شیعہ سنی کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(یہ تحریر صادق گنجی قتل کیس کے ملزم شیخ حق نواز کو پھانسی کی سزا ملنے کے بعد مارچ ۲۰۰۱ء میں لکھی گئی تھی۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں اسے معمولی ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


لاہور، سیالکوٹ اور ملتان میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو نئے الم ناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوس ناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں، انھوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے کہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ ہم ایک بار پھر اپنی مساجد میں دروازے بند کر کے سنگینوں کے سائے میں نمازیں ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ا س سے شاید دونوں طرف کے کچھ جذباتی اور انتہا پسند نوجوانوں کے جذبات کو تھوڑی بہت تسکین ملتی ہو یا اس خونی کھیل کو جاری رکھنے کے خواہش مند حلقوں کے مقاصد کچھ آگے بڑھتے ہوں مگر دین، قوم اور ملک کے لیے یہ سب کچھ انتہائی تباہ کن ہے اور اس کی تباہ کاری کی صلاحیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ خدا کرے کہ کسی دل میں یہ بات اتر جائے اور اس خونی عمل کے کسی جگہ رکنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔

پہلی بات بخاری شریف کی اس روایت کے حوالہ سے ہے جو ’’کتاب الادب‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے منقول ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے اور برا بھلا کہے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ جناب نبی اکرم نے فرمایا کہ اس نے دوسرے کے ماں اور باپ کو گالی دی اور اس نے جواب میں اس کے باپ یا ماں کو گالی دی تو گویا اس نے اپنے ماں باپ کو خود گالی دی۔ یعنی جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق اپنے ماں باپ کے لیے گالی کا سبب اور واسطہ بننے والا شخص خود ان کو گالی دینے کا مرتکب قرار پائے گا۔ کم وبیش اسی نوعیت کی بات سورۃ الانعام کی آیت ۱۰۸ میں قرآن کریم نے بھی ارشاد فرمائی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو برا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ وہ جواب میں تمھارے سچے خداؤں کو برا بھلا کہیں گے اور اس کا سبب تم خود بنو گے۔ اس لیے ’’مرغی پہلے یا انڈا‘‘ کی طرح اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس باہمی قتل وغارت کا آغاز کس نے کیا تھا، ہم اہل سنت اور اہل تشیع، دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے جذباتی اور انتہا پسند نوجوانوں کو اس نکتہ پر غور کی دعوت دینا چاہتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے سنجیدگی اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے لیں کہ دونوں طرف کے جو بڑے بڑے بزرگ اور سرکردہ قائدین اس الم ناک قتل وغارت کی نذر ہو چکے ہیں، کہیں وہ سبب اور واسطہ کے درجے میں خود ہی اپنے بزرگوں کے قاتل تو قرار نہیں پاتے؟ میں تو جتنا اس مسئلہ کی گہرائی میں جاتا ہوں، دل ودماغ کے لرزہ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اسی احساس کے تحت یہ گزارش بھی کر رہا ہوں۔

دوسری گزارش جناب نبی اکرم ﷺ کی ایک عملی سنت کے حوالہ سے کرنا چاہتا ہوں۔ عرب قبائل میں انتقام در انتقام کا سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا تھا جیسے اب سنی اور شیعہ روزانہ انتقامی جذبہ کے تحت اندھا دھند قتل ہو رہے ہیں۔ جناب نبی اکرم نے ا س سلسلہ کو بریک لگانے کے لیے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا کہ گزشتہ قتلوں کے انتقام کا سلسلہ ختم کر کے نئے سرے سے پرامن زندگی کا آغاز کرو اور گزشتہ قتلوں اور ان کے انتقام کو بھول جاؤ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کا صرف زبانی اعلان نہیں کیا بلکہ عملی طور پر بھی اس کا اظہار فرمایا کہ اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب کے معصوم بیٹے ایاس کا قتل معاف کرنے کا اسی مجلس میں اعلان فرما دیا اور اپنے اعلان پر عمل درآمد کا آغاز گھر سے کر دیا۔ ایاس، ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا بیٹا تھا اور بنو سعد میں پرورش پا رہا تھا کہ بنو ہذیل نے اسے قتل کر دیا۔ اس کا انتقام قبائلی روایات کے مطابق بنو عبد المطلب کے ذمہ تھا۔ متعدد لوگوں کے دلوں میں اس انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور وہ یقیناًکسی موقع کے انتظار میں ہوں گے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے بنو عبد المطلب کی طرف سے اپنے اس معصوم بچے کا خون معاف کرنے کا اعلان فرما کر نہ صرف یہ کہ انتقام در انتقام کے اس بظاہر ختم نہ ہونے والے سلسلے کو روک دیا بلکہ باقی لوگوں کے لیے بھی ایک عملی نمونہ پیش کر دیا اور یہ اسی کی برکت تھی کہ پشت در پشت خونریزی کے عادی اور خوگر عرب قبائل کو امن اور باہمی اعتماد کی منزل گم گشتہ مل گئی۔

آج بھی امن کا راستہ یہی ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے سرکردہ اکابر سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس مکروہ عمل کو بریک لگانے کے لیے سنت نبوی کی روشنی میں کوئی فارمولا طے کریں اور اس پر اپنے جذباتی نوجوانوں کو پابند کریں یا بصورت دیگر امن کا دشمن بن جانے والوں سے لا تعلقی اور براء ت کا اعلان کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ جو فریق بھی اس سمت میں پہل کرے گا، وہ جناب نبی اکرم کی سنت مبارکہ کا دامن تھامنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے لیے بھی امن وسلامتی کا پیغام بر ثابت ہوگا لیکن اس کے لیے پاکستان کے امن اور قومی وحدت کو سبوتاژ کرنے کے خواہش مند عناصر کو ’’کراس‘‘ کرنے کا حوصلہ درکار ہے۔ خدا کرے کہ سنی شیعہ قائدین اس حوصلہ کا بروقت اظہار کر سکیں۔ آمین ثم آمین

حالات و واقعات

(نومبر ۲۰۰۴ء)

تلاش

Flag Counter