علما کا معاشرتی و مذہبی کردار - احمد اشرف صاحب کا مکتوب

احمد اشرف

محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم

عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ میں آپ کے ایک خطاب کا اقتباس دیا جس پر چند حضرات نے موافقت اور مخالفت میں تبصرہ کیا جو ماہنامہ الشریعہ مئی / جون ۲۰۰۳ء میں چھپا۔

آپ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، تب دو طبقے سامنے آئے تھے۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور دوسرے طبقہ نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ آپ نے نتیجہ یہ نکالا کہ علما نے اپنی ذمہ داری قبول کی اور اس کو نبھایا لیکن دوسرے طبقہ نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ 

بات چونکہ ۱۸۵۷ء سے شروع ہوتی ہے لہٰذا پہلے تو ہندو، مسلمانوں نے مل کر انگریز کو ہندوستان سے نکالا اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستان اور پاکستان دو ملک وجود میں آئے۔ دوسرے طبقے نے اپنی ذمہ داری یوں پوری کی کہ وہ ہندوؤں سے کسی طور پر پیچھے نہیں رہا یہاں تک کہ ایٹم بم کے معاملہ میں ایک طرح سے ہندو سے بڑھ گیا اور پھر ہندوؤں کا ایٹم بم ایک مسلمان عبد الکلام کا ممنون ہے۔ اب یہ مغربی ممالک اور امریکہ سے پیچھے رہے، اس کے کئی اسباب ہیں۔

جس رخ پر آپ نے بات کی، اس پر یقیناًعلما کام یاب رہے لیکن ناکام یاب اس طرح ہوئے کہ اول تو امت کو متحد نہ رکھ سکے۔ یہ فرقے در فرقے میں تحلیل ہوتی رہی۔ دوم ایسے ایسے عقیدے فراہم ہوئے کہ دین خالص کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ چند مثالیں حاضر خدمت ہیں:

۱۔ قرآن میں ہے:

’’ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔‘‘ (القصص ۸۸)
’’پھر اس (زندگی) کے بعد تمہیں موت آ کر رہے گی اور اس کے بعد قیامت کے دن تم پھر اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ (المومنون ۱۵، ۱۶)
’’اب ان سب مرنے والوں کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔‘‘ (المومنون ۱۰۰)
’’آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر ۲۰)
’’ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘ (الانبیاء ۳۴، ۳۵)
’’محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس اگر یہ مر جائیں یا شہید کر دیے جائیں ، کیا تم الٹے پیروں پھر جاؤ گے؟‘‘ (آل عمران ۱۴۴)

آیات مندرجہ بالا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر انسان کو بلا کسی استثنا کے مرنا ہے لیکن سنیوں (بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث) کا عقیدہ ہے کہ نبی زندہ ہیں۔ چنانچہ بہشتی زیور میں مولانا اشرف علی تھانوی، جو حکیم الامت کہلاتے ہیں، اس ادب کا حال بیان کرتے ہیں جو رسول کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کرنا چاہیے کیونکہ نبی زندہ ہیں اور درود وسلام خود سنتے ہیں۔ کیا یہ سب مشرک نہیں ہیں؟ قرآن کے بالکل خلاف۔

۲۔ سورۂ اخلاص میں کہا گیا ہے: ’’کہو کہ اللہ ایک ہے۔ نہ کسی کا باپ نہ کسی کا بیٹا‘‘ لیکن عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نور ہے اور اس نے اپنے نور کے ایک حصے سے محمد ﷺ کو پیدا کیا اور ایک اور حصے سے پوری کائنات۔ ڈاکٹر بلگرامی جو وائس چانسلر رہ چکے ہیں، قرآن کا ترجمہ اور تفسیر لکھی ہے، سیرت النبی میں یہی عقیدہ بیان فرماتے ہیں۔ بزرگوں کی نیاز کے موقع پر زور زور سے کہا جاتا ہے: ’’نور من نور اللہ‘‘ یہ ایک قسم کا وحدت الوجود کا عقیدہ ہے جس کی حیثیت شاعرانہ تخیل پر ہے، اسلام کے بالکل خلاف۔ اللہ کی ذات الگ اور باقی سب اس کی مخلوقات۔ یہ شرک بالذات ہے۔

۳۔ قرآن میں ہے کہ ’’ہر نفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔‘‘ (آل عمران ۲۵) لیکن عمل یہ ہے کہ اپنی کمائی ہوئی نیکی جس کو چاہے ارسال کر دے۔ رؤسا حج بدل کراتے ہیں۔ بس یہ کسر رہ گئی کہ پیسے دے کر نماز پڑھوا لی جائے اور روزے رکھوا لیے جائیں اور ثواب خود لے لیں یا کسی اور کو ارسال کر دیں۔

۴۔ البقرہ ۱۶۳میں مذکور ہے کہ : ’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مردار نہ کھاؤ، خون اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔‘‘ 

لیکن عمل یہ ہے کہ بزرگوں کی نذر کے معاملے میں نام ان کا لیا جاتا ہے اور اللہ کا بھی اور اس کو حرام سمجھنے کے بجائے تبرک سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔

ان باتوں کا نتیجہ ہے کہ ایک نیا اسلام ظہور میں ہے اور ہمارے علما اس پر خاموش ہیں کیونکہ اس گمراہی سے نپٹنا آسان نہیں ہے۔


والسلام 

احمد اشرف

IV G 3/6 Nazimabad, Karachi 79600


مکاتیب

Flag Counter