جدید صحت مند روایات کا ساتھ دے سکے ۔ میر نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ 

دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے 

عہد حاضرمیں دونوں جماعتوں کے اہل علم نے برابر کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے دونوں تاریخی گروہ ایک دوسرے سے قریب تر آئیں۔ چنانچہ شیخ عبدالکریم الزنجانی النجفی نے ۱۹۶۱ء میں اپنی کتاب ( الوحدۃ الاسلامیہ والتقریب بین مذاہب المسلمین) نجف سے شائع کی۔ اس کتاب میں تفصیل سے بتایا ہے کہ امام زنجانی نجفی نے سنی شیعہ اتحاد کے لیے قاہرہ میں شیخ مصطفی المراغی اور شیخ محمود شلتوت سے کامیاب ملاقاتیں کیں اور دمشق کی اموی مسجد میں حضرت السجاد علی ابن الحسین زین العابدین سے صدیوں بعد امام نجفی اسلامی اور شیعہ تاریخ میں عہد حاضر کے پہلے آدمی ہیں جنھوں نے مسجد اموی کے منبر پر کھڑے ہو کر دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو مخاطب کیا۔ یہ رسالہ آج بھی طہران سے شائع ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال پہلے شیخ الازہر مرحوم شیخ شلتوت نے تین طلاقوں کے بارے میں فتویٰ دیتے ہوے لکھا ہے کہ ہم اس مسئلہ میں فقہ جعفریہ کے مسلک پر فتویٰ دیتے ہیں۔ 

قرآن مجید نے اہل صفا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو زمیں پر وقار سے چلتے ہیں اور جب بے وقوف لوگ ان سے نادانی کی بات کرتے ہیں تو ’’(تم پر)سلامتی ہو‘‘سے جواب دیتے ہیں۔‘‘ (الفرقان ۶۲۔۶۳) آنحضرت ﷺسے خطاب کر تے ہوے قرآن نے فرمایا: ’’آپ اپنے پر وردگار کی راہ کی طرف لوگوں کو بلاؤ تو اس طرح کہ حکمت کی با تیں بیان کرو اور پندو نصیحت کرو اور مخالفوں سے بحث کرو تو (وہ بھی ) ایسے طریقہ پر کہ حسن وخوبی کا طریقہ ہو۔‘‘ اگر ہمیں کشاکش روزگا ر اورباہمی نفرت سے فرصت مل جائے تو نہایت ہی صبر وتحمل سے اپنی گھات میں بیٹھ کر اپنی ’انا‘ کا تماشہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ شاید اس وقت ہمیں پتاچلے کہ ہماری انا کن کن بیما ریوں کا شکار ہے۔ ان بیماریوں میں نفرت اور تشدد ایسی بیماریاں ہیں جو ہماری تباہی اور رسوائی کا سبب بنی ہیں۔ رسول کریم ﷺکا ارشاد ہے، ’’خدایا! گواہ رہنا۔ سب بندے بھائی بھائی ہیں۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا، ’’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ اللہ کی نگاہ میں عزیز تر وہی ہے جواس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ بھلائی کرتا ہے۔‘‘ ایسی پاکیزہ تعلیمات رکھتے ہوئے یہ ہماری بد بختی ہے کہ ہم نہ صرف پوری انسانی سوسائٹی سے بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں سے بھی بر سرپیکار ہیں۔ سعدی نے ٹھیک کہا ہے کہ اہل صفانے تو اپنے حسن عمل سے دشمنوں کے دل جیتے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے دوستوں کو بھی دشمن بنالیا ہے۔ 

شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ
ترا کے میسر شود ایں مقام 
کہ با دوستانت خلاف است وجنگ 

