جنوری و فروری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۳ ۔۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو دینی مدارس کے اساتذہ کی دو روزہ باہمی مشاورت اور نصاب وتربیت کے حوالے سے مختلف امور پر مذاکرہ ومباحثہ کا اہتمام کیا گیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ، جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ، جامعہ فتاح العلوم گوجرانوالہ، دار العلوم مدنیہ رسول پارک لاہور، جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ، جامعہ عربیہ چنیوٹ، جامعہ حنفیہ قادریہ باغ بان پورہ لاہور، جامعہ اسلامیہ کامونکی، جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم، جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے تیس...

خطبہ حجۃ الوداع کا دعوتی پہلو اور صحابہ کرامؓ پر اس کے اثرات

― پروفیسر محمد اکرم ورک

۱۰ھ میں رسول اللہﷺ نے میدانِ عرفات میں حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘کے نام سے یادکیا جاتا ہے۔ اس خطبہ کو اسلامی تعلیمات کا نچوڑ کہاجاسکتا ہے۔آپﷺ نے اپنی پوری زندگی جس مشن کی تکمیل کے لیے صرف کی تھی، آج اس کے نتائج آپﷺکے سامنے تھے۔خطبہ کے آخر میں آپﷺ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچادیا ہے؟تو تمام حاضرین نے اقرار کیا کہ بے شک آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچادیا ہے۔ حاضرین کے اقرار پرآپﷺ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے فرمایا: اے اللہ، تو گواہ...

ارضی نظام کی آسمانی رمز

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

جدید دور کے ریاستی و جمہوری نظام کی فکری آبیاری ہابس (۱)، لاک(۲) اور روسو (۳)نے کی تھی ، پھر کارل مارکس(۴) نے اپنے عہد کے مخصوص احوال و ظروف کے طفیل اسے ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ ان مفکرین کے پیش کردہ نظریات اور ان کے اثرات اگرچہ عمومی نوعیت کے حامل رہے ہیں لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ان کا پس منظر اور واقعاتی حوالہ جات، مکمل طور پر مقامی ہیں۔ اس طرح ان نظریات کی خوبیوں اور ان میں مضمر آفاقی نکات کے باوجود، ان کا مقامی اور محدود واقعاتی حوالہ بعض تحفظات کو جنم دیتا ہے۔ یہ تحفظات آج کے دور میں نئے انداز اور نئی قوت سے سر ابھار رہے ہیں۔...

ان کی پرکاری اور ہماری سادگی!

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاس دنیا میں آ کر آنکھ کھو لی تو اسلامی دنیا مغرب کی چیرہ دستیو ں سے لہو لہان تھی ۔یعنی خلافت اسلامیہ (عثمانی) کا تیا پانچہ مغربی قزاقوں کے ہاتھو ں ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ نو عمری شروع ہوئی تو مغرب کے آپس میں ٹکرانے اور ب ہونے (جنگ عظیم دوم )کا منظر سامنے آیا ۔پھر اس کے نتیجے میں مغربی طاقتوں کی گرفت اپنے مقبوضات پر ڈھیلی پڑی تو تاریخ کا ایک نیا باب کھلنا شروع ہوا۔ مغرب کے مقبوضات چاہے اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، ایک ایک کرکے اس کی گرفت سے آزاد ہوئے۔ اسلامی دنیا کا ایک حصہ جوکیمونسٹ روس کے پنجہء استبداد میں رہ گیا تھا،...

دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور اس کی اہمیت و افادیت

― مفتی محمد عیسی گورمانی

درس نظامی میں سب سے پہلے جس زبان کو اولیت حاصل ہے، وہ فارسی ہے ا س لیے کہ عربی گریمر یعنی صرف ونحو کی بعض کتب فارسی میں لکھی گئی ہیں جو ہمارے نصاب میں داخل ہیں۔ نیز اکثر علوم وفنون کے تراجم، شروح اور حواشی فارسی میں ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ شروع میں اس معیار کی فارسی پڑھائی جائے کہ پیش آمدہ کتب اور ان کے تراجم، شروح اور حواشی کے پڑھنے میں آسانی ہو اور بخوبی ان کو سمجھا جا سکے۔ نیز مختلف موضوعات پر اکابر علما اور مشائخ ہند کی اکثر وبیشتر کتب فارسی میں ہیں۔ اگر شروع میں فارسی زبان میں رسوخ پیدا نہ ہو تو بعد میں اس کی تلافی مشکل نظر آتی ہے۔ ایک مستند...

