دینی مدارس کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے ایک مکالمہ

ادارہ

(ہماری خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی موضوع پر گفتگو ہو تو اس کے تمام اہم پہلو قارئین کے سامنے آجائیں تاکہ انہیں رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ گزشتہ دنوں ملک کے معروف کالم نگار اور دانش ور جناب عطاء الحق قاسمی نے دینی مدارس کے حوالے سے ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی ایک تقریر کے اہم اقتباسات روزنامہ جنگ میں اپنے کالم ’روزن دیوار‘ میں شائع کیے تو اس پر بحث کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ اس سلسلہ کے مضامین اور خطوط کو یکجا طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے جن کے آخر میں ان میں اٹھائے گئے اہم نکات پر مولانا زاہد الراشدی کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ مدیر)


ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

(عطاء الحق قاسمی )

ہمارے ذہنوں میں مولوی کا تصور وہی ہے جو آدھی رات کو مسجد کے چیختے چنگھاڑتے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ہم تک پہنچاہے یا سیاسی مولویوں کی دو عملی ہمارے ذہنوں میں مولوی کا امیج مسخ کرنے کا باعث بنی ہے لیکن میں ’’مولویوں‘‘ میں اٹھتا بیٹھتا ہوں۔ ان کے مثبت اور منفی پہلو دونوں میرے ذہن میں ہیں۔ وہ جو صحیح معنوں میں مولوی ہیں، ان کا وژن بہت وسیع ہے۔ مسٹر حضرات ان کی جہتوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ ان کا طرز استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے ۔ہمارے مسٹر حضرات مولوی پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کرتے ہیں، وہاں وہ بہت عرصے سے مولوی کو مسلم امہ کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں اور ہم لوگ ان کی بات پر یقین کرتے چلے جاتے ہیں۔

مجھے گزشتہ روز ڈاک میں مولانا زاہد الراشدی کی شائع شدہ ایک تحریر ملی جو انہوں نے مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا کے سالانہ اجتماع کے موقع پر کی تھی۔ اس میں مولانا نے دیگر الزامات کے علاوہ اس الزام کا جواب بھی دیا ہے جو مولوی حضرات پر مسلمانوں کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ مجھے مولانا کی بات میں وزن محسوس ہوا ہے اور یوں صورتحال 

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

والی لگتی ہے۔ مولانا کی تقریر سے ایک طویل اقتباس درج ذیل ہے:

’’سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنے جائز مقام سے محروم ہیں اور ہمارے مصائب وآلام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ صرف ایک مثال سے بات سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے پون صدی یا ایک صدی قبل ہم مسلمانوں کو بہت بڑی دولت سے نوازا۔ خلیج میں تیل کی دولت دی۔ یہ ہمارا ادبار کا دور تھا، زوال کا دور تھا مگر اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی دولت عطا فرمائی لیکن ہماری حالت یہ تھی کہ ہم تیل زمین سے نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، چشمے کھودنے کی تکنیک سے بے بہرہ تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے ہم کورے تھے اور تیل کو ریفائن کرنے کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مارکیٹنگ کی صلاحیت بھی ہم میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم مغربی ماہرین کو بلانے پر مجبور ہوئے۔ مغربی ماہرین آئے، پھر مغربی کمپنیاں آئیں، ان کے بعد بینک آئے، پھر سیاست کار آئے اور ان کے ساتھ مغرب کی فوجیں بھی آ گئیں جو آج تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔

ذرا خیال کیجیے کہ تیل ہمارا، چشمے ہمارے، کنویں ہمارے، زمین ہماری لیکن ان پر قبضہ کس کا ہے؟ اور کس وجہ سے ہے؟ یہ ہماری نااہلی تھی کہ ہم تیل نکالنے، صاف کرنے اور عالمی مارکیٹ میں اسے بیچنے کی صلاحیت سے محروم تھے جس کی وجہ سے مغرب سے ماہرین آئے اور آج ماہرین، کمپنیاں، بینک اور پھر فوجیں خلیج میں تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تیل نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹنگ کی صلاحیت آج بھی ہم میں موجود نہیں ہے اور مغرب کے ارادے یہ ہیں کہ ابھی امریکی وزارت دفاع پینٹاگون میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب نے امریکی احکامات کی من وعن تابع داری نہ کی تو اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور مغربی ملکوں میں اس کے اثاثے اور مغربی بینکوں میں اس کے اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں گے۔

اس لیے ہمیں اس کی تکلیف زیادہ ہے اور ہم اس کا درد زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے اور میں ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟

میں تاریخ کے حوالے سے بات کروں گا۔ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں، زکوٰۃ وصدقہ کے لیے دست سوال دراز کیا اور سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر عوامی تعاون کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب وثقافت کے آثار کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، سر پر چنگیر رکھ کر گھر گھر سے روٹیاں مانگیں، ہاں ہاں میں نے خود روٹیاں مانگی ہیں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں نے اپنی طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے کئی محلوں میں سر پر چھابہ رکھ کر روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم نے اپنی عزت نفس کی پروا نہیں کی، طعنے سنے ہیں، بے عزتی برداشت کی ہے لیکن قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھا ہے جس کی گواہی آج دشمن بھی دے رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی، سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا، انگریزی اور جدید زبانوں کی تعلیم اپنے ذمے لی۔ انہیں اس کام کے لیے ریاستی مشینری کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انہوں نے قومی خزانے کے کھربوں روپے خرچ کر ڈالے۔ انہیں سرکاری وسائل میسر تھے، ریاستی پشت پناہی حاصل تھی لیکن وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں آج کی قوموں کے برابر نہ لا سکے اور آج اپنی ناکامی کی ذمہ داری مولوی کے سرتھوپ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آج کی اجتماعی دانش سے سوال کرتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور یہ فیصلہ کرے کہ نااہل کون ثابت ہوا اور اپنی ذمہ داری کس نے پوری نہیں کی؟ آج اگر ملک کے کسی گوشے میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، قرآن وسنت کی راہ نمائی لوگوں کو میسر نہیں ہے اور اسلام کی آواز نہیں لگ رہی تو ہم مجرم ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے پیچھے رہنے کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالیے۔ یہ نا انصافی ہے، اس کے بارے میں ان سے پوچھیے جنہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کے لیے سرکاری خزانے کے کھربوں روپے اب تک انہوں نے خرچ کر ڈالے ہیں۔ 

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مل رہے ہیں؟ رمضان میں قرآن سنانے کے لیے حافظ مل جاتے ہیں؟ جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب موجود ہیں؟ مسئلہ بتانے والے مفتی صاحبان کی کمی تو نہیں؟ دینی راہ نمائی دینے کے لیے علماء کرام سے ملک کا کوئی گوشہ خالی تو نہیں؟ اس سے اگلی بات کہ میدان جنگ میں کفر کے خلاف صف آرا ہونے والے مجاہدین بھی ان مدارس سے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دینی مدارس پر اعتراض کس بات کا ہے؟

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی آج ہی ایک محفل میں فرما رہے تھے کہ انہوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ سرکاری نصاب تعلیم اور نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قومی کمیشن قائم کیجیے اور ہمیں اور سرکاری تعلیم کے ذمہ داروں کو اس کے سامنے پیش کیجیے۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘

(روزنامہ جنگ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء)


مولانا زاہدالراشدی کے جواب میں!

