ارضی نظام کی آسمانی رمز

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جدید دور کے ریاستی و جمہوری نظام کی فکری آبیاری ہابس (۱)، لاک(۲) اور روسو (۳)نے کی تھی ، پھر کارل مارکس(۴) نے اپنے عہد کے مخصوص احوال و ظروف کے طفیل اسے ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ ان مفکرین کے پیش کردہ نظریات اور ان کے اثرات اگرچہ عمومی نوعیت کے حامل رہے ہیں لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ان کا پس منظر اور واقعاتی حوالہ جات، مکمل طور پر مقامی ہیں۔ اس طرح ان نظریات کی خوبیوں اور ان میں مضمر آفاقی نکات کے باوجود، ان کا مقامی اور محدود واقعاتی حوالہ بعض تحفظات کو جنم دیتا ہے۔ یہ تحفظات آج کے دور میں نئے انداز اور نئی قوت سے سر ابھار رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہاں ان مفکرین کی نیتوں اور ان کے افکار پر تنقید مقصود نہیں، کہ انہی اور ان جیسے دیگر لوگوں کی ذکاوت کے طفیل تو نوع انسانی کا فکری کارواں زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج پھر کرۂ ارض اور عالمِ انسانیت کو ذکاوت درکار ہے تاکہ نہ صرف ابھرنے والے تحفظات ختم ہو سکیں بلکہ اکیسویں صدی کی دنیا اپنے قدو قامت کے مطابق نیا فکری ڈھانچہ بھی دیکھ سکے۔ جہاں تک ذکاوت کا تعلق ہے، مشہور مغربی نقاد پوپ(۵) نے کہا تھا کہ: ’’جو بات اکثر سوچی گئی مگر اتنی خوبی سے معرضِ اظہار میں نہ آئی‘‘۔

یہ مقولہ پڑھ کر پوپ کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ، لیکن ذرا ٹھہرئیے! اور دیکھیے کہ جانسن (۶) نے پوپ کی کس طرح خبر لی ہے۔ جانسن کہتا ہے کہ : ’’یہ تعریف غلط بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ اکثر سوچی جانے والی بات میں خرابی یہی ہوتی ہے کہ وہ اکثر سوچی جاتی ہے۔ ذکاوت کے لیے شرط یہی ہے کہ بات کو نئے سرے سے سوچا جائے‘‘۔

تو پھر یہ طے ہوا کہ ہمیں بات کو نئے سرے سے سوچنا ہو گا۔ تو آئیے پھر اپنی سی کوشش کر دیکھیں۔

موجودہ دنیا پر نظر دوڑائیے ، ہر طرف افراتفری ہے۔ کہیں بم دھماکے ہیں ، قتل و غارت ، لوٹ مار ہے اور کہیں کرپشن و لاتعلقی۔ یہ صورتِ حال کسی ایک خطے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ عموم کے زمرے میں آتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اور اس کا حل کیا ہے؟ ۔آئیے پہلے ’’کیوں‘‘ کو ایڈریس کریں۔ راقم کی نظر میں ہابس، لاک، روسو اور مارکس کے فکری ڈھانچوں پر قائم ہونے والے نظام جدید دور کی تبدیلیوں اور تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن جن تغیرات کو جنم دے رہے ہیں، مذکورہ نظام ان کا احاطہ کرنے سے مکمل طور پرقاصر ہیں۔ آج کے انسان کو تلاشِ ذات اور تحفظِ ذات جیسے مسائل درپیش ہیں۔ یہ مسائل ہی اس بے چینی ، اضطراب اور تشویش کو ابھار رہے ہیں جس کا اظہار بم دھماکوں سے لے کر کرپشن تک ہر برائی میں ہوتا ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مسائل کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جائے ۔ 

پہلے تلاشِ ذات کو لیتے ہیں۔ ذرا اپنے ارد گرد موجود لوگوں اور خود پر تنقیدی نظر دوڑائیے ، کیا ان کو اور آپ کو ’’ شخصی بالیدگی ‘‘ حاصل ہے؟ آپ کو یہ سوال ہی بہت عجیب اور دقیانوسی معلوم ہو گا کہ بھلا یہ کیا سوال ہوا؟ زندگی تو سماجی رشتوں کی مرہونِ منت ہے ، یہ بیچ میں شخصی بالیدگی یا ذات کی بالیدگی کہاں سے ٹپک پڑی؟ حالانکہ امر واقعہ یہی ہے کہ ہم لوگ اپنی ذات کھو بیٹھے ہیں۔ ایک مثال کے ذریعے اس کی وضاحت پیشِ خدمت ہے۔ ذرا ٹی وی فلموں کے اداکاروں کو دیکھیے، وہ لوگ بیسیوں کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کردار میں خود کو گم کر دیں تاکہ متعلقہ کردار جیتا جاگتا نمونہ نظر آئے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ کردار کو بہترین انداز سے ادا کرنے کے بعد کیا اداکار کی اپنی شخصیت، جو کردار ادا کرنے سے پہلے تھی ، ختم ہو جاتی ہے؟ کیا وہ اداکار اس کردار کو اپنی باقی زندگی پر حاوی کر لیتا ہے ؟ کیا وہ اپنی ذات یا شخصیت کو بھول جاتا ہے؟۔یقیناًایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو نئے کردار کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے تا کہ اس کے روزگار اور شہرت کا سلسلہ چلتا رہے ۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ حقیقت میں یہ اس کی اپنی ذات یا شخصیت ہے جس کے توسط سے وہ مختلف کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے وہ کردار ادا کرنے کے بعد واپس اپنی ’’ذات‘‘ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو بھولنے کی غلطی نہیں کرتا، اگر وہ بھول جائے تو ظاہر ہے نہ صرف اداکاری کی دوڑ سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ اسے ذہنی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے۔ اب ذرا غور کریں کہ ہم لوگ بھی معاشرے میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں، مختلف عمروں میں اور مختلف حیثیتوں میں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض کردار ختم ہو جاتے ہیں اور بعض نئے کردار اپنا لیے جاتے ہیں۔ شیکسپےئر(۷) نے بھی اپنی شہرۂ آفاق نظم All the World's a Stage (ساری دنیا ایک اسٹیج ہے) (۸) میں انسان کے زندگی بھرکے کرداروں کوسمیٹنے کی ہنرمندانہ کو شش کی ہے۔

راقم الحروف کی ناقص رائے میں ہم لوگ اپنے کسی نہ کسی کردار سے چمٹ جاتے ہیں۔ کوئی شخص صرف باپ بن کر رہ جاتا ہے، کوئی بیٹا، کوئی دوست اور کوئی بھائی۔ اس طرح خود کو کسی کردار میں گم کرنے کے بعد ہمارے لیے ممکن نہیں رہتا کہ اپنی ذات کی طرف بھی توجہ دیں ، ذات کی بالیدگی تو دور کی بات ہے۔چونکہ ہم اپنے کسی کردار کو ہی حرزِ جاں بنائے ہوتے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ زندگی اسی کا نام ہے ، لہٰذا کسی کردار کے کھو جانے پر انتہائی حد تک بوکھلا جاتے ہیں، پھر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زندگی اور زندگی میں مضمر مقاصد تو بدرجہ اتم موجود رہتے ہیں کہ زندگی ان قواعد کے مطابق رواں دواں ہے جنہیں منطق کبھی نہیں سمجھ سکتی۔ البتہ کسی کردار میں کھو جانے کی ہماری نرالی منطق ہمیں بے سرو پا ضرور کر دیتی ہے، لہٰذا یہ بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی ذات کی بالیدگی کی طرف متوجہ ہوں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سماجی رشتے ناتے اور دیگر تعلقات بھی اسی شخصی بالیدگی کے خمیر سے اٹھنے چاہییں، جیسا کہ اداکار کے ضمن میں بیان ہوا کہ وہ اپنی ذات کے طفیل ہی سارے کردار ادا کرتا ہے ۔ راقم کے خیال میں اس وقت ہماری صورتِ حال اس اداکار جیسی ہے جس نے اپنے آپ کو ایک کردار میں گم کر دیا ہے ، ’’فنا فی الکردار‘‘ ہو گیا ہے، ایسے شخص یا گروہ کی منزل ظاہر ہے ، ذہنی امراض کا ہسپتال ہے ۔کیا آپ راقم سے متفق نہیں ہیں کہ ساری دنیا ذات کے بحران کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن چکی ہے؟ بم دھماکے کرنے والے اور کرپشن میں ملوث افراد شاید اس لیے ایسے کاموں کی طرف راغب ہوتے ہیں کہ انہیں اس کردار کے کھو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کے گرد ان کی دنیا گھومتی ہے۔

اگر ہم کسی ایک کردار کے ساتھ چمٹ جانے کے حوالے سے پورے معاشرے پر عمومی نظر دوڑائیں تو وہ کردار ’’شہرت‘‘ کے نام سے عبارت ہے اور آپ نے اوپر پڑھ ہی لیا ہے کہ شیکسپےئر کی اس بابت کیا رائے ہے؟۔ ہاں!! ’’.... اس شہرت کی خاطر جو بلبلہ پانی کا ہے.....‘‘ شہرت آج کے عہد کا وہ کردار ہے جس کے سحر کا شکار فرد، دوسروں کی توقعات پر نظریں جمائے ہر وقت اداکاری کرتا رہتا ہے، وہ اپنا آپ بھول جاتا ہے۔بلاشبہ ذات کی بالیدگی کی قیمت پر شہرت کا حصول ایک بہت بڑی قربانی ہے جو آج کا انسان بلاسوچے سمجھے دیے جا رہا ہے۔

اب آتے ہیں تحفظِ ذات کی طرف۔ ہوتا یوں ہے کہ انسان اپنی ذات کے ان پہلوؤں کو جو کسی کرداری سانچے میں نہیں ڈھل سکے، پوری طرح پورے جبر سے دبا دیتا ہے۔ پھر جب زندگی کی شناخت کے عام وسیلے (خارجی و کرداری قسم کے) مفقود ہونے لگیں (۹) اور انسان بالکل اکیلا رہ جائے تو احساسِ تنہائی اسے آ گھیرتا ہے ، یہاں اسے اپنی اس داخلی قوت اور اندرونی وسائل کا سہارا لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے ، جن کی بالیدگی کی طرف اس نے کوئی توجہ نہیں دی تھی بلکہ الٹا ان کو پورے جبر سے دبا دیا تھا۔ اس طرح تنہائی اس کے لیے فقط ایک احساس نہیں ، بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر منہ پھاڑے کھڑی ہوتی ہے۔ یہیں سے تحفظِ ذات کا مسئلہ شروع ہوتا ہے کہ تلاشِ ذات میں ناکامی، تحفظِ ذات کو گھمبیر بنا دیتی ہے۔ اندریں صورت فرد کی ذات کا وہ حصہ جو کسی کرداری سانچے میں نہیں ڈھل سکا تھا اور جسے جبراً دبا دیا گیا تھا، یہاں پر’’ حفاظتی کشتی‘‘ کا کام دیتا ہے۔ آپ لوگ یہ بات تو بخوبی جانتے ہوں گے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو حفاظتی کشتی سے کود کر ڈوب مرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مسلسل شک اور غیر یقینی کے کرب کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بم دھماکے اور کرپشن اس لیے کرتے ہیں کہ ایسے ہی کسی کرب کو برداشت نہیں کر سکتے؟

تحفظِ ذات کے اس مسئلے کی نفسی جہت کے پہلوبہ پہلو اس کی دیگر جہات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ماحولیاتی اور حیاتیاتی جہتیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کرۂ ارض پر حیات، ماحول (۱۰)کی مرہونِ منت ہے۔ ماحول خراب ہو رہا ہے ، لہٰذا حیات ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی خرابی میں زیادہ قصور ہمارا اپنا ہے۔ ہم نہ صرف قدرتی وسائل کو بے دریغ خرچ کر رہے ہیں بلکہ افسوس ناک حد تک اس کے نتائج سے بھی غافل ہیں کیونکہ ہمیں شخصی بالیدگی حاصل نہیں اور ہماری ذات کا اظہار ان وسیلوں کے ذریعے بھی ہوتا ہے ، جنھیں ماحول اور قدرتی وسیلے کہا جاتا ہے ۔ اس لیے ہم ذات کے اظہار کی خاطر یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ نام نہاد تشخص کی خاطر ان وسائل کو بے دریغ نگل کر رہے ہیں، فرد کے طور پر بھی اور قوم کے طور پر بھی۔ جن معاشروں میں شخصی بالیدگی کی اہمیت جتنی کم ہے، وہاں ایسا رویہ اتنی ہی شدت سے موجودہے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ماحولیاتی کانفرنسوں کے موقع پر اکثر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ وہاں انفرادی اور قومی سطح پر ذات کا اظہار قدرتی وسائل کے بے دریغ خرچ کرنے پر منحصر ہے۔ ماحولیاتی خرابی سے حیات کس قدر ڈسٹرب ہو رہی ہے ، اس کا اندازہ اسی سے ہو جاتا ہے کہ:

(۱) ممبئی کی فضا میں سانس لینا ایسے ہے جیسے روزانہ دس سگریٹ پینا۔ لاہور کی فضا بھی اس سے بہتر نہیں ہو گی۔

(۲) بنکاک میں ایک ملین لوگ صرف ۱۹۹۰ کے دوران سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ، وہاں پھیپھڑے کے سرطان کی شکایت ملک کے باقی حصوں سے تین گنا زیادہ ہے۔

(۳) اوزون کی تہہ میں شگاف بڑھ رہا ہے ، اندازہ ہے کہ آئندہ پچاس سال کے دوران صرف امریکہ میں معمول سے 1.7 ملین زائد لوگوں کی موت جلد کے کینسر میں مبتلا ہونے سے واقع ہو گی۔آنے والے دنوں میں دھوپ سینکنے کو بھی اتنا ہی نقصان دہ سمجھا جائے گا جتنا آج سگریٹ نوشی کو سمجھا جاتاہے۔

(۴) پولینڈ میں دریا کے پانی کی کم از کم نصف مقدار اتنی زیادہ آلودہ ہو چکی ہے کہ صنعتی استعمال کے قابل بھی نہیں رہی ، اسی طرح کوریا میں بہت تیزی سے ہونے والی ’’ترقی‘‘ کے سبب یہاں کا دریا ، ناک ٹانگ ، بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔

(۵) پچھلے کئی عشروں میں ایک کے بعد دوسری مچھلی کی قسمیں کم یاب ہونے لگی ہیں، جن میں شمال مشرقی اوقیانوس کی ہرنگ، بحرِ اوقیانوس کی کاؤ، اور شمال مغربی بحر الکاہل میں پائی جانے والی سالمن ، شامل ہیں۔ شمالی اوقیانوس سے شروع ہونے والی یہ تباہی اب دنیا کے سب سمندروں تک پھیل چکی ہے۔ شمالی نصف کرے میں ، خصوصاً سکنڈے نیویا کی ہزاروں جھیلیں ایسی ہیں جن میں مچھلی با لکل باقی نہیں رہی۔ 

لہٰذا یہ واضح ہو گیا کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تباہی اور افراتفری کی نوعیت ، نفسی ہونے کے ساتھ ماحولیاتی اور حیاتیاتی بھی ہے۔اب یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ ہابس، لاک، روسو اور مارکس کے عہد میں انسانی مسائل کسی حد تک نفسی نوعیت کے ضرور ہوں گے، لیکن بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے دور میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی مسائل موجودہ نوعیت کے ہرگز نہیں تھے، اس لیے ان کی فکر نے بھی ان مسائل کو ایڈریس نہیں کیا۔مذکورہ مفکرین کے پیش کردہ نظریات اپنی جگہ اہم ہوتے ہوئے بھی ، اکیسویں صدی میں کسی طرح کی راہنمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ راقم کی رائے میں اہلِ مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید مسائل کا حل بھی انھی فکری حدود (Parameters) کے اندر ڈھونڈتے ہیں ، جن کے سوتے پچھلی صدیوں کے مقامی سرچشموں سے پھوٹے ہیں۔

خیر! آئیے، اب ہم اپنے دوسرے سوال کی طرف آئیں کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟ حل کے لیے ہمیں درج ذیل نکات کو ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا: 

(۱) پچھلے طرز کی نفی

(۲) نئے شعور کی کاشت

(۳) ظرافت ، بطور ایک قدر

(۴) خاندانی نظام

(۵) ثقافتی اپج پر مبنی سماجی نظام ، جس کی بنیاد پر نیا معاشی ڈھانچہ تشکیل پائے

(۶) حضوری

اگر ہم لوگ مسائل حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے پچھلے طرز کی نفی کرنا ہو گی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ہمیں غورو فکر کے پرانے سانچوں کو خیرباد کہنا ہو گا کہ مقامی ہونے کے باعث وہ گلوبل دنیا میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔خوش نصیبی ہے کہ ہم مسلمانوں کی مسلمانیت کا آغاز ہی ’’ پچھلے طرز کی نفی ‘‘سے ہوتا ہے۔ ’’لا ‘‘سے ہوتا ہے (۱۱)۔ اب ہمیں ’نہیں‘‘ کہنا آ جانا چاہیے۔ راقم کی ناقص رائے میں دنیا کی تاریخ میں اتنی تباہی حریتِ فکر سے نہیں آئی، جتنی تباہی اندھے اعتقاد سے آئی ہے۔ اندھے اعتقاد کی فضا ، مکالمے اور خود کلامی کی صلاحیت کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ خودکلامی ، شخصی بالیدگی کی اولین اینٹ ہے، اس کے بعد ہی انسان، مکالمے کے توسط سے معاشرے کے ساتھ اور دیگر خارجی مظاہر کے ساتھ شعوری رشتہ استوار کرتا ہے، ایسا رشتہ جس میں آسمانی رمز اور کائناتی پرتو جھلکتے ہیں۔یہاں یہ مت سمجھیے کہ آپ کو ایک بیمار قسم کی خود بینی کی دعوت دی جا رہی ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اپنی پہچان، دوسروں سے نتھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت اکثر لوگوں کی حالت اس اندھے کی سی ہے جو دوسروں کی پیٹھ چھو چھو کر اپنا راستہ تلاش کرتا رہتا ہے۔

خیر! جہاں تک نئے شعور کی کاشت کا معاملہ ہے، اس کے لیے پچھلے طرز کی نفی نا گزیر ہے۔ اس سلسلے میں مغرب کے مشہور نقاد ایڈگر ایلن پو (۱۲) نے کہا تھا کہ: ’’اختراع (جب تک کہ وہ کسی غیر معمولی ذہن کا نتیجہ نہ ہو) کسی صورت میں محض جذبہ اور وجدان کا نتیجہ نہیں۔ اگرچہ یہ ایک اعلیٰ قسم کی مثبت خوبی ہے مگر اسے حاصل کرنے کے لیے ایجاد سے زیادہ پچھلے طرز کی نفی ضروری ہے‘‘۔ 

نئے شعور کی کاشت کے لیے درکار پچھلے طرز کی نفی کا بہترین اظہار اسلام کے ابتدائی دور میں ہوتا ہے ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ چاروں خلفائے راشدین کا انتخاب چار مختلف طریقوں سے ہوا تھا (۱۳)۔ غور فرمائیے کہ صحابہ کرامؓ نے اپنے آپ کو پہلے خلیفہ کے انتخاب کے کرداریا قدر سے وابستہ نہیں کیا کہ باقی خلفا کا انتخاب بھی لازماً ایسے ہی ہوگا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ پہلے خلیفہ کے انتخاب کا ’کردار‘ ادا کرنے کے بعد واپس اپنی ’ذات‘ میں لوٹ گئے۔پہلے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر جو اختلاف (۱۴) سامنے آیا، اس سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے شخصی بالیدگی کی نیو پر ایک خارجی امر کا فیصلہ کیا (۱۵)۔ اسی سلسلے میں ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ جب رسول اکرمﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو بعض لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے اور بعض نے انکار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعوت وہی تھی، نبی وہی تھا، معاشرہ وہی تھا، پھر ایسا کیوں ہوا کہ بعض نے قبول کیا اور بعض نے انکار کیا ؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی بدیہی وجہ یہ ہے کہ جن اصحابؓ نے اسلام قبول کیا ، ان کی نفسیات میں بعض ایسے پہلو پہلے سے موجود تھے جن کے توسط سے انہیں فیصلہ کرنے میں، پچھلے طرز کی نفی کرنے میں، زیادہ دشواری نہیں ہوئی (۱۶)۔یہ پہلو ذات کی بالیدگی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ لہٰذا اسلام قبول کرنے والے اصحابؓ ، قبل از اسلام بھی اپنی ذات کی شناخت یا اظہار خارجی مظاہر و رشتوں میں نہیں ڈھونڈتے تھے ، کہ ان کے ختم ہونے یا چھن جانے پر ان کو شدید قسم کا احساسِ تنہائی اور تحفظِ ذات کا مسئلہ آ گھیرتا (۱۷) جبکہ اس کے برعکس ابوجہل جیسے لوگ شخصی بالیدگی سے عاری ہونے کے سبب خارجی رشتوں اور مروجہ اقدار کو ہی حرزِ جان بنائے بیٹھے تھے۔ ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ ذات کا کھوکھلا پن (ذات کی بالیدگی نہ ہونے کے سبب)، ان کے اندر نفسیاتی اعتبار سے یہ احساس اور خوف پیدا کر دیتا ہے کہ پچھلے طرز کی نفی سے، رشتوں اور اقدار سے منہ موڑ لینے سے ان کے قدم اکھڑنے لگیں گے اور وہ فنا کی بھیانک گھاٹیوں میں اتر جائیں گے (۱۸) چونکہ ایسے لوگ زندگی کی شناخت خارجی وسیلوں میں ہی پاتے ہیں، اس لیے ان وسیلوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ انہیں زندگی بے معنی سی لگنے لگتی ہے۔ حالانکہ انسان نے اپنی ذات کی بالیدگی کی طرف توجہ دی ہو تو خارجی رشتوں اور اقدار سے ایسی وفاداری کہ انسان کی ذات ہی گم ہو جائے، کبھی رونما نہیں ہوتی۔ (شاید کتا ہمارے مذہب میں اسی لیے نجس ہے کہ اس میں بھی مالک کے ساتھ ایسی ہی وفاداری پائی جاتی ہے)

اب ہم تیسرے نکتے کی طرف آتے ہیں، اور وہ ہے ظرافت بطور ایک قدر۔ آپ لوگ یہاں پر چونک جائیں گے کہ ایسی سنجیدہ گفتگو میں اس کی کیا تک؟ دراصل ظرافت کی یہی ’تک‘ ہے کہ یہ انسان کو بہت زیادہ موضوعی یا معروضی بننے سے روکتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کوئی شخص اپنی ذات میں بہت زیادہ گم ہو تو کوئی ظریف اس پر ’چوٹ‘ کرتا ہے (یہ تو جی اللہ میاں کی گائے ہے وغیرہ) اس پر نشانہ بننے والا مسکرانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا۔یہی مسکراہٹ اس امر کی علامت ہوتی ہے کہ وہ شخص حقیقت کی دنیا میں واپس آگیا ہے، اس کے پاؤں زمین پر لگ گئے ہیں۔ اسی طرح جو شخص بہت زیادہ معروضیت پسند ہو، صرف دنیا میں کھویا ہوا ہو، اس پر بھی کوئی ظریف موقع دیکھتے ہی پھبتی کس دیتا ہے۔ (یہ تو جی اپنے بھی خیر خواہ نہیں ، پھر بھلا .......) ماہرینِ نفسیات تو یہ کہتے ہیں کہ ہر لطیفہ ہمارے کسی نہ کسی ردِ عمل کی ترجمانی کرتا ہے، ردِ عمل کا دائرہ جتنا وسیع ہو گا ، لطیفہ اتنا ہی دل پذیر ہو گا۔

راقم کی نظر میں ظرافت اور خوش طبعی کا معقولیت، سمجھداری، ذہانت اوردانش سے دائمی رشتہ ہے۔ ظرافت انسان میں یہ خوبی پیدا کردیتی ہے کہ دوسروں کی غلط منطق، عام حماقت اور تضاد بیانی کو ہر روپ اور ہر رنگ میں سمجھ سکے۔ ایک لطیفہ ملاحظہ کیجئے: سیاسیات کا استاد اپنے شاگردوں کو ’’تقسیمِ اختیارات‘‘ کا سبق پڑھا رہا تھا۔ اس نے ایک شاگرد سے پوچھا کہ فرض کرو، ’پرویز‘ کے پاس دس اختیارات ہیں، ان میں سے اس نے دو ’جمالی‘ کو دے دیے ، اور چار ’پارلیمنٹ ‘ کو ۔ بتاؤ باقی کتنے بچے؟ شاگردنے جواب دیا ، سر ! باقی دس بچے۔ استاد نے حیرت سے پوچھا ، وہ کیسے؟ شاگرد نے شاگردِ رشید ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ، سر، میں پرویز کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ کسی کو کوئی اختیا رنہیں دے گا۔ 

خیال رہے، یہاں ظرافت سے مراد مسخرہ پن نہیں ہے۔ تھیٹروں میں کیا جانے والا بازاری مذاق ایک تو اس گھٹن کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں ظرافت موجود نہیں رہی، دوسرا یہ ظرافت کا متبادل بنتے ہوئے اس قدر کے منفی پہلو کو فروغ دے رہا ہے۔ عام لوگ اسی منفی پہلو کو ظرافت خیال کرتے ہوئے خود ظرافت کے خلاف ہو رہے ہیں ۔ اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔

جہاں تک سنجیدہ امور کی بابت ہلکی پھلکی چوٹ کرنے کا تعلق ہے، اس بارے میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسا ہونا ممکن ہے کہ لوگ مزاح کا شکار ہو کر ’کتھارسس‘ کر لیں ، جس سے ان کا غصہ اور اضطراب ختم ہو جائے، جو کہ سنجیدہ امور کو (جو غلط سمت میں جا رہے ہوں) ٹھیک کرنے میں استعمال ہو سکتا تھا۔ اس لیے ظرافت کی نوعیت (خاص طور پر جب سامنے مجمع ہو) ایسی ہونی چاہیے کہ یہ (منفی امور کی بابت) لوگوں کے دبے جذبات کو’ہوا‘ دے، اور اگر لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوں تو انہیں ذرا دبا کر درست سمت میں پیش قدمی کرنے کے قابل کرے۔ یوں سمجھیے کہ ظرافت معاشرتی ککر کا ’سیفٹی والو‘ ہے ۔ چونکہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے، لہٰذا اس قدر کو عالمی سطح پر اپنائے جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ مزاح کبھی کبھار ہو تو سنت ہے ، لیکن بطور عادت اختیار کرنا درست نہیں ۔ راقم کی نظر میں دل مردہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب مذاق بار بار کیا جائے، کیونکہ اس صورت میں اس کے مثبت اثرات زائل ہو جاتے ہیں، مقصود فوت ہو جاتا ہے۔ ظرافت کا بے جا استعمال، جذبات و احساسات کا ’کتھارسس‘ کر کے انسان کو بے حس کر دیتا ہے اور دل کا مردہ ٹھہرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ بہر حال خود نبی اکرمﷺ سے بھی ظرافت سے متعلقہ روایات منقول ہیں۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن ایک شخص اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔ فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ پہلے اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو۔ فرشتے اس کے آگے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی فہرست اس طرح پیش کریں گے کہ تم نے فلاں دن یہ کیا، فلاں دن یہ کیا۔ وہ بے چارہ اس کا اقرار کرتا جائے گا اور دل میں ڈرے گا کہ جب میرے بڑے گناہوں کی فہرست پیش کی جائے گی تو کیا ہو گا۔ فرشتے جب چھوٹے گناہوں کی فہرست پڑھ کر فارغ ہو جائیں گے تو اللہ کی طرف سے یہ حکم ہو گا کہ اس کو ہر گناہ کے بدلے ایک ایک نیکی دیتے چلے جاؤ۔ سرکارِ مدینہ ﷺ فرماتے ہیں کہ : اللہ غفور رحیم کی طرف سے یہ فرمان سن کر وہ شخص غل مچانے لگے گا کہ فرشتو، ٹھہرو ، ابھی تو میرے بہت سے بڑے بڑے گناہ باقی ہیں، ان کو بھی شمار کر لو، اس فہرست میں تو وہ مجھ کو نظر نہیں آ رہے۔ (یعنی ان گناہوں کے بدلے بھی مجھ کو نیکیاں ملنی چاہییں) حضرت ابوذر غفاریؓ جب یہ روایت بیان کرتے تو اس لفظ پر آ کر ٹھہر جاتے اور فرماتے کہ میرے آقا رسولِ خدا ﷺ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو اس قدر ہنسا کرتے کہ آپﷺ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگتیں۔ (۱۹)

آئیے ! اب خاندانی نظام کو ڈسکس کرتے ہیں جوہمارا چوتھا نکتہ ہے۔ جدید مسائل سے عہدہ برآ ہونے اور نئے ارضی نظام کی تشکیل میں خاندان کی اہمیت بلاشبہ کلیدی ہو گی۔ہم مسلمانوں نے اس بابت عجیب رویہ اپنایا ہوا ہے کہ خاندانی نظام ہمارے پاس ہے اور مغرب کو ہماری طرف دیکھنا ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سا خاندانی نظام؟ وہ جو سعودیہ میں ہے؟ یا ترکی میں، مصر میں ؟ یا پھر پاکستان میں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی چاروں صوبوں کے خاندانی نظام ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں ، جنھیں ہم ’اسلامی‘ کہتے ہیں۔ اس کے بعد برادریوں کے نظام الگ سے موجود ہیں جن کے اثرات خاندانی نظام پر مسلمہ ہیں۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ خاندانی نظام کی جڑیں ثقافتی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس لیے متعلقہ ثقافتی اقدار کے تناظر میں ہی اسے دیکھا جانا چاہیے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ثقافتی اقدار غیر متبدل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے کیونکہ خاندان کسی بھی اجتماعی نظام کی بنیادی اکائی ہے، اس لیے اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ موجودہ عالمی حالات کے سیاق و سباق میں (کہ دنیا وحدت کی طرف بڑھ رہی ہے) یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مغرب پر تنقید برائے تنقید کرنے کی بجائے، علاقائی ثقافتی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ، عالمی خاندانی نظام کے خدو خال کو واضح کریں ۔ 

اس وقت ہمارے ہاں خاندانی نظام میں رائج رویے بھی عجیب و غریب ہیں۔ کہیں زن مریدی ہے، کہیں والدین کی پرستش ہے اور کہیں بہن بھائیوں کے لیے زندگی تج دینے کی روایت۔ راقم یہاں پر پھر کہے گا کہ ہمیں خاندانی نظام سے وابستہ اقدار اور کردار وں کو شخصی بالیدگی کے سرچشمے سے ہی دیکھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمیں حکم ملا ہے کہ ’’اف‘‘ نہ کریں ( ۲۰)، لیکن ایسے صحابہ کرامؓ ہو گزرے ہیں جن کے والدین نے اسلام قبول نہیں کیا یا پھر بعد میں قبول کیا۔ ذرا غور کیجئے کہ اگر وہ صحابہ کرامؓ ’’اف‘‘ نہ کرنے کے حکم سے شخصی بالیدگی کے بغیر وابستہ ہو جاتے تو کیا پھر والدین کی ہلکی سی تنبیہ بھی انہیں اس نفسیاتی کیفیت سے دوچار نہ کر دیتی کہ لو! اب سب کچھ لٹ گیا، دنیا وآخرت برباد ہوگئی۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوا، کیونکہ صحابہؓ نے ’اف‘ کے حکم کو شخصی بالیدگی کے طفیل اس کے صحیح سیاق و سباق میں سمجھا اور اسی کے مطابق رویہ اختیار کیا۔ راقم کی رائے میں آج ہمارا خاندانی مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے خاندانی رشتوں، اقدار اور احکامات سے متعلقہ کسی نہ کسی ’’کردار‘‘ کو قبلہ و کعبہ بنایا ہوا ہے اور پھر دھونس یہ ہے کہ بس یہی ’’اسلامی خاندانی نظام‘‘ ہے ۔

جہاں تک ہماری بحث کے پانچویں نکتے کا تعلق ہے، اس کے مطابق سماجی نظام کو ثقافتی اپج پر استوار ہونا چاہیے کہ بعد میں اسی سے ’’ماحولیاتی معیشت ‘‘کے سوتے بھی پھوٹ سکیں گے۔ یہ آج کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ سماجی نظام کی تشکیل میں ’’تمدنی جدیدیت‘‘ پیش قدمی کرتے ہوئے بڑھتی جا رہی ہے اور’’ ثقافتی اپج ‘‘پسپائی اختیارکررہی ہے (۲۱)۔ ثقافت، وحدت اور رچاؤ کا نام ہے جبکہ تمدن، تصنع اور انتشار سے عبارت ہے۔ اسی طرح تمدن ’’سادگی‘‘ کو ہڑپ کرنے کے درپے ہے، جبکہ ثقافت ’’سادگی‘‘ کی بشارت دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلامی دعوت کی نوعیت تمدنی نہیں، بلکہ ثقافتی اور دانشورانہ ہے (۲۲) اگر ہم دعوتِ اسلامی کی ثقافتی جہت پر سرسری نظر دوڑائیں تو اس کی بنیادی قدر ’’سادگی‘‘ دکھائی دے گی۔ عالمِ انسانیت کو آج اسی قدر کی ضرورت ہے کہ اسی قدر کے بل بوتے پر نیا سماجی و معاشی ڈھانچہ تشکیل پائے گا جو نفسی، حیاتیاتی اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پا سکے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’تمدنی جدیدیت‘‘ کے ماحول میں یہ’’ ثقافتی قدر ‘‘کیسے راہ پا ئے گی؟ یہاں راقم آپ کو اس ’’خاموش اکثریت‘‘ کی طرف انگلی اٹھا کر جو دنیا میں ہر جگہ موجود ہے اور موجودہ صورتِ حال سے نالاں ہے، یہ کہے گا کہ اس کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ انسان نے تمدنی جدیدیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ انسانی ذات کی وہ جہت جسے ہم نے ابتدائی سطروں میں ’’حفاظتی کشتی‘‘ کا نام دیا تھا، آج بھی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ آن پڑتا ہے کہ اس وقت جو لوگ ’’ثقافتی اپج‘‘ کے علمبردار بنے ہوئے ہیں، ان کی اکثریت ’’مسخروں‘‘ پر مشتمل ہے کیونکہ اصل لوگ اس محاذ پر کام کرنے سے غافل ہو چکے ہیں۔ اندریں صورت یہ خطرہ موجود ہے کہ خاموش اکثریت کہیں خاموش ہی نہ رہ جائے(۲۳) اور تمدنی جدیدیت عالمِ انسانیت پر چھا کر نفسی، حیاتیاتی اور ماحولیاتی مسائل کو مزید گھمبیر کر دے۔

بہر حال! بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ راقم کی نظر میں صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہمیں سادگی اپنانی چاہیے، یا پھر علماء کرام کی طرح زبانی جمع خرچ کرنے سے کام نہیں چلے گا کہ’’اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے ‘‘۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس وقت ہمیں سادگی کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے نہ صرف علاقائی تقاضوں کو مدِنظر رکھنا ہو گا بلکہ اس امر پر بھی توجہ دینی ہو گی کہ ایک ہی فرد کے لیے عمر کے مختلف درجوں میں ’’سادگی‘‘ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں ؟ 

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سماجی نظام اور اس کی اقدار ہی معاشی رویے کو متعین کرتی ہیں، لہٰذاثقافتی اپج کے حامل مذکورہ سماجی نظام کی کوکھ سے ہی نئے معاشی ڈھانچے کے خدوخال جنم لیں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر آج کے سماجی نظام کی بنیادی قدر ’’سادگی‘‘ ٹھہر جائے تو اس کے نتیجے میں کتنی بڑی ’’معاشی تبدیلی‘‘ رونما ہو گی۔ایک نئی معیشت جنم لے گی جسے ہم ’’ماحولیاتی معیشت‘‘ قرار دینے میں حق بجانب ہوں گے (۲۴) اس نئی معیشت کا ظہور ، نوعِ انسانی کی بقا کے لیے ناگزیر ہے (۲۵) اگر فضول خرچی اور وسائل کا بے جا اسراف کرنے والی معیشت کی جگہ ایسی معیشت لے لے جس میں تیار شدہ سامان اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کے فضلے کو بار بار استعمال کیا جا سکے تو نہ صرف توانائی کے بے تحاشا استعمال میں کمی آئے گی(۲۶) بلکہ آلودگی میں بھی حیرت انگیز حد تک تخفیف ہو سکے گی۔ مثلاً:

(ا) اگر فولاد کو اس کے سکریپ سے تیار کیا جائے تو اس سے ہوائی آلودگی ۸۵ فیصد تک اور پانی کی ۷۶ فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔

(ب) کاغذ کی تیاری میں اگر ردی کاغذکو ہی خام مال کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف ہوا کی آلودگی کو ۷۴ فیصد اور پانی کی آلودگی کو ۳۵ فیصد تک گھٹایا جا سکتا ہے بلکہ جنگلات پر پڑنے والے بوجھ میں بھی اسی تناسب سے کمی ہو سکتی ہے جتنی مقدار میں ردی مال کام میں لایا جائے گا۔ خیال رہے ردی کاغذکے ایسے استعمال سے زمینی آلودگی بھی ختم ہو سکتی ہے ،جو ردی کاغذ کے کچرے سے پیدا ہوتی ہے ۔ 

(ج) ڈسپوزیبل بوتلوں کی جگہ اگر شیشے کی بوتلیں استعمال کی جائیں تو توانائی اور خام مال کی بہت بڑی مقدار بچ جاتی ہے۔ اگر کئی دفعہ استعمال ہو سکنے والی شیشے کی ہر بوتل میں اوسطاًدس دفعہ مشروب بھرے جائیں تو توانائی کے استعمال میں فی بوتل ۹۰ فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ (۲۷) 

کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کی پروفیسر سوزن اوئنز کا کہنا ہے کہ ’’ صنعتی ملکوں میں جتنی توانائی استعمال ہوتی ہے، اس کے نصف سے زیادہ کا تعلق اس ’’بعدِ مکانی‘‘ سے ہے جو لوگوں کے گھروں، ان کی ملازمت کی جگہوں اور خریداری کے مراکز کے درمیان پایا جاتا ہے۔ گھروں اور روزگار کی جگہوں میں یہ دوری توانائی کے ضائع ہونے اور ماحول کے خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ‘‘۔ ظاہر ہے یہ دوری سٹیٹس کے سبب سے ہے۔ لوگ ’پوش‘ علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ شہر کے ایک کونے میں گھر ہے، دوسرے کونے میں روزگار ہے اور تیسرے کونے میں بچے پڑھتے ہیں۔ اب خود اندازہ کیجیے کہ اس سے ٹریفک، آلودگی کے مسائل اور وقت و توانائی کا ضیاع بھی ہوتا ہے اور فراغت کے لمحے بھی کم رہ جاتے ہیں جس سے نفسی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا ’سادگی‘ کے در آنے سے ’’بعدمکانی‘‘ کا مسئلہ بھی کافی حد تک کنٹرول ہو سکتا ہے کہ سٹیٹس کلچر ختم ہو جائے گا۔

اس وقت جاپان، جنوبی کوریا اور چین کے کئی شہروں میں انسانی فضلے سے آلودہ پانی کو کارآمد بنا کر واپس کھیتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہاں شہروں کے ارد گرد سبزیوں کی کاشت کے علاقے بنائے گئے ہیں۔ اس سے ایک تو ٹرانسپورٹ وغیرہ کا خرچ کم ہونے سے سبزیاں سستی پڑتی ہیں، توانائی بچتی ہے اور دوسرا سبزیوں کے ضیاع کی مقداربھی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ مارکیٹ کھیتوں کے قریب ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شہروں کو بہت زیادہ پھیلنا نہیں چاہیے تا کہ قریبی مضافاتی علاقے ختم نہ ہوتے جائیں اور نتیجے میں شہریوں کو مہنگائی، ماحول کی خرابی وغیرہ جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر سماجی سطح پر ’سادگی‘ راہ پا جائے تو شہروں کی توسیع خود بخود تھم جاتی ہے۔

ماحولیاتی معیشت کے فروغ کے لیے اب مصنوعات کی ’’غیر ضروری پیکنگ‘‘ کو بھی روکنا ہو گا۔ یہ پیکنگ اکثر اوقات تصنع، نمائش اور دکھاوے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف مہنگائی ہوتی ہے بلکہ توانائی کے ضیاع کے ساتھ ساتھ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں خوراک کے سامان کی پیکنگ پر، صارفین کو خرچ کا جو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، وہ بعض صورتوں میں کاشتکاروں کی اصل آمدنی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ملک میں بھاری پیکنگ ٹیکس لگایا جائے اور سادگی کی طرف واپس آتے ہوئے ایسے تھیلے بنائے جائیں جو پائدار ہوں اور بار بار استعمال میں بھی آسکیں (۲۸)

بہر حال! اس مختصر تذکرے سے ماحولیاتی معیشت کا خاکہ سا سامنا آجاتا ہے جو یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ نوعِ انسانی کو اسی قسم کی معیشت کی ضرورت ہے اور اس معیشت کی کامیابی ایک مخصوص سماجی رویے کے اثرو نفوذ سے مشروط ہے ۔ 

اب ہم بحث کے چھٹے اور آخری نکتے کی طرف آتے ہیں جسے ہم نے ’’حضوری‘‘ کا نام دیا تھا۔ شہزاد احمد (۲۹) نے اپنی ایک نظم ’’ہوا ٹھہری ہوئی ہے‘‘ میں کہا ہے کہ: 

’’۔۔۔مگر ان وسعتوں میں 
جو ہر اک جانب بکھرتی جا رہی ہیں
ہم تو ریزہ بھی نہیں ہیں 
سمے کے بپھرے دریاؤں میں قطرہ بھی نہیں ہیں 
عبادت کرنے والے اس جہاں میں 
ایک سجدہ بھی نہیں ہیں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

جی ہاں! ہماری اوقات یہی ہے۔ لیکن ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ (۳۰)کا ازلی مکالمہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم کچھ نہ کچھ ضرور ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے مذہبی طبقے نے (ثقافتی سطح پر) خدا کا ایسا تصور متعارف کرایا ہے جس کے مطابق انسان ، خدا سے ’’خوف‘‘ ہی کھا سکتا ہے۔ اور خوف، انسان کے یقین کو دھندلا دیتا ہے۔ خدا کی ربوبیت پر سے انسان کا یقین (۳۱) کمزور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی تاریخ (۳۲)یہی بتاتی ہے کہ ’تصورِخدا‘ ہر عہد میں موجود رہا ہے، پھر بھلا ’خوف‘ کی کیا تک؟ خوف تو عام طور پر ’اجنبیت‘ کا پیدا کردہ ہوتا ہے اور ہم لوگ خدا سے ’اجنبی‘ نہیں ہیں۔ کم ازکم یہ مکالمہ تو یہی کچھ بتاتا ہے۔ آپ کسی پرندے یا جانور کے قریب جائیے جس کے لیے آپ ’اجنبی‘ ہیں، آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ سے خوف زدہ سا ہے، اسے آپ پر یقین نہیں ہے کہ پتہ نہیں آپ کیا ہیں ؟ اس سے کیا چاہتے ہیں ؟ اس سے کیسا سلوک کریں گے؟ یہی حالت ہماری اس وقت خدا سے تعلق میں ہے۔ ہم لوگ خوف زدہ ہیں کہ نجانے خدا کیا کرے گا؟ اس ’کیا‘ کا جواب ہمارے مذہبی طبقے نے بہت حد تک منفی دیا ہے کہ بس خیر نہیں، خدا نہیں چھوڑے گا وغیرہ۔ 

راقم کی رائے میں ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ کی معنویت کو ثقافتی سطح پر آشکار کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر ایسا ہو سکے تو اسی سے وہ ’’حضوری‘‘ جنم لے گی جس کا ارضی منتہا و مقصود ’’وحدتِ انسانی‘‘ ہے۔ آپ لوگوں نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب چار لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے ہوں تو ’مزہ‘ آنے پر بعض لوگ ’چٹخارہ‘ بھی لے لیتے ہیں، واہ بھی کہہ دیتے ہیں لیکن ایسے لوگ جن پر ’تہذیب‘ کی ملمع کاری ہوتی ہے، گردن میں سریا لیے مشینی انداز میں کھاتے رہتے ہیں۔ یہی صورتِ حال وحدتِ انسانی کی ہے۔ جب اس وحدت کی بات کی جاتی ہے تو ’’سادہ لوگ‘‘ فوراََ واہ کہہ ڈالتے ہیں اور جن لوگوں کی گردن میں ’’تہذیبی سریا‘‘ ہوتا ہے، دل میں اچھل کود ہونے کے باوجود، سنجیدہ بنے رہتے ہیں، یہاں کسی ظریف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ان کی خام خیالی پر ’چوٹ‘ کر سکے۔ نوعِ انسانی کے ’ظریف‘ کہاں ہیں؟