دینی مدارس کا نظام تربیت ۔ چند اصلاح طلب پہلو

― ڈاکٹر محمد امین

مجھے جب عمار ناصر صاحب نے بتایا کہ وہ دینی مدارس کے اساتذہ کی ایک مجلس مشاورت رکھنا چاہ رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ انہوں نے میرے لیے ’’تربیت طلبہ‘‘ کا موضوع تجویز کیا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ میرے ذہن میں تو کچھ اور باتیں تھیں جن کو اس موقع پر بیان کرنا میں زیادہ مناسب سمجھتا تھا، تاہم جب آپ نے ایک چیز طے کر لی ہے اور چھپا ہوا پروگرام بھی لوگوں کو بھجوا دیا ہے تو اب مجوزہ عنوان پر ہی اپنی معروضات پیش کروں گا۔ البتہ تمہیداً دو باتیں عرض کرنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مجھ سے پہلے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے دینی نظام تعلیم میں اصلاح کے حوالے...

فکری و مسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کل سے مختلف مسائل پر گفتگو چل رہی ہے۔ ہم نے صبح کی نشست میں نصاب اور اساتذہ کی تدریسی اور تربیتی مشکلات کے حوالے سے بات کی، جس کے نتیجے میں تفصیلی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس نشست میں میری گفتگو کا عنوان ہے ’’فکری ومسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو‘‘۔ فکری تربیت سے مراد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ جب ایک خاص نصاب کی تعلیم پاکر سوسائٹی میں جاتے ہیں اور انہیں آج کے مسائل اور حالات سے سابقہ پیش آتا ہے تو ان کی فکر اور سوچ کیا ہو؟ ان کا نصب العین اور زندگی کا مقصد کیا ہو؟ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی فکری نصب العین بن جاتا ہے جس کے ارد گرد اس کی زندگی کی ساری...

دینی مدارس میں عربی زبان کی تعلیم کا منہج

― مولانا محمد بشیر سیالکوٹی

معزز حاضرین! مجھ سے قبل میرے بزرگ دوست مولانا زاہد الراشدی ہمارے فکری اور مسلکی رویوں کے حوالے سے نہایت اہم گفتگو فرما رہے تھے۔ مولانا کی گفتگو مجھے بھی جرات سخن عطا کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی گفتگو میں بعض باتیں ایسی فرمائی ہیں جو عام طور پر لوگ نہیں کہتے۔ ۱۹۶۵ء میں، میں کراچی میں حاضر ہوا تو حضرت مولانا یوسف بنوری صاحبؒ کے ہاں ٹھہرا۔ ہفتہ عشرہ مولانا مفتی محمد شفیعؒ کے ہاں بھی گزارا۔ مفتی صاحبؒ نے اپنی وہ معروف تقریر جو اب ’’وحدت امت‘‘ کے نام سے چھپی ہوئی ہے، ہمارے ہی ادارے ’’جامعہ تعلیمات اسلامیہ‘‘ میں فرمائی تھی۔ مولانا عبد الرحیم...

مولانا مشتاق احمد کا مکتوب گرامی

― مولانا مشتاق احمد

۸، ۹ شوال کو الشریعہ اکیڈمی میں منعقدہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی مجلس مشاورت کے حوالے سے ایک بات مزید عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ اگر وفاق المدارس سے وابستہ اہم علمی شخصیات ’میبذی‘ اور ’ہدیہ سعیدیہ‘ وغیرہ کو امام رازیؒ وغزالیؒ کی تصنیفات کو سمجھنے کے لیے ضروری خیال کرتی ہیں تو ان کی شخصیات وآرا اپنی جگہ مسلم ومحترم ہیں، لیکن ان سے یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر ہر طالب علم پر میبذی/ہدیہ سعیدیہ کا پڑھنا لازم کرنے کے بجائے اردو میں فلسفہ کے کسی سینئر استاد سے عام فہم اور جامع مانع انداز میں ایک کتاب لکھوا کر بطور تعارف شامل نصاب کر...

وفاق المدارس کے نصاب میں نئی ترامیم کے حوالے سے دینی مدارس کے اساتذہ کا ایک مذاکرہ

― ادارہ

اجتماع کی پہلی نشست کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کی جس میں شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے ’’درس نظامی کی اہمیت وافادیت‘‘ پر مقالہ پیش کیا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے ’’طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ تیسری نشست جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں شرکاء اجلاس نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترمیم...

مولانا زاہد الراشدی کا سفر بنگلہ دیش و دوبئی

― ادارہ

’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ء سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۴ء تک دوبئی اور بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور دوبئی، شارجہ، ابو ظبی، ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج اور دیگر مقامات پر متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری بھی اس دورہ میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ مولانا راشدی کے قلم سے اس دورہ کی تفصیلی رپورٹ اور تاثرات ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں شائع کیے جائیں گے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی گوجرانوالہ تشریف آوری۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری ۲۱ جنوری ۲۰۰۴ء...