( عطاء الحق قاسمی )

کسی بھی لکھاری کے لیے اس کے قارئین کے خطوط بہت اہم ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ کالم میں شائع بھی ہوں لیکن ان سے مسئلے کو سمجھنے میں مدد ضرور ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں میرا ایک کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جو دینی مدرسوں اور انگریزی تعلیم کے حوالے سے مولانا زاہدالراشدی کی ایک تقریر کے حوالے سے تھا۔ مجھے مولانا کی بات میں بہت وزن محسوس ہوا تھا چنانچہ میں نے ان کے نقطہ نظر کی تائید کی۔ مجھے اس کالم پر پاکستان کے مختلف شہروں سے تائیدی ٹیلیفون موصول ہوئے تاہم ٹورنٹو (کینیڈا ) سے ایک قاری انصر رضا نے مجھے اپنا موقف بذریعہ فیکس (042-7513234) ارسال کیا جو مولانا زاہدالراشدی کے نقطۂ نظر سے مختلف ہے۔ چونکہ انصر رضا صاحب نے بھی اپنی بات سلیقے سے اور دلیل سے کی ہے، سو ان کا موقف اور اس حوالے سے میری معروضات درج ذیل ہیں:

جناب عطاء الحق قاسمی صاحب 
السلام علیکم

جناب زاہدالراشدی صاحب کے جس اقتباس میں آپ کو وزن محسوس ہورہا ہے اور جس سے آپ بظاہر متاثر ہیں، وہ خود فریبی اور تاریخی حقائق کو مسخ کرکے بلکہ یکسر چھپا کر اپنی پاکی داماں کی حکایت کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں ایک غلط بیانی یہ کی گئی ہے کہ انگریزوں نے دینی مدارس ختم کر دیے تھے۔ میں انگریزوں کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مدرسہ دیوبنداور دارلعلوم ندوہ انگریزوں کے دور میں ان کی سرپرستی میں بنے۔ دارالعلوم ندوہ کا سنگ بنیاد یوپی کے لفٹیننٹ گورنر نے رکھا تھا لہٰذا انگریزوں پر یہ الزام کہ انہوں نے دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی، بالکل غلط ہے۔ کلکتہ اور دہلی کے فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی علوم پر ریسرچ اور علما کو ’شمس العلما‘ کے خطابات سے ان کی عزت وتوقیر بڑھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انگریزوں نے نظام تعلیم کو ترقی دی۔

دوسری بات یہ ہے کہ دینی اور دنیاوی علوم کی تقسیم اسلام میں کہاں جائز ہے کہ علما اس پر راضی ہو گئے کہ ہم صرف دینی علوم پڑھیں گے اور باقی لوگ دنیاوی علوم حاصل کریں؟ ماضی کے مشہور مسلمان مفکرین اور سائنس دان دونوں علوم میں دسترس رکھتے تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اقتدار کا مسئلہ ہوتو سیاست دین سے الگ نہیں ہوسکتی لیکن علم سیکھنے کی بات ہو تو مشکل علوم کا بوجھ عامۃ الناس کے کندھے پر ڈال کر خود حلووں پر راضی ہو جائیں۔

جس دوسرے طبقے نے یہ نام نہاد ذمہ داری قبول کی تھی، ان کی راہ میں ان علما نے کتنے روڑے اٹکائے اور کفر کے فتووں سے کیسی کیسی گولہ باری کی، کون نہیں جانتا؟ مشہور ترین مثال سر سید احمد خان کی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرانے کی ٹھانی اور بدترین ظلم کا نشانہ بنے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ علمائے دین کا بنیادی کام نیکی کی دعوت اور برائی سے بچنے کی تلقین کرنا ہے۔ انہیں نوید اور و عید دونوں سنانا ہیں لیکن ہوا یہ کہ وہ لوگوں پر صرف آگ برسانے لگے۔ اگر آپ ان کے عقائد اور قرآن وسنت کی من مانی تشریح سے متفق ہیں تو آپ پکے مومن ہیں، چاہے آپ رشوت خور ہوں، ذخیرہ اندوز ہوں، مزارعوں اور ماتحتوں پر ظلم کرنے والے ہوں، دھاندلی اور دھونس سے الیکشن جیتنے والے ہوں۔ لیکن اگر آپ ان کے مفہوم دین سے متفق نہیں تو آپ قطعی طور پر زندیق اور فاسق ہیں، چاہے آپ پنج وقتہ نمازی ہوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حتی الوسع خیال رکھتے ہوں۔ قول وفعل کے اس تضاد اور اقتدار کی ہوس نے عوام کو ان علما سے متنفر کر دیااور یوں ایسی مسلمان امت وجود میں آئی جسے خدا ہی ملا نہ وصال صنم ، نہ وہ دین کی رہی اور نہ دنیا کی۔ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری علماے دین پر ہے جنہوں نے ایک طرف تو عوام کی اصلاح و تربیت سے منہ موڑ لیا اور قرآنی معارف سے نہ خود آگاہ ہوئے نہ دوسروں کو اس کا شوق دلایا اور دوسری طرف دنیاوی علوم کو بیکار کہہ کر حوصلہ شکنی کی۔

والسلام۔ انصر رضا، ٹورنٹو، کینیڈا 

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایک انگریز گورنر نے دارالعلوم ندوہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا لہٰذا ثابت ہوا کہ انگریز دینی تعلیم کے پروموٹر تھے تو یہ بات حقائق سے لگا نہیں کھاتی۔ آج اگر صدر بش واشنگٹن کے اسلامی مرکز میں جوتے اتار کر اندر داخل ہوتے ہیں اور وہاں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا سادہ لوحی ہو گی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ اسی طرح انصر رضا صاحب نے مشرقی علوم کے اداروں کی سرپرستی کے حوالے سے جو نتائج اخذ کیے ہیں، وہ بھی محل نظر ہیں۔ سمجھدار محکوم قوم کی نفسیات سے مکمل آگاہی اور یوں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے ایسے ادارے قائم کیا ہی کرتے ہیں۔ یہ ادارے مقامی زبانوں پر دسترس حاصل کرنے کے لیے بھی قائم کیے جاتے ہیں چنانچہ امریکہ میں بھی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سرپرستی میں اس نوع کے ادارے قائم ہیں اور اس نوع کے ایک ادارے کے نصاب میں راقم الحروف کی تصنیفات بھی شامل ہیں۔ نیز جن علما کو شمس العلما وغیرہ کے خطابات دیے گئے، وہ دینی تعلیم کے حوالے سے نہیں تھے۔ ان میں سے ایک ’’شمس العلماء‘‘ (مولانا محمد حسین آزاد) ایک اسلامی ملک میں باقاعدہ انگریزوں کے جاسوس تھے۔

البتہ دینی تعلیم اور انگریزی تعلیم کے حوالے سے انصررضا صاحب نے جو دوسرے نکات اٹھائے ہیں، وہ واقعی قابل توجہ ہیں۔ ان کا جواب مولانا زاہدالراشدی پر واجب ہے۔ یہ جواب اگر اتنا ہی مختصر ہوا جتنا انصررضا صاحب کا خط ہے تو ان شاء اللہ انہی کالموں میں شائع ہو گا!

(روزنامہ جنگ ، ۶ جنوری ۲۰۰۳ء)


تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا 

(عطاء الحق قاسمی)

میرے ایک کالم میں دینی مدارس کے حوالے سے مولانا ابوعمار زاہدالراشدی صاحب کا نقطہ نظر شائع ہوا تھا اور اس کے بعد ایک قاری انصر رضا صاحب کا ایک تنقیدی خط بھی کالم میں شائع کیا گیا۔ اس کے بعد اس موضوع کی حمایت اور مخالفت میں بے شمار خطوط موصول ہوئے اور ظاہر ہے ان سب کی اشاعت ممکن نہ تھی چنانچہ میں نے یہ سلسلہ وہیں روک دیا۔ قاری کے تنقیدی خط کا جواب مولانا زاہدالراشدی نے دفتر کے پتہ پر ارسال کیا جو مجھے نہ مل سکا۔ اب انہوں نے دوبارہ یہ زحمت کی ہے جس کی وجہ سے یہ خط تاخیر سے شائع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ دینی تعلیم دینے والے اور دنیاوی تعلیم دینے والے دونوں طبقے صرف ’’ضروری صورت‘‘ کے عالم اور دانشور پیدا کر سکے ہیں۔ دینی مدرسوں سے کوئی رازیؒ اور کوئی غزالیؒ ابھر کر سامنے نہیں آیا اور دنیاوی مدرسے ہمیں کوئی آئن سٹائن، کوئی نیوٹن نہیں دے سکے۔دونوں نے بس ’’غریبی دعوے‘‘ والا کام کیا ہے۔ باقی رہی تنگ نظری کی بات، تو اپنے رویوں کے حوالے سے ’’ملّا‘‘ دونوں طرف موجود ہیں۔ ایک طرف دین کے نام پر شٹل کاک برقعے کو لازمی قرار دینے والے بھی ہمارے درمیان ہیں اور دوسری طرف سیکولرازم اور روشن خیالی کے نام پر ترکی میں خواتین کے سکارف اوڑھنے پر بھی پابندی۔ یعنی ’’تیرے آزادبندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا‘‘ والی صورتحال ہے۔ بہرحال مولانا راشدی کا خط ملاحظہ فرمائیں:

’’برادر محترم عطاء الحق قاسمی صاحب

آپ کے کالم میں محترم انصر رضا آف ٹورنٹو کا خط پڑھا۔ آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے ہمارا نقطہ نظر جنگ کے ذریعہ ایک وسیع دائرے تک پہنچایااور انصر رضا صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پر ناقدانہ نظر ڈال کر بہت سے قارئین کو میری معروضات دوبارہ پڑھنے اور مجھے کچھ مزید باتوں کی وضاحت کا موقع فراہم کیا۔

انگریزوں کی طرف سے دینی مدارس کی سرپرستی کے حوالہ سے آپ کا موقف درست ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جارج ڈبلیو بش صرف جوتے اتار کر مساجد میں نہیں جارہے بلکہ اخباری رپورٹوں کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کے دینی مدارس کی ترقی، تعمیر اور اصلاح کے لیے ایک خطیر رقم بھی مختص کر رکھی ہے اور اس رقم کا مصرف مہیا کرنے کے لیے ہوم ورک جاری ہے۔ اسے اگر انصر رضا صاحب دینی تعلیم کی سرپرستی سمجھتے ہیں تو انہیں مبارک ہو۔ ہم دینی مدارس والے اس مہربانی کے متحمل نہیں ہیں۔

جہاں تک دیوبند کے مدرسہ کی انگریزوں کی طرف سے سرپرستی کا سوال ہے، ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں دیوبند کے مدرسے اور مکتب فکرکاتاریخی استعمار دشمن کردار اس کی وضاحت کے لیے کافی ہے اور کسی منصف مزاج شخص کے لیے اس سے زیادہ کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ انصر رضا صاحب کی خدمت میں یہ سوال ضرور پیش کرنا چاہوں گا کہ اگر ان کے بقول انگریزوں نے دینی مدارس کو ختم کرنے اور ان کے نظام کو تلپٹ کر دینے کے بجائے ان کی سرپرستی کی تھی تو ۱۸۵۷ء سے پہلے جو تعلیمی نظام اور نصاب پورے برصغیرمیں رائج کیا تھا، اسے ختم کرکے اس کی جگہ نئے تعلیمی نظام کو کس نے نافذ کیاتھا؟ اگر انصر رضا صاحب نظام تعلیم کی اس تبدیلی کے محرکات اور اہم مراحل سے آگاہ کر سکیں تو ان کا ہم پر بہت کر م ہوگا۔

باقی رہی یہ بات کہ دینی مدارس نے صرف دینی تعلیم پر اکتفا کیوں کیا اور دینی علوم اور دنیاوی علوم کی تقسیم کیوں کی تھی، اس کے بارے میں عرض ہے کہ دینی علوم کے وارثین نے کبھی دین ودنیا کی تقسیم نہیں کی اور نہ ہی وہ اسے جائز سمجھتے ہیں۔ ہاں اس دور کے معروضی حالات میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم اپنے غریبی دعوے کے ساتھ اتنا کام ہی کرسکتے ہیں اور وہ انہوں نے بحمداللہ پورا کر دکھایا۔ یہ تقسیم علوم کا نہیں بلکہ تقسیم کار کا مسئلہ ہے اور اگر غصہ تھوک کر میری گزشتہ کالم کی معروضات پر سنجیدگی سے ایک نظر پھر ڈال لیں تومجھے یقین ہے کہ خود انصر رضا صاحب محترم کے ذہن میں بھی یہ اشکال باقی نہیں رہے گا۔