بے شبہ ان فسادات نے ہمارے اخلاقی اورسماجی نظام کے چہرے سے نقاب کو الٹ دیا ہے۔حالاں کہ دونوں عظیم گروہ، شیعہ اور سنی، خدا کی توحید اور رسول اکرم ﷺکی آخری نبوت پر دل کی گہرائیوں سے یقین رکھتے ہیں، لیکن علم کلام اور فقہ کی اختلافی جزئیات نے ہماری ساری فکری، اخلاقی اورروحانی صلاحیتوں کو جذب کر لیا ہے اور صبر وتحمل اور عفو وکرم کی ساری تعلیمات جو قرآن اور اسوہ رسول ﷺسے ہمیں ورثے میں ملی تھیں، ہم نے ان کو غرق دریا کر دیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون ۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے علم الکلام کی عینک اتار کر قرآن مجید اور سیرت رسول ﷺکو پڑھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ملکوتی نغمہ ہمارے فکر ونظر کی جلااورقلب وروح کی تسکین کے لیے اپنے پاس کیاکیا سامان رکھتا ہے۔ پکتھال نے سچ کہا تھا کہ قرآن مجید کی ایک ایسی سمفنی (symphony) ہے جس پر انسانی آنکھ کے آنسو گرتے ہیں اور سننے والا جذب ومستی سے سرشار ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اہل علم نے، خواہ ان کا تعلق اہل سنت سے ہے یا اہل تشیع سے، ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ایک شیعہ اسکالر مولانا مرتضیٰ نے ’معراج العقول‘ جیسی کتاب لکھی تو ابوالکلام آزاد نے لکھا، ’’فریقانہ نزاعات اور تقلید نے ہمتوں کو پست کر دیا ہے اور کسی شخص کو راہ حقیقت میں قدم رکھنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ صاحب معراج العقول کو جزائے خیر دے جنھوں اس راہ میں قدم رکھا اور اجتہاد واستقلال فکرکے ساتھ اپنی سیاحت تحقیق ختم کی۔‘‘ ابوالکلام نے مزید لکھا، ’’میں نے کبھی سنیوں کی کسی بات کو محض اس لیے اچھا نہیں کہا کہ وہ سنی ہیں اور شیعہ کی کسی سچائی سے انکار صرف اس لیے نہیں کیا کہ وہ شیعہ ہیں۔ حق وصداقت کی طہارت جماعت بندی کی گندگی سے آلودہ نہیں ہو سکتی۔‘‘ (البلاغ، ۱۸فروری ۱۹۱۶ء، ص۱۱۸)

مولانا نے ’معراج العقول‘ کے مصنف کے علم وفضل کا اعتراف کر تے ہوے لکھا، ’’بہاؤ الدین عاملی کے بعد معراج العقول کے مصنف پہلے صاحب علم ہیں جو مجتہدانہ بصیرت رکھتے ہیں ۔‘‘

خاکسار یہاں دوسرے واقعہ کو بھی بیان کرنا وقت کی ضرورت سمجھتا ہے۔ مرحوم پروفیسر اطہر علی ،علی گڑھ یونیورسٹی سے آسٹریلیاکی یو نیورسٹی میں چلے گئے تھے جہاں انھوں نے پرو فیسر بھاشم سے مل کر ہندوستان کی تاریخ پر لکھا ہے۔ انھوں نے یو پی میں جدوجہد آزادی سے متعلق تاریخی دستاویزا ت مرتب کی ہیں جسے یوپی حکومت نے شائع کیا ہے۔ ان دستاویزات میں ان علماء کرام کا بھی ذکر ہے جنھوں نے تحریک آزادی ہند میں حصہ لیا تھا۔ وہ گرمیوں میں آسٹریلیا آیا کرتے تھے۔ ان سے ۱۹۶۷ء اور ۱۹۶۸ء میں لندن یو نیو رسٹی کی طلبہ یونین میں ملاقاتیں رہتیں ۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھ سے کہا کہ جب ۱۹۳۵ء میں یوپی میں کانگرس حکومت تھی اور پنڈت پنتھ وزیر اعلیٰ، اس وقت لکھنو میں شیعہ سنی تعلقات کشیدہ تھے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف جلوس نکال رہے تھے جس پر UP حکومت نے پابندی لگادی تھی۔ جب لکھنو کے سنی مسلمانوں نے مدح صحابہ کے سلسلے میں جلوس نکالنے کی اجازت مانگی تو حکومت نے اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام سے رجوع کیا تو مولانا نے اپنے ایک خط بنام وزیر اعلیٰ میں لکھا کہ وہ اہل سنت کو مدح صحابہ سے متعلق جلوس نکالنے کی اجازت نہ دے۔ جب لکھنوی مسلمانوں کو اس بات کا پتہ چلا تو ان کا ایک وفد ابوالکلام سے کلکتہ میں ملا۔ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، میرے بھائیو! وقت کی نزاکت سمجھو۔ شیعہ سنی موجودہ نزاع مسلمانوں کے قومی مفاد میں نہیں۔ پروفیسر موصوف نے خاکسار سے کہا کہ انھوں نے یہ فائل خود پڑھی ہے ۔

صحیح بات وہی ہے جو علامہ سید انور شاہ کشمیری کہا کرتے تھے کہ دو مذہب کے دو شریف آدمی آپس میں مل کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک ہی مذہب کے دو پست نظر نام لیوا ایک جگہ مل کر بیٹھ نھیں سکتے۔ خاکسار کو یقین ہے کہ مسلمانوں کے اہل نظر (شیعہ ہوں یا سنی) اگر ذرا متحرک ہو جائیں تو اس مسئلہ کا حل ڈھونڈسکتے ہیں۔ شیعہ حضرات میں خاکسارایسے اہل نظر کو جانتا ہے جو دونوں فریقوں کے ہاں معزز ومحترم مانے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مرحوم پروفیسر کرار حسین یا ڈاکٹر حسین محمد جعفری کے علم وفراست اور تاریخی بصیرت سے انکار کر سکتا ہے؟ اس پایہ کے اور بھی کئی اہل علم ہیں جو کراچی کی صدائے دردناک کا شدت سے احساس رکھتے ہیں اور ہماری آستینوں میں چھپے ہوے نفرت وتشدد کے خنجر سے نجات بھی دلا سکتے ہیں۔ فہل من مدکر؟ 

