قارئین کے خطوط

ادارہ

(۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم جناب مدیر صاحب 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

الشریعہ اپریل ۲۰۰۳ء کے شمارہ میں ’حالات وواقعات‘ کے عنوان کے تحت جناب محمد فاروق خان صاحب نے لکھا کہ:

’’اور پھر یہ کہ انہوں (طالبان) نے اپنے ملک اور حکومت کو امریکہ سے بچانے کی خاطر بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیوں کیا؟ امریکہ مجبور ہوتا کہ بن لادن پر بہترین منصفانہ طریقہ سے مقدمہ چلائے۔بن لادن اسی مقدمہ کو اپنے موقف کے لیے بڑی خوبصورتی سے استعمال کر سکتا تھا۔ اگر اس کو اس مقدمہ میں بڑی سے بڑی سزا بھی ہو جاتی تو کم از کم امریکہ کو افغانستان پر حملے کا بہانہ تو نہ ملتا۔‘‘

ہم اس بارے میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کو کسی ملک پر حملہ کرنے کے لیے بہانوں کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ عراق کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ پہلے امریکہ کا کہنا تھا، عراق کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں اس لیے ہم عراق کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں۔ جب عراق نے اس بات سے انکار کیا تو امریکہ نے معائنہ کاروں کو بھیجنے کا اعلان کیا مگر عراق نے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اس بات کو بہانہ بنا کر امریکہ نے حملہ کرنے کا اعلان کر دیا یعنی امریکا کا کہنا تھا، چونکہ عراق اسلحہ انسپکٹروں کو نہیں چھوڑ رہا اس لیے عراق پر حملہ ضروری ہے۔ پھر اچانک عراق نے معائنہ کاروں کو عراق آنے کی دعوت دے دی۔ جب معائنہ کاروں نے عراق کا چپہ چپہ چھان مارا مگر کچھ نہ ملاتو امریکہ نے کہا، عراق نے ہتھیار وں کو غائب کر دیا ہے، وہ خود ظاہر کرے۔ اسی طرح الصمود میزائل جلداز جلد تباہ کرے ورنہ حملہ کردیں گے۔ اب امریکہ نے الصمود میزائل تباہ کرنے کے ساتھ حملہ مشروط کر دیا۔ جب عراق نے میزائل تباہ کرنے شروع کیے تو پھر امریکہ نے اس بات کو چھوڑ کر دوسرا بہانہ بنا لیا کہ ہم عراقی عوام کو صدام سے آزادی دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ امریکہ ایک کے بعد ایک بہانہ بناتا ہے۔

اور آپ کا یہ کہنا کہ بن لادن کو امریکہ کے حوالہ کرنے سے حملہ رک سکتا تھا، صحیح نہیں کیونکہ ملاعمر نے کہا تھا: اگر دنیا کا کوئی ملک مجھے اس بات کا یقین دلا دے کہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے امریکہ حملہ نہیں کرے گا تو میں آج ہی بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوں مگر اس وقت دنیا کے کسی ملک نے اس بات کی یقین دہانی نہ کرائی۔

اگر ملا عمر بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دیتے تو امریکہ کسی اور بات کو بہانہ بنا کر حملہ کر دیتا۔ بہانے امریکہ کے پاس بہت ہیں ۔اور پھر بن لادن کو انصاف ملنے کی بات بھی غلط ہے۔ ایمل کانسی، یوسف رمزی کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ کیا کوئی ایسی مثال ہے کہ امریکہ جس کو دہشت گرد کہتا ہو، اس کو امریکہ سے انصاف مل کر رہائی ملی ہو؟

ڈاکٹر عبدالوہاب علوی، اسلام آباد


(۲)

قابل صد احترام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

بعد از خیریت جانبین آپ سے بصد احترام کچھ سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ان کا جواب اپنے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں دیں گے۔

میرا سوال یہ ہے کہ طالبان کا اسلام کیسا تھا؟ اور کیا یہ اسلام پاکستان میں نافذ نہیں ہو سکتا؟ ان سوالات کی ضرورت اس لیے آن پڑی کہ اکتوبر ۲۰۰۲ء کے الیکشن میں غیر متوقع اور شاندار کامیابی کے بعد مجلس عمل کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں مسلسل اس بات کی یاد ہانی (ملکی اور غیر ملکی میڈیا اور افراد کو) کو کرائی کہ پاکستان میں طالبان والا نظام نہیں چلے گا۔ بعض اوقات تو دبے لفظوں میں احتجاج بھی کیا گیا کہ ہمیں طالبان سے نتھی نہ کیا جائے کیونکہ وہ لوگ بندوق کے زور پر آئے تھے اور ہم ووٹ کے ذریعے آئے ہیں لہٰذا ہم یہاں پر اسمبلی کے ذریعے اسلام لے کر آئیں گے اور اس کی ابتدا صوبہ سرحد سے ہوگی۔

اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس حکومتی مشینری اور خاص طور پر پولیس اور عدلیہ میں جب وہی پرانے لوگ ہوں گے تو اسلامی قوانین پر عمل درآمد کون کرائے گا؟ خدشہ تو یہ ہے کہ مجلس عمل کی حکومت اگر صوبہ سرحد میں عوام کی توقعات پر پوری نہ اتری تو آئندہ کوئی بھی اسلام کے نام لیواؤں پر اعتماد نہیں کرے گا۔

محترمی! آپ کے علم میں بھی یہ ہو گا کہ افغانستان کے طالبان کا تعارف ہمیں ان علماء کرام نے ہی کرایا تھا کیونکہ جب بھی وہاں کا دورہ کر کے ہمارے دینی رہنما واپس تشریف لاتے تو افغانستان کی اسلامی حکومت کا اپنے بیانات اور تقریروں میں ایسا ایمان افروز منظر پیش کرتے کہ دل سے یہی دعا نکلتی کہ خدایا یہاں پر بھی کوئی امیرالمومنین ملاعمر مجاہد جیسا حکمران بھیج دے۔ اب جب کہ ان خوابوں کی تعبیر کا وقت آیا تو یہ حضرات اپنے آپ کو طالبان سے بالکل ہی لاتعلق ظاہر کرنے لگ گئے ہیں حالانکہ ان کی کامیابی میں زیادہ حصہ خون شہدائے افغانستان کا بھی ہے۔ اگر طالبان والا اسلام یہاں نہیں آ سکتا تو پھر خدانخواستہ خدانخواستہ ہم خمینی کے انقلاب کی دعا مانگیں؟

امید ہے کہ آپ ان سوالات کا جواب اپنی اولین فرصت میں دیں گے۔ براہ مہربانی صرف یہ لکھ کر تسلی نہ دیں کہ اسلام نافذکرنے کے لیے کمیٹیاں اپنا کام کر رہی ہیں، تھوڑا انتظار کر لیں۔ حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی موجود ہیں اور ضرب مومن اخبار کے صفحات بھی گواہ ہیں جس میں کچھ سال پہلے یہ خبر چھپی تھی کہ اسلامی حکومت افغانستان نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو اسلامی قوانین کا مسودہ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ شاید اس مسودے کی کوئی کاپی یہاں پر موجود ہو۔ 

تحریر میں کوئی گستاخی محسوس کریں تو براہ مہربانی درگزر فرمائیں۔

ناچیز۔ سعداللہ

اسلامیہ کالونی، ڈیرہ اسمٰعیل خان


مکاتیب

(مئی و جون ۲۰۰۳ء)

Flag Counter