مولانا مشتاق احمد کا مکتوب گرامی

مولانا مشتاق احمد

باسمہ سبحانہ

بخدمت گرامی قدر مخدومی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ- مزاج گرامی؟

۸، ۹ شوال کو الشریعہ اکیڈمی میں منعقدہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی مجلس مشاورت کے حوالے سے ایک بات مزید عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ اگر وفاق المدارس سے وابستہ اہم علمی شخصیات ’میبذی‘ اور ’ہدیہ سعیدیہ‘ وغیرہ کو امام رازیؒ وغزالیؒ کی تصنیفات کو سمجھنے کے لیے ضروری خیال کرتی ہیں تو ان کی شخصیات وآرا اپنی جگہ مسلم ومحترم ہیں، لیکن ان سے یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر ہر طالب علم پر میبذی/ہدیہ سعیدیہ کا پڑھنا لازم کرنے کے بجائے اردو میں فلسفہ کے کسی سینئر استاد سے عام فہم اور جامع مانع انداز میں ایک کتاب لکھوا کر بطور تعارف شامل نصاب کر دی جائے جس سے پرانے فلسفہ کو سمجھنا آسان ہو۔ نیز اس میں یہ بھی مذکور ہو کہ جدید سائنسی تحقیقات نے پرانے فلسفہ کے کس کس پہلو کو بیکار ثابت کر دیا ہے۔ ہدیہ سعیدیہ اور میبذی کی تعلیم وتعلم کو فرض عین قرار دینے کے بجائے اگر اس طرز کی اردو کتاب شامل نصاب کر دی جائے تو یہ پرانے فلسفہ کی بہتر خدمت ہوگی اور اس کو پڑھانے کی غرض وغایت بھی احسن طریق سے پوری ہو سکے گی۔ اگر یہ کتاب دو تین حضرات سے مشترکہ طور پر لکھوائی جائے تو بہتر ہوگا۔

الشریعہ اکیڈمی کے مذکورہ پروگرام (دینی اساتذہ کرام کی مجلس مشاورت) کے حوالے سے چند باتیں عرض ہیں:

۱۔ اس پروگرام کو سالانہ حیثیت دیں اور زیادہ انحصار گوجرانوالہ کے دینی مدارس پر نہ ہو بلکہ دوسرے شہروں کے دینی مدارس پر ہو۔ ’گھر کی مرغی دال برابر‘ کے مصداق مقامی حضرات کسی بھی شخصیت اور پروگرام کی ناقدری کرتے ہیں۔ اس ناقدری کا مشاہدہ گزشتہ پروگرام میں بخوبی ہوا ہے۔

۲۔ دو یا تین دن کا جو پروگرام بھی ہو، بھرپور ہو۔ صبح سے رات گئے تک مصروفیات ہوں۔ مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب مدظلہ جیسے سینئر مدرسین کو بھی دعوت دی جائے جو کہ مختلف فنون پڑھانے کے متعلق اپنے تجربات سے رہنمائی فرمائیں اور ہر فن کے پڑھانے کا جو مخصوص طریقہ ہے، اس کی نشان دہی کریں۔

۳۔ مولانا بشیر احمد صاحب سیالکوٹی کا جدید عربی کا پروگرام ایک ہفتہ کا ضرور رکھیں۔ ایک ہزار روپے فیس ہوگی تو صرف قدر دان ہی آ سکیں گے، قدر ناشناسوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ البتہ آپ کو میزبانی کا بار گراں اٹھانا پڑے گا۔ اس پروگرام کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

۴۔ آئندہ پروگراموں میں مجالس مذاکرہ کے چند مجوزہ عنوانات درج ذیل ہیں:

(الف) علماے کرام میں مطالعہ وتحقیق کے ذوق کی کمی کے وجوہ

(ب) معاشرہ پر علماے کرام کے اثرات کی کمی کے وجوہ، بالفاظ دیگر معاشرہ اور علماے کرام میں بڑھتی ہوئی خلیج کے اسباب

(ج) دور حاضر کے جدید تقاضے جو کہ علماے کرام کی فوری توجہ چاہتے ہیں

امید واثق ہے کہ آپ مذکورہ عنوانات اور دیگر اہم موضوعات پر مجالس مذاکرہ کا اہتمام فرماتے رہیں گے۔ 

۵۔ محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب نے مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے پچاس صفحات کا مضمون لکھا۔ احقر نے پڑھا بھی تھا، پھر محترم مولانا محمد یوسف صاحب سے اس کا خلاصہ بھی سنا اور ان کی تنقیدی رائے بھی سنی اور پڑھی۔ بعض اور حضرات کی آرا بھی پڑھیں۔ احقر معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ محترم مولانا عمار صاحب کے مضمون کی حکمت سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر اس مضمون کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ کیا یہ اپنی صلاحیتوں کا ضیاع نہیں ہے؟ احقر کے نزدیک یہ اسی قسم کی تحقیق ہے جس قسم کی تحقیق تاتاریوں کے ہاتھوں سقوط بغداد کے وقت بغداد کے علماے کرام کر رہے تھے۔ خدارا، مولانا عمار صاحب محترم کو ایسی بے فائدہ تحقیقات سے روکیے۔ تحقیق طلب مسائل کی تو بہت لمبی فہرست ہے، اس پر وہ زور قلم صرف کریں تو بہتر ہوگا، ان کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔ تلخ نوائی پر ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔ (اگر اس تنقیدی رائے کو بوقت اشاعت خط سے حذف کرنا چاہیں تو اجازت ہے)

اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔

والسلام۔ آپ کا نیاز مند

مشتاق احمد عفی عنہ

استاذ جامعہ عربیہ چنیوٹ

مکاتیب