خطبہ حجۃ الوداع کا دعوتی پہلو اور صحابہ کرامؓ پر اس کے اثرات

پروفیسر محمد اکرم ورک

۱۰ھ میں رسول اللہﷺ نے میدانِ عرفات میں حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘کے نام سے یادکیا جاتا ہے۔ اس خطبہ کو اسلامی تعلیمات کا نچوڑ کہاجاسکتا ہے۔آپﷺ نے اپنی پوری زندگی جس مشن کی تکمیل کے لیے صرف کی تھی، آج اس کے نتائج آپﷺکے سامنے تھے۔خطبہ کے آخر میں آپﷺ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچادیا ہے؟تو تمام حاضرین نے اقرار کیا کہ بے شک آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچادیا ہے۔ حاضرین کے اقرار پرآپﷺ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے فرمایا: اے اللہ، تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد آپﷺ نے دعوت وتبلیغ کی ذمہ داری ہمیشہ کے لیے امتِ محمدیہ ﷺ کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لیبلغ الشاھد الغائب، فان الشاھد عسیٰ ان یبلغ من ھوأوعی لہ منہ (۱)
’’جو لوگ حاضرہیں، وہ غائب تک پہنچادیں،ہوسکتا ہے کہ جس کو (اللہ تعالیٰ کا پیغام)پہنچایا جائے، وہ حاضر کی نسبت اس کو زیادہ یاد رکھنے والا ہو‘‘

ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کے اس پیغام کے اولین مخاطب صحابہ کرامؓتھے اس لیے نبوی فرمان کی روشنی میں صحابہ کرامؓنے دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ اگرچہ رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ ہی میں صحابہ کرامؓدعوت وتبلیغ میں رسول اللہﷺ کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے لیکن آپﷺ کے وصال کے بعد اب یہ ذمہ داری براہ راست صحابہؓپر آن پڑی تھی۔ اس لیے صحا بہ کرامؓ نے کارِ نبوت کی انجام دہی میں اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ سیرتِ صحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ نے ان کو جو مشن تفویض فرمایا تھا، اس کی بجاآوری میں صحابہ کرامؓ نے ہر دستیاب موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔سفروحضر،آسانی وتنگی ہر حال میں دعوت کے فریضہ کو اولین اہمیت دی۔ نہ صرف پوری زندگی بلکہ زندگی کی آخری سانسوں تک دعوتِ دین کی فکر ہی دامن گیر رہی اوردعوتِ دین کا فریضہ صحابہ کرامؓکے نزدیک زندگی سے بھی عزیز ترین مشن تھا۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ،جو گھوم پھر کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے ،ان کا قول ہے:

لو وضعتم الصمصامۃ علی ھٰذہ واشارالی قفاہ ثم ظننت انی انفذ کلمۃ سمعتھا من النبیﷺقبل ان تجیزوا علیّ لانفذتھا(۲) 
’’اگر تم لوگ میری گردن پر تلوار رکھ دو اور مجھے یقین ہو کہ ایک کلمہ بھی جس کو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، ادا کرسکوں گا تو قبل اس کے کہ تلوار اپنا کام کرے، میں اس کو ادا کروں گا‘‘

دعوت وتبلیغ سے صحابہ کرامؓکو جوشغف تھا، اس کی بنا پر ایک لمحہ بھی فارغ رہنا ان کی طبیعت پر گراں گزرتاتھا۔ وابصہ الاسدی بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ میں دوپہر کے وقت اپنے گھر میں تھا کہ یکایک دروازے سے السلام علیکم کی آواز بلند ہوئی، میں نے جواب دیا اور باہر نکل کر دیکھا تو دروازے پر عبداللہؓ بن مسعود تھے۔میں نے کہا:اے ابوعبدالرحمن!یہ ملاقات کاوقت کیسا؟فرمانے لگے،آج بعض مشاغل ایسے پیش آئے کہ دن چڑھ گیااور اب فرصت ملی تو خیال آیا کہ کسی سے باتیں کرکے عہد مقدس کی یاد تازہ کرلوں۔غرض وہ بیٹھ گئے اور حدیثیں بیان کرنے لگے۔(۳)

زیدبن اسلمؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمرؓکے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے پاس گیا، تو انہوں نے ہمارا استقبال کرتے ہوئے کہا:ابو عبدالرحمن !خوش آمدید، اور ان کو تکیہ پیش کیا تو ابن عمرؓنے ان سے فرمایا:

انما جئت لاحدثک حدیثا سمعتہ من رسول اللّٰہ ﷺ(۴)
’’میں صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے.....‘‘اور پھر ایک حدیث بیان کی۔

