جولائی ۲۰۰۳ء

امریکہ کا حالیہ سفر اور چند تاثرات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے گزشتہ ماہ کے دوران دو ہفتے کے لیے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اس سال سہ ماہی اور شش ماہی امتحان یکجا کر دیے گئے اور سال کے درمیان میں ایک ہی امتحان رکھا گیا جس کے بعد دو ہفتے کی چھٹیاں کر دی گئیں۔ میرے پاس امریکہ کا ویزا موجود تھا اس لیے میں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ۱۰ مئی ۲۰۰۳ء کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے روانہ ہوا اور اسی روز ہیتھرو سے یونائیٹڈ ایئر کے ذریعے شام کو واشنگٹن جا پہنچا۔ اس سے قبل ۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔...

نبوی سفرا کی دعوتی سرگرمیاں

― پروفیسر محمد اکرم ورک

اسلام تمام انسانیت کا دین ہے جس کے مخاطب پوری دنیا کے انسان ہیں۔ رسول اللہ ﷺسے پہلے جتنے بھی انبیا ورسل اس دنیا میں تشریف لائے، ان کی رسالت خاص تھی اور ان کی نبوت اپنی قوم اور قبیلے تک محدود تھی۔ اس کی دلیل تحریف شدہ بائبل کے اندر اب بھی موجود ہے۔ مثلاً ایک عورت نے جب حضرت مسیح ؑ سے برکت چاہی تو آپؑ نے فرمایا: ’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔(۱)۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے جب بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان کو مختلف علاقوں کی طرف دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا تو بطور خاص ان کو تلقین فرمائی: ’’غیر...

اسلامی ریاست کے خارجہ تعلقات کی اساس ۔ فقہی نظریات کا ایک تقابلی جائزہ

― جنید احمد ہاشمی

غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کے احکام پر مشتمل مواد کو ہمارے فقہی لٹریچر میں ’’سِیَر‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے ’’الفقہ الدولی‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام (International Law) کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی بنیاد امن ہے یا جنگ؟ آئندہ سطور میں اس سوال کا جواب ’’سیر‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام کے جدید رجحانات کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلا نقطہ نظر۔ جمہور فقہا نے، جن میں احناف کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی...

گلوبلائزیشن: عہد جدید کا چیلنج

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

تاریخ کا ہر عہد تاریخ ساز رہا ہے۔ مورخین نے اپنے اپنے انداز میں ہر عہد کا جائزہ لیا ہے ،جس سے اختلاف ہونے کے باوجود یکسر رد کرنے کا ذمہ دار بننے کوشایدکوئی بھی تیار نہ ہو۔ تاریخی دھارے کی تشریح اور تاریخی عمل کی وضاحت کے ضمن میں بعض مورخین نے واحد عنصرپر زور دیا ہے،مثلاََ مالتھس نے آبادی کی، اسمتھ نے منڈیوں کی، ویبر نے طاقت کی اور مارکس نے طبقات کی بطور واحد عنصر کے نشان دہی کی۔ اسی طرح ۱۹۵۷ء میں Karl Wittfogel نے ایشیائی hydraulic despotism کی تھیوری پیش کی کہ پانی کے ذخائر پر مرکزی کنٹرول کی ضرورت نے استبداد کو جنم دیا ہے۔ مذکورہ نظریات کی یک رخی کے باوجود...

سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میں سرسید کا مبینہ حصہ

― ضیاء الدین لاہوری

ماہنامہ الشریعہ کے موجودہ شمارے میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار کے حوالے سے کی جانے والی ایک بحث کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ بات جناب عطاء الحق قاسمی کے کالم میں منقول مولانا زاہد الراشدی کے بیان سے شروع ہوتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانان عالم کے پیچھے رہ جانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ جوابی بحث کرنے والوں نے اس موضوع کو صرف برصغیر تک محدود کر دیا اور سرسید احمد خان کو خواہ مخواہ بیچ میں لاکھڑا کیا کہ انہوں نے ’’مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرنے کی ٹھانی اور (علما کی جانب سے) بدترین ظلم کا نشانہ بنے۔‘‘ گویا کہ اگر یہ ’’ظلم‘‘...

علما کا معاشرتی و مذہبی کردار - احمد اشرف صاحب کا مکتوب

― احمد اشرف

محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ میں آپ کے ایک خطاب کا اقتباس دیا جس پر چند حضرات نے موافقت اور مخالفت میں تبصرہ کیا جو ماہنامہ الشریعہ مئی / جون ۲۰۰۳ء میں چھپا۔ آپ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، تب دو طبقے سامنے آئے تھے۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور دوسرے طبقہ نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ آپ نے نتیجہ یہ نکالا کہ علما نے اپنی...

قومی سیمینار بیاد سید خورشید احمد گیلانیؒ

― پروفیسر حافظ منیر احمد

۶ جون کی گرم ترین سہ پہر کو کونسل آف نیشنل افیئرز آف پاکستان نے الحمرا ہال نمبر ۲ میں ’قومی سیمینار بیاد صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی‘ کے نام سے ایک کام یاب تعزیتی نشست کا اہتمام کیا۔ تقریب کے صدر علامہ شاہ احمد نورانی صدر متحدہ مجلس عمل جبکہ مہمان خصوصی جناب مجید نظامی مدیر اعلیٰ نوائے وقت تھے۔ سیمینار حقیقتاً ایک قومی سیمینار کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ صرف سید خورشید احمد گیلانی کی حق گوئی تھی جس کی ترجمانی ا س سیمینار سے ہو رہی تھی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد ، سابق سپیکر قومی اسمبلی ونائب...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’میزان‘‘۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جسٹس محترم وجیہ الدین احمد ان محترم جج صاحبان میں شامل ہیں جنہوں نے سودی قوانین کے خاتمہ کے بارے میں تاریخی فیصلہ دیا تھا اور وہ ان بااصول ججوں میں سے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت نیا حلف اٹھانے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ دستور پاکستان کے تحت حلف اٹھانے کے بعد اس سے متصادم کوئی اور حلف نہیں اٹھا سکتے۔ جسٹس صاحب موصوف نے مختلف تقاریر، بیانات اور انٹرویوز میں دونوں حوالوں سے اپنے موقف کی تفصیل سے وضاحت کی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی دستوری تاریخ کے بعض اہم حصوں کی بھی نقاب کشائی کی ہے۔ مولانا...