(تحریر: ڈاکٹر رشید احمد جالندھری۔ بشکریہ سہ ماہی ’’المعارف‘‘ لاہور ) 


(۲)

صرف میں ہی نہیں، اس ملک کا ہر باشعور آدمی جانتا ہے کہ اس سارے عمل کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ ملک بھر سے گنتی کے چند علما کو جمع کر کے یہ گمان کرنا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی اور مذہب کے نام پر تشدد کی لہر دم توڑ دے گی، ایک ایسی سادگی ہے جس کے نتیجے کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان علما میں کوئی ایک آدھ ہی ایسا تھا جو اس سارے معاملے میں حکومت کا اصل مخاطب ہو سکتا ہو۔ جناب اعجاز الحق اور ان کے جملہ رفقاے کار کے فہم وفراست کے باب میں ہم زیادہ توقعات وابستہ نہ کریں تو بھی ایک ایسی بات کی توقع تو ضرور کی جانی چاہیے کہ جس کا تعلق عمومی شعور (Common sense) کے ساتھ ہے۔

اس سارے معاملے میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں، شرط یہ ہے کہ کوئی اس کی خواہش رکھتا ہو۔

۱۔ مذہب میں تشدد کا تعلق دو امور سے ہے۔ ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ اس ملک میں شیعہ اور سنی اختلاف میں تشدد کا عنصر ۱۹۸۰ء کی دہائی میں داخل ہوا۔ دونوں طرف کے ایک آدھ اقلیتی گروہوں نے یہ راستہ اپنایا اور اپنی شدت آمیز (Aggressive) حکمت عملی سے اپنے اپنے فرقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہمارے پڑوس میں واقع مذہبی تشخص رکھنے والی ریاستوں نے حسب توفیق اس میں اپنا حصہ ڈالا اور یوں یہ شعلے بے قابو ہو گئے۔ قوم جانتی ہے اور حکومت بھی کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ان کی بعض سرگرمیاں خفیہ ہو سکتی ہیں لیکن ان کی تنظیم اور ان کا پیغام علانیہ ہے۔ جب تک حکومت ان سے کوئی معاملہ نہیں کرتی اور ان گروہوں کو دوسرے مذہبی طبقات سے الگ کر کے نہیں دیکھتی، یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔

خارجی پہلو امریکی رویہ ہے جس نے بہت سے مسلمانوں میں یہ سوچ پیدا کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور جارحیت سے نمٹنے کا ’جہاد‘ یعنی قتال کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ خود کش حملوں کی روایت کا ماخذ یہی تصور دین ہے۔ حکومت جانتی ہے اور عوام بھی کہ کون لوگ اس نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک علمی کاوش کی ضرورت ہے جو اس خیال کی مذہبی غلطی واضح کرے، اور ایک ضرورت سماجی ہے جو اس کے متبادل فکر کا ابلاغ عام کرے۔ اس کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ایک بھرپور مہم چلانا ہوگی۔ اس کے ساتھ بعض اقدامات وہ ہیں جو حکومتیں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھاتی ہیں۔

۲۔ جن حضرات سے خود کش حملوں کے خلاف فتوے لیے جا رہے ہیں، ان کے معتقدین پہلے ہی اس کو درست نہیں سمجھتے اور وہ لوگ ا ن کے فتوے کو درخور اعتنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں جو اس نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ نتیجتاً یہ فتوے تحصیل حاصل ہیں اور ان کے نتیجے میں حالات میں کوئی جوہری تبدیلی واقع ہونے والی نہیں۔

۳۔ جو لوگ اس سارے معاملے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں، ان کے بارے میں حکومت کا رویہ بہت حیرت انگیز اور غیر منطقی رہا ہے۔ ایک طرف محض شک کی بنا پر بغیر کسی ثبوت کے اپنے تئیں ان کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ اسلام آباد میں غازی عبد الرشید کی گرفتاری اور پھر اسی مکتب فکر کے بعض مذہبی اداروں پر چھاپے اسی طرز عمل کا شاخسانہ ہے۔ یہ بے بصیرتی پر مبنی (Ill-conceived) ایسا رویہ ہے کہ خود حکومت کو اس سے رجوع کرنا پڑا۔ وزیر اطلاعات نے چند روز پہلے ارشاد فرمایا کہ ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ طرز عمل ملک میں اکثر مقامات پر روا رکھا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کے حصے میں طعن وتشنیع آتی ہے، کاش وزارت مذہبی امور کو اس کا ادراک ہوتا۔

دوسری طرف ان لوگوں سے مکمل لاتعلقی کا مظاہرہ کیا گیا۔ حکومت نے ان کے ساتھ کبھی سنجیدہ مکالمہ نہیں کیا اور انھیں اس سارے معاملے میں شریک مشاورت نہیں کیا۔ اس کا مظاہرہ ہم اس میٹنگ میں دیکھ سکتے ہیں جو اس کالم کی بنیاد ہے۔ یہ ہمارے ہاں وزارتوں اور سرکاری اداروں کا عمومی طرز عمل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں ان لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں کرتے جو فی الواقع اس شعبے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیش نظر ہمیشہ بعض دوسرے عوامل رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کی اگر آپ تاریخ اٹھائیں تو ڈاکٹر ایس ایم زمان یا ڈاکٹر خالد مسعود جیسی چند مستثنیات کے علاوہ اس کے اراکین کا انتخاب علم وفضل کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے محرکات کبھی شخصی ہوتے ہیں اور کبھی سیاسی۔ آپ پاکستان ٹیلی ویژن کے مذہبی پروگرام دیکھیں۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے کہ اس ملک میں یہی مذہبی عالم باقی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرز عمل کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔

میں اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اس ملک میں مجلس عمل کو ساتھ لیے بغیر آپ کوئی مذہبی مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ متحدہ مجلس عمل کا ایک تشخص سیاسی ہے اور ایک مذہبی۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس فرق کو ملحوظ رکھا جائے اور حکومت مذہبی معاملات میں ان کو اعتماد میں لے تو ان مسائل کا بہتر حل نکل سکتا ہے۔ جناب قاضی حسین احمد نے چینی انجینئروں کے اغوا اور ان کے مارے جانے پر اپنے صدمے کا اظہار کیا ہے اور اس سارے عمل سے گویا اپنی لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت اگر مذہبی تشدد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کو ہم نوا بنا سکتی تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوتی اور معاشرے پر اس کے اثرات بھی ہوتے۔ مولانا فضل الرحمن نے شیعہ سنی کشیدگی کم کرانے میں بہت اہم اور غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ، جمعیت علماے اسلام سے متعلق لوگوں کی تنظیم ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنوں کی گالیاں کھائیں لیکن اس طرز عمل کی کبھی حمایت نہیں کی اور بہت کامیابی کے ساتھ دیوبندی مکتب فکر کو اس سارے عمل سے دور رکھا۔ میرے نزدیک اگر اس معاملے میں حالات میں کوئی بہتری آئی تھی تو اس کا کریڈٹ انھیں جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں تو یہ واضح ہی ہے کہ وہ ایسی گروہ بندی پر یقین ہی نہیں رکھتی۔ حکومت اگر ان لوگوں کو نظر انداز کر کے یہ خیال کرتی ہے کہ گنتی کے چند علما خود کش حملوں کے خلاف ’’فتوے‘‘ دیں گے اور حالات سنور جائیں گے تو یہ بصیرت کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں۔ اس حوالے سے یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ حکومتوں کے کہنے پر دیے جانے والے فتوے اگر درست ہوں تو بھی معاشرے میں کبھی قبولیت عام حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو عباسی خلفا خلق قرآن کے مسئلے پر اپنی بات منوا لیتے۔ تاریخ آج صرف امام احمد بن حنبل کو جانتی ہے جنھوں نے حکومتی فتوے کو نہیں مانا۔ وہ ہزاروں علما جنھوں نے حکومت کے کہنے پر قرآن کو مخلوق کہا، آج ایک بھولی بسری داستان ہیں۔

مذہب، سچ یہ ہے کہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، اگر اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی معاشرے پربہت گہرے ہوں۔ یہ بات یہاں سیکولر ازم کی بات کرنے والوں کی سمجھ میں آ سکی ہے اور نہ حکومت کرنے والوں کی۔ اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اگر اتنا سادہ ہوتا کہ آرمی ہاؤس کی ایک چھوٹی سی مسجد میں چند علما کو ایک ساتھ نماز پڑھا دینے سے حل ہو جاتا تو شاید یہ سرزمین اس سیارے پر جنت کا ایک ٹکڑا ہوتی۔

(خورشید احمد ندیم۔ روزنامہ جنگ لاہور۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۴)


حالات و واقعات

Flag Counter