صحابہ کرامؓ میں دعوت وتبلیغ کا یہ جوش وخروش سفروحضر، گلیوں اور بازاروں میں غرض ہر جگہ نظر آتا ہے۔حضرت اسلمؒ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓملک شام کے دورہ پر تھے تو میں وضو کا پانی لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؓنے پوچھا، تم یہ پانی کہاں سے لائے ہو؟ میں نے ایسا میٹھا پانی کبھی نہیں دیکھا،بارش کا پانی بھی اس سے عمدہ نہیں ہوگا۔میں نے کہا کہ میں پانی ایک بڑھیاکے گھر سے لایا ہوں۔وضو سے فارغ ہو کر آپؓاس بڑھیا کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے کہا:اے بڑی بی، اسلام لے آؤ۔اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کوحق دے کر بھیجا ہے ۔اس نے اپنا سر کھول کردکھایا تو اس کے سر کے بال بالکل سفید تھے اور کہنے لگی:میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں اور بس اب مرنے ہی والی ہوں۔ (یعنی اب اسلام لانے کا کیا فائدہ؟) حضرت عمرؓنے فرمایا:اے اللہ گواہ رہنا(یعنی ہم نے تیرا پیغام پہنچادیا)۔ (۵)

حضرت علیؓبازاروں اور گلیوں میں جہاں بھی موقع ملتا، دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ابحر بن جرموز روایت کرتے ہیں:

رأیت علیؓ بن ابی طالب یخرج من الکوفۃ، و ھو یطوف فی الاسواق،ومعہ درۃ،یأمرھم بتقوی اللّٰہ وصدق الحدیث ،وحسن البیع والوفاء بالکیل والمیزان(۶)
’’میں نے علیؓ بن ابی طالب(کو اپنے عہد خلافت میں)دیکھا کہ وہ کوفہ کے بازاروں میں ہاتھ میں درہ لیے گھومتے تھے اور لوگوں کوپرہیزگاری، سچائی،حسن معاملہ اور پورے ناپ تول کی ترغیب دیتے تھے‘‘

دعوت وتبلیغ کا جوش وخروش صحابہ کرامؓ کی طرح صحابیاتؓ میں بھی اسی طرح نظر آتا ہے ۔ابن عبدالبر سمراءؓ بنت نہیک کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:

کانت تمرّ فی الاسواق، وتأمر بالمعروف، وتنھی عن المنکر وتضرب الناس علی ذالک بسوط کان معھا(۷)
’’وہ بازاروں میں گھوم پھر کر بھلائی کاحکم دیتی تھیں اور برائی سے روکتی تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا تھا جس سے وہ لوگوں کو منکر کے ارتکاب پر مارتی تھیں‘‘

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ انفرادی طورپر ہی نہیں، جماعتوں اور گروہوں کی صورت میں بھی دعوت وتبلیغ کے لیے نکلتے تھے۔حضرت مغیرہ بن عبداللہؓ یشکری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں کسی ضرورت سے بازار گیا تو میں نے یکایک وہاں ایک جماعت کو دیکھا،میں اس جماعت کے قریب گیا تو ان لوگوں نے مجھ سے رسول اللہﷺ کے اوصاف بیان کیے۔(۸)

صحابہ کرامؓ کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح زندگی بھر وہ دعوت وتبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہے، اسی طرح زندگی کی آخری سانسوں میں بھی اس فریضہ سے غافل نہیں ہوئے۔حضرت ابوالدرداءؓ پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں مشغول رہے۔ ہزاروں طلبا نے ان سے کسبِ فیض کیا، جب وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے ایک شاگردیوسف بن عبداللہ کوبلاکر کہا کہ لوگوں کو میری موت کی خبر کردو۔اس خبر کا مشتہر ہونا تھا کہ آدمیوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ گھر سے باہر تک آدمی ہی آدمی تھے،اندر اطلاع کی گئی تو فرمایا:مجھ کو یہاں سے باہر لے چلو۔باہر آکر اٹھ بیٹھے اور پھر تمام مجمع کو مخاطب کرکے وضو اور نماز کے متعلق ایک حدیث بیان کی۔(۹)

عمواس کے طاعون میں جب حضرت معاذؓ بن جبل بستر مرگ پر تھے توزبان مبارک سے تبلیغ حق کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہ ،جو وصال کے وقت آپؓ کے خیمہ میں موجود تھے ، ان سے فرمایا : خیمے کا پر دہ اٹھا دو، میں ایک حدیث بیان کروں گا جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور اس حدیث کو میں نے اب تک اس لیے مخفی رکھا تھا کہ لوگ اسی پر تکیہ کر بیٹھیں گے ۔ اس کے بعد آپؓ نے ایک حدیث بیان کی۔(۱۰)

عبیداللہ بن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار کی عیادت کو آیا ۔آپؓ اس وقت مرض الموت میں مبتلا تھے۔فرمانے لگے، میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے،آپﷺ کا فرمان ہے:

مامن امیر یلی امر المسلمین ،ثم لا یجھد لھم وینصح الا لم یدخل معھم الجنۃ (۱۱)
’’جو امیر مسلمانوں کا والی بنایاگیا اورپھر اس نے ان کے لیے تگ ودو نہ کی اور نہ ان کی خیر خواہی کی تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا آخری وقت آیا تو ان کی بیوی نے چیخ ماری۔آپؓ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

أما علمت ماقال رسول اللّٰہﷺ؟ قالت: بلی، ثم سکتت،فلما مات ، قیل لھا: أی شئ قال رسول اللہﷺ؟ قالت: قال رسول اللّٰہﷺ : لعن من حلق او خرق او سلق(۱۲)
’’کیا تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان معلوم نہیں؟کہنے لگیں: کیوں نہیں اور پھر خاموش ہوگئیں۔جب ابو موسیٰؓ کا انتقال ہوگیا تو ان سے کہا گیا کہ رسول اللہﷺ کا فرمان کیا تھا ؟ (جس کی یاد دہانی آپ کو ابوموسیٰؓنے کروائی)کہنے لگیں کہ آپ ﷺ کافرمان ہے:’’جس نے مردے کے سوگ میں سرمنڈایا ،کپڑے پھاڑے یا چیخا چلایاتو اس پر لعنت ہے‘‘

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓکوآخری سانسوں میں بھی یہی فکر دامن گیر رہی کہ کہیں ان کی ذات شریعت کی خلاف ورزی کا سبب نہ بن جائے۔اس لیے فوراًاصلاح کردی۔ ابوموسیٰ الاشعریؓکے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب ان کاآخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے لواحقین کووصیت کرتے ہوئے فرمایا:

’’جب تم لوگ میرا جنازہ لے کرچلو تو ذرا تیزی سے چلنا اور کوئی دھونی دینے والا ساتھ نہ ہو،اور میری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے جسم اور مٹی کے درمیان حائل ہو،اور میری قبر پر قبہ تعمیر نہ کرنا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں (میت کے سوگ میں)سرمنڈانے والے،چیخنے چلانے والے،اور کپڑے پھاڑنے والے سے بری ہوں‘‘۔ (۱۳)

اسی طرح حضرت عبادہؓ بن صامت نے مرض الموت میں اپنے بیٹے ولید کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اے بیٹے!میں تمہیں اچھی اور بری ہر طرح کی تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کرتا ہوں اور اگر تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا تو اللہ تعالیٰ تمہیں آگ میں داخل کرے گا،کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کاحکم دیا۔ قلم نے کہا کہ کیا لکھوں ؟تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’جوہوچکا ہے اور جو قیامت تک ہونے والا ہے، سب لکھو‘‘۔(۱۴)

ان چند روایات سے اس حقیقت کا اندازہ کیاجاسکتاہے کہ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓکو حجۃ الوداع کے دن جو ذمہ داری سونپی تھی، اس ذمہ داری کو انہوں نے کس تندہی کے ساتھ ادا کیا اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی ان کواگر کوئی فکر تھی تو یہی تھی کہ وہ دین کی کوئی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔دعوت وتبلیغ کے مشن سے یہی وہ لگن تھی جس کی بدولت عہدِ صحابہؓمیں اسلام بڑی تیزی اور کثرت کے ساتھ پھیلا۔


حوالہ جات

(۱) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب قول النبیﷺ: رب مبلغ أوعی من سامع،ح:۶۷،ص:۶۱

(۲) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم قبل القول والعمل،ح:۶۷،ص:۱۶

(۳) المسند،مسند عبداللہؓ بن مسعود ،ح:۴۲۷۴، ۲/۲۸

(۴) المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ ،ح:۲۳۸۷،۲/۳۳۰

(۵)

(۶) الاستیعاب،تذکرہ علیؓ،۳/۱۱۱۲۔

(۷) الاستیعاب،تذکرہ سمراءؓ بنت نہیک، ۴/۱۸۶۳

(۸) اسد الغابہ،تذکرہ عبداللہ یشکریؓ،۳/۲۷۵

(۹) المسند،حدیث ابی الدرداءؓ،ح:۲۶۹۵۱، ۷/۵۹۶

(۱۰) المسند،حدیث معاذ ؓ بن جبل،ح:۲۱۵۵۵،۶/۳۱۲

(۱۱) صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب استحقاق الولی الغاش لرعیتہ النار،ح:۳۶۶،ص:۷۳

(۱۲) المسند،حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ،ح:۱۹۱۲۹،۵/۵۵۳۔ سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی النوح، ح:۳۱۳۰، ص:۴۵۹

(۱۳) المسند ،حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ،ح:۱۹۰۵۳،۵/۵۴۰

(۱۴) المسند،حدیث عبادہؓ بن صامت،ح:۲۲۱۹۷،۶/۴۳۲


سیرت و تاریخ