نظام جیل خانہ جات پر ایک نظر اور اصلاح کی چند تدابیر وتجاویز

الحاج میاں محمد رفیق

(شاہ ولی اللہ یونیورسٹی پروجیکٹ گوجرانوالہ کے سربراہ الحاج میاں محمد رفیق درد دل سے بہرہ ور بزرگ ہیں اور شہر کے سرکردہ معززین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں گزشتہ دنوں پاکستانی جیلوں کے نظام اور حالات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنے تاثرات ومشاہدات کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کے لیے مفید تجاویز مندرجہ ذیل مضمون کی صورت میں پیش کی ہیں جو متعلقہ حکام کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں ۔ مدیر)


انسانی زندگی کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ وہ امن وعافیت سے گزرے، صلاح وفلاح غالب ہوں اور نیکیاں رواج پائیں لیکن کیا کیا جائے انسان کے شرور نفسی کا کہ وہ موقع بموقع بے لگام ہوتے ہیں اور امن وسلامتی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جرم وسزا کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی، جزاوسزا کا دنیوی تصور بھی پیدا ہوگیا۔ اچھے کام پر انعام سے نوازا جانے لگا اور برے کاموں پر سزا دی جانے لگی۔

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بعض جرائم پر مختلف لوگوں کو سزا ئیں دی گئیں۔ انسانی سرشت کی انہیں کمزوریوں کی بنا پر قرآن نے حدود مقرر کیے اور تعزیرات کا نظام قائم کیا گیا۔ خلفائے راشدین کے دور فرخ فال میں حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں بعض بڑی انقلابی اصلاحات کی گئیں ۔ فوجداری اور پولیس کے فرائض کے ساتھ بعض صحابہ کو خصوصی اختیارات دیے گئے۔حضرت عمرفاروق نے حضرت قدامہ بن مظعون اور حضرت ابوہریرہ کو بحرین میں تحصیل مال گزاری کے لیے بھیجا تو حضرت ابوہریرہ کو صاحب الاحداث (Police Officer) بنایا اورانہیں خصوصی اختیارات دیے۔ مثلاً دکاندار ناپ تول میں دھوکہ نہ دیں، کوئی سٹرک پر مکان نہ بنائے، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے،خلاف ورزی کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھ کر انہیں سزا دی جائے۔

تاہم فاروق اعظم کے دور سے پہلے جیل خانہ کا رواج نہ تھا۔ سب سے پہلے حضرت فاروق اعظم نے مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کے گھر کو جیل میں تبدیل کیا۔ ۴ہزار درہم میں حکومتی سطح پر خرید کر اسے قید خانے کی صورت دے دی۔ بعدازاں مختلف اضلاع میں بھی District Jailsتعمیر کروائیں جہاں مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔ قاضی شریح قاضی القضاۃ ہوئے توفوجداری ہی نہیں، دیوانی مقدمات کے لیے بھی مجرموں کو جیل بھیج دیا جاتا۔ اس دور میں جلاوطنی کی سزا کا بھی رواج تھا۔ ابو محجن ثقفی کو آپ نے ایک جزیرہ میں بھیج دیا ۔

عثمان غنی کے دور میں یہ پریکٹس جاری رہی چنانچہ ابوذرغفاری اپنے انقلابی خیالات اور حکومت مخالف اظہارات کی وجہ سے ربذہ میں نظربند کردیے گئے۔ بعدازاں جیل خانہ جات کا باقاعدہ رواج ہوگیااور ہر دور میں ملزموں کو عدالتی فیصلے سے پہلے اور عدالتی فیصلے کے بعد جیلوں میں رکھا جانے لگا۔ آج دنیا بھر میں پولیس اور عدلیہ سے الگ محکمہ جیل خانہ جات کا م کر رہے ہیں جنہیں پولیس اور عدالتوں کا تعاون حاصل ہے تاہم یہ امر بڑا تکلیف دہ ہے کہ سزا کی سنگینی اور کرختگی اپنی جگہ لیکن بہت سے بے گناہ لوگ بھی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہوتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ کئی کئی سال کی سزا بھگت کرمعلوم ہوتا ہے کہ ملزم بے گناہ تھا اور کئی ملزم تو جیل کے ناسازگار ماحول میں ذوق جرم پال کر باہر نکلتے ہیں اور اچھے بھلے شریف شہری جیل کی ہوا کھانے کے بعد مجرم بن جاتے ہیں۔ اس کا ایک بہت بڑا سبب جیل کے اندر کی دنیا کے مسموم اور خطرناک حد تک جرائم کو جنم دینے والے حالات ہیں۔ پاکستان کی جیلوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی جرم افزودگی اور جرائم کوشی کے رجحانات میں اضافے کے بین آثار نظر آتے ہیں۔ ع بڑھتا ہے ذوق جرم یہاں اور سزا کے بعد

