قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق جلانے کا مسئلہ

ادارہ

(گرجاکھ گوجرانوالہ میں قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق جلانے والے افراد کے خلاف توہین قرآن کے جرم کے تحت مقدمہ درج ہونے پر ایک قومی اخبار کے استفسار کا جواب)


قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے جلانا جائز ہے یا نہیں؟ اس پر ہمارے مفتیان کرامؒ میں اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اکتوبر ۱۹۳۵ء میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:

’’محفوظ مقام میں دفن کر دینا بھی جائز ہے لیکن جلا دینا آج کل زیادہ بہتر ہے کیونکہ ایسا محفوظ مقام دستیاب ہونا مشکل ہے کہ وہاں آدمی یا جانور نہ پہنچ سکیں اور حضرت عثمانؓ کا مصاحف کو جلانا اس کے جواز کی دلیل ہے۔‘‘ (کفایت المفتی جلد ۱ صفحہ ۱۱۹)

جبکہ حضرت مولانا مفتی رشیداحمد لدھیانویؒ نے دارالعلوم کراچی کے مفتی کی حیثیت سے رجب ۱۳۷۲ھ  میں اسی سوال پر یہ فتوٰی جاری کیا کہ:

’’قرآن کریم کے ناقابل انتفاع اوراق کو جاری پانی میں ڈال دیا جائے یا کہیں محفوظ جگہ پر دفن کر دیا جائے۔ جلانا جائز نہیں۔‘‘ (احسن الفتاویٰ جلد ۱، صفحہ ۱۶۴)

اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے کون سی صورت زیادہ بہتر ہے؟ جس مفتی صاحب نے جو صورت زیادہ بہتر سمجھی ہے، اس کے مطابق فتویٰ دے دیا ہے اور یہ اجتہادی مسئلہ ہے جس میں حالات کی مناسبت سے کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے قرآن کریم کے اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے جلایا ہے تو کیا اس پر توہین قرآن کا الزام عائد ہو گا اور کیا وہ اس کی سزا کا مستحق ہے؟ یہ بات بہرحال محلِ نظر ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر اوراق جلانے والے کے بارے میں تحقیق سے یہ بات واضح ہو جائے کہ اس نے یہ کارروائی توہین کے ارادے سے نہیں بلکہ اوراق مقدس کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے کی ہے تو اس پر توہین قرآن کا الزام عائد کرنا درست نہیں ہو گا، البتہ عرف کے حوالہ سے وہ بے احتیاطی کا مرتکب ضرور ہے اور اسے اسی مناسبت سے کچھ سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

حالات و واقعات