قومی سیمینار بیاد سید خورشید احمد گیلانیؒ

پروفیسر حافظ منیر احمد

۶ جون کی گرم ترین سہ پہر کو کونسل آف نیشنل افیئرز آف پاکستان نے الحمرا ہال نمبر ۲ میں ’قومی سیمینار بیاد صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی‘ کے نام سے ایک کام یاب تعزیتی نشست کا اہتمام کیا۔ تقریب کے صدر علامہ شاہ احمد نورانی صدر متحدہ مجلس عمل جبکہ مہمان خصوصی جناب مجید نظامی مدیر اعلیٰ نوائے وقت تھے۔ سیمینار حقیقتاً ایک قومی سیمینار کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ صرف سید خورشید احمد گیلانی کی حق گوئی تھی جس کی ترجمانی ا س سیمینار سے ہو رہی تھی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد ، سابق سپیکر قومی اسمبلی ونائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سید یوسف رضا گیلانی، مسلم لیگ ن کے سید ظفر علی شاہ، ممبر قومی اسمبلی جناب فرید احمد پراچہ، روزنامہ پاکستان کے مدیر جناب مجیب الرحمن شامی، انجینئر سلیم اللہ، صوبائی وزیر جناب ڈاکٹر شفیق چوہدری، ممتاز ادیب اور بیورو کریٹ سید شوکت علی شاہ، ڈاکٹر اجمل نیازی اور مرحوم کے بھائی جناب ارشاد احمد عارف شامل تھے۔

کونسل آف نیشنل افیئرز آف پاکستان کے صدر جناب غلام مصطفی خان میرانی نے سیمینار کی غرض وغایت اور تمہیدی کلمات سے نشست کا آغاز کیا۔

روزنامہ پاکستان کے مدیر جناب مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ آغا شورش کشمیری کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر بلا کے خطیب تھے۔ ان کے بعد اس سفر کو جناب خورشید احمد گیلانی نے طے کیا۔ وہ خطابت اور قلم دونوں کے دھنی تھے۔ ان کی زندگی کا ایک مقصد تھا جس کے حصول کے لیے وہ ماہی بے تاب تھے۔ وہ فرقہ واریت سے دور تھے، جبھی تو ہر مکتبہ فکر ان کو اپنا تصور کرتا تھا۔ مختلف فرقوں کے درمیان وہ ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے قیام کے پیچھے ان کی سوچ موجود ہے کیونکہ وہ ایسا اتحاد چاہتے تھے جس میں تمام فرقے اکٹھے ہو جائیں۔ انہوں نے بے شمار نوجوانوں کو حوصلہ دیا۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی اس قابل ہے کہ بندہ اپنے آپ کو منوا سکتا ہے۔ آج کے دور میں جناب خورشید احمد گیلانی بہت یاد آتے ہیں کیونکہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے۔

ممتاز کالم نگار پروفیسر محمد اجمل نیازی نے کہا کہ سید خورشید احمد گیلانی نے ہمیشہ پڑھنے اور سننے کا پیغام دیا۔ وہ ایک مذہبی انسان تھے لیکن بہت معتدل۔ انہوں نے ہمیشہ قلم کی آبرو کو بلند رکھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں علماے حق اپنے اسلاف کی روایات کو ملٹری الائنس کے سامنے زندہ وجاوید رکھے ہوئے ہیں۔ خورشید گیلانی بھی اسی قبیلے کے ایک فرد تھے اور وہ ہمیشہ حق کے لیے اور غلبہ دین کے لیے لڑتے رہے۔ 

انجینئر سلیم اللہ نے کہا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے پانچ نکات کو تحریری شکل دینے کی سعادت جناب مرحوم کے حصے میں آئی۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔

ممتاز ادیب سید شوکت علی شاہ نے کہا کہ یہ نشست حقیقی معنوں میں ایسی نشست ہے جس میں ہمیں یہ تجدید عہد کرنا ہے کہ زندگی کو ایک خاص مقصد کے تحت گزاریں۔ خورشید گیلانی مرحوم نے بھی زندگی کا ایک مقصد بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں شکار پور، ڈی جی خان، حافظ آباد جہاں بھی بطور ڈپٹی کمشنر رہا، مجھے خورشید گیلانی کی رفاقت ملتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ قومیں زبان کے بغیر گونگی ہوتی ہیں۔ اگرچہ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اب بھی اسے تین صوبوں یہ حیثیت حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید گیلانی نے اسلاف کی روایات کی ہمیشہ ترجمانی کی۔ انہوں نے صحافت کو ایک نئی سمت جبکہ اردو زبان کو نئے اسلوب عطا کیے۔

ممبر قومی اسمبلی جناب فرید احمد پراچہ نے کہا کہ خورشید گیلانی مرحوم ۱۹۷۵ء میں لاہور آئے۔ وہ والد مرحوم کی اکیڈمی کے پہلے طالب علم تھے۔ وہ خورشید جہاں تاب تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اتحاد ملت اور اسلام کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضمیر فروشی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ آج بھی رہبری کے بھیس میں رہزنی ہوتی ہے لیکن علماے حق آج بھی اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید گیلانی امام احمد بن حنبل کے قبیلے کے ایک فرد تھے۔

صوبائی وزیر ایکسائز جناب ڈاکٹر محمد شفیق چوہدری نے کہا کہ مرحوم ایک صاحب بصیرت اور انقلابی شخص تھے۔ ان کے الفاظ میں امت مسلمہ کا درد اور امت کے لیے کرب ہوتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذات کی نفی کی۔ نصب العین ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔ وہ جہاں بیٹھتے، جس محفل کو رونق بخشتے، وہاں اتحاد امت کی بات کرتے۔

سابق وفاقی وزیر قانون وپارلیمانی امور سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ آج ملک کے اندر قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ تینوں شعبے اپنے فرائض سے پہلو تہی کیے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کالم نگاہوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے استعمار کے خلاف حریت پسندوں کاساتھ دیا اور یہ اعزاز نوائے وقت کے حصے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی جیسا ادارہ مردہ پڑا ہے۔ امریکی جارحیت افغانستان سے شروع ہو کر عراق تک پہنچی اور اب ایران، عراق سرحد پر پاسپورٹ چیک کر رہی ہے۔

ڈپٹی پارلیمانی لیڈر متحدہ مجلس عمل جناب حافظ حسین احمد نے کہا کہ میں چاغی سے لاہور سید خورشید احمد گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان پڑھ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن ہمیں فخر ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کو بھی امی ہونے کا طعنہ دیا گیا مگر ہم ابو جہل جیسے ان پڑھ نہیں۔ خورشید احمد گیلانی نے ہمیشہ آمروں کے کرتوتوں کو قلم بند کیا۔ آج کے دور میں پہلے قلم کو قلم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تو سر کو قلم کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اہل لاہور مجھ سے بہت سی باتیں سنانے کو کہہ رہے ہیں لیکن میں صرف یہ کہوں گا کہ ہم نے آئین کی بحالی کی قسم کھا رکھی ہے۔ ہم ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جو آئین سے ماورا ہو۔ انہوں نے کہا کہ چاکری ان کو مبارک ہو۔ ایم ایم اے قوم کو اعتماد میں لے گی اور ان کو چاکری کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر ملے ہیں لیکن ہم امریکہ کے ٹکڑوں پر نہیں پل رہے۔ پانچ ارب ڈالر کے عوض ہمارے متفقہ آئین کی اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، ۷۳ء کے آئین کی اسلامی دفعات کو بلڈوز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس ملک کے جغرافیائی اور نظریاتی تحفظ کے لیے لڑتے رہیں گے۔

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آج معاشرے میں حق کے ساتھ چلنا اور حق لکھنا بہت دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک کا سب سے بڑا لمیہ یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا ادارہ پارلیمنٹ نامکمل ہے کیونکہ آئین کی پاس داری نہیں کی جا رہی۔ اس صورت حال میں بیدار مغز لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کروانا ہوگی۔

سید خورشید احمد گیلانی کے برادر محترم جناب ارشاد احمد عارف نے کہا کہ جاگیرداری اور فوج کا تعلق بڑا گہرا ہوتا ہے۔ جاگیرداروں کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے۔ ہمیں جاگیرداری کے چنگل سے نکل کر حق کے ساتھ چلنا ہوگا، تبھی ملک کا اسلامی تشخص بحال ہوگا۔ اتحاد، انقلاب اور اجتہاد یہی سید خورشید احمد کے اہداف تھے۔

صدر مجلس علامہ شاہ احمد نورانی نے کہا کہ خورشید مرحوم بڑے صاف گو، ملنسار اور شفقت کرنے والے انسان تھے۔ اگرچہ وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں اور صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کے الفاظ میں بے ساختہ روانی اور ان کی تحریر میں بلا کی جاذبیت ہے اور ہر سطر سے عشق رسول ﷺ کا جذبہ ٹپکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں بطور صدقہ جاریہ باقی رہتی ہیں جن میں سے ایک علم نافع ہے اور آج گیلانی صاحب مرحوم کی تحریریں یقیناًہماری اصلاح کے لیے ایک سرمایہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایم اے کی تشکیل کے پیچھے گیلانی صاحب جیسے صاحب بصیرت لوگوں کی جہد مسلسل کارفرما ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں اتحاد نصیب فرمائے اور خورشید گیلانی جیسے قلم کار ہمارے اندر پیدا کرتا رہے، جو ہمیشہ حق کے لیے لکھیں، حق کے لیے بولیں اور حق کے لیے لڑیں۔ انہی جیسے صاحب کردار لوگوں کو آج قوم کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

اخبار و آثار