ان سطور میں سرسری طور پر بعض کوتاہیوں، خرابیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جارہی ہے جن کا ازالہ بے حد ضروری ہے:

۱۔گزشتہ چند سالوں سے دنیا بھر بالخصوص مغربی دنیا میں نشہ کی عادت زیادہ ہو رہی ہے۔پاکستان بھی اس لعنت کی زد میں ہے۔ باوجودیکہ حکومت نے محکمہ انسداد منشیات (Narcotic Board) قائم کرکے لوگوں کو اس عادت بد سے باز رکھنے کے کئی طرح سے انتظامات کیے ہیں، نشہ بازوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے جس کا ایک بڑا سبب نشہ آور چیزوں کا سہل الحصول ہونا ہے۔ منشیات کے عادی مجرموں کو بالعموم جیل بھیج دیا جاتا ہے درآنحالیکہ یہ بات عقل ودانش کے خلاف ہے۔ نشہ بازی کی علت بیماری ہے۔ ایسے لوگوں کو بیمار سمجھ کر ان کے عام ہسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم کیے جائیں اور بڑے شہروں میں باقاعدہ نشہ بازوں کے لیے ہسپتال قائم کیے جائیں۔ جیل ان کا ٹھکانہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب یہ لوگ جیل میں آتے ہیں تو دوسرے کچے پکے ذہن کے قیدیوں کوبھی بری طرح سے متاثر کرتے ہیں۔ نتیجتاً منشیات کا حصول جیل میں باہر کی نسبت آسان ہوجاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ کسی نشہ باز کواس خام خیالی سے جیل میں بھیجا گیا کہ وہ اس عادت بد سے چھٹکارا پالے گامگر ہوا یوں کہ اس نے اس علت کو جیل میں بھی جاری رکھا۔ دوسرے کئی قیدی بھی اس کے روگی ہوگئے۔ بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہوا۔

۲۔ بالعموم ہر طرح کے ملزموں کو قبل از عدالتی کارروائی بھی جیل میں رکھا جاتا ہے جن میں ہر عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ بچے بھی، جوان بھی، اور بوڑھے بھی۔ بالکل کچی عمر کے بچے جن کے حصول تعلیم اور کھیل کود کے دن ہوتے ہیں، جیلوں میں جاکر مکاریاں، دغابازیاں، جرم کوشیاں اور بدکردار یاں سیکھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف نہایت سن رسیدہ بھی جیلوں میں ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو قبر کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ انہیں قبل از وقت ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ طرح طرح کی بیماریوں کو سینے سے لگائے وہ جیل کی تاریک کوٹھڑیوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں۔

تجویز:  ۱۴ سال کی عمر سے کم اور ۷۰ سال کی عمر سے زیادہ معمولی جرائم کے قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ اگر جرائم سنگین نوعیت کے ہوں تو ان کی اصلاح احوال کے لیے مختلف پروگرام مرتب کرکے ان سے مثبت اور تعمیری کام لیا جائے۔ بڑے بوڑھوں سے تعلیم وتربیت کا کام لے کر اور بچوں کو تعلیم وتربیت دے کر انہیں باور کرایا جائے کہ ابھی ان کی عمر پڑی ہے۔ انہیں شریفانہ زندگی گزارنے کی تیاری کرنا چاہیے۔

۳۔ مثل مشہور ہے کہ بیکار سے بیگار بھلی۔ انگریزی میں کہتے ہیںAn idle man,s mind is devil,s workshopجیلوں میں ایک طرف تو قیدیوں کو ان کے مستقبل کے خدشات سوہان روح ہوتے ہیں، دوسری طرف وہ تعمیری مقاصد اور مثبت عنصر نہ ہونے کی وجہ سے آمادہ جرم رہتے ہیں۔ ہر قیدی کی انتہائی خواہش ہوتی ہے کہ اسے جلدازجلد رہائی مل جائے۔ تاہم اگر جیلوں میں تعمیری منصوبے شروع کر دیے جائیں تو قیدیوں کی توجہ بہت حد تک جرائم کوشی کی جانب سے ہٹ کر شریفانہ رویوں کو اپنانے کی طرف مبذول ہوسکتی ہے۔

تجویز:  جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے منصوبہ تھا، ممکن ہے اب بھی ان خطوط پر سوچا جارہا ہو۔ جیلوں میں فیکٹریاں لگائی جائیں جس سے قیدیوں کی نفسیاتی کیفیات میں شخصی تبدیلیاں آنے کے روشن امکانات بھی ہیں اور ملکی معیشت میں بھی ان کا ایک کردار ہوگا۔اچھے مل مالکان اور فیکٹری اونرز سے اس ضمن میں تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔

۴۔ جیل خانہ جات بالعموم عدالتوں سے ہٹ کر فاصلے پر ہوتے ہیں۔ جیل کے اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے بالکل ہی مختلف ہوتی ہے۔ وہاں کا ماحول، وہاں کی فضا باہر کی آزاد فضا اور گہماگہمی اور پررونق فضا سے یکسر جدا ہوتی ہے۔ عدالتوں کے دور ہونے کی وجہ سے جیل حکام کو اسیروں کو عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے خاصا اہتمام پڑتا ہے۔ مقید اور زنجیربپا قیدیوں کو عدالتوں تک لے جانے میں کئی قباحتیں ہیں۔ سکیورٹی کے انتظامات، خطرناک قیدیوں کے مفرور ہوجانے کے امکانات،جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے، اور پھر عدالت تک لے جانے میں کئی دوسرے کیس میں دلچسپی رکھنے والوں کی دراندازی کے اندیشے، ان سب چیزوں کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

تجویز:  جیلوں کی چاردیواریوں میں بعض خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جس سے لانے لے جانے کے اخراجات کی بچت کے علاوہ بہت سی انتظامی اور حفاظتی تدابیر سے نجات مل جائے گی۔

۵۔ قیدیوں کا ایک مسئلہ فراہمی خوراک بھی ہے۔ ایک متمدن ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسیروں کوبھوکا نہ مارے۔ قید بہر صورت قید ہے۔ اس کی معاشرے سے کٹ جانے کی اذیت کچھ کم نہیں، چہ جائیکہ قید میں پڑے ہوئے افراد کو خوراک کی کمی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے جو خوراک مقرر کی گئی ہے، اس کے معیار کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی مقدار لائق تحسین ہے۔ ان دنوں فی قیدی روزانہ خوراک کا خرچہ 13.75روپے ہے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اتنی قلیل رقم میں دو وقت کا کھانا کس طرح مہیا کیا جاسکتا ہے۔ آج کل کے مہنگا ئی کے دور میں اتنی معمولی رقم مختص کرنا ناقابل فہم ہے۔مزید برآں فی قیدی علاج معالجے کے لیے یومیہ 00.75پیسے رکھے گئے ہیں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ کم خوراک، ناقص غذا اور گھٹن اور پریشانیوں کے ماحول میں قیدیوں کا بیمار ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے جس کے لیے حکومت کو اصلاح احوال کرنی چاہیے۔ دواؤں کی قیمتوں کے پیش نظر 75پیسے بالکل ہی نا کافی ہیں ۔

تجویز:  فی قیدی یومیہ خوراک کا خرچہ50 روپے کیا جائے اور علاج کے لیے 75پیسے سے بڑھا کر 5روپے کیا جانا مناسب ہے۔

۶۔ قیدیوں کے لیے ایک طرف تو کھانے کا معیار کمتر بلکہ ناقص ہے، دوسرے وہ طریق کار جس کے ذریعے قیدیوں کو کھانا مہیا کیا جاتا ہے، وہ بھی ناقص ہی نہیں، کئی طرح کی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس سے بدعنوانیوں کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اجازت نہ ہونے کے باوجود بعض قیدی گھر سے کھانا منگواتے ہیں۔ بعض جیل کے اندر ہی اپنا کھانا خود پکاتے ہیں۔ یوں کھانے کے طریقے کو تین حصوں میں بانٹ رکھا ہے : -i گھر سے کھانا مہیا ہونا، -ii جیل کی چاردیواری کے اندر ہی قیدیوں کا انفرادی سطح پر کھانا خود تیار کرنا، -iii جیل حکام کی طرف سے کھانا مہیا ہونا۔

اب جو قیدی پہلی اور دوسری شق پر عمل کر رہے ہوتے ہیں، ان میں سے گھر سے کھانا منگوانے والوں کا پورا کھانا قیدی تک نہیں پہنچتا۔ تیسری شق پر عمل پیرا ہونے سے ایک طرف تو کھانا ناقص ہوتا ہے، دوسری طرف پہلی دو شقوں یعنی گھر سے کھانا منگوانے اور خود تیار کرنے والوں کو بھی اس میں شمار کیا جاتا ہے جو ایک بے ضابطگی ہے۔ یوں وہ معمولی رقم جو اسیروں کے کھانے کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اس میں خورد برد ہو جاتی ہے۔

تجویز:  جو قیدی گھر سے کھانا منگوانا چاہیں یا جیل میں ہی اپنا کھانا خود تیار کرنا چاہیں، ان کو اس کی اجازت دے دی جائے اور ان کے لیے مختص رقم حساب کتاب کے بعد واپس خزانے میں جمع کرئی جائے یا ایسا بندوبست کیا جائے کہ ایسے قیدیوں کو جیل سے مہیا کیے گئے کھانے سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کے لیے اس مد میں رقم حاصل نہ کی جائے۔

۷۔ قیدیوں کی اکثریت تو ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے تاہم ایک خاصی تعداد خواندہ یا تعلیم یافتہ لوگوں کی بھی ہوتی ہے مگر یہ لوگ جیل کے قوانین سے قطعاً نابلد ہوتے ہیں۔ ان قواعد وضوابط کا جاننا ہر قیدی کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہوسکیں۔

تجویز:  جیل کے اہم قواعد وضوابط بورڈوں پر لکھ جیل کے مختلف حصوں میں آویزاں کیے جائیں ۔

۸۔ جیل میں مریضوں کی عمومی حالت تو ویسے ہی کچھ اچھی نہیں ہوتی تاہم ٹی بی کے مریض تو مرنے سے پہلے ہی زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جائے۔ چونکہ یہ علاج مسلسل بھی ہے اور مہنگا بھی، اس میں ذرا سی کوتاہی مریض کے مرض میں ایک طویل تسلسل پیدا کر دیتی ہے، ایک دن اگر دواکا ناغہ ہو جائے تو پچھلے کئی دن کا علاج اکارت جاتا ہے، اس لیے اس مد میں علاج کی مناسب سہولتیں بہم پہنچایا جانا بے حد ضروری ہے۔

تجویز:  یا تو ٹی بی کے مریض کے علاج کے لیے موجودہ 75 پیسے کی بجائے 100روپے فی مریض دواؤں کے لیے فنڈ مہیا کیا جائے یا پھر انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے۔ نیز ان مریضوں کے لیے عام کھانا ان کے مرض کے ازالے میں کچھ ممد ثابت نہیں ہوتا، اس لیے ایسے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کھانا مہیا کیا جائے۔

۹۔ قیدیوں میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پھر ان میں حاملہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ ایک فرد کو قیدوبند میں رکھ کر ایک دوسرے فرد کی جان بھی خطرے میں پڑ جائے۔ حاملہ کے پیٹ کے بچے کا تو کوئی قصور نہیں۔ ایسی عورتوں کے ساتھ جیل کی مدت میں نرمی کا سلوک ہونا چاہیے۔

تجویز:  ایسی عورتوں کو ایام زچگی سے دو ماہ پہلے اوردوماہ بعد تک رہائی دی جائے ۔

۱۰۔ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ جیلوں میں موسم کی شدت سے بچنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہوتے اور قیدیوں کو محض تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہوئے اس قابل بھی نہیں سمجھا جاتا کہ وہ بھی انسانی ضروریات سے بے نیا ز نہیں۔ وہ قیدی تو ہیں لیکن بہر صورت انسان ہیں، وقتی طور پر اگر ان کا جرم ثابت بھی ہوگیا ہے تو بالکل انسانیت ان سے چھن نہیں گئی۔ زحمت قیدوبند ہی کیا کم ہے کہ مزید ان پر ستم توڑے جائیں اور انہیں زندگی کی ضروریات ہی سے محروم رکھا جائے۔

تجویز:  مناسب بندوبست کرکے قیدیوں کو موسم کی شدت سے بچایا جائے۔ گرمیوں میں پنکھوں کا ہونا بے حد ضروری ہے۔

۱۱۔ جیلوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ اسیروں کی کثرت اور جگہ کی قلت ہے۔ جہاں پانچ قیدیوں کی گنجائش ہے، دس پندرہ تک بھی قیدی بند کر دیے جاتے ہیں ۔

تجویز:  بقدر گنجائش قیدیوں کو جیلوں میں رکھا جائے۔ مزید برآں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کرکے برآمدوں کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزید بیرکس کا تعمیر کیا جانا بھی ازحد ضروری ہے۔

۱۲۔ بالعموم قیدیوں کے کمروں میں بند کرنے کے اوقات غیرمتبدل رہتے ہیں اور اگر ان میں قدرے تبدیلی بھی کی جاتی ہے تو بھی قیدیوں کو اذیت ناک حد تک موسمی شدت کو سہنا پڑتا ہے۔ مثلاً گرمیوں کے موسم میں پانچ بجے ہی قیدیوں کو کمروں میں بند کر دینا شدت موسم کی وجہ سے ان کے لیے سخت باعث تکلیف ہوتا ہے کیونکہ پھر انہیں دن کا باقی حصہ اور رات بھر اندر ہی رہنا پڑتا ہے۔

تجویز:  موسمی تغیرات کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو بیرکوں میں بند کرنے کے اوقات میں مناسب تبدیلیاں لائی جائیں ۔

۱۳۔ بالعموم امیر لوگ کسی نہ کسی طرح ضمانت کروا کر جیل سے باہر آجاتے ہیں اور غریب بے چارے معمولی جرائم پر بھی کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔ ضمانت میں جج حضرات کو صوابدیدی اختیار ہوتا ہے، وہ چاہیں تو ضمانت قبول کریں، چاہیں تو مسترد کرد یں۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جیل حکام کے پاس روبکاری کے لیے مناسب بندوبست نہیں ہوتا جس سے قیدیوں کے راہ فرار اختیار کر لینے کی بھی کئی سبیلیں نکل آتی ہیں۔

تجویز:  (i) ضمانت میں جج حضرات کا صوابدیدی اختیار ختم کردیا جائے اور نوعیت جرم کے مطابق ضمانت یا عدم ضمانت کا قانون وضع کیا جائے ۔ نیز ہر ضابطہ تعزیرات کی ہر دفعہ پر ضمانت کے لیے ایک مخصوص وقت کا تعین کر دیا جائے۔ (ii) جیل سے عدالت تک یا تو نہایت بہترین انتظام کے ساتھ قیدیوں کو لایا جائے یا پھر، جیسا کہ قبل ازیں بتایا جا چکا، جیل کے اندر ہی عدالتی نظام قائم کیا جائے۔

۱۴۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ملزم کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، پھر کہیں جاکر ان کی بے گناہی ثابت ہونے پر انہیں بری کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے جیل میں عرصہ دراز گزارنے پر قیدی یا تو اپنی تعمیری صلاحیتیں بالکل برباد کرکے ناکارہ ہو جاتا ہے یا پھر واقعی مجرم بن کر نکلتا ہے۔

تجویز:  جب تک کوئی شخص واقعی مجرم ثابت نہ ہو جائے، اسے قید میں نہ رکھا جائے۔ اس کے لیے ماہرین کوئی دوسرے طریقے سوچیں جس سے اچھا خاصا بھلا مانس انسان بدمعاش اور مجرم نہ بن سکے۔

۱۵۔ فوجداری مقدمات قائم کرنے سے پہلے F.I.Rایک مستند اور قومی دستاویز ہوتی ہے۔ کسی قتل کے بعد مقتول کے وارث عموماً F.I.Rمیں ہر اس شخص کا نام شامل کروادیتے ہیں جن سے ان کی دشمنی ہوتی ہے اور اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قاتل تو مفرور ہو جاتا ہے مگر اس کے لواحقین اور رشتے دار گرفتار کر لیے جاتے ہیں اور انہیں جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی واردات ہوتی ہے تو اصل مجرم راہ فرار اختیار کر کے روپوش ہو جاتے ہیں۔ پولیس کا ایک تفتیشی حربہ یہ بھی ہے کہ اصل مجرموں تک رسائی حاصل نہ کر سکنے کی صورت میں اس کے عزیزواقارب اور رشتہ داروں کو پکڑ کر لے جاتی ہے حالانکہ وہ بالکل بے قصور ہوتے ہیں۔ ان کی بے وجہ اہانت کی جاتی ہے اور انہیں حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے۔ جیبیں الگ بھر لی جاتی ہیں اور بے قصوروں کو الگ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بڑی ناانصافی اور زیادتی ہے کہ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو ذلیل و رسوا کیا جائے جبکہ ان کا اس سانحے میں کوئی قصور بھی نہ ہو اور عین ممکن ہے کہ قاتل پر ان میں سے کسی کا بس بھی نہ چلتا ہو (اور ایسا بالعموم ہوتا ہے) مگر یہ بے گناہ دھر لیے جاتے ہیں اور قیدوبند کی صعوبتیں سہنے لگتے ہیں۔

تجویز:  F.I.R تحریر کرتے وقت کم از کم دو معتبر گواہوں کی شہادت کو کافی سمجھ کر F.I.R میں نام درج کیے جائیں اور قاتل کے رشتے داروں کو بلاوجہ اسیری کی اذیت نہ پہنچائی جائے۔ نیز پورے وسائل تفتیش کو استعمال کرکے اصل مجرموں تک رسائی کی جائے۔ رشتے داروں کو، جو اکثر حالات میں بے گناہ ہوتے ہیں، بلاوجہ نہ دھر لیا جائے۔

۱۶۔ عدالتوں میں جج صاحبان اکثر مقدمات میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔ صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے کیونکہ انہیں اپنی عدالت ہی میں بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دونوں طرف سے گواہ مع وکلا پیش ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر جج صاحبان کے پیش نظر دو ہی صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک، مجرم سزا سے بچ جاتا ہے۔ دو، بے گناہ کو سزا مل جاتی ہے۔

تجویز:  جب فیصلہ کرنا مشکل ہو اور دونوں طرف سے برابر کے شواہد ہوں تو ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے پہلا موقف اختیار کرنا زیادہ قرین قیاس ہوگا۔

۱۷۔ دوسرے حکومتی اداروں کی طرح جیل خانہ جات بھی کلی طور پر حکومتی تحویل میں ہوتے ہیں۔ عامۃ الناس، متاثرہ افراد یا باشعور طبقے کے افراد کو ان کے انتظام و انصرام میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔

تجویز:  انتظام و انصرام تو کلی طور پر حکومت کے ہاتھ میں رہے مگر ہر شہر میں جیلوں سے متعلق ایک مجلس مشاورت ہو جو ایک طرف تو محکمے کو مفید مشورے دے، دوسری طرف مالی معاونت بھی کرے۔ اس معاونت کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے وسائل مہیا کیے جائیں تا کہ اسیروں کی بہبود کا اہتمام ہو سکے۔ 

۱۸۔ حوالاتی قیدی، جو ابھی ملزم ہوتے ہیں اور ان کا جرم ثابت نہیں ہوتا، جب جیل میں آتے ہیں تو ایک عجیب ہراس انگیز فضا پیدا کرنے کے لیے اُنہیں علی الصبح قطار اندر قطار کھڑا کر دیا یابٹھا دیا جاتا ہے۔ دو تین گھنٹوں کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بغرض ملاحظہ آتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ کھڑی پولیس سے ساٹھ ستر فیصد حوالاتی ملزموں کو چھتر مرواتے ہیں۔ ان کی صوابدید پر بے وجہ کسی کو دو، کسی کو چار، اور کسی کو اس سے زیادہ چھترول ہوتی ہے۔ اس کے بعد قیدیوں کو بیرکوں میں جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

تجویز:  اس قسم کی خوفناک اور دہشت انگیز سزاؤں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ جب تک الزام ثابت نہ ہو جائے، کسی قیدی کو زدوکوب کرنا اخلاقاً کسی طرح درست نہیں۔ قانوناً بھی اس طرح کی Exercises کا امتناع ہونا چاہیے۔

۱۹۔ جب قیدی جیل میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ کسی کے پاس نقدی ؍رقم ہو تو تقریباًآدھی تو اس سے عملہ چھین لیتا ہے اور مجبور قیدی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنا دہشت ووحشت کے زیراثر خاموش رہتا ہے۔

تجویز:  قیدیوں کے پاس رقم کی کوئی حد ہونی چاہیے جس کی تفصیل بورڈ پر آویزاں ہو۔ زائد رقم وارثوں کو لوٹا دی جانی چاہیے۔

۲۰۔ کئی قیدیوں کے لیے گھر سے کھانا آتا ہے۔جیل کا عملہ اس پر نگاہ رکھتا ہے اور اس میں سے قیدی تک پہنچتے پہنچتے اکثر کھانا چوری ہو جاتا ہے۔ 

تجویز:  ۱۔ گھر سے کھانا لانے کی اجازت ہی نہ دی جائے۔ قیدیوں کے لیے جیل ہی میں کھانے کا بندوبست کیا جائے اور کھانے کی رقم بڑھائی جائے۔ ۲۔ اگر محکمے کے لیے یہ ناممکن ہو تو پھر راستے کی دستبرد سے بچنے کے لیے قیدی تک کھانا براہ راست پہنچانے کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔

۲۱۔ سال رواں میں گورنر صاحب نے اسیروں کی بہبود کے لیے بیس کروڑ روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر کسی صوبائی یا مرکزی بجٹ میں اس کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی۔

تجویز:  جیلوں کی تعداد اتنی ہے کہ ۲۰ کروڑ روپے کی رقم ازحد ناکافی ہے۔ جیلوں کی اصلاح و فلاح اور قیدیوں کی بہتری کے لیے صوبائی یا مرکزی بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص ہونی چاہیے۔

۲۲۔ قیدیوں کی رہائی کے وقت جیل کا عملہ ان سے پیسے وصول کرتا ہے۔ قیدی بے چارے زنداں سے بچ نکلنے پر خواہی نخواہی کچھ نہ کچھ دے دلا دیتے ہیں۔

تجویز:  اس قبیح اور غلط پریکٹس کو یکسر ختم کیا جانا چاہیے۔ 

۲۳۔ ایسے قیدی جن کو عمر قید کی سزا ہوتی ہے، وہ سالہاسال تک اپنی بیویوں سے دور رہتے ہیں۔ اس میں ان کی بیویوں کا تو کوئی قصور نہیں ہوتا، یوں ان کو بھی خاوند کے ساتھ دوہری سزا بھگتنا پڑتی ہے۔

(ا) بالعموم معاشرے کے دستور کے مطابق گھر میں کمانے والا کوئی فرد نہیں ہوتا جس سے ان کی مالی حیثیت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے اور بے شمار سماجی، ازدواجی ،خانگی اور اخلاقی برائیوں میں ملوّث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

(ب) ایسی عورتیں حقوق زوجیت سے محروم ہو جاتی ہیں اور نتیجے کے طور پر نہایت خوفناک قسم کی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں۔

تجویز:  (ا) جیلوں میں فیکٹریاں لگائی جائیں اور ان قیدیوں سے کام لے کر اس آمدنی کا کچھ حصہ ان کے بیوی بچوں کی کفالت کے لیے استعمال کیا جائے۔ (ب) جیلوں میں چھوٹی چھوٹی اقامت گاہیں بنا ئی جائیں جن میں زندگی کے کچھ لمحات میاں بیوی اکٹھے رہ سکیں۔

۲۴۔ قیدیوں کی اسیری کی زندگی بڑی بے کیف ہو جاتی ہے اور وہ سراسیمگی کے عالم میں شب وروز گزار کر نفسیاتی اور معاشرتی کمیوں کے شدید احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

تجویز:  عیدین، شب برات، ۱۴/ اگست، یوم قائداعظم،یوم اقبال اور ان جیسے دوسرے اسلامی و قومی دنوں کے موقع پر ان کے لیے محافل و مجالس کا اہتمام کیا جائے اور اچھے کھانے اور مشروبات فراہم کیے جائیں۔

۲۵۔ قیدیوں کی ملاقات کرنے والے تو آخر سزا کے مستحق نہیں، ان کے بیٹھنے بٹھانے کے لیے کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا۔ اُنہیں گھنٹوں دھوپ ہی میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ وہ خود کو ایک جبر مسلسل اور گھٹن کے ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔

تجویز:  ملاقاتیوں کے لیے طریق کار آسان بنایا جائے اور ان کے لیے جیل سے باہر بیٹھنے اُٹھنے کی سہولتیں مہیا کی جائیں۔

۲۶۔ نماز پنج گانہ کی سب قیدیوں کو مسجد میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔مسجد یں تو عام جیلوں میں بنائی گئی ہیں مگر سب قیدیوں کو نماز باجماعت کی سہولت میسر نہیں۔

تجویز:  قیدیوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ مسجد میں نماز باجماعت کا موقع فراہم کیا جائے جس سے ان کی بے شمار ذہنی آلودگیاں اور فکری خرابیاں ختم ہو جانے کے روشن امکانات ہیں۔ وہ نماز باجماعت کے جسمانی و روحانی فوائد حاصل کر کے ممکن ہے کہ جیل کی زندگی کے بعد اچھے شہریوں کی حیثیت سے آبرومندانہ زندگی گزار سکیں۔

۲۷۔ نگرانی میں ڈھیل جیلوں کا معمول بن چکا ہے اور صورت حال اس حد تک بگڑی ہوئی ہے کہ جیلوں میں منشیات فروخت ہوتی ہیں اور بعض خبروں کے مطابق بعض جیلوں کے اندر منشیات تیار بھی ہوتی ہیں۔

تجویز:  جیلوں میں اگر ایک طرف اصلاح احوال کی کوشش ضروری ہے تو دوسری طرف کڑی نگرانی بھی بے حد ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ اس پہلو میں ارباب بست و کشاد خصوصی دلچسپی لیں۔

۲۸۔ ملاقات کے دن کے لیے عوامی رحجانات اور آسانیوں کو مدنظر نہیں رکھاجاتا۔

تجویز:  اتوار کا دن عام ہفتہ وار تعطیل کا دن ہوتا ہے۔ اگر اتوار کا دن ملاقات کے لیے مختص کر لیا جائے تو اکثر ملاقاتی اس چھٹی کے دن سے فائدہ اٹھا کر اپنے قیدی عزیزوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

۲۹۔ جیل کے اندر خاص طور پر حوالاتی قیدی سارا دن بیکار بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں۔

تجویز:  کسی قیدی کو بیکار نہ بٹھایا جائے۔ کوئی پڑھ رہا ہو، کوئی پڑھا رہا ہو۔ جیل میں فیکٹریاں قائم کر کے ان سے کام لیا جائے۔ ایک اسکیم یہ بھی ہے کہ جیل سے باہر فیکٹری مالکان سے ضمانت لے کر contract کر لیا جائے کہ دن کو فیکٹری مالکان قیدی کو اپنی فیکٹری میں لے جائیں اور شام کو قیدی ہر روز واپس آجائیں اور یہ معاوضہ ان کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے۔ 

۳۰۔ جیل کے اندر کئی قیدی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی سزا تو کاٹ چکے ہوتے ہیں لیکن جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے کئی کئی سال جیل میں پڑے رہتے ہیں۔ 

تجویز:  اس کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے کہ ایک آدمی پر اگر ایک لاکھ جرمانہ ہے تو ادا نہ کرسکنے کی صورت میں اس کو مزید کتنا عرصہ قید کی سزا برداشت کرنا ہو گی یا عدالتوں کو پابند کیا جائے کہ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی صورت میں مزید ایک سال یا پانچ سال قید میں رہنا ہوگا۔ دوسری صورت آسان ہے کہ اگر قیدی کسی فیکٹری کی ضمانت لا دے تو اس کو رہا کر دیا جائے اور اس ضمانت کو قانونی شکل دے دی جائے کہ وہ ایک عرصہ میں یہ رقم ادا کرنے کا قانونی طور پر پابند ہو جائے ۔


پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل