وفاق المدارس کے نصاب میں نئی ترامیم کے حوالے سے دینی مدارس کے اساتذہ کا ایک مذاکرہ

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۔۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو دینی مدارس کے اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف تعلیمی اداروں کے مندرجہ ذیل اساتذہ نے شرکت کی:

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد فیاض خان سواتی، مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد عمار خان ناصر، مولانا محمد عرباض خان سواتی
مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ
مولانا عبد الواحد رسول نگری
دار العلوم مدنیہ لاہور
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی
جامعہ فتاح العلوم گوجرانوالہ
مولانا حافظ احمد اللہ
جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ
مولانا قاری گلزار احمد قاسمی، مولانا حامد گلزار قاسمی۔
جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ
مولانا محمد یعقوب تبسم، مولانا ظہیر الدین بابر۔
جامعہ اسلامیہ کامونکی
مولانا عبد الرؤف فاروقی
جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم
مولانا ظفر اقبال، مولانا حافظ محمد ابوبکر
جامعہ حنفیہ قادریہ لاہور
مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا ذکاء الرحمن اختر
جامعہ عربیہ چنیوٹ
مولانا مشتاق احمد
جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ

مولانا حماد انذر قاسمی

معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد
مولانا محمد بشیر سیالکوٹی
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
مولانا حافظ محمد یوسف، مفتی محمد عامر، مولانا احسن ندیم، مولانا عبد الحمید، پروفیسر میاں انعام الرحمن، پروفیسر حافظ منیر احمد

اجتماع کی پہلی نشست کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کی جس میں شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے ’’درس نظامی کی اہمیت وافادیت‘‘ پر مقالہ پیش کیا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے ’’طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ تیسری نشست جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں شرکاء اجلاس نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں اظہار خیال کیا جبکہ چوتھی اور آخری نشست کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد کے مولانا محمد بشیر سیالکوٹی نے ’’دینی مدارس میں عربی کی تعلیم کا منہج اور ضروری اصلاحات‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کیا اور مولانا زاہد الراشدی نے ’’فکری اور مسلکی تربیت کے چند اہم پہلو‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔

وفاق المدارس العربیہ کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں نشست کی مختصر روداد درج ذیل ہے:

ترامیم کا خلاصہ

الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ مولانا محمد عمار خان ناصر نے نئی ترامیم کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نصاب میں چار طرح کی تبدیلیاں رو بہ عمل لائی گئی ہیں:

۱۔ بعض نئے مضامین کا اضافہ کیا گیا ہے، مثلاً:

  • سیرت وتاریخ جس کے تحت ثانویہ خاصہ سال اول میں عبد السلام قدوائی کی ’’مختصر تاریخ اسلام‘‘ اور عالیہ سال اول میں ابراہیم شریقی کی ’’التاریخ الاسلامی‘‘ پڑھائی جائے گی۔
  • علوم القرآن جس کے تحت عالمیہ سال اول میں الشیخ محمد علی الصابونی کی ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ پڑھائی جائے گی۔
  • جدید فقہی مسائل جس کے تحت عالمیہ سال اول میں مولانا تقی عثمانی کی ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت‘‘ پڑھائی جائے گی۔
  • مقارنۃ الادیان والفرق جس کے تحت عالمیہ سال اول میں مولانا اللہ وسایا کی ’’آئینہ قادیانیت‘‘ پڑھائی جائے گی۔

۲۔ بعض مضامین میں سابقہ کتب کی جگہ نئی کتب شامل کی گئی ہیں، مثلاً:

  • عالیہ سال اول میں فلسفہ قدیم کی ’’میبذی‘‘ کی جگہ ’’ہدیہ سعیدیہ‘‘ اور ’’ہدایت الحکمۃ‘‘، جبکہ عربی ادب میں ’’دیوان المتنبی‘‘ کی جگہ ’’مختارات من ادب العرب‘‘ پڑھائی جائے گی۔
  • عالیہ سال دوم میں حدیث کے مضمون میں ’’کتاب الآثار‘‘ کی جگہ ’’موطا امام محمد‘‘ اور ’’مسند امام اعظم‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔ 

۳۔ زیادہ تر مضامین میں پہلے سے پڑھائی جانے والی کتب کے ساتھ معاون کتب کا اضافہ کیا گیا ہے، چنانچہ:

  • ثانویہ عامہ سال اول میں نحوی قواعد کی تمرین کے لیے ’’المنہاج فی القواعد والاعراب، النحو الیسیر اور تسہیل النحو‘‘ شامل کی گئی ہیں۔
  • ثانویہ عامہ سال دوم میں ’’ہدایۃ النحو‘‘ کے ساتھ تمرینات از ’’تسہیل الادب‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  • ثانویہ خاصہ سال اول میں ’’اصول الشاشی‘‘ سے قبل ’’آسان اصول الفقہ‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
  • ثانویہ خاصہ سال دوم کے نصاب میں علم بلاغت کی دو کتابوں ’’دروس البلاغہ‘‘ اور ’’تلخیص المفتاح‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے جو عالیہ سال اول میں ’’مختصر المعانی‘‘ کی تعلیم کے لیے بنیاد کا کام دیں گی۔
  • عالیہ سال اول میں عقائد کے مضمون میں ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ کا جبکہ سال دوم میں ’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس درجے میں اصول حدیث میں ’’خیر الاصول‘‘ اور علم الفرائض میں ’’سراجی‘‘ کے ساتھ ’’تسہیل الفرائض‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
  • عالمیہ سال اول میں ’’ہدایہ‘‘ کے ساتھ اصول افتا پر ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ شامل کی گئی ہے۔

۴۔ بعض کتب کو ترتیب میں مقدم اور موخر کیا گیا ہے۔ مثلاً:

  • اصول تفسیر کی کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ کو، جو قبل ازیں عالمیہ سال اول میں پڑھائی جاتی تھی، عالیہ سال دوم کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
  • ’’موطا امام محمد‘‘ کو، جو عالمیہ سال دوم کے نصاب میں تھی، عالیہ سال دوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔

۵۔ بعض کتابیں نصاب سے بالکل خارج کر دی گئی ہیں جن میں عالیہ سال اول میں علم منطق کی ’’سلم العلوم‘‘، عربی شاعری کی ’’دیوان المتنبی‘‘، جبکہ عالیہ سال دوم میں قدیم فلسفہ کی ’’میبذی‘‘ شامل ہیں۔ اسی طرح عالمیہ سال اول سے علم بلاغت کی کتاب ’’مطول‘‘ خارج کر دی گئی ہے۔

اس کے بعد مذاکرہ کے شرکا نے فرداً فرداً ان تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مولانا مشتاق احمد (جامعہ عربیہ چنیوٹ)

  • عربی زبان وادب کی تدریس کے لیے نئے نصاب میں نسبتاً بہتر کتابیں شامل کی گئی ہیں، لیکن اس سے عربی بول چال کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس خامی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تدریس، مدرسے کی حدود میں گفتگو اور امتحانی پرچوں کے حل کے لیے عربی کو لازم قرار دے دیا جائے۔ 
  • عقائد میں شامل کی جانے والی کتب نئی ضروریات کے حوالے سے ناکافی ہیں۔ اس ضمن میں نصابی ضروریات کے پیش نظر ایک نئی کتاب مرتب کروانے کی ضرورت ہے۔
  • قدیم فلسفہ میں ’’میبذی‘‘ کی ’’ہدیہ سعیدیہ‘‘ کو شامل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معاملہ جوں کا توں رہتا ہے۔ ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ عقلی استدلال کے حوالے سے نہایت مفید ہے لیکن اس کے لیے خود استاذ کو گہرے مطالعہ اور غیر معمولی تیاری کی ضرورت ہے۔
  • مقارنۃ الادیان والفرق کا اضافہ خوش آئند ہے۔
  • تاریخ سے علما وطلبا کی شناسائی کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ اس ضمن میں تاریخ کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرنا اچھا اقدام ہے۔
  • ’’سلم العلوم‘‘ کی طرح کی کتابوں کا اخراج بھی مثبت قدم ہے۔

مفتی محمد عامر (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)

  • عربی صرف ونحو کی موجودہ کتابیں اور طرز تعلیم مطلوبہ استعداد پیدا نہیں کرتیں اور درجہ رابعہ تک مسلسل عربی قواعد پڑھنے کے باوجود عربی سے مناسب شناسائی نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ’’کافیہ‘‘ اور ’’شرح جامی‘‘ وغیرہ کتابوں میں غیر ضروری طویل بحثیں کی جاتی ہیں۔ ’’علم الصیغہ‘‘ فارسی کی جگہ اردو کو شامل نصاب کرنا چاہیے۔اسی طرح ’’کافیہ‘‘ اور ’’شرح جامی‘‘ کی جگہ دوسری سہل اور مفید کتابیں شامل کرنی چاہییں۔
  • قدیم عربی زبان وادب کے حوالے سے تو بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن جدید عربی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہمارے علما وطلبا جدید عربی ذخیرے سے استفادہ کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی طرح بول چال اور تحریر وتقریر میں عربی زبان کے استعمال کی صورت حال پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ کراچی کے اکثر مدارس میں معہد اللغۃ العربیہ قائم ہے جس سے استفادہ کرنے والے طلبہ عربی زبان میں پرچے حل کرتے ہیں اور اس طرح امتحانات میں اچھی پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں۔
  • مدارس کے طلبہ کا اردو تلفظ، املا اور استعمال بھی کافی کمزور ہے، اس لیے اردو زبان کو بھی بطور مستقل مضمون کے شامل نصاب کرنا چاہیے۔

مولانا محمد ابوبکر (جامعہ حنفیہ جہلم)

  • درس نظامی کا کورس پہلے ہی کافی طویل ہے اور اس کے دورانیے میں اضافہ نئے آنے والے طلبہ کے لیے مزید توحش کا باعث بنے گا۔

مولانا عبد الحمید (چار سدہ)

  • جدید عربی کو بھی نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
  • معیشت وتجارت کے حوالے سے اسلامی احکام وقوانین کے ساتھ ساتھ جدید معاشیات کو بطور مستقل مضمون کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔

مولانا احسن ندیم (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)

  • عربی زبان کی تعلیم کے حوالے سے قدیم عربی کے ساتھ جدید عربی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
  • میٹرک تک جدید تعلیم کو، اختیاری درجے میں ہی سہی، شامل نصاب کرنا مستحسن اقدام ہے۔ اسی طرح بی اے کی سطح تک جدید تعلیم کو بھی نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ جس طرح میٹرک کے لیے ایک سال الگ مخصوص کر دیا گیا ہے، اسی طر ح ہر مرحلے کی تکمیل پر اگلے مرحلے میں داخلے سے قبل ایک سال مساوی جدید تعلیم کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ مثلاً عالیہ سے قبل ایف اے اور عالمیہ سے قبل بی اے مکمل کرنا ضروری قرار دیا جائے۔
  • اردو زبان وادب کو بھی باقاعدہ نصابی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔

مولانا محمد عمار خا ن ناصر (مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)

  • عربی زبان وادب کی تعلیم کے لیے کیے جانے والے اضافے اور تبدیلیاں یقیناًمثبت ہیں، تاہم چند مزید پہلووں پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ بعض کتابیں مفید ہونے کے باوجود غلط جگہ پر رکھے جانے کے باعث الٹا مشکل کا باعث بن جاتی ہیں۔ مثلاً نئے نصاب میں عربی نحو کی تمرین کے لیے ’’المنہاج فی القواعد والاعراب‘‘ کو ثانویہ عامہ سال اول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں عربی جملوں کی فنی تحلیل جس سطح پر کی گئی اور اس کے لیے قرآن اور اشعار سے جن مثالوں کا انتخاب کیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے اسے ’’شرح جامی‘‘ کے بھی بعد پڑھایا جانا چاہیے۔ موجودہ ترتیب میں اس کتاب سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ 
  • اسی طرح کی صورت حال ’’معلم الانشاء‘‘ کے حوالے سے درپیش ہے جو عربی ترجمہ وانشا کی مشق کے لیے ایک مفید کتاب ہے لیکن اس سے قبل طالب علم کے پاس عربی الفاظ ومحاورات کا مناسب ذخیرہ ہونا چاہیے جنہیں وہ جملوں میں استعمال کرنے کی مشق کر سکے۔ ندوۃ العلماء لکھنو کے نصاب میں اسی وجہ سے ’’معلم الانشاء‘‘ کو عربی نظم ونثر کا اچھا خاصا ذخیرہ پڑھانے کے بعد رکھا گیا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اس کی تعلیم کا آغاز ثانویہ عامہ سے کر دیا جاتا ہے جب طالب علم ابھی عربی جملوں کی ساخت اور محاوروں سے مناسب طور پر مانوس نہیں ہوا ہوتا۔ چنانچہ عملاً یہ کتاب طلبہ میں ترجمہ اور انشا کی کوئی صلاحیت پیدا نہیں کرتی بلکہ اساتذہ مشقوں کا ترجمہ ازخود بنا کر طلبہ کو دے دیتے ہیں جنہیں رٹ کر طلبہ امتحان میں کام یاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
  • عربی نظم کا کچھ حصہ تو قدیم جاہلی ادب کی صورت میں داخل نصاب ہے، لیکن نثر کا حصہ ناکافی ہے۔ اس ضمن میں ’’دیوان المتنبی‘‘ کی جگہ ’’مختارات من ادب العرب‘‘ کا شامل کیا جانا قابل تحسین ہے۔ لیکن عربی نثر کی تعلیم کے طریقے میں تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ طریقے میں متن کا لفظی یا بامحاورہ ترجمہ یاد کرانے پر اکتفا کی جاتی ہے، لیکن متن میں استعمال ہونے والے الفاظ، محاورات اور تراکیب کو طالب علم کے لسانی ذخیرہ کا حصہ بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ تعلیم زبان کے جدید طریقے میں متن کے مطالعہ کو مفید اور موثر بنانے کے لیے لسانی اصولوں پر مبنی مختلف مشقیں تیار کی جاتی ہیں جو زبان کے فہم اور استعمال پر گرفت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ’’القراء ۃ الراشدہ، نفحۃ العرب، مختارات اور ریاض الصالحین‘‘ کے شامل نصاب حصوں پر اس نوعیت کی جامع مشقیں تیار کروا کر اساتذہ کو فراہم کی جائیں اور اس طریقے کو تدریسی نظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ 

مولانا ذکاء اللہ اختر (جامعہ حنفیہ لاہور)

  • نصاب میں موجودہ تبدیلیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بارے میں پایا جانے والا جمود ٹوٹ رہا ہے اور اہل نظر کافی عرصہ سے جس نظر ثانی کا مشورہ دے رہے تھے، اس کی اہمیت کا احساس کیا جانے لگا ہے۔
  • جدید علوم میں معیشت کے ساتھ ساتھ دوسرے سماجی علوم مثلاً سیاسیات، علم معاشرہ اور نفسیات وغیرہ کو بھی شامل کیا جائے۔
  • مقارنۃ الادیان میں آئینہ قادیانیت پر اکتفا درست نہیں۔ دیگر معاصر فتنوں کے حوالے سے بھی مواد شامل نصاب ہونا چاہیے۔

قاری جمیل الرحمن اختر (جامعہ حنفیہ لاہور)

  • نصاب میں کی جانے والی تبدیلیاں بلاشبہ درست سمت میں اقدام ہے، لیکن اصل مسئلہ اساتذہ کی تربیت کا ہے۔ ایک اچھے نصاب کی تدریس کے لیے اگر ماہر اور تربیت یافتہ اساتذہ میسر نہ ہوں تو کیا فائدہ؟ یہ تربیت تعلیم وتدریس کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے، اخلاق وکردار کے حوالے سے بھی اور اس حوالے سے بھی کہ اساتذہ کو آگے طلبہ کی تربیت کیسے کرنی ہے۔ اساتذہ کی نئی پود میں اپنی یا طلبہ کی تربیت کی اہمیت کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے اور بسا اوقات ان کا رویہ ناگوار اثرات پیدا کرتا ہے۔ وفاق المدارس کو نئے حالات کے تحت تربیت اساتذہ کا بھی باقاعدہ نظام وضع کرنا چاہیے، جیسا کہ افتا کی تربیت کے لیے ایک باقاعدہ نظام بنا لیا گیا ہے۔

مولانا حماد انذر قاسمی (جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ)

  • مدارس میں عربی زبان کا معیار تعلیم بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے خود اساتذہ کا معیار بہتر کرنا ہوگا۔ اگر اساتذہ ہی عربی بول چال اور تحریر وتقریر پر قدرت نہیں رکھتے تو طلبہ میں یہ صلاحیت کیسے پیدا ہوگی؟
  • قدیم عربی کے ساتھ جدید عربی پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
  • قدیم اعتقادی فرقوں کے ساتھ ساتھ جدید علمی واعتقادی فتنوں سے واقفیت بھی طلبہ کو بہم پہنچائی جانی چاہیے اور ان کی ایسی فکری تربیت ہونی چاہیے کہ وہ عملی میدان میں ان فتنوں کے پیدا کردہ شبہات کا موثر جواب دے سکیں۔ اس حوالے سے کسی خاصے درجے کے نصاب میں کوئی ایک آدھ کتاب شامل کر دینے کے بجائے اساتذہ کو ایسا مواد فراہم کیا جائے جس کی بنیاد پر وہ تسلسل کے ساتھ تمام طلبہ کی ذہنی اور فکری تربیت کر سکیں۔
  • اساتذہ کے لیے طلبہ کی نفسیاتی ساخت اور صلاحیتوں سے واقف ہونا بھی بہت ضروری ہے، اس لیے اساتذہ کو تعلیمی نفسیات کے مضمون کا باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہیے اور طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت پر مبنی شخصی تعلق قائم کر کے ان کی فکری وعملی تربیت کی کوشش کرنی چاہیے۔ 
  • اساتذہ کے انتخاب میں معیار کی حیثیت علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ تدریسی صلاحیت اور اخلاق وکردار کو حاصل ہونی چاہیے۔ اقرا تعلیم الاطفال کے نظام میں تربیت اساتذہ کے نظام ہی کی بدولت اچھے تعلیمی نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

مولانا قاری ظفر اقبال (جامعہ حنفیہ جہلم)

  • * درس نظامی کے موجودہ نصاب کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص قبولیت حاصل ہے، اگرچہ اس میں ضروریات کے لحاظ سے تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ جدید تعلیم کو میٹرک کی سطح تک شامل کرنا تو قابل قبول ہے لیکن اس سے زائد اسے جگہ دینا دینی تعلیم کو مغلوب کرنے کے مترادف ہوگا۔
  • اصل ضرورت تربیت اساتذہ کی ہے۔ اس سے پہلے اسی نصاب سے اچھے طلبہ تیار ہوتے رہے ہیں، کیونکہ اساتذہ محنتی اور قابل تھے۔ اصل خامی نصاب میں نہیں بلکہ طریق تدریس میں ہے۔
  • بعض کتابوں پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ مثلاً ’’شرح جامی‘‘ عربی عبارت میں مہارت پیدا کرنے کے لیے بے نظیر ہے۔ اسی طرح ’’شرح عقائد‘‘ کے آخری حصے میں بہت سے جدید اعتقادی فتنوں کی تردید کے لیے بھی مواد موجود ہے۔
  • جدید عربی اور عربی بول چال کی فی الواقع نہایت کمی ہے لیکن اس کی تلافی بھی اساتذہ کی تربیت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
  • استاذ کے لیے علمی وتدریسی قابلیت، اعتقادی اصلاح اور اخلاقیات کے لحاظ سے ایک معیار متعین ہونا چاہیے کیونکہ استاذ کے نظریات اور کردار کے اثرات طلبہ پر پڑتے ہیں۔ اساتذہ کو یہ حقیقت جاننی چاہیے کہ دینی تعلیم کا خاصہ ہی یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کی جائے۔

مولانا محمد یوسف (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)

  • اسلامی معاشی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید معیشت کے اصول وضوابط اور جدید سیاسی نظام کا مطالعہ بھی شامل نصاب کیا جائے۔ اسی طرح دیگر سماجی علوم پڑھا کر طلبہ میں جدید معاشرے کی ضروریات کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ وہ مدرسے اور مسجد کے ماحول تک محدود رہنے کے بجائے عام زندگی کے شعبوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔
  • گمراہ مذاہب اور فرقوں کا تعارف اور اسی طرح تاریخ اسلام کسی خاص درجے کے بجائے درجہ ثالثہ کے بعد مسلسل پڑھائے جائیں۔ سیرت اور تاریخ کے وہ پہلو جن پر مستشرقین وغیرہ کے اعتراضات ہیں، ان پر خاص توجہ دی جائے۔
  • جدید تعلیم بورڈ کے نصاب کے مطابق مکمل دی جائے اور اس کا باقاعدہ امتحان بھی بورڈ سے دلوایا جائے۔ اس ضمن میں میٹرک کی سطح پر صرف انگریزی اور ریاضی مسلسل پڑھانے کی ضرورت ہے۔ باقی مضامین کی تیاری آخری ایک دو ماہ میں بآسانی کروائی جا سکتی ہے۔ 
  • درس نظامی کو تدریج کے اصول پر مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہیے۔ بنیادی مضامین آغاز کے درجوں میں پڑھائے جائیں اور مشکل علوم وفنون کو بعد کے مراحل میں شامل کیا جائے۔ اس طرح طلبہ کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنی صلاحیت اور رجحان کے مطابق جس مرحلہ کی تکمیل پر تعلیم کو چھوڑنا چاہیں، چھوڑ سکیں۔ 

مولانا زاہد الراشدی (مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)

  • اساتذہ کی تربیت، عربی بول چال اور تحریر کی صلاحیت اور جدید اعتقادی فتنوں سے واقفیت کے حوالے سے جو تجاویز سامنے آئی ہیں، مجھے ان سے اتفاق ہے۔
  • اس کے ساتھ میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ جدید عالمی حالات اور مغربی فکر وفلسفہ کو بھی بطور مضمون مدارس میں پڑھایا جانا چاہیے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی (جامعہ اسلامیہ کامونکی)

  • نصاب میں عربی زبان وادب، عقیدہ، جدیدمعیشت، تاریخ اور مقارنۃ الادیان کے حوالے سے کیے جانے والے اضافے اور تبدیلیاں یقیناًدرپیش ضروریات کے حوالے سے مثبت ہیں، لیکن معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے ان پر انحصار کافی نہیں۔ ایک عمومی مسئلہ یہ ہے کہ ان مضامین کو بہتر انداز میں پڑھانے والے اساتذہ کیا ہر سطح پر مدارس کو میسر ہیں؟ علاوہ ازیں نظام تعلیم میں فن کو بطور فن سمجھنے اور پڑھنے کے بجائے محض امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا رجحان فروغ پا چکا ہے۔ ہر سطح پر کتابوں کے تراجم، شروح اور امتحان کے لیے منتخب مقامات کی تیاری میں مدد دینے والی کتابیں عام ہو چکی ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی تلافی کتابوں میں اضافے یا تبدیلی سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے اساتذہ کے معیار اور طریق تدریس کو بہتر بنانا ہوگا۔ 
  • جدید تعلیم کے حوالے سے ایک واضح اور شعوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جدید علوم دینی نظام کے لیے نقصان دہ ہیں تو حکومتی دباؤ کو بالکل مسترد کر دینا چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ لیکن اگر یہ علوم کسی نہ کسی درجے میں علما کی ضرورت ہیں تو پھر اس کے حوالے سے ہر دو چار سال کے بعد بیرونی دباؤ پر ہنگامی فیصلے کرنے کے بجائے تعلیمی ضروریات کے حوالے سے ایک مستقل اور جامع پالیسی وضع کی جائے۔ موجودہ نصاب میں میٹرک کی سطح تک تعلیم کو بے دلی سے جگہ دی گئی ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ میٹرک کی تعلیم بھی، اگر دی گئی تو، اسی پست معیار پر دی جائے گی جس پر ہم مڈل کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ہماری بہت عرصے سے یہ تجویز ہے کہ داخلے کے لیے میٹرک کو شرط قرار دے کر چھ سال میں درس نظامی کو مکمل کروایا جائے۔
  • مقارنۃ الادیان وغیرہ پر کتابوں کو داخل نصاب کرنے کے بجائے موضوع کے ماہرین سے لیکچرز دلوائے جائیں اور تفصیلی مطالعہ کے لیے متعلقہ کتابوں کی طرف رہنمائی کر دی جائے۔ 
  • اساتذہ اور طلبہ کی تربیت کا مسئلہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ دینی مدارس کا نظام تربیت، سلیقہ مندی، اخلاقیات اور نظم وضبط کے لحاظ سے دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے۔


اخبار و آثار