انصر رضا صاحب نے سرسید احمد خان مرحوم کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کی دینی تعبیرات کی مخالفت کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں میر ی استدعا ہے کہ سرسید احمد خان مرحوم نے قرآن وسنت کی جس نئی تعبیر وتشریح کی داغ بیل ڈالی تھی، اس کی صرف علما نے مخالفت نہیں کی بلکہ انہیں خود سرسید مرحوم کے رفقا مولانا الطاف حسین حالی مرحوم، شبلی نعمانی مرحوم اور ان کے دیگر معاصرین مثلاً اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے بھی قبول نہیں کیا تھا اور ان تعبیرات وتشریحات سے کھلے بندوں براء ت کا اظہار ضروری سمجھا تھا اور اس سے بڑھ کر سر سیداحمد خان مرحوم کے شاگردوں میں سے بھی کسی نے دین کی اس تعبیر وتشریح کو اختیار نہیں کیا تھا۔ اگر سرسید احمد خان مرحوم کے کسی ساتھی یا شاگرد کا نام انصررضا صاحب کو معلوم ہو کہ اس نے سرسید احمد خان کی دینی تعبیرات کو اختیار کیا تھا اور انہیں آگے بڑھانے میں دلچسپی لی تھی تو وہ اس کی نشاندہی فرما دیں۔ میں اس پر ان کا بے حد شکرگزار ہوں گا۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سلسلہ میں سرسیدکی مخالفت کے الزام کا نزلہ عضوضعیف مولوی پر ہی کیوں گرتا ہے اور ان تعبیرات کو رد کردینے والے دیگر حضرات انصر رضا صاحب جیسے دوستوں کو کیوں یاد نہیں رہتے؟

اس سلسلے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ علماے کرام نے انگریزی تعلیم کی مخالفت کی تھی۔یہ بات بھی قطعی بے بنیاد اور خلاف واقعہ ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا دور ۱۸۵۷ء سے بہت پہلے کا ہے اور ان کے فتاویٰ عزیزی میں آج بھی یہ فتویٰ موجود ہے جس میں انہوں نے انگریزی زبان سیکھنے کو جائز قرار دیا تھا جبکہ مولانا رشید احمد گنگوہی سرسید احمد خان مرحوم کے معاصرین میں سے ہیں بلکہ یہ دونوں بزرگ ایک ہی استاد مولانا مملوک علی نانوتوی کے شاگرد ہیں اور مولانا گنگوہی کے فتاویٰ رشیدیہ میں بھی فتویٰ موجود ہے کہ انگریزی زبان کو بطور زبان سیکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں اور یہ جائز ہے۔

انصر رضا صاحب اگر اس دور کے حالات کا مطالعہ رکھتے ہیں تو یہ بات بھی یقیناًان کے علم میں ہوگی کہ سرسید احمد خان مرحوم نے جب علی گڑھ میں کالج قائم کیا توا س کے شعبہ دینیات کے پہلے سربراہ مولانا عبداللہ انصاری تھے جو بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کے داماد تھے اور انہیں خصوصی فرمائش پر علی گڑھ بھیجا گیا تھا۔ انہی مولانا عبداللہ انصاری کے فرزند مولانا محمد میاں انصاری ہیں جنہوں نے راجہ مہندر پرتاب، پروفیسر برکت اللہ بھوپالی اور مولانا عبیداللہ سندھی کے ساتھ مل کر آزادی ہند کے لیے جاپان، جرمنی اور خلافت عثمانیہ کے ساتھ رابطے کرکے آزاد ہند گورنمنٹ کی بنیاد رکھی تھی اور جلاوطنی کی حالت میں کابل میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

ان حالات میں بھی اگر انصر رضا صاحب کو یہی نظر آتا ہے کہ علما نے سرسید احمد مرحوم کے کام میں روڑے اٹکائے تھے، انگریزی تعلیم کی مخالفت کی تھی، خودانگریز کی سرپرستی میں مدرسے چلائے تھے اور وہی ساری قوم کی سب خرابیوں کے ذمہ دار ہیں تو ہم فقیر لوگ ان کے لیے دعاے صحت ہی کر سکتے ہیں۔ 

میں ایک بار پھر آپ کا شکر گزار ہوں لیکن کالم کی تنگ دامنی کے شکوہ کے ساتھ کہ بہت سی اور ضروری باتیں بھی اس خط میں شامل کرنا چاہتا تھا مگر.......‘‘


ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کا مکتوب گرامی

محترم و مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی

آپ سے تعارف خاصا پرانا ہے۔ آپ کی تحریر اور تقریر کی صلاحیت کا معترف بھی ہوں اور مداح بھی۔ ندائے خلافت کے تازہ شمارہ نمبر ۱ مؤرخہ ۸ جنوری ۲۰۰۳ ء میں آپ کے مضمون ’’قصور وار کون؟‘‘ نے اتنا متاثر کیا کہ آپ سے تحریری رابطہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ حالانکہ میں تحریر کا کافی ’’چور‘‘ واقع ہوا ہوں۔ ٹیلی فون پریا بالمشافہ ملاقات مجھے آسان محسوس ہوتی‘ بہ نسبت تحریر کے۔ 

مولانا ! آپ نے آج کے جدید علوم کے علمبردار طبقہ کو بہت ہی مدلل اور مؤثر جواب دیا ہے اور باوجود اس کے کہ میں نہ عالم دین ہوں اور نہ کسی روایتی مدرسے سے تعلیم یافتہ بلکہ علم کے نام پر زیادہ تر ان ’’نام نہاد جدید تعلیمی اداروں‘‘ ہی سے استفادہ کیا ہے جن پر آپ نے تنقیدکی ہے، اس کے باوجود مجھے آپ کی تحریر پسند آئی ہے۔

لیکن مولانا ! آپ سے کچھ ’’آپس کی بات‘‘ کرنے کو بھی دل چاہتا ہے۔

میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی یہ تحریر جدید علوم کے علمبردار طبقے پر ’’ایک الزامی جواب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسے بقول علامہ اقبال ؂ 

کہا اقبال نے شیخ حرم سے تہہ محراب مسجد سو گیا کون؟
ندا مسجد کی دیواروں سے آئی فرنگی بت کدے میں کھو گیا کون؟

یہ بات درست ہے کہ جدید علوم کے نام پر اتنے وسائل خرچ کرنے (جن میں سب سے زیادہ حکومتی وسائل ہی خرچ ہوتے ہیں) کے باوجود ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ اور آپ نے اس پر جدید علوم کے علمبرداروں اور مسلمان حکومتوں اور مسلمان حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس کے مقابلے میں دینی علوم کے علمبرداروں نے باوجود وسائل کی کمی اور نا مساعد حالات کے قرآن و حدیث کے علم کا سلسلہ جاری رکھا اور آج نہ کسی خطیب کی کمی ہے اور نہ حافظ قرآن کی۔

مولانا ! آپ نے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں عام دینی تعلیم کا حوالہ دے دیا۔ جدید تعلیم میں مہارت کے مقابلے میں تو دینی علوم میں مہارت کی مثال پیش کی جانی چاہیے تھی۔ جہاں تک عام مروجہ تعلیم کا تعلق ہے، اس کے ذریعے مروجہ حکومتی نظام چلانے والے کارندوں کی ضرورت ہے جو بحسن و خوبی پوری ہو رہی ہے۔ جہاں تک عام ٹیکنیکل علم و مہارت کا تعلق ہے، اس میں تو کہیں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہاں البتہ جہاں تک جدید ٹیکنالوجی اور اس میں تحقیق اور ایجادات اور اس میں مہارت کا تعلق ہے، قریباً تمام ہی مسلمان ممالک اس میں ’’پھسڈی‘‘ ہیں۔ صرف ایک استثنا ہے کہ پاکستان نے کم از کم ایٹمی ٹیکنالوجی میں تو وہ ترقی کی ہے جس کا اعتراف ہمارا دشمن اور مغرب بھی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ مہارت بھی ہمیں اللہ تعالیٰ نے خالصتاً معجزانہ انداز میں عطا فرمادی ہے، بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی اور علم و تحقیق میں عمومی ترقی کے۔ اب آئیے دینی علم کی طرف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام دینی علوم کی ترویج کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں دینی حلقوں نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دین کو کس نے اور کہاں پیش کیا ہے؟

بعض خود ساختہ شرائط کے ساتھ اجتہاد کا دروازہ ہم نے بند کر رکھا ہے۔ طبقہ علما میں کوئی ایسی قیادت ابھر کر آئی ہے جس نے واقعتا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہو؟ پوری امت مسلمہ ’’ایک امام‘‘ سے محروم ہے۔ بلکہ برا نہ مانیے، اس عام دینی علم نے جہاں خطیب اور حافظ فراہم کیے ہیں، وہیں بدترین قسم کی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی بھی اسی طبقے سے ابھری ہے اور دین کے غلط تصورات کو بنیاد بنا کر تخریب کاری اور دہشت گردی کی ترویج کا باعث بھی یہی طبقہ بنا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تمام طبقات ایسے نہیں ہیں لیکن جو ہیں، ان کا بھی تعلق تو اسی طبقے سے ہے نا۔ 

میں تو محسوس کرتا ہوں کہ : ع ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا

۵۶ کے قریب مسلمان ملکوں میں کہیں بھی طبقہ علما نے دین کو بطور نظام زندگی برپا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ دور جدید میں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام‘ کہ جس کے ذریعے ہم اسلام کے زریں اصولوں اخوت و مساوات اور عدل و قسط کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتے‘ میں ہم ناکام رہے ہیں۔ (ایران میں اسلامی نظام کے نام پر جو کچھ ہوا، اس میں معاشرتی سطح پر تو تبدیلی آئی لیکن معاشی سطح پر سود اور جاگیرداری نظام جاری ہے اور سیاسی سطح پر قرآن و سنت کی بجائے ’’رہبر‘‘ کی بالادستی کا طوق بھی موجود ہے۔ گویا فلاحی ریاست کا تصور وہاں بھی عنقا ہے۔) بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ اس کی اہمیت کا احساس بھی ہمارے طبقہ علما کے بیشتر حصے میں موجود نہیں ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ اگر ہم اپنے معاملات میں خود مختار ہوتے تو یہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہمارے ہاتھ میں ہوتی اور اسے ہم اپنی مرضی سے استعمال کرتے۔ کجا یہ کہ ہم خود اغیار کے زیر تسلط ہیں۔ کرنے کا اصل کام تو دینی حلقوں نے بھی نہیں کیا۔ 

بری الذمہ کوئی بھی نہیں ! ہم سب ’’قصور وار‘‘ ہیں۔

والسلام، ڈاکٹر عبد الخالق 

ناظم نشر و اشاعت تنظیم اسلامی

۹ جنوری ۲۰۰۳ء


جناب آفتا ب عروج کا مکتوب گرامی

۱۵ مارچ ۲۰۰۳ء

مکرم ومحترم جناب ابو عمار مولانا زاہد الراشدی صاحب 

السلام علیکم 

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ قاسمی صاحب سے رابطہ کے بعد آپ کا ڈاک کا پتہ دستیاب ہوا۔ انہی کی حوصلہ افزائی سے حاضر خدمت ہو رہا ہوں۔ عرض حال یہ کہ یہ دور دلیل وبرہان، حقائق وواقعات کا دور ہے۔ جذباتیت، اشتعال انگیز تقاریر وبیانات سے حقائق تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ دوسروں کو الزام دینے کی بجائے ہمیں اپنی اصلاح کے لیے اپنی غلطیوں، فروگزاشتوں کا کھلے دل کے ساتھ اعتراف کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد گزشتہ غلطیوں سے اجتناب کے عہد صمیم کے بعد نہایت خلوص دل کے ساتھ صراط مستقیم پر سفر زندگی کا آغاز کرکے ہی ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو حاصل کر سکتے ہیں ۔

مسلم امہ، اگر کہیں ہے، تو اس کا جاہ وجلال، اقتدار وتمکنت کیوں چھن گیا؟ اس تالے کی کلید کہاں کھو گئی؟ اس کا کھوج لگانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اسباب زوال امہ تو بے شمار ہیں لیکن سردست ہمیں فوری طور پر درج ذیل اقدامات سے آغاز کرنا ہوگا۔ ۱۔ ہمیں مسٹر اور ملا کی تخصیص ختم کردینی چاہیے، ۲۔ دنیوی اور دنیاوی تعلیم کے خانے ختم کرنا ہوں گے، ۳۔ فرقہ واریت کی غیر اسلامی آہنی دیواریں مسمار کرنا ہوں گی، ۴۔ہمیں مکالمہ وبرداشت کے بند دروازے کھولنا ہوں گے۔ جیسا کہ آپ نے ایک نکتہ اٹھایا ہے، اس طرح آپ جیسے دوسرے ہمدرد دین ملت اصحاب کو بھی موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔ اس طرح ہم اپنے مستقبل کی راہ کا تعین کرنے میں کامیا ب ہو سکتے ہیں۔ میر ی رائے ہے کہ اس مسئلہ کو مملکتی سطح پر زیر بحث لانے کے لیے آپ کی سربراہی میں ایک ادارہ جس کا نام بھی میں تجویز کیے دیتا ہوں، ’’ادارہ مکالمہ وبرداشت بین المسلمین‘‘، تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

دوران تحریر اگر کسی مقام پرسوء ادبی کا مرتکب ہوا ہوں تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

آپ کی دعاؤں کا طلب گار

آفتاب عروج


ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا؟

(آفتاب عروج)

مورخہ ۲۷ دسمبر۲۰۰۲ء آپ کا کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ اس کالم میں آپ مولانا زاہدالراشدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ صحیح مولوی کا وژن بہت وسیع اور اس کا طرز استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے آپ اپنی اس دلیل کے حق میں کسی ایک مولوی کی وسیع النظری اور اس کے طرز استدلال کی کوئی ایک مثال بیان کرتے۔ اس کے بعد آپ زاہدالراشدی کی ہم نوائی کرتے تو بات جچتی اور سمجھ میں آتی۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ کیا مصلحت تھی؟ کیوں نہیں کیا؟

میں نے آپ کے اور مولانا زاہدالراشدی کے نقطہ نظر کو تاریخی اور قرآنی حوالہ سے رد کیا ہے۔ اس پر آپ اور مولانا زاہدالراشدی صاحب کو ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے۔ میں آپ کو اور مولانا زاہدالراشدی اور ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ آپ سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیں کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟ میرے ان دلائل کی تردید آپ کے اور مولانا زاہدالراشدی کے ذمہ ہے۔ میں منتظر رہوں گا۔ 

گزشتہ صدی میں ایک شخصیت ہو گزری ہے جنہیں ہم علامہ اقبالؒ کہتے ہیں۔ انہوں نے بھی مولوی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے ؂

مکتب و ملاو اسرار کتاب
کور مادر زاد ونور آفتاب

تاریخ کی چند کتب اس ناچیز کے بھی زیرمطالعہ رہی ہیں۔ مسلم امّہ کی معلوم تاریخ میں دنیا کے کسی بھی خطے میں مولوی کو اسلامی انقلاب برپا کرتے نہیں دیکھا۔ آپکی یہ دلیل درست نہیں کہ صحیح مولوی کا استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے۔ قاسمی صاحب! مولوی کا علم قولی و نقلی ہوتا ہے۔ دلیل و برہان، تحقیق و جستجو، جدت واختراع، روشن خیالی اس کے نصاب میں شامل نہیں۔ 

زاہدالراشدی صاحب کا ۱۸۵۷ء سے دو طبقات کا مفروضہ تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ مسلم امّہ میں جتنے بھی سائنس داں ہو گزرے ہیں، ان میں کوئی بھی مولوی نہ تھا اور نہ ہی ان میں کوئی انگریزی جانتا تھا ۔ لیکن انہوں نے تا حیات تحقیق و جستجو کے قرآنی حکم کو اپنا فریضہ زندگی سمجھ کر جاری رکھا۔ مصر فتح ہوا تو ہمارے سائنس داں منجنیق اور نیپام میزائل تیار کر چکے تھے۔ تمام عیسائی حکومتیں متحد ہو کر بھی مسلمانوں کی یلغار کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ یہ تمام محققین و سائنس داں آخری عباسی خلیفہ معتصم کے دور تک کے ہیں۔تیرھویں صدی عیسوی کے بعد مسلم امہ کا سائنسی اور تحقیقی آفتاب علم غروب ہونا شروع ہو گیا اور چودھویں صدی عیسوی تک بالکل ختم ہوگیا۔ اس کے بعد کی سات آٹھ صدیاں مولانا زاہدالراشدی صاحب کہاں رہے اور کیا کرتے رہے جبکہ برصغیر میں سیاسی طاقت بھی آپ کے ہاتھ میں تھی ؟ ؂

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل 

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاحبان علم دانش کو کائنات پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔میں حیران ہوں کہ مولانا زاہدالراشدی صاحب دوسروں کو الزام دینے کی بجائے اس دعوت قرآنی سے استفادہ کر لیتے تو انہیں اپنی ذمہ داری سے فرار کا راستہ اختیار نہ کرناپڑتا۔ قاسمی صاحب کی ہم نوائی بڑی معنی خیز ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں بیسیوں آیات موجود ہیں لیکن کوئی پڑھے اور تدبر کرے تو۔ ایک دو آیات درج ذیل ہیں:

’’اور اس کے نشانات اور تصرفات میں سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہل دانش کے لیے ان باتوں میں بہت نشانیاں ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے اور کہتے ہیں کہ پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ تو پاک ہے۔ تو قیامت کے دن ہمیں دوزخ سے بچائیو۔ (۳:۱۹۱، ۱۹۲)

اس آیت کے الفاظ ’’دوزخ سے بچائیو‘‘ کی یہی صورت تھی کہ مولانازاہد الراشدی مندرجہ قرآنی ہدایات پر عمل کرتے اور عقل ودانش کو کام میں لاکر تسخیر کائنات کے علوم میں مہارت حاصل کرکے زندہ قوموں میں شمار ہوتے تو آج انہیں اس فریب میں مبتلا نہ ہونا پڑتا کہ ہم ملک میں قرآن سنت کی راہنمائی دے رہے ہیں۔

کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سے استفادہ کرنا نہ کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ زندگی کی دوڑ میں جو انسان، گروہ یا قوم اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے آپ کو قانون خداوندی اور قانون فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں، وہی لوگ اللہ کی نعمتوں، سرفرازیوں، شادابیوں کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں اور دنیا کی امامت انہیں کے حصے میں آتی ہے۔ بخشیش کی جنت خدا کسی کو بھی نہیں دیتا۔

’’خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ (۱۴/۱۴۱)
’’دیکھو بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا۔ اگر تم مومن صادق ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘ (۳/۱۳۹)

اللہ تعالیٰ نے کافروں پر غلبہ کے لیے مومن صادق کی شرط عائد کردی ہے اور اس میں دیگر احکامات کے ساتھ ۳۰/۳۲ اور ۳/۱۹۱،۱۹۲ کی شرط بھی شامل ہے ۔

جیسا کہ گزشتہ سطورمیں عرض کیا جا چکاہے، لگ بھگ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم امہ کا سائنسی اور تحقیقی ز وال شروع ہو چکا تھا اور اس سائنسی تحقیقی علم کی شمع مغرب کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔ بغداد جو اس وقت مسلم امہ کا دارالخلافہ تھا، مناظروں، مناقشوں اور نظری بحثوں کا اکھاڑا بن چکا تھا۔عسکری قوت ختم ہوچکی تھی۔ پھر چنگیز خان آئے، ہلاکو خاں آئے ،بڑی لمبی دردناک داستان ہے اور پھر آخر میں وہ آئے جو ہم سے ہماری میراث لے گئے۔ پھر انہوں نے بھی وہی کچھ کیا جو چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے کیا تھا۔ یہ ان کا حق تھا جو انہوں نے حاصل کر لیا۔ اب امریکہ اپنا حق وصول کر رہا ہے تو اب مولانا زاہدالراشدی صاحب فریاد کناں ہیں اور انصاف کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں ۱۸۵۷ء کی طرف کیونکہ مولانا زاہدالراشدی صاحب نے اپنا سوال ۱۸۵۷ء سے ہی اٹھایا ہے۔ جب ۱۸۵۷ء میں روایتی سیاسی و مذہبی قیادت ناکام ہو گئی تو مسلمانوں میں شدید اضطراب، خوف، بے دلی و سراسیمگی پیدا ہو چکی تھی۔ ان حالات میں مسلم قوم کے دردمند غیرروایتی اہل علم و دانش مل بیٹھے اور پیش پا حالات پر غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ حالات میں عسکری قوت سے آزادی کا حصول ممکن نہیں، لہٰذا ہمیں اپنی حکمت عملی میں واضح اور نمایاں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حصول آزادی کی موجودہ کوشش کچھ عرصہ کے لیے موخر کرنا پڑے گی اور جس ہتھیار سے انگریزوں نے ہمیں غلام بنایا ہے، اسی ہتھیار سے ہمیں بھی لیس ہونا پڑے گا۔ یعنی انگریزی زبان و دانش اور سائنسی علوم پر دسترس و آگہی۔ مزید یہ کہ اسلام کی تعبیر کو بھی بدلتے زمانے کے ساتھ متحد وہم آہنگ کرنا ہو گا۔ ان احباب علم ودانش نے علی گڑھ کے مقام سے اس علمی تحریک کا آغاز کر دیا اور متذکرہ مقاصد کے حصول کی خاطر مختلف مقامات پر اسکول و کالج اور سائنٹفک سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گویا یہ شعور و آگہی میں انقلاب برپا کرنے کی ابتدا تھی۔اس تمام سوچ اور فکرو حکمت عملی کی منصوبہ سازی کے روح رواں سر سیّد احمد خاںؒ تھے۔

یہ ہے وہ مقام جہاں روایتی سیاسی و مذہبی قیادت اور سر سیّد احمد خاں کی فکروحکمت عملی میں تضاد کی خلیج پیدا ہو گئی جسے مولانا زاہدالراشدی صاحب انتہائی سادگی سے دو طبقات پر محمول کر بیٹھے جو واقعتا غلط ہے۔ شکست خوردہ روایتی سیاسی و مذہبی قیادت نے کبھی بھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا اور وہ حصول آزادی کے اپنے فرسودہ طریق کار پر نہ صرف بضد رہے بلکہ اسے مبنی برحق سمجھتے رہے۔ اس کا ثبوت تحریک خلافت اور ریشمی رومال ایسی تحریکیں ہیں جو ۱۹۱۵ء تک چلتی رہیں۔

تحریک علی گڑھ اور روایتی سیاسی و مذہبی قیادت میں جو فکری و عملی تضاد تھا، اب شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ گیا جس کے نتیجہ میں سر سیّد احمد خانؒ کو کافر، ملحد، زندیق، بے دین، نیچری کے فتووں کی شکل میں گالیاں دی گئیں۔ ان کی تضحیک کی گئی۔ دیوبند کی بنیاد اسی نفرت اور تضاد فکر کا نتیجہ تھی۔ وہ نفرت مولانا زاہدالراشدی کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی پاکستان میں دیوبند کے سرخیل مولانا مفتی محمود اور ان کے خلف الرشید مولانا فضل الرحمن اب بھی پاکستان کو گالی دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دین سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے تمام علما اور مفتی صاحبان مل کر بھی نہیں بتا سکتے کہ ’مسلم‘ کسے کہتے ہیں۔

پاکستان کا وجود روایتی سیاسی ومذہبی قیادت کی ناکامی اور تحریک علی گڑھ کی کامیابی کا ثمر ہے جس نے غیر روایتی اور غیرمذہبی لیکن بنیادی اسلامی نظریے کی حامل قیادت علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح جیسی عظیم لیڈر شپ قوم کو عطا کی جنہوں نے محض اپنی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی سے وہ بازی جیت لی جو روایتی مسلمان حکمران اور علما ہار چکے تھے، اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا۔ ناممکن کو ممکن بنا دیا اور مولانا زاہدالراشدی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان حاصل کر لیا۔

آج ماشاء اللہ پاکستان پچپن برس کا ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق پچپن برس پچپن دن شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک پچپن سال میں وجود میں نہیں آئے اور نہ پچپن سال میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرسکے۔ قوموں کے عروج وزوال صدیوں پر محیط ہوتے ہیں اور بے شمار ریاضتوں اور قربانیوں کے بعد ترقی حاصل ہوتی ہے۔

یہ جدید علوم پر دسترس رکھنے والوں ہی کا کمال ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور جدید میزائل ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کر چکا ہے۔ جب پاکستان بنا تو ہمارے پاس ایک بندوق تک نہ تھی ، فوج نہیں تھی، ائر فورس نہیں تھی، نیوی نہیں تھی، حتیٰ کہ پاکستان بن جانے کے بعد جو انتظامیہ ہمارے حصے میں آئی، انہیں تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اب ہم روایتی اسلحہ میں نہ صرف خودکفالت حاصل کر چکے ہیں بلکہ برآمد بھی کررہے ہیں۔ہمارے پاس اسٹیل ملز ہیں۔ ہماری بہادر افواج ہیں۔ ائرفورس ہے جو اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ نیوی ہے۔ ہماری سول ائر لائن ہے۔ہماری صنعت ہے۔ انڈسڑی ہے۔ہمارے کالج ہیں، یونیورسٹیاں ہیں، میڈیکل کالج ہیں جہاں ہم اپنے طالب علموں کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تحصیل علم کے بعد ملک میں اور بیرون ملک ہمارے نوجوان ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ جدید علوم سے آراستہ ماہرین نے جو ذمہ داریاں قبول کی تھیں، وہ بحسن وخوبی پوری کررہے ہیں لیکن صدیوں کا خلا پچپن دن میں پورا ہونا قانون خداوندی کے خلاف ہے۔ پاکستان پائندہ باد۔

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے


خطوط ومضامین میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ایک نظر

(ابو عمار زاہد الراشدی)

محترم عطاء الحق قاسمی صاحب ، محترم انصر رضا صاحب، محترم ڈاکٹر عبدالخالق صاحب اور محترم آفتاب عروج صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس بحث میں حصہ لیا اور ایک اہم ملی اور قومی مسئلہ پر اپنے خیالات و ارشادات کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی۔ ان میں سے بہت سے اہم امور پر گزشتہ گزارشات میں ضروری بات ہو چکی ہے البتہ کچھ نکات پر اظہار خیال کی گنجائش موجود ہے جن کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔

محترم عطاء الحق قاسمی سے صرف یہ شکایت ہے کہ انہوں نے غریبی دعویٰ میں دونوں طبقات کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے حالانکہ ایک طرف عصری نظام تعلیم کی پشت پر پوری ریاستی مشینری اور وسائل چلے آرہے ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کا سارا نظام زکوٰۃ وصدقات، چرم ہائے قربانی اور عوامی چندہ پر چلتا ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں غریبی دعوے میں محترم قاسمی کی نظر میں برابر ہیں تو ----------

ڈاکٹر عبدالخالق صاحب نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس نے عام دینی تعلیم تو دی ہے مگر ماہرین پیدا نہیں کیے۔ میرا خیال ہے کہ علامہ سید محمد انورشاہ کشمیریؒ ، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ ، مولانا سید سلیمان ندویؒ ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا حمید الدین فراہیؒ ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ، مولانا غلام محمد گھوٹویؒ ، پیرسیدمہر علی شاہ گولڑویؒ بلکہ غیر روایتی حلقوں کے حوالہ سے مولانا شبلی نعمانیؒ ، مولانا ابوالکلام آزادؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور ان جیسے بیسیوں شہرۂ آفاق علما انہی دینی مدارس کی پیداوار ہیں جن کی علمی مہارت اور خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اگر ڈاکٹر محترم کی معلومات اس سے مختلف ہوں تو ہم ان کے اظہار کا خیرمقدم کریں گے۔

آفتاب عروج صاحب نے میری اس گزارش کو رد کیا ہے کہ۱۸۵۷ء کے بعد قوم تعلیمی اور فکری حوالہ سے دوطبقات میں تقسیم ہوگئی تھی۔ وہ فرماتے ہیں :’’زاہدالراشدی صاحب کا ۱۸۵۷ء سے دوطبقات کا مفروضہ تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔‘‘ مگر اسی مضمون میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ : ’’روایتی سیاسی ومذہبی قیادت اور سر سیداحمد خان کی فکروحکمت عملی میں تضاد کی خلیج پیدا ہوگئی۔‘‘ اور پھر وہ اپنے مکتوب گرامی میں یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ ’’ہمیں مسڑ اور ملا کی تخصیص ختم کر دینی چاہیے۔‘‘ میرا خیال ہے کہ ا س کے بعد مجھے اپنا موقف دہرانے اور اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ 

آفتا ب عروج صاحب نے فرمایا ہے کہ عباسی خلیفہ معتصم باللہ تک مسلمانوں میں سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ میں پیش رفت کا دور تھا، اس کے بعد زوال کا آغاز ہو گیا۔ انہیں شکایت ہے کہ مولوی اس سے قبل بھی سائنس دانوں کی صف میں نظر نہیں آتا اور اس کے بعد بھی سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ درست ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سائنسی ترقی اور اس کے لیے تحقیق وریسرچ مولوی کے فرائض میں کب شامل تھی اور اس نے کب اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا؟ یہ قطعی طور پر غیر منطقی بات ہے۔ ہر قوم میں تقسیم کار ہوتی ہے۔ ہر طبقہ اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور پوری ملی جدوجہد میں مجموعی طورپر شریک سمجھا جاتا ہے۔ ہم تو زوال کا شکار ہیں اس لیے ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جن اقوام نے سائنس میں ترقی کی ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں بالادستی کے باعث وہ ہماری قسمت کی مالک بھی بن بیٹھی ہیں، ان میں بھی سائنس کے شعبے میں صرف سائنس دانوں نے ہی کام کیا ہے۔ اب کوئی شخص یہ کہے کہ برطانیہ میں جتنے سائنس دان گزرے ہیں یا موجود ہیں، ان میں ایک بھی جسٹس نہیں ہے اس لیے برطانیہ کے ججوں کا سائنسی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے تو آفتاب عروج صاحب ہی فرمائیں کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔

اصل قصہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مہربانوں نے تاریخ میں یہ پڑھ رکھا ہے کہ یورپ میں جب سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ کا دور شروع ہوا تو عیسائیوں کی مذہبی قیادت نے اس کی مخالفت کی۔ سائنس دانوں کو گمراہ قرار دیا گیا، ان پر فتوے لگائے گئے اور ان میں سے بہت سوں کو گردن زدنی قرار دے دیا گیا۔ ہمارے مہربان دوستوں نے معروضی حقائق کا جائزہ لیے بغیر مسلمانوں کے مولوی کوبھی عیسائیوں کے پادری پر قیاس کر لیا ہے اور لٹھ لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑے ہیں حالانکہ مولوی غریب نے کبھی سائنس اور اس میں تحقیق وریسرچ کی مخالفت نہیں کی اورا س کے ثبوت میں دور جانے کی بجائے صرف ایک بات پر غور کر لیا جائے تو بات واضح ہوجائے گی کہ ماضی قریب میں پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کو ضروری قرار دینے اور عالم اسلام کو ایٹمی قوت کے حصول پر ابھارنے میں مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھنے والی آوازوں میں سے سب سے بلند آواز مولوی کی تھی اور اس قوت کے تحفظ وبقا کے لیے بھی سب سے زیادہ بلند آہنگی کے ساتھ مولوی ہی آواز اٹھا رہا ہے۔

آفتاب عروج صاحب نے مولوی کے ذمہ اس الزام کو دہرانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ اس کی مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہوگیا، اس لیے مولوی نے شکست کھائی ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے علمی میدان سے آؤٹ ہو جانا چاہیے مگر یہ الزام باربار دہرانے والے دیگر حضرات کی طرح انہوں نے بھی یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی کہ پاکستان کے قیام وحصول میں علامہ اقبال اور قائداعظم کی جدوجہد کو جو کامیابی حاصل ہوئی تھی، اس میں بھی مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالحامد پیر آف مانکی شریف اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی جیسے بڑے بڑے مولوی ان کے ساتھ شریک تھے اور اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اگر یہ مولوی تحریک پاکستان کا ہراول دستہ نہ بنتے تو تحریک پاکستان کے عملی نتائج قطعی مختلف ہوتے۔

آفتاب عروج صاحب نے مجھ غریب پر بھی کرم فرمائی کی ہے کہ مولانا زاہدالراشدی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان بن گیا۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میری تاریخ ولادت ۲۸ / اکتوبر ۱۹۴۸ء ہے اور جب قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت کی برصغیر کے طول وعرض میں معرکہ آرائی ہورہی تھی تو دنیائے وجود میں اس وقت میرا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔

ان گزارشات کے بعد ایک اصولی بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں جس کا حوالہ محترم ڈاکٹر عبدالخالق صاحب اور محترم آفتاب عروج صاحب دونوں نے دیا ہے کہ غلطیاں ہر طرف سے ہوئی ہیں اور کوئی بھی ان سے مبرا نہیں ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اعتراف میں کبھی حجاب نہیں رہا ۔ الشریعہ اور اس کے علاوہ روزنامہ پاکستان، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والے میرے مضامین کے قارئین گواہ ہیں کہ اپنے حلقہ اور طبقہ کی غلطیوں کی نشاندہی، اعتراف اور اصلاح احوال کی تجاویز سامنے لانے میں ہم نے حتی الوسع گریز نہیں کیاا لبتہ یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ ناکردہ گناہ ہمارے سر نہ تھوپے جائیں اور کسی بھی حوالہ سے ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے قبل ہم سے ہمارا موقف ضرور معلوم کرلیا جائے ۔ یہ بات قرین انصاف نہیں ہے کہ ہمارے معترضین ہمارا موقف وکردار بھی خود طے کریں، اس پر گواہی بھی اپنی ڈال دیں اور پھر منصف کا منصب سنبھال کر فیصلہ بھی خود ہی صادر فرما دیں۔ ہم اس طرح گردن زدنی قرار پانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ باقی رہی بات مکالمہ اور گفت وشنید کی تواس کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔ اس کے لیے کوئی الگ فورم قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسائل پر اس طرح کھلے دل کے ساتھ مختلف دانش وروں کا اظہار خیال ہی اس کام کے لیے سب سے موزوں فورم ہے۔ ’الشریعہ‘ اس کے لیے اس سے قبل بھی ہمیشہ حاضر رہا ہے اور اب بھی یہ خدمت سرانجام دیتے ہوئے اسے خوشی محسوس ہوگی۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس