اسلامی ریاست کے خارجہ تعلقات کی اساس ۔ فقہی نظریات کا ایک تقابلی جائزہ

جنید احمد ہاشمی

غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کے احکام پر مشتمل مواد کو ہمارے فقہی لٹریچر میں ’’سِیَر‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے ’’الفقہ الدولی‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام (International Law) کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی بنیاد امن ہے یا جنگ؟ آئندہ سطور میں اس سوال کا جواب ’’سیر‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام کے جدید رجحانات کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلا نقطہ نظر

جمہور فقہا نے، جن میں احناف کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی بنیاد جنگ کو ٹھہرایا ہے۔ اس اصول کو علامہ سرخسی نے یوں بیان فرمایا ہے: ’الاصل فی علاقات المسلمین بالکفار الحرب‘ یعنی غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات میں اصل کی حیثیت جنگ کو حاصل ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے دنیا کی دو قطبی تقسیم کی ہے: ۱۔ دار الاسلام، ۲۔ دار الحرب *

غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کے حوالے سے دنیا کی دوسری تقسیم شوافع اور ان کے ہم خیال فقہاے کرام کی ہے جو دنیا کی تقسیم میں ’دار العہد‘ یا ’دار الصلح‘ کا اضافہ کرتے ہیں تاہم ان کے نزدیک بھی یہ حصہ در اصل دار الاسلام ہی کے ماتحت ہے۔

حق یہ ہے کہ فقہاے اسلام کی یہ تقسم حالات کی پیداوار ہے۔ یہ فقہی اجتہاد کا وہ زمانہ تھا جب اسلامی ریاست کو غیر مسلموں کی طرف سے ہمہ وقتی جنگ درپیش تھی اور امن اس میں ایک عارضی کیفیت کا درجہ رکھتا تھا۔ بقول ڈاکٹر وہبہ زحیلی، یہ کوئی منصوص تقسیم نہیں ہے بلکہ فقہاے کرام کے اس اجتہاد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے حالات کے تناظر میں کیا تھا۔ ان حضرات نے حکمت عملی کے پیش نظر اور مسلمانوں کو متحرک رکھنے کی نیت سے جب غور کیا تو محسوس کیا کہ جنگ مسلسل چلی آ رہی ہے اور امن ایک عارضی کیفیت ہے۔ جنگ کو اصل قرار دینے کی وجہ ان حضرات کے نزدیک یہ تھی کہ مسلمان تو بلاجواز جنگ کے قائل ہی نہیں اور جنگ ہمیشہ غیر مسلموں ہی کی طرف سے مسلط کی جاتی رہی ہے اس لیے یہی اصل ہے۔ چنانچہ ان فقہاے کرام کے ہاں وہ تمام آیات منسوخ قرار پائیں جن میں غیر مسلموں سے حسن سلوک، معافی، غیر جانب داری، صلح، صبر وتحمل اور طریقہ حسنیٰ کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ ان حضرات نے سورۃ التوبہ کی آیت ۳۶: ’وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَافَّۃً‘ (اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں) یا آیت ۲۹: ’قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ‘ (اہل کتاب میں سے ان سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر) کو ناسخ ٹھہرایا ہے۔ اس ضمن کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ ہے: 

لاَ یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ O (آیت ۸)
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

جصاص فرماتے ہیں کہ اسے سورۂ براء ۃ کی آیت ۵: ’فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ‘ (مشرکین کو جہاں کہیں بھی پاؤ، قتل کر ڈالو) نے منسوخ کر دیا ہے۔

اسی طرح سورۂ حشر کی آیت ۲ : ’ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ‘ (وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو تمہاری پہلی ہی فوج کشی کے نتیجے میں ان کے گھروں سے نکال دیا) کے تحت جصاصؒ نے یہود بنی نضیر سے نبی اکرم کی مصالحت کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے:

’’ہمارے نزدیک (مصالحت کا) یہ حکم منسوخ ہے ..... نسخ کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ اس وقت تک لڑتے رہنے کا حکم دیا ہے جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں یا جزیہ ادا کرنا قبول نہ کر لیں۔‘‘

ان حضرات کے نزدیک غیر مسلموں سے دائمی صلح کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ غرض ان فقہانے اصول نسخ کا مبالغہ آمیز استعمال کیا۔ قرآن کے جنگی احکام کے فہم میں تطبیقی طریق اختیار کرنے کے بجائے طریق نسخ استعمال کیا۔ آیت سیف سے ۱۴۰ آیات کو منسوخ قرار دے دیا۔ جہاد کی جارحانہ نوعیت پر زور دیا۔ جزیہ کو کفر کی سزا بلکہ کفر کا معاوضہ قرار دیا۔ پھر زمانہ تقلید کی تعبیر وتشریح نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس سے اقوام عالم میں اسلام سے متعلق بہت سی غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ 

ان فقہا کا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جہاد وقتال دراصل دعوت اسلام کا ایک ذریعہ ہے اور اسلامی دعوت کے دو ہی طریقے ہیں: زبان سے دعوت اور شمشیر وسناں سے دعوت۔ کسی کو وعظ وارشاد اور دعوت بالقول ہو جائے، وہ اسے تسلیم نہ کرے تو چاہے وہ پر امن رہے اور دعوت حق کے مقابلے میں رکاوٹ نہ بھی بنے، تب بھی اس کے لیے دعوت بالسیف اور قتال واجب ہو جاتے ہیں۔ دعوت کا یہ محدود مفہوم عملاً امت میں کسی نے بھی نہیں سمجھا نہ یہ قرآن کریم کے طریق دعوت ہی سے موافق ہے جس کی طرف قرآن نے اسلام کی نشر واشاعت کے سلسلے میں رہنمائی کی ہے۔ قرآن نے دعوت کو حجت وبرہان، منطق وعقل سے مزین کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (النحل ۱۲۵)
اے پیغمبر! لوگوں کو دانش اور اچھی نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان کے ساتھ مجادلہ کرو۔

قرآن نے اکراہ اور جبر کو بطور وسیلہ اختیار کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے:

لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲۵۶)
دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔

کیونکہ دین کی اساس ایمان قلبی اور اختیار واطاعت پر ہے۔ نیز پیغمبر کