نبوی سفرا کی دعوتی سرگرمیاں

پروفیسر محمد اکرم ورک

اسلام تمام انسانیت کا دین ہے جس کے مخاطب پوری دنیا کے انسان ہیں۔ رسول اللہ ﷺسے پہلے جتنے بھی انبیا ورسل اس دنیا میں تشریف لائے، ان کی رسالت خاص تھی اور ان کی نبوت اپنی قوم اور قبیلے تک محدود تھی۔ اس کی دلیل تحریف شدہ بائبل کے اندر اب بھی موجود ہے۔ مثلاً ایک عورت نے جب حضرت مسیح ؑ سے برکت چاہی تو آپؑ نے فرمایا:

’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔(۱)

اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے جب بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان کو مختلف علاقوں کی طرف دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا تو بطور خاص ان کو تلقین فرمائی: 

’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘۔(۲)

یہ امتیاز صرف رسالتِ محمدی ﷺ کوہی حاصل ہے کہ آپ کی بعثت روے زمین کی ہر قوم اور ہر جنس کے لیے ہوئی۔ قرآن مجید اور کتب احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ (۳) چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہﷺ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا اور مشرکین مکہ سے محاذ آرائی کا سلسلہ وقتی طور پر بند ہوگیا تو آپﷺنے اسلام کی آفاقی دعوت کو اطراف واکنافِ عالم میں پھیلانے کافیصلہ کیا۔ ایک دن رسول اکرمﷺ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے، صحابہ کرامؓ جمع تھے۔ آپﷺ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا:

’’انی بعثت رحمۃ وکافّۃ فأدوا عنی یرحمکم اللّٰہ ولا تختلفوا علیّ کاختلاف الحواریین علی عیسیٰ بن مریم قالوا: ’’یارسول اللّٰہﷺ وکیف کان اختلافھم‘‘قالﷺ:’’دعا الی مثل مادعوتکم الیہ فاما من قرب بہ فأحب وسلم وأما من بعد بہ فکرہ وأبیٰ، فشکا ذالک منھم عیسیٰ الی اللّٰہ فاصبحوا من لیلتھم تلک وکل رجل منھم یتکلم بلغۃ القوم الذین بعث الیھم فقال عیسیٰ ؑ ھذا امر قد عزم اللّٰہ لکم علیہ فامضوا(۴)
’’میں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجاگیا ہوں۔ تم میر ی دعوت کوتمام دنیامیں پھیلاؤ اور میرے بارے میں ایسا اختلاف نہ کرو جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ ؑ بن مریم کے بارے میں کیاتھا ۔صحابہؓ نے عرض کیا: انہوں نے کیا اختلاف کیا تھا؟آپ نے فرمایا: عیسیٰ ؑ نے ان کو وہی دعوت دی تھی جو میں نے تم کو دی ہے۔ جوقریب تھے، انہوں نے اس دعوت کو پسند کرکے قبول کرلیا اور جو دور تھے، انہوں نے ناپسند کیا اور اسے مسترد کردیا۔ عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی(اس کی سزا ان کویہ ملی کہ)اس رات سے ان میں ہر شخص صرف وہ زبان بولنے لگا جس کے پاس وہ دعوتِ دین کے لیے بھیجاگیا تھا ۔اس پر عیسیٰ ؑ نے فرمایا: اب تو اللہ یہی فیصلہ تمہارے متعلق کرچکا ہے،اسی پرعمل کرو‘‘۔

ابنِ سعد کی روایت ہے : صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ کے سفرا ان لوگوں کی زبان بولنے لگے جن کی طرف انہیں بھیجا گیا۔ (۵) یہ معجزاتی واقعہ حضرت مسیح کے حواریوں کے ساتھ پیش آیا ہو یارسول اللہ ﷺ کے سفرا کے ساتھ یا دونوں ہی کی اللہ تعالیٰ نے غیب سے اس سلسلہ میں مدد کی ہو، اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ کسی سے اس کی زبان میں خطاب کیاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسری زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی اور صحابہ کرامؓ نے یہ زبانیں سیکھیں۔

بہرحال رسول اللہ ﷺنے حکمِ باری تعالیٰ: ’’یَااَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘‘(۶) (اے رسول ﷺجو تمہارے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیاگیا ہے، اس کو پہنچادو) کی تکمیل کرتے ہوئے مختلف سفرا کو خطوط دے کر شاہانِ عالم کے پاس بھیجا، تاکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کے آخری دین کی طرف بلائیں۔ اس مقصد کے لیے آپﷺنے وسیع دینی معلومات اور سفارت کاری کاتجربہ رکھنے والے افراد کا انتخاب فرمایا۔نبوی پیغامات اور دعوتی خطوط کامطلوبہ افراد تک پہنچانا اگرچہ بذاتِ خود ایک دعوتی وتبلیغی عمل ہے اور اگر اس حوالے سے مآخذ کا مطالعہ کیاجائے تو نبوی سفرا کی تعداد کسی طرح بھی چالیس سے کم نہیں بنتی، تاہم سطورِ ذیل میں صرف ان سفرا کا ذکر کیا جارہاہے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے پیغامات اور دعوتی خطوط سے ہٹ کر اپنے قول وفعل اور عمل سے بھی لوگوں کو متاثر کیا اور اسلام کی طرف بلایا۔

عمروؓ بن امیۃ الضمری/ رسول اللہﷺکا گرامی نامہ شاہِ حبش کے نام

محرم ۷ ؁ھ میں رسول اللہﷺنے شاہِ حبش کے نام ایک دعوتی مکتوب ارسال فرمایا ۔بارگاہِ رسالت کے سفیر عمروؓ بن امیہ الضمری جب شاہِ حبش کے دربار میں پہنچے تومکتوب گرامی نجاشی کی خدمت میں پیش کیا اور حسبِ ذیل اثر انگیز تقریر کی:

’’شاہِ ذی جاہ! میرے ذمہ حق کی تبلیغ ہے اور آپ کے ذمہ حق کی سماعت۔کچھ عرصے سے ہم پر آپ کی شفقت ومحبت کا یہ حال ہے کہ گویا آپ اور ہم ایک ہی ہیں۔ ہمیں آپ کی ذات پر اس قدر اطمینان ہے کہ ہم آپ کو کسی طرح اپنی جماعت سے علیحدہ نہیں سمجھتے ۔ حضرت آدمؑ کی ولادت ہماری طرف سے آپ پر حجت قطعی ہے۔ جس قدرت کے کرشمہ ساز ہاتھوں نے حضرت آدم ؑ کو بغیر والدین کے پیدا کردیا، اسی نے حضرت عیسیٰ ؑ کوبغیر باپ کے بطنِ مادر سے پیدا کیا ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان انجیل سب سے بڑی شہادت ہے۔ اسی نبی رحمت ﷺکی پیروی میں خیروبرکت کاورود اور فضیلت وبزرگی کا حصول ہے۔
شاہِ عالی جاہ! اگرآپ نے محمد رسول اللہﷺ کا اتباع نہ کیا تو اس نبی امی کا انکار آپ کے لیے وبالِ جان ہوگا جس طرح عیسیٰ ؑ کا انکار یہود کے حق میں وبالِ جان ثابت ہوا۔ میری طرح رسول اللہﷺ کی جانب سے بعض دیگر اشخاص مختلف بادشاہوں کے پاس دعوتِ اسلام کے لیے قاصد بناکر بھیجے گئے ہیں مگر سرورِ عالمﷺ کو جو امید آپ کی ذات سے ہے، دوسروں سے نہیں۔آپ سے اس بارے میں پورا اطمینان ہے کہ آپ اپنے اور خدا کے درمیان اپنی گزشتہ نیکی اور آئندہ کے اجر وثواب کا خیال رکھیں گے‘‘۔

کچھ عرصہ قبل حضرت جعفر طیار‘ؓ کی معجز بیانی سے نجاشی اسلام کی دعوت سے واقف ہوچکا تھا۔ نبوی قاصد کی اس پُراثر تقریر نے اس کے سینے میں اسلام کو راسخ کردیا، چنانچہ نجاشی ان سے مخاطب ہوکر بولا:عمروؓ! بخدا میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ خدا کے وہی برگزیدہ رسول ہیں جن کی آمد کا ہم اور یہود انتظار کررہے تھے۔نجاشی تختِ شاہی سے نیچے اتر آیا، اور نامۂ مبارک کو ہاتھ میں لے کر تعظیماً آنکھوں سے لگایا۔ (۷)

دحیہ کلبیؓ /رسول اللہﷺ کا گرامی نامہ قیصر روم کے نام 

قیصر روم کو گرامی نامہ پہنچانے کے لیے دحیہؓ بن خلیفہ کلبی کاانتخاب ہوا۔حضرت دحیہؓ نے ہرقل کورسول اللہﷺ کایہ دعوتی خط اس وقت پیش کیا جب وہ ایرانیوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے بعد اظہارِ تشکر کے طورپر بیت المقدس آیا ہوا تھا۔ اگرچہ ہرقل پر اسلام کی حقانیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی ،تاہم حکومت اور بادشاہت کے لالچ نے اس کو اسلام سے محروم رکھا۔ لیکن حضرت دحیہؓ کی دعوت پر اسقف ضغا طرنے اسلام قبول کرلیااور رومیوں کے سامنے، جو گرجے میں جمع تھے، اپنے اسلام کا اظہار کرنے کے بعد ان کو بھی اسلام کی دعوت دی ،لیکن انہوں نے ان کو حملہ کرکے شہید کردیا۔ اس افسوس ناک واقعہ کے بعد حضرت دحیہؓ قیصر کی طرف سے ملنے والے تحائف کے ہمراہ واپس تشریف لے آئے۔ (۸)

حاطبؓ بن ابی بلتعہ /مقوقس شاہِ مصر کے نام مکتوبِ گرامی

بارگاہِ رسالت سے مصر کی سفارت کے لیے حاطبؓ بن ابی بلتعہ مامور ہوئے ۔وہ مسافت طے کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے اور مقوقسِ مصر* کے سامنے مکتوب گرامی پیش کیا ۔ابن الاثیر کی روایت ہے کہ مقوقس نے حضرت حاطب کو اپنے پاس بلوایااور ان کے درمیان حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:

مقوقس : اخبرنی عن صاحبک ألیس ھو نبیاً ؟
’’مجھ سے اپنے صاحب کے بارے میں بیان کرو، کیا وہ نبی نہیں ہیں؟‘‘
حاطبؓ: بلی! ھو رسول اللّٰہ ﷺ۔
’’ہاں! بیشک وہ اللہ کے رسول ﷺہیں۔‘‘
مقوقس: فمالہ لم یدع علی قومہ حیث اخرجوہ من بلدتہ؟
’’پھر انہوں نے اپنی قوم پر بددعا کیوں نہیں کی جب ان کی قوم نے ان کوان کے شہر سے نکالا؟‘‘
حاطبؓ: فعیسی ابن مریم! أتشھد انہ رسول اللّٰہ ﷺفمالہ حیث اراد قومہ صلبہ لم یدع علیھم حتی رفعہ اللّٰہ؟
’’عیسیٰ بن مریم کی نسبت تو آپ خود کہتے ہیں کہ وہ خدا کے رسول تھے ۔پھر جب ان کوان کی قوم نے سولی دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کیوں نہ انہیں بد دعادی، یہاں تک کہ ان کو اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا؟‘‘
مقوقس: احسنت ! انت حکیم جاء من عند حکیم
’’تم نے اچھا جواب دیا۔ تم ایک دانا آدمی ہو اور ایک دانا آدمی کے پاس سے آئے ہو۔‘‘ (۹)

ابن قیمؒ نے اس کے علاوہ مقوقس اور حاطبؓبن ابی بلتعہ کے درمیان ہونے والے ایک اور مکالمہ کابھی ذکر کیاہے۔ حاطبؓ جب مقوقس کے دربار میں پہنچے تو حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:

حاطبؓ: ’’(اس زمین پر )تم سے پہلے ایک شخص (فرعون )گزرا ہے جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اللہ نے اسے آخر واول کے لیے عبرت بنادیا۔پہلے تواس کے ذریعہ لوگوں سے انتقام لیا، پھر خود اس کو انتقام کانشانہ بنایا لہٰذا دوسروں سے عبرت پکڑو،ایسا نہ ہوکہ دوسرے تم سے عبرت پکڑیں‘‘۔
مقوقس: ’’ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے‘‘۔
حاطبؓ: ’’ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام ماسوا(ادیان )کے بدلے کافی بنادیاہے۔ دیکھو!اسی نبی ؐ نے لوگوں کو(اسلام کی) دعوت دی تو اس کے خلاف قریش سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئے،یہود نے سب سے بڑھ کر دشمنی کی اور نصاریٰ سب سے زیادہ قریب رہے۔میری عمر کی قسم! جس طرح موسیٰؑ نے عیسیٰ کے لیے بشارت دی تھی ،اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے محمد ﷺکے لیے بشارت دی ہے، اور ہم تمہیں قرآن مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کوانجیل کی دعوت دیتے ہو۔جونبی جس قوم کو پاجاتا ہے، وہ قوم اس کی امت ہوجاتی ہے اور اس پرلازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کرے،اور تم نے اس نبی کا عہد پالیا ہے،اور پھر ہم تمہیں دینِ مسیح سے روکتے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اسی کاحکم دیتے ہیں‘‘۔
مقوقس: ’’میں نے اس نبیﷺ کے معاملہ پر غو رکیاتو میں نے دیکھا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے۔وہ نہ گمراہ جادو گر ہیں نہ جھوٹے کاہن،بلکہ میں دیکھتاہوں کہ ان کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی ہے کہ وہ پوشیدہ کو نکالتے ہیں اورسرگوشی کی خبر دیتے ہیں۔ میں مزید غورکروں گا‘‘۔ (۱۰)

عبداللہؓ بن حذافہ سہمی/نامۂ رسولﷺشاہِ فارس کے نام

رسول اللہﷺکے قاصد عبداللہؓ بن حذافہ سہمی جب فارس پہنچے تو انہوں نے آپﷺ کا دعوتی مکتوب شاہِ فارس خسرو پرویز کے سامنے پیش کیا۔ (۱۱) شاہِ فارس رسول اللہﷺ کے نامہ مبارک کے آزادانہ لہجے،اس کے بے باکانہ ایجاز اور صاف گویانہ انداز کو دیکھ کر دنگ رہ گیا،پھر طیش میں آکر نبویؐ مکتوب کو چاک کردیا اور غضبناک لہجے میں گرج کر بولا:

یکتب الی ھذا وھو عبدی (۱۲)
ہمارے غلام کی یہ جرأ ت کہ ہمارے نام اس طرح خط لکھا؟

یزید بن ابی حبیب کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کو اس حرکت کا علم ہوا تو فرمایا:

’’اسی طرح اس کی حکومت کے پرزے پرزے ہوجائیں گے‘‘۔

پھر کسریٰ نے والئ یمن باذان کو لکھا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے میرے پاس لایاجائے۔(۱۳)

رسول اللہ ﷺکے سفیرحضرت عبداللہؓ بن حذافہ یہ ساری صورتحال دیکھ رہے تھے چنانچہ وہ نہایت تحمل،متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اہلِ دربار سے یوں مخاطب ہوئے:

’’اے اہلِ فارس! عرصۂ دراز سے تمہاری زندگی ایسی جہالت میں گزر رہی ہے کہ نہ تمہار ے پاس خدا کی کتاب ہے اور نہ کوئی اللہ کا رسول تمہارے یہاں مبعوث ہوا ہے۔ جس سلطنت پر تمہیں گھمنڈ ہے، وہ خدا کی زمین کا بہت مختصر ٹکڑا ہے۔ دنیا میں اس سے کہیں زیادہ بڑی بڑی حکومتیں موجود ہیں‘‘۔

اور پھر بادشاہ سے مخاطب ہوکر کہا!

’’آپ سے پہلے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں،ان میں سے جس نے آخرت کو اپنا منتہائے مقصود سمجھا، وہ دنیا سے اپنا حصہ لے کر بامراد گیا اور جس نے دنیا کو مقصود بنایا، اس نے آخرت کے اجر کو ضائع کردیا۔افسوس کہ میں نجات وفلاح کے جس پیغام کولے کر آیا ہوں ،آپ نے اسے حقارت سے دیکھا ،حالانکہ آپ کومعلوم ہے کہ یہ پیغام ایسی جگہ سے آیا ہے جس کاخوف آپ کے دل میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ حق کی آواز آپ کی تحقیر سے دب نہیں سکتی،،۔(۱۴)

حضرت عبداللہ بن حذافہؓ اہلِ دربار کو یہ تنبیہ کرکے دربارسے چلے آئے۔

شجاع ؓ بن وہب الاسدی /رئیس دمشق کے نام گرامی نامہ

شام کے مشہور اور تاریخی شہر دمشق پر حارث غسانی حکمران تھا۔دمشق کی سفارت شجاع ؓ بن وہب الاسدی کے سپردہوئی ۔شجاع ؓ نے یہ خط منذر کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے نہ صرف قبول اسلام سے انکار کردیا بلکہ رسول اللہ ﷺسے مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا اور آخر موتہ اور تبوک وغیرہ کی لڑائیاں پیش آئیں۔ (۱۵)

ابنِ سعد کی روایت ہے کہ جب شجاع ؓ بن وہبؓ رسول اللہﷺ کا خط لے کر دمشق پہنچے تو معلوم ہوا کہ قیصر روم بیت المقدس کی زیارت کے لیے جارہا ہے اس لیے حارث غسانی اس کے انتظام وانصرام میں مصروف ہے،چنانچہ ان فارغ اوقات میں شجاع ؓ بن وہب نے اہلِ دربار میں دعوت کے کام کو جاری رکھا اور بالآ خر ان کی کوششوں سے حارث غسانی کے ایک درباری نے اسلام قبول کرلیا۔(۱۶)

علاءؓ بن الحضرمی/منذر بن ساویٰ کے نام مکتوبِ گرامی

رسول اللہ ﷺنے ایک دعوتی خط منذر بن ساویٰ حاکم بحرین کی طرف روانہ فرمایا۔سفارت کی ذمہ داری علاءؓ بن الحضرمی نے ادا کی۔چنانچہ خود منذر اور اس کی رعایا میں سے بھی کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیااور بارگاہِ رسالت میں خراج بھیجا۔ ابنِ حبیب کی روایت ہے کہ مدینہ میں سب سے پہلے حاکم بحرین ہی نے خراج بھیجا تھا۔(۱۷)

عمروؓ بن العاص /شاہ عمان کے نام خط 

رسول اللہ ﷺنے ایک خط شاہِ عمان جیفر اور اس کے بھائی عبد کے نام لکھا ۔ان دونوں کے والد کانام جلندی تھا۔ ایلچی کی حیثیت سے عمروؓ بن العاص کا انتخاب عمل میں آیا ،چنانچہ انہوں نے عمان پہنچ کر دونوں بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔(۱۸)

ابنِ قیم نے عمروؓ بن العاص اور عبد بن جلندی کے درمیان ہو نے والا ایک مکالمہ بھی نقل کیاہے، جس سے عمروؓ بن العاص کی ان دعوتی کوششوں کا حال معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے کس طرح بڑی کامیابی سے ان دونوں بھائیوں کو اسلام کاقائل کرلیا، چنانچہ جب عمرؤؓوہاں پہنچے تو پہلے عبد سے ملے جو زیادہ دوراندیش اور نرم خو تھا اور پھر دونوں کے درمیان حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:

عبد: ’’تم کس بات کی دعوت دیتے ہو؟‘‘
عمروؓ: ’’ہم ایک اللہ کی طرف بلاتے ہیں ،جوتنہا ہے ،جس کا کوئی شریک نہیں اور ہم کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ جس کی پوجا کی جاتی ہے، اسے چھوڑ دو اور یہ گواہی دو کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔
عبد: ’’اے عمروؓ!تم اپنی قوم کے سردار کے بیٹے ہو۔ بتاؤ ،تمہارے والد نے کیاکیا؟کیونکہ ہمارے لیے اس کا طرزِ عمل لائق اتباع ہوگا‘‘۔
عمروؓ: ’’وہ محمد ﷺ پر ایمان لائے بغیر وفات پاگئے،لیکن مجھے حسرت ہے کہ کاش انہوں نے اسلام قبول کرلیاہوتااور آپﷺ کی تصدیق کی ہوتی۔میں خود بھی انہیں کی رائے پر تھا لیکن اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی‘‘۔
عبد: ’’اچھا مجھے بتاؤ وہ کس بات کا حکم دیتے ہیں اور کس چیز سے منع کرتے ہیں؟ ‘‘
عمروؓ: ’’اللہ عز وجل کی اطاعت کاحکم دیتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے منع کرتے ہیں۔نیکی ،صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں۔ ظلم وزیادتی ،زناکاری،شراب نوشی اور پتھر ،بت اور صلیب کی عبادت سے منع کرتے ہیں‘‘۔
عبد: ’’یہ کتنی اچھی بات ہے جس کی طرف بلاتے ہیں‘‘۔

بالآخر دونوں بھائیوں عبد اور جیفر نے اسلام قبول کرلیا۔ (۱۹)

خلاصۂ بحث 

نبویؐ سفرا کی ان دعوتی سرگرمیوں کے نتیجہ میں رسول اللہﷺ کا پیغام روے زمین کے بیشتر حکمرانوں اور بادشاہوں تک پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺکے دعوتی خطوط اور صحابہ کرامؓ کی سفارت کاری کے نتیجہ میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر اختیار کیا،لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کفر کرنے والوں کی توجہ بھی اسلام کی طرف مبذول ہوگئی اور ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺکا دین او رآپﷺکانام ایک جانی پہچانی چیز بن گئی۔صحابہ کرامؓ نے شاہانِ عالم کو دعوت دیتے وقت جو اسلوب اختیار کیا، اس کی چند جھلکیاں مذکورہ سطور میں دیکھی جاسکتی ہیں۔مثلاً :

۱۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت عام ہے اور آپ کی دعوت ہر قوم ،زمانے اور نسل کے لوگوں کے لیے ہے۔

۲۔ داعی اگر مخاطب کے منصب اور مقام ومرتبہ کا پوری طرح لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا فریضہ انجام دے تو ایسی دعوت زیادہ موثر ہوگی اور مخاطب داعی کی بات کوزیادہ توجہ اور انہماک سے سنے گا۔ نبویؐ سفرا کا مخاطب کو’’اے بادشاہ‘‘ اور ’’شاہِ ذی جاہ‘‘وغیرہ کے الفاظ سے مخاطب کرنا اسی اسلوبِ دعوت کی طرف اشارہ ہے۔

۳۔ دعوت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب سے بحث ومباحثہ سے حتی الامکان احتراز کیا جائے، لیکن اگر مخاطب بحث پر ہی مصر ہو تو داعی کا فرض ہے کہ وہ دورانِ گفتگو شائستگی کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔لہجے کی شائستگی اور دلیل کے ساتھ بات کرنا ایسا اسلوب دعوت ہے جس سے نہ صرف مخاطب کو لاجواب کیاجاسکتاہے بلکہ اس کو اعترافِ حقیقت پر بھی مجبور کیا جاسکتاہے، جیسا کہ حضرت حاطبؓ نے مقوقس شاہ مصر کو مضبوط دلائل سے لاجواب کردیا تو مقوقس نے حضرت حاطبؓ اور ان کی دعوت کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:

انت حکیم جاء من عند حکیم
تم دانا ہو اور ایک دانا کے پاس سے آئے ہو۔

۴۔ داعی کافرض ہے کہ دعوت اور مخاطب کے عقائد وافکار کے درمیان قدر مشترک تلاش کرے اور ان کی درست باتوں کو دعوت کی بنیاد بنائے۔ اگر اس اسلوبِ دعوت کو اختیار کیا جائے تو مخاطب کو دعوت سے مانوس کرنے میں مدد ملتی ہے اور مخاطب سمجھتاہے کہ جو دعوت اس کو پیش کی جارہی ہے، وہ کوئی نئی چیزنہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی اجنبی چیز کو مان لینے کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ حضرت حاطبؓ کامقوقس کو یہ کہنا:’’ہم تمہیں دین مسیح سے روکتے نہیں بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں‘‘ اس اسلوبِ دعوت کی ایک عمدہ مثال ہے۔


حواشی

* مقوقس اگر چہ دولتِ ایمان سے محروم رہا، تاہم اس نے رسول اللہ ﷺ کے خط اور آپ کے قا صد کا احترام کیا اور آپ ﷺکی بارگاہ میں کچھ تحائف بھیجے جن میں دو لڑکیاں ، ماریہؓ اور سیرینؓ جو حقیقی بہنیں تھیں ، بطور تحفہ بھیجیں ۔ماریہؓ اور سیرینؓ نے راستے میں ہی حضرت حاطبؓ کی تعلیم و تلقین سے اسلام قبول کر لیا۔حضرت ماریہؓ حرم نبوی ﷺ میں داخل ہوئیں۔رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیمؓ ان ہی کے بطن سے پیداہوئے ۔جب کہ سیرینؓ کو رسول اللہﷺنے حضرت حسانؓ بن ثابت کو ہبہ کر دیا۔ (اسد الغابہ ،تذکرہ حاطبؓ بن ابی بلتعہ ، ۱/۳۶۲۔ زاد المعاد ، ۳/۶۹۲۔ ابن سعد ، ۱/۲۶۱)


حوالہ جات

(۱)کتاب مقدس ، متی ، ۱۵:۳۵

(۲) ایضاًمتی ، ۱۰:۶

(۳) ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (التوبہ ، ۹:۳۳) اس موضوع پر چند مزید آیات ملاحظہ ہوں :الفتح ، ۴۸:۲۸۔ النساء ، ۴:۷۹۔ سبا ،۳۴، ۲۸۔ الانبیاء ، ۲:۱۰۷۔ الاعراف ، ۷:۱۵۷

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :’’وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب التیمم ، باب قولہ تعالیٰ :فلم تجدواماءً ،ح:۳۳۵، ص :۵۸۔ ایضاً ، کتاب الصلوۃ ، باب قول النبی ﷺ :جعلت لی الارض مسجداًو طھوراً، ح :۴۳۸، ص:۷۶)

(۴)ابن ہشام ،خروج رسل رسول اللہﷺالی الملوک ،۴/۲۶۲۔ تاریخ الامم والملوک ، ۳/۸۵

(۵) ابن سعد ،ذکر بعثہ رسول اللہﷺ،الرسل بکتبہ، ۱/۲۵۸ 

(۶) المائدہ،۵:۶۷

(۷) ابن سعد ، ذکربعثہ رسول اللہﷺ الرسل بکتبہ ۱/۲۵۸۔زاد المعاد ، ۳/۶۹۸۔۶۹۰

(۸) تاریخ الامم والملوک ، ۳/۸۸( واقعات،۶ھ) اسد الغابہ ، تذکرہ ضغاطر ، ۳/۴۱

(۹) اسد الغابہ ، تذکرہ حاطبؓ بن ابی بلتعہ، ۱/۳۶۲

(۱۰) زاد المعاد ، ۳/۶۹۱-۶۹۲

(۱۱) تاریخ الامم والملوک ، ۳/۹۰(واقعات۶ھ)

(۱۲) تاریخ الامم والملوک ، ۳/ ۹۰ (واقعات،۶ھ)

(۱۳) ایضاً

(۱۴) الروض الانف ، ۲/۲۵۳

(۱۵) تاریخ الامم والملوک ،۳/۸۸ (واقعات۶ھ)

(۱۶) ابن سعد ، ذکر بعثہ رسول اللہ ﷺ الرسل بکتبہ۱/۲۶۱

(۱۷) ابن حبیب ، (م ۲۴۵ھ)محمد ، ’’کتاب المحبر ‘‘، نشرالکتب الاسلامیہ ،ص:۷۷

(۱۸) کتاب المحبر ،ص:۷۷

(۱۹) زادالمعاد ، ۳/۶۹۳-۶۹۵


سیرت و تاریخ

Flag Counter