حاصلِ بحث

ہم کہہ سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کا اصل بحران ’ذات کا بحران‘ ہے ۔ اس وقت ساری دنیا ایک ہسپتال معلوم ہوتی ہے جس میں ایسے مریض داخل ہیں جو ذات کے بحران کا شکار ہیں۔ حفاظتی کشتی کی سوار، مشرقی اور مغربی دانش دوراہے پر ہے کہ ذات کی بالیدگی کی طرف قدم بڑھائے یا پھرخود کو ’’ڈاگ سائیکی‘‘ کا شکار رکھ کر، لاتعلقی بے حسی اور تعصب کے عفریت کو راہ پانے کا موقع دے۔ بڑھی سیدھی سی بات ہے کہ عالمی دانش کو شخصی بالیدگی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا کہ انسان کا ’’ماحول‘‘ اتنا اہم نہیں ہوتا ، جتنی اہم یہ بات ہوتی ہے کہ انسان ماحول کے ساتھ ’’کیا رویہ‘‘ اختیار کرتا ہے؟ آخر بہشت کے ماحول میں کیا خرابی تھی کہ انسان کو وہاں سے نکلنا پڑا؟ اب زمین اور کرۂ ارض کا ماحول ہمارے سامنے ہے،حیاتیاتی اور نفسیاتی وغیرہ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے کہ ماحول کے ساتھ ہمارے رویے سے ہی ’’نئی تہذیب‘‘ جنم لے گی۔ اگر ہمارا رویہ شخصی بالیدگی کی آسمانی رمز سے پھوٹا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایسی تہذیب تشکیل نہ دے سکیں جس کی روح میں ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ جیسا ازل سے ابد تک پھیلاہوا مکالمہ پنہاں نہ ہو۔ پھر ایسا کون ہو گا ، جو ایسی تہذیب کو ’’عالمی ‘‘ کہنے سے چوک سکے۔پروفیسر طارق محمود طارق (۳۳) کی نظم ’’ممکن نہیں ہوا سے‘‘ پر بات ختم کرتے ہیں کہ اس نظم میں ’’بلیٰ‘‘ کی باز گشت گونج رہی ہے : 

’’ ممکن نہیں ہوا سے 
جب اوراقِ گلاب اڑائے 
جب ذراتِ خواب اڑائے
چشم و دل میں الجھ کر ٹوٹتے 
کانٹے بھی لے جائے
عکس بھی رہنے دے نہ پیچھے 
شیشے بھی لے جائے
خواب اگر لے لے
خوابوں کے 
سائے بھی لے جائے
ممکن نہیں ہوا سے
ساری حِسّیں شل کر جاتا ہے 
تیز ہوا کا شور
سب کچھ بکھر بکھر جاتاہے
لیکن تیرا دھیان
تیرا دھیان بھی چھین لے مجھ سے 
ممکن نہیں ہوا سے‘‘


حواشی

(۱) انگریز مفکر تھامس ہابس (1588----1679) اسٹورٹ بادشاہوں سے تعلقات کے باعث جمہوری طرزِحکومت کو ناپسند کرتا تھا۔ انگلستان کی خانہ جنگی کے دوران میں بھی وہ شاہی خاندان کا طرفدار رہا۔ ایک عرصہ تک فرانس میں رہنے کے بعد1651 میں واپس انگلستان آیااور شاہی خزانے سے پنشن پائی۔(De Corpore politico, 1640) ، (De Cive, 1642 ) اور (Levithan,1651) ہابس کی مشہور تصانیف ہیں ۔Levithan کے معنی دیو پیکر عفریت کے ہیں، ہابس نے مقتدرِاعلیٰ کو اسی عفریت سے تشبیہ دی ہے۔

ہابس کے مطابق انسان کی قدرتی حالت کا زمانہ قبل از سماج کی صورت میں تھا۔معاشرہ موجود نہ ہونے کے سبب ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ (War of all against all) اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے لوگوں نے ایک معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کے مطابق لوگوں نے متفقہ طور پر اپنے تمام حقوق حکمران کو سونپ دیے ۔ حکمران اس معاہدے میں فریق نہ ہونے کے باعث بالاتر تھا۔ اب عوام کے لیے لازم ہے کہ حکمران کی اطاعت کریں، انہیں بغاوت کا کوئی حق نہیں کیونکہ معاہدے میں ایسی کوئی شق درج نہیں۔ اس طرح ہابس نے بادشاہوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والی تھیوری پیش کی اور ریاست کو فقط ایک معاہدے کی پیداوار قرار دے کر ریاست اور حکومت میں فرق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

(۲) انگریز مفکر جان لاک (1632.....1704) پارلیمنٹ اور جمہوری اقدار کا حامی تھا۔ اسے کچھ عرصہ ہالینڈ میں بھی ٹھہرنا پڑا۔1688 کے انقلاب کے بعد اس نے آزاد ماحول میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا ۔1690 میں اس کی مشہور کتاب On Civil Government منظرِعام پر آئی، جس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔ 

لاک کا کہنا ہے کہ انسان کی قدرتی حالت کا زمانہ معاشرتی زمانہ تھا۔ البتہ اسے قبل از سیاسی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔اس دور میں ایک نہیں بلکہ دو معاہدے ہوئے تھے۔ (۱)افراد کے مابین، (۲) افراد اور حکمران کے مابین۔ اس طرح دوسرے معاہدے میں فریق ہونے کے باعث حکمران بھی معاہدے کی شرائط کا پابند تھا، لہٰذا اگر حکمران اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا جس کے مطابق اسے فرائض ادا کرنے ہیں تو افراد بھی اس معاہدے کو ختم کرنے کے مجاز ہیں۔ اس طرح لاک نے ریاست اور حکومت میں فرق کر کے جمہوری طاقتوں کو مضبوط کیا اور بادشاہوں کے مطلق العنان اختیارات پر کاری ضرب لگائی۔

(۳) جان جیکس روسو (1712.....1778) فرانسیسی نژاد تھا۔ 1749 میں دیژون کی اکادمی کی طرف سے ’’علوم و فنون کی ترقی نے اخلاق کو پاکیزگی دی ہے یا انحطاط‘‘ کے موضوع پر مضمون نویسی کے مقابلے میں روسو انعام کا حقدار قرار پایا۔ اس نے اپنے دور کی تہذیب کو آڑے ہاتھوں لیا۔1754 میں اس کی تصنیف Discourses on the Origion of Inequality) ( منظرِعام پر آئی۔ اس کی تیسری تصنیف ایک ناول Nouvell Heloise, 1761) (ہے۔ روسو کی شہرہ آفاق تصنیف (کونترا سوسیال ) یعنی معاہدہ عمرانی 1762 میں سامنے آئی اور پھر اس کے بعد) Emile ( ایمیل تعلیمی تصنیف ہے۔ اس کی آخری تصنیف (Confessions) نے بھی فرانسیسی ادب میں تہلکہ مچا دیا۔ اس تصنیف میں روسو نے اپنی زندگی کا ہر پہلو بے دھڑک بیان کر دیا۔ اعترافات پر مبنی یہ سوانح عمری 1782 میں شائع ہوئی تو اسے پڑھ کر روسو کے مداحوں کو سخت ما یوسی ہوئی ۔ بے چارے کی زندگی بس کچھ ایسی ہی تھی۔

روسو کے نظریے کے مطابق بھی معاہدہ ایک ہی تھا۔ یہ معاہدہ ایک فرد کا تمام افراد کے ساتھ تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ہر فرد خود کو غیر مشروط طور پر پورے معاشرے کے حوالے کر دیتا ہے ، جسے روسو ’’ منشائے عام ‘‘ کا نام دیتا ہے۔ منشائے عام ہی مقتدرِ اعلیٰ ہے۔ اس طرح ہر فرد بیک وقت حکمران بھی ہے اور رعایا بھی۔ خیال رہے کہ روسو کے مطابق قدرتی حالت کا زمانہ بہترین زمانہ تھا۔

روسو کی کتاب ’’کونترا سوسیال ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کارلائل نے کہا تھا کہ: ’’ایک شخص روسو تھا۔ اس نے ایک کتاب معاہدہ عمرانی کے نام سے سپردِ قلم کی۔ اس کتاب کی اشاعت پر روسو کا تمسخر اڑایا گیا، اسے پاگل کہا گیا ، لیکن جب یہی کتاب دوبارہ اشاعت پذیر ہوئی تو اس کی جلد انھی لوگوں کے جسم کے چمڑے سے باندھی گئی جو اس کا مذاق اڑاتے تھے۔‘‘

(تھامس کارلائل 1795.....1881 انگلستان کا مشہور مورخ گزرا ہے۔ اس کے نزدیک تاریخ شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سر سید احمد خان نے خود کارلائل سے ملاقات کر کے اس کی تحقیقی کاوش کو سراہا تھا جب اس نے اپنی کتاب میں رسالت مآبﷺ کو دنیا کی عظیم ترین ہستی تسلیم کیا تھا)

(۴) کارل مارکس (1818....1882) سے کون واقف نہیں ۔ اس کے مداح تو اسے جانتے ہی ہیں ، نقادوں کے ہاں بھی وہ یکساں مقبول ہے۔حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ : 

رازدانِ جزو و کل از خویش نا محرم شد است
آدم از سرمایہ داری قاتلِ آدم شد است !

مارکس نے اشتراکی نظریے کو علمی انداز میں پیش کیا۔ اس نے ہیگل کی جدلیت کو معکوس انداز میں استعمال کر کے تاریخ کی مادی تشریح کی۔ مارکس کے نزدیک معاشی رشتے ہی دیگر رشتوں اور اقدار کا تعین کرتے ہیں۔نظریہ قدرِ زائد پیش کر کے مارکس نے ہلچل مچائے رکھی۔ کارل مارکس کی ذہانت کا اندازہ اس امر سے ہو جاتا ہے کہ اس نے 1835 میں( پیشے کے انتخاب کے بارے میں ایک نوجوان کے خیالات) کے موضوع پر ایک مضمون لکھا کہ’’... پیشے کے انتخاب میں ہمارے لیے فیصلہ کن محرک یہ ہونا چاہیے کہ اپنی ذات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ہم بنی نوع انسان کی بہبود کا کام بھی کریں ... انسانی فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آدمی دوسروں کی بہتری کے لیے کام کر کے ہی اپنی ذات کی تکمیل کر سکتا ہے ۔... ‘‘۔

مارکس نے شاعری بھی کی اور اپنی تین بیاضیں ’’ جینی‘‘ کو پیش کیں ، وہی جینی جس کے ساتھ مارکس کی شادی ہوئی ۔مارکس کی عہد

آفریں کتاب ’’سرمایہ ‘‘ہے جو 1876 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کے متعلق مارکس نے مزاحاً کہا تھا کہ اس سے تو اتنی قیمت بھی نہ ملی جتنی قیمت کے سگار اس نے اسے لکھتے وقت پھونک ڈالے تھے ۔ کارل مارکس نے انگریزوں کے خلاف چینیوں کی مسلح جدوجہد اور ہندوستان کی 1857 کی جنگِ آ زادی کی حمایت کی تھی ۔

(۵) الیگزینڈر پوپ ( 1688....1744) ،انگریزی ادب کا معروف شاعر و نقاد۔

(۶) ڈاکٹر جانسن انگریزی ادب کی تاریخ میں، اٹھارہویں صدی کی نو کلاسیکی اقدار کا آ خری نمائندہ ہے۔اپنے دور کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے وہ عقلیت اور عقلی و عملی اخلاقیات کا علمبردار ہے۔اس کا ایک اور خوبصورت قول ملاحظہ کیجئے: ’’فطرت کی تخلیقات میں ایسی صفات موجود ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور فن کی صلاحیتوں میں ایسی ترکیبیں ہیں جنھیں برتا نہیں گیا‘‘۔

(۷) ولےئم شیکسپےئر (1564...1616) ، ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایکٹر بھی تھا۔ اس کی تحریریں آفاقی نوعیت کی ہیں ۔ (Hamlet)،(Othello)،(Macbeth) (، اور (King Lear)نے شیکسپےئر کو انگریزی ادب کے علاوہ عالمی ادب میں بھی اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ اس کی دیگر تصانیف میں ،(Romeo and Juliet), (Julius Caesar and Antony and Cleopatra), (Timon of Athens and Coriolanus) وغیرہ شامل ہیں ۔ 

(۸) 

’’ساری دنیا ایک سٹیج ہے
اور سب مرد اور عورت اس کے اداکار ہیں
اپنے اپنے وقت پر سب آتے ہیں ،رخصت ہو جاتے ہیں 
اور ہر کوئی اپنی زیست میں کرتا ہے کردار کوئی 
اس کردار کے ہیں سات زمانے ۔سب سے پہلے شیر خوار بچہ
جو اپنی آیا کی بانہوں میں روں روں کرتا ہے اور دودھ الٹتا رہتا ہے
اور شکوہ کناں پھر اک لڑکا جو بستہ گلے میں ڈال مدرسے جاتا ہے
اور صبح سویرے روشن روشن چہرہ لیے دھیرے دھیرے سے چلتا ہے
جاتا ہے بھلاخوش ہو کے مدرسے کب کوئی۔ اور پھر عاشق بن جاتا ہے
بھرتا ہے وہ ٹھنڈے سانس دھونکنی کی مانند ، اور اک مغموم غزل بھی کہتا ہے
محبوب کے چہرے کی تعریف میں ۔اس کے بعد سپاہی بنتا ہے
اور کیسے عجیب عجیب سی قسمیں کھاتا ہے اور چیتے جیسی گھنی داڑھی رکھتا ہے
اور عزت کی خاطر وہ حسد بھی کرتا ہے ۔لڑنے مرنے پر آمادہ وہ ہر ہر لمحے رہتا ہے
اس شہرت کی خاطر جو بلبلہ پانی کا ہے
توپ کے منہ میں بھی جھٹ سے گھستا ہے ۔اور پھر منصف بن جاتا ہے 
اک گول مٹول سی توند لیے ، ہوں جس میں بھرے مرغے خصی 
آنکھوں میں بھرے سختی اور چہرے پر اک رسمی سی داڑھی 
مشہور مقولے دانش کے سب ازبر اور مثالیں بھی
اور یوں کردار وہ کرتا ہے ۔ پھر چھٹا زمانہ اس کے جسم کو ڈالتا ہے
اک پتلی دبلی اور پھسلوان سی پتلون کے اندر 
ناک پہ عینک ، پہلو میں بٹوہ
اور اس کے جوانی کے موزے جو ابھی تلک بھی سالم ہیں ،گویا کہ وسیع ہے اک دنیا 
اب اس کے سکڑے اور سمٹے سے تن کے لیے ، اور اس کی بڑی دبنگ سی مردانہ آواز 
دوبارہ بچگانہ سی اور اونچے سر کی ہوتی جاتی ہے
آوازمیں سیٹی بجتی ہے۔سب سے آخر کا منظر
جو اس رنگ برنگ عجب تاریخ کو ختم کرے
ہے دوسرا بچپن اور فراموشی خالص
بے دانت بھی، اور بے آنکھ بھی اور بے ذائقہ بھی ، اور بے سب کچھ‘‘

(۹) مثال کے طور پر ریٹائرڈاعلیٰ سرکاری ملازمین کو دیکھیے ، ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی شناخت ،اپنی ذات کی اتھاہ گہرائیوں کی بجائے خالصتاً خارجی وسیلوں پر کروائی ہوتی ہے۔یہ وسیلے(عہدے) ختم ہونے پر یہ لوگ بہت تنہا رہ جاتے ہیں ، کیونکہ ان کی اندرونی ذات بھی انھی خارجی وسیلوں سے مرتب ہوتی ہے۔لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ انسان خارج میں یعنی معاشرے میں اپنی شناخت شخصی بالیدگی کے توسط سے استوار کرے کہ اسی میں پائداری اور پختگی ہے۔

(۱۰) یہاں ماحول سے مراد Eco System ہے۔ایکو سسٹم کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارضی میں نباتات، معدنیات، پانی، فضا اور جاندار وغیر ہ کا ایک خاص تناسب اور توازن رکھا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حضرت انسان نے اس توازن کو بگاڑنے کی ٹھان لی ہے، جس کے منفی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔

(۱۱) ابومقائد شاعرِ عرب نے خلیفہ ہادی کی شان میں ایک قصیدہ لکھا، جس کے شروع میں حرف ’لا‘ تھا۔ خلیفہ نے کہا کہ قصیدہ تو اچھا ہے لیکن اس کی ابتدا حرفِ نفی ’لا‘ سے ہوتی ہے اور یہ حرفِ لا ہمارے لیے نامبارک فال ہے۔ شاعر نے جواب دیا کہ کلمہ توحید تمام جہان کے کلمات سے افضل ہے اور حرفِ ’لا‘ سے شروع ہوتا ہے ۔ خلیفہ نے اس جواب کو پسندیدہ قرار دے کر شاعر کو انعام واکرام سے نوازا۔

نیویارک میں بھی ایک کانفرنس کالج کی لڑکیوں کے مسائل پر منعقد ہوئی۔ اس میں یہ نکتہ پیش کیا گیا کہ ان لڑکیوں کو NO کہنا نہیں آتا ، انہیں ’’نو‘‘کہنا سکھایا جانا چاہیے۔

(۱۲) ایڈگر ایلن پو کے نظریات کی تشکیل ، انیسویں صدی کے امریکہ میں نو دولتی ذہن کی فنی و جمالیاتی اقدار سے بے تعلقی اور ان کی سخت گیر پیورٹن اخلاقیات نے کی۔ ایڈگر کے زیرِ اثر فرانس میں علامتیت(Symbolism) کی تحریک شروع ہوئی اور انگلستان میں فن برائے فن کی تحریک کا آغاز ہوا۔ پو کا کہنا ہے کہ ’’شدید ترین ، اعلیٰ ترین اور مقدس ترین مسرت ، تصورِحسن سے ملتی ہے۔‘‘

(۱۳) حضورِاکرمﷺ کے وصال کے بعد انصار، خلیفہ کے انتخاب کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ۔ خزرج قبیلے کے سردار سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ خلیفہ انصار میں سے ہونا چاہیے کیونکہ انصار نے مشکل وقت میں مسلمانوں کی مدد کی تھی۔حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ فوراًحضرت ابوبکر صدیقؓ کو سا تھ لے کر ابو عبیدہ بن جراحؓ کی معیت میں وہاں پہنچے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ انصار کی بات کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں، لیکن مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اس وقت مصیبتیں برداشت کیں جب اسلام کا کوئی نام لیوا نہیں تھا۔ مہاجرین نے اس کڑے وقت میں حضورِ اکرم ﷺ کا ساتھ دیا اس لیے ہم مہاجرین کی عزت کرتے ہیں اور انصار کی عزت بھی کرتے ہیں ، لہٰذا حکمران ہم ہوں گے آپ ہمیں مشورہ دیں گے اور ہم آپ کے مشورے سے کام کریں گے۔ انصار میں سے حبیب بن منظر نے کہا کہ ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے ہونا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اسے ناپسند فرماتے ہوئے نکتہ اٹھایا کہ اس سے اسلامی اتحاد کو سخت نقصان پہنچے گا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا حضرت محمدﷺ نے آپ کو مسلمانوں کی جماعت کرانے کے لیے نہیں کہا تھا ، آپ خلیفۃ الرسول ﷺ ہیں، آپ کی بیعت سب سے اچھی ہے جسے حضورِ اکرمﷺ نے پسند فرمایاتھا۔

جب حضرت ابوبکرصدیقؓ کا آخری وقت قریب آیا تو ان کے جانشین کے لیے ان سے رائے لی گئی، اگرچہ ان کی نظر میں حضرت عمرؓ موزوں ترین تھے ، لیکن انھوں نے ان کو جانشین نامزد نہیں کیا بلکہ اکابر صحابہ کرامؓ کو بلا کر ان کی رائے معلوم کی، پھر حضرت عمرؓ کی جانشینی کی بابت اپنی وصیت املا کروائی۔ صدیق اکبرؓ نے حالتِ مرض میں اپنے حجرے کے دروازے سے مسلمانوں کے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کیا تم راضی ہو اس شخص سے جسے میں تم پہ اپنا جانشین بناؤں ؟ خدا کی قسم ! میں نے غور و فکر کر کے یہ رائے قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے اور اپنے کسی رشتہ دار کو مقرر نہیں کیا ہے ، میں نے عمر بن الخطابؓ کو جانشین بنایا ہے ، پس تم ان کی سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ مجمع سے آواز آئی، ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

حضرت عمرؓ نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت چھ اصحاب کرامؓ کی مجلس بنا دی اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ باہمی مشورے سے ایک شخص کو خلیفہ تجویز کریں اور اعلان کر دیا کہ تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بنے، اس کی گردن ماردو۔ اس مجلس کے کہنے پر حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے مدینہ میں گھوم پھر کر عام لوگوں کی رائے معلوم کی۔ حج کر کے واپس لوٹنے والے لوگوں سے استصواب کیا، اور اس نتیجے پر پہنچے کہ چھ میں سے دو اصحابؓ زیادہ معتمد علیہ ہیں (۱)حضرت عثمانِ غنیؓ، (۲) حضرت علی مرتضیٰؓ۔ پھر حضرت عثمانؓ کی طرف لوگوں کا زیادہ میلان دیکھ کر ان کے حق میں فیصلہ ہوا۔

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سخت افراتفری تھی، اس موقع پر چند صحابہؓ حضرت علیؓ کے گرد جمع ہوئے اور خلافت سنبھالنے کی درخواست کی۔ حضرت علیؓ کے انکار پر بھی ان کا اصرار بڑھتا گیا، آخر کار علی مرتضیٰؓ نے فرمایا کہ میری بیعت خفیہ نہیں ہو سکتی اور مسلمانوں کی مرضی کے بغیر اس کا انعقاد ممکن نہیں۔ آپ مسجدِنبویﷺ میں تشریف لے گئے اور مہاجرین اور انصار کی بہت بڑی اکثریت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

حضرت علیؓ نے آخری وقت یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کی بیعت کر لی جائے ، فرمایا، میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں ۔ تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔ 

(۱۴) دیکھیے حاشیہ نمبر ۱۳، حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب 

(۱۵) حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی سپہ سالاری کے عہدے سے معزولی بھی قابلِ غور ہے ۔ خالد بن ولیدؓ ، جن کی تمام عمر گھوڑے کی پیٹھ پر گزری ، انہوں نے اپنے عہدے سے دستبرداری آسانی سے قبول کر لی۔ راقم کی نظر میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ خالد بن ولیدؓ نے سپہ سالاری کو کردار کے انداز میں لیا ۔ا ن کی شخصی بالیدگی ہی ان کے خارجی تعلقات کی بنیاد تھی، لہٰذاسپہ سالاری کے کھو جانے پر بھی ان کا معتدل اور معقول ردِعمل اسی امر کی غمازی کرتا ہے ۔ پاکستان میں آرمی چیف اس لیے اپنے عہدے سے چمٹے رہتے ہیں کہ اسی خارجی مظہر یعنی عہدے کے توسط سے ہی وہ اپنی شخصیت کی شناخت اور اظہار پاتے ہیں۔وہ عہدے کو کردار کی صورت میں نہیں لیتے ۔ہمارے جرنیلوں میں ذات کی بالیدگی صفر ہے۔

(۱۶) حدیثِ نبویﷺ ہے کہ تم میں سے جو لوگ قبل از اسلام بہترین تھے ، بعد از اسلام بھی وہی لوگ بہترین ہیں۔ (خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام اذا فقہوا)

(۱۷) ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ غریبوں میں قدرتی طور پر خارجی وسیلوں پر انحصار کم ہوتا ہے ۔ انہیں بار بار بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہو کر اپنے آپ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، ذات کو مجتمع کرنا پڑتا ہے ۔اس لیے ان کے ہاں شخصی بالیدگی زیادہ ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غریب لوگ ہی پہلے پہل مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جہاں تک امرا کا تعلق ہے ، ان کے ہاں سادگی ایسا وصف قرار پاتی ہے جس کے توسط سے ان میں بھی شخصی بالیدگی آ جاتی ہے، کیونکہ سادہ انسان خارجی مظاہر اور رشتوں ناتوں ، رواجات وغیرہ سے دور ہی بھاگتا ہے۔اس لیے اگر تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اسلام قبول کرنے والوں میں مکہ کے ایسے رےئس تھے جو سادہ تھا، اور ایسے غربا تھا جو قناعت پسند تھے ۔لہٰذا ہر دو کے ہاں ایک قدرِ مشترک جھلکتی ہے ، یعنی ذات کی بالیدگی کی قدر۔ اس قدر تک رسائی ہر دو نے اپنے اپنے مخصوص احوال و ظروف کو ایک خاص نظر سے دیکھنے سے پائی تھی۔کیا آج بھی عالمِ انسانیت کو ایسی ہی قدرِ مشترک کی ضرورت نہیں ہے؟ 

(۱۸) ایسے لوگوں کی مثال اس جانور سے بھی ملتی جلتی ہے جسے شکاریوں نے گھیر لیا ہو۔ایسا جانور اپنے وجوداور بقا کے مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہو تا ہے کہ اب اس کی خیر نہیں ! لیکن اہم بات یہ ہے کہ کسی جانور میں ایسا احساس جبلی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بقا کے مسئلے اور کسی دیگر مسئلے میں فرق، جبلی طور پر کرتا ہے۔انسان کی حالت اس سے بہت مختلف ہے۔ انسان صرف جبلت کا پابند نہیں ، اسے یہ اختیاردیا گیا ہے کہ وہ کسی عام مسئلے اور بقا و وجود سے متعلق خطرے میں خود خطِ امتیاز کھینچ سکے۔یہیں پر یہ نکتہ آ جاتا ہے کہ کوئی انسان اپنی بقا و وجود کو کس سیاق وسباق میں دیکھتا ہے؟ کیا خارجی وسیلوں کے حوالے سے دیکھتا ہے؟کیا اس کے لیے کوئی کاروبار ، کوئی عہدہ ، کوئی رشتہ ’ وجود‘ سے منسلک ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان میں سے کسی پر بھی حرف آنے کی صورت میں وہ بقاکے مسئلے سے دوچار ہو جائے گا اور انتہا پسند بن جائے گا۔ یورپ اور امریکہ اسی لیے انتہاپسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یہاں پر ایک سوال اسلامی دنیاکے حوالے سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ خودکش حملوں کو کس زمرے میں شمارکرے گی؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگوں نے بھی کسی عام مسئلے کو بقا کا مسئلہ بنا لیا ہے؟ راقم کی نظر میں یہ خود کش حملے ، ہمارے وجود پر ان حملوں کا جواب ہیں جو مغربیوں نے ہمارے تصورِ جہاد پر کیے، اور مختلف حیلوں بہانوں سے جہاد کو دین سے الگ کرنے، اسے مسخ کرنے کی صورت میں کیے۔ چونکہ ہمارے ہاں دین ایک ’وحدت‘ ہے اور اس کے عناصر ترکیبی ناقابلِ تقسیم ہیں ، اس لیے ہم مسلمانوں نے اسے بقاکے مسئلے کے طور پر لیا ہے، لہٰذا خودکش حملے اندریں صورت فطری معلوم ہوتے ہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ ہماری انتہاپسندی کا محرک ، مغربیوں کی انتہاپسندی کے محرک سے بہت بہتر ہے۔

پاکستان میں جاری فرقہ وارانہ انتہاپسندی کے تناظر میں ایک اور نکتے کی صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔راقم الحروف کے مطابق تو اس کی اصل میں بھی بقا کا مسئلہ پوشیدہ ہے۔ہر فرقہ پرست نے اپنے فرقے اور اس سے وابستگی کو بقا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔لہٰذا جب کبھی اس کے فرقے پر یا اس کی وابستگی پر حرف آنے لگتا ہے ، وہ بھڑک اٹھتا ہے اور انتہا پسند بن جاتا ہے۔ایسے شخص کی پہچان اور شناخت متعلقہ فرقے کے توسط سے ہی ہوتی ہے، اسے یہ اندیشہ دامن گیر رہتاہے کہ فرقہ ختم ہونے سے یا اس کی وابستگی ختم ہونے سے اس کی اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ فرقہ واریت اسلام کی تعبیرو تشریح سے پھوٹی ہے اور ہر فرقے کی اپنی ایک بے لچک رائے ہے، جو اس کے لیے دین ہے ، اور اسی لیے اس کے ’وجود‘ کا حصہ ہے، لہٰذا راقم کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی عہد سے استشہاد کرنے کی کوشش کرے ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ وصالِ نبی اکرم ﷺکے بعدفوری طور پر چار مسائل سامنے آئے: 

(ا) وصالِ نبی اکرم ﷺ پر حضرت عمرؓ کا ردِ عمل

(ب)منکرینِ زکوٰۃ کا مسئلہ

(ج) نبوت کے نئے دعویدار

(د) حضرت اسامہؓ کے لشکر کی روانگی

فرقہ پرستوں ، شخصیت پرستوں سے گزارش ہے کہ حضرت عمرؓ کے ردِ عمل پر حضرت ابوبکرصدیقؓ کے خطبے کو بغور پڑھیں ۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: ’’ اے لوگو! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا ، اسے معلوم ہوجانا چاہیے کہ محمدﷺ فوت ہو چکے ہیں ، لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ زندہ ہیں ان پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی ۔‘‘۔ ذرا اندازہ کیجیے اگر اس وقت صدیق اکبرؓ کا خطبہ سامنے نہ آتا تو کیا ہوتا؟ 

راقم کی محتاط رائے یہی ہے کہ مذکورہ بالا چار مسائل میں سے پہلے تین صریحاً بقا کے مسئلے تھے۔اس لیے صدیق اکبرؓ نے کوئی لچک نہیں دکھائی۔ (فرقہ پرستوں سے گزارش ہے کہ انتہا پسندی کے ایسے ہی پیرامیٹرز ڈھونڈیں، کیونکہ اسلام میں اسی قسم کے امور کی بابت ا نتہا پسندی کی اجازت ہے)

اسی بات کوایک اور نظر سے دیکھیے۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ ’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے ہاں اپنے والدین اور اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ‘‘۔ اس حدیثِ مبارکﷺ سے نبی ﷺکے مقام کی وضاحت بخوبی ہو رہی ہے ۔ صدیقِ اکبرؓ کے خطبے کو اس حدیثِ نبویﷺ سے ملا کر پڑھیے، اور پھر والدین ، بہن، بھائی اور کسی کردار، قدر وغیرہ سے اپنی ’’وابستگی‘‘ کو دیکھیے ، اور فیصلہ کیجیے کہ ایسی وابستگی کا مقام ، کیا اور کہاں تک ہو نا چاہیے اور ہم نے کیا مقام دے رکھا ہے ؟ 

اب ذرا پہلے اور چوتھے مسئلے کے حوالے سے صدیق اکبرؓ کے فرمانِ مبارک پر غور کیجئے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کی مبارک شخصیت سے وابستگی کو درست نہج پر رکھتے ہیں ، اس کے بعد لشکرِ اسامہؓ کی روانگی کے وقت فرماتے ہیں کہ میں کیسے اس لشکر کی روانگی کو روکوں جس کی روانگی کا حکم خود رسولِ اکرمﷺ نے دیا تھا۔ اس سے یہ نکتہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ تزویراتی تقاضے شخصیت کے گرد نہیں گھومتے۔ ( اسی سے پاکستانی جرنیلوں کا پھوہڑپن ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ تزویراتی تقاضوں کو اپنی شخصیت سے وابستہ کر لیتے ہیں اور ان کی آڑ میں طالع آزمائی کے مزے چکھتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ رویہ ایک ایسی قوم کے ساتھ ظلم ہے جس کی بہت ابتدائی تاریخ نے درست سمت کی نشاندہی کر دی ہو)

(۱۹) ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ، دعا فرمائیے کہ میں جنت میں چلی جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی ۔ یہ سن کر وہ بڑھیا رونے لگ گئی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، چپ کر جاؤ ( میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ) جنت میں کوئی بوڑھا نہیں ہو گا ، وہاں تو سب جوان ہی ہوں گے۔ وہ بڑھیا آپ ﷺ کی یہ بات سن کر ہنس پڑی ۔

تحریکِ خلافت کے مشہور راہنما مولانا شوکت علی سے پوچھا گیا کہ جناب ! آ پ کے بڑے بھائی ذوالفقار کا تخلص ’’گوہر‘‘ ہے اور دوسرے بھائی مولانا محمد علی کا تخلص ’’ جوہر‘‘ ہے ، قبلہ! آپ کا تخلص کیا ہے؟ مولانا شوکت علی نے برجستہ جواب دیا : ’’شوہر‘‘ ۔ 

مولانا شوکت علی کو عربی نہیں آتی تھی لیکن عربوں سے عربی میں بات کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک مرتبہ چند نوجوان ان کے سر ہو گئے کہ آپ کو عربی آتی نہیں، پھر بات کیسے کر لیتے ہیں ؟ اس پر مولانا نے بگڑ کر کہا، واہ ! یہ کیا بات ہوئی ، ہم عربی خوب جانتے ہیں۔ اس پر کسی لڑکے نے پوچھا ، اچھا چلیے، یہ بتائیے کہ گھٹنے کو عربی میں کیا کہتے ہیں ؟ مولانا نے بلا تامل جواب دیا، گھٹنا عرب میں ہوتا ہی نہیں ۔

(۲۰) سورۃ اسرا میں ہے : ’’اور تم اپنے والدین سے ’اف‘نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور کہو ان سے اچھی بات‘‘

(۲۱) حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے زوال کو فقط ’’سیاسی احوال و ظروف‘‘ میں دیکھتے ہیں ، حالانکہ ہمارا اصلی زوال ، ثقافتی زوال ہے جس کے سبب سے ہمارے سماجی ڈھانچے سے ’’ثقافتی اپج‘‘ معدوم ہو گئی اور خالی خولی خیالات رہ گئے ہیں۔ نماز کو ہی لے لیں، یہ ہر صورت میں فرض ہے اور روزانہ ادا کی جاتی ہے ۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وقت کی پابندی سکھاتی ہے ، اس طرح وقت کی پابندی ، اسلام کی ثقافتی قدر ٹھہرتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قدر اس وقت ہمارے سماجی ڈھانچے میں رائج ہے؟ یقیناًنہیں۔ صرف شادی بیاہ کے موقع پر ہی اس کی قلعی کھل جاتی ہے۔شادی بیاہ پر ’’تمدنی جدیدیت‘‘ کے مطابق عمل کیا جاتا ہے اور ثقافتی قدر کو ’’دقیانوسی‘‘ قرار دے کر طاقِ نسیاں میں دھر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ’’وقت کی پابندی‘‘ ہمارے سماجی ڈھانچے میں بے ثقافت ہو کر محض ایک ’’خیال‘‘ رہ جاتی ہے۔ نماز کے حوالے سے ہی صف بندی اور ڈ سپلن کے پہلو کو دیکھیے ، معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہمارا صرف ’’جسم‘‘ ہی ڈسپلن سیکھتا ہے ، جہاں کہیں نماز کھڑی ہوتی ہے ہم لوگ ’’خودکار‘‘ انداز میں صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر یہی ڈسپلن ہماری ’’شخصیت‘‘ کا حصہ بن جائے تو لازمی بات ہے کہ ہم سماجی سطح پر بھی ’’خود کار‘‘ انداز میں قطاریں بنا لیا کریں ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ، اسی لیے ہمیں نمازیوں کی بہت بڑی اکثریت سماجی سطح پر ’’بے نماز‘‘ دکھائی دیتی ہے ۔

ہم مسلمان یہ راگ بھی الاپتے ہیں کہ :’’ہماری تہذیب شاندار ہے، ہم مغربی تہذیب کو اس کے مقابلے میں طفلِ مکتب سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘۔ حالانکہ درست بات یہ ہے کہ ہماری تہذیب شاندار تھی اور بس۔ موجودہ وقت کی تہذیب کو کیسے شاندار کہا جا سکتا ہے؟ اہل نظر جانتے ہیں کہ ہلاکو خان نے اگرچہ بغداد کو فتح کر لیا تھا ، لیکن اسلام کی تہذیبی قوت کو تسخیر نہیں کر سکا تھا کہ اس (تہذیبی قوت)کے پیچھے ثقافتی اپج موجود تھی، لہٰذا اس فرنٹ پر فاتحوں کو شکست ہوئی تھی۔ برِصغیر میں انگریزوں کی آمد پر ایسا نہیں ہو سکا اور مسلمان تہذیبی سطح پر بھی شکست کھا گئے، اسی لیے ہم انگریزوں کو مسلمان نہیں کر سکے۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی تہذیبی قوت بھی ہم سے بہت بہتر تھی کیونکہ اس کے پیچھے ثقافتی اپج موجود تھی۔ اس وقت بھی یہی صورتِ حال ہے ، ذرا اپنے سماجی ڈھانچے کو دیکھیے، اس میں صرف ’’خیالات‘‘ ہیں (بعض خیالات بھی درست نہیں ہیں)، سچ بولنا چاہیے، وعدہ خلافی نہیں کرنی چاہیے ، ملاوٹ نہیں کرنی چاہیے، سادگی اپنانی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔اس کے مقابلے میں مغرب کے سماجی ڈھانچے کو ملاحظہ کیجئے، کیا وہاں صرف ’’خیالات‘‘ ہیں؟ لہٰذا اگر ہم اب بھی اسی بات پر مصر ہیں کہ ہماری تہذیب شاندار ’’ہے‘‘ تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ ۔

اسی بات کو ایک اور رخ سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے ثقافتی زوال کا تجزیہ نہیں کیا ، شیکسپیئر کی مانند ’’المیہ‘‘ نہیں لکھا، کوئی ظریف بھی ہمیں اس امر کا احساس نہیں دلا سکا ، اور نہ ہی ہمیں کوئی ’’گبن‘‘ مل سکا ، جو ہمارے ثقافتی زوال پر اسی اتھارٹی سے قلم اٹھاتا جیسے اس نے سلطنتِ روما کے زوال پر اٹھایا تھا۔ 

(۲۲) اس موضوع پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے: ’’اسلامی دعوت کی ثقافتی جہت‘‘

(۲۳) یہاں پر راقم کی ایک نظم بعنوان: ’’ شعور کے آنسو‘‘ کا تذکرہ غیر مناسب نہیں ہو گا، ملاحظہ کیجئے:

’’میں نے دیکھا !
فطرت سے بھاگتی
دریچے سے راہ مانگتی
اک ہراساں کرن
فرار چاہتی ہے!!
شاید۔۔۔۔۔
شعور سے تہی ہے
(کہ زیست اتنی ہی ہے یا شاید اس سے بھی کچھ کم)
میرے رفیق ! اٹھو
فرار سے فرار کرو
کہ!! ان خرابوں کے سرابوں میں 
وہ تیرا آنسو ہے !
فضائے شبنمی کا نقیب۔‘‘

(۲۴) ماحولیاتی معیشت سے راقم کی مراد فقط یہ ہے کہ معاشی امور میں ’’ماحولیاتی عنصر‘‘ کو پیشِ نظر رکھا جائے ، تاکہ ’’ایکو سسٹم‘‘ مزید ڈسٹرب نہ ہونے پائے۔ ماحولیاتی معیشت، قناعت کے ساتھ ساتھ ، رہنے سہنے کے ڈھنگ میں’سادگی‘ کا تقاضا کرتی ہے ۔ اس اعتبار سے اسلامی دنیا ’ماڈل‘ کے طور پر سامنے آ سکتی ہے ، کیونکہ ہماری بنیادی قدر ’سادگی‘ ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ہمارا دین ’وحدت‘ ہے ، یہ زندگی اور اس سے متعلقہ امور کو ’کل‘ کی صورت میں دیکھتا ہے اور تقسیم یا تخصیص نہیں کرتا۔(مغربی دنیا میں تخصیصیت نے بربریت پھیلا رکھی ہے) اس طرح ہماری زندگی کے تمام پہلو ’باہم مربوط‘ ہیں کہ ہماری سماجی ، معاشی،سیاسی ، اخلاقی و دیگر اقدار’الگ الگ‘ نہیں ہیں۔راقم کی نظر میں اس موضوع پر کام کی ضرورت ہے : ’’اسلام کا تصورِ ماحول :سماجی و معاشی ڈھانچوں سے اس کا ربط اوران پر اس کے اثرات‘‘۔

(۲۵) یورپین کورٹ آف جسٹس نے یہ دلیل قبول کرتے ہوئے کہ’’ماحول کا تحفظ تجارتی فائدوں سے زیادہ اہم ہے‘‘ یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ڈنمارک میں مشروبات کی ایسی بوتلوں کا استعمال منع ہے جو ایک دفعہ کام آنے کے بعد ضائع ہو جاتی ہیں۔ 

(۲۶) توانائی کے ذخائر کے استعمال میں ’اسراف‘ ہی سے ماحولیاتی مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایک ماہر اقتصادیات ہرمن ڈیلی کہتا ہے کہ: ’’ہماری بنیادی غلطی ہماری یہ سوچ ہے کہ گویا زمین ایک تجارتی ادارہ ہے جو دیوالیہ ہو چکاہے کہ اس کے قرض خواہوں کو جو ہاتھ لگے، لے جائیں ‘‘لہٰذا ہم لوگ زمینی وسائل کے استعمال میں ’بے حس‘ ہو چکے ہیں ۔

(۲۷) دیکھیے حاشیہ نمبر (۲۵)

(۲۸) تھیلا ، دنیا کی ہر قوم کی ثقافت کا لازمی جز رہا ہے۔ گھر سے تھیلا لے کر کھانے پینے کی اشیا خریدنے جاناایک رچا ہوا رویہ تھا، جسے تمدنی جدیدیت نے منتشر کر دیا ہے ۔ اب لوگ ’ماڈرن‘ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے راہ چلتے ’شاپر‘ میں ہی ساری چیزیں انڈیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ دودھ دہی وغیرہ بھی ’شاپر‘ میں ڈلوا لیا جاتا ہے ۔ماحولیاتی آلودگی میں اس شاپر کلچر کا کتنا ہاتھ ہے، سبھی لوگ جانتے ہیں ۔ 

(۲۹) شہزاد احمد پاکستان کے معروف شاعر اور ادیب ہیں ۔ ان کے کئی شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔شہزاد صاحب کی شاعری میں تفکر کے باوجود بوجھل پن نہیں آیا۔ نفسیات کو اردو دان حضرات تک پہنچانے کے لیے بھی انھوں نے قلم اٹھایا ہے ۔

(۳۰) سورۃ الاعراف میں ہے :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ کہنے لگے، کیوں نہیں !‘‘

(۳۱) ایک موقع پر راقم نے ’’برگشتگی‘‘ کے عنوان سے یہ سطریں قلمبند کی تھیں :

’’حیات نے شاید
یقیں کے سارے لمحے!
چن لیے ہیں 
باقی زماں !
بے اعتباری ہے ‘‘۔ 

(۳۲) پلوٹارک ہمیں بتاتا ہے کہ :’’ ایسے شہر ملے ہیں جو بادشاہوں ، محلوں ، تہذیبوں کے نمونوں ، ادب اور تھیٹر سے محروم ہیں، لیکن کوئی شہر ایسا نہیں ملا جہاں عبادت گاہوں اور معبدوں کے آثارنہ ہوں ‘‘۔ خیال رہے پلوٹارک نے مشاہیرِ یونان اور روما پر قلم اٹھایا تھا۔ قدیم عہد کے اس مورخ کی تصنیفی کاوشوں سے فائدہ اٹھا کر ہی شیکسپیئر نے اپنے کرداروں کو اس انداز میں پیش کیا تھا کہ وہ لافانی ہو گئے، مثلاََ سیزر اور انطونی وغیرہ ۔ 

(۳۳) پروفیسر طارق محمود طارق، گورنمنٹ زمیندار کالج ،بھمبر روڈ گجرات میں شعبہ اردو سے منسلک ہیں ۔ شعر و شاعری اور تنقید و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں ۔ نفسیات سے بھی ان کی علیک سلیک کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ موصوف نے تراجم بھی خاصی تعداد میں کر رکھے ہیں ۔ ان کے بارے میں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ گجرات میں ’’دانشوری کا بھرم‘‘ انھی کے دم سے قائم ہے۔


آراء و افکار

(جنوری و فروری ۲۰۰۴ء)

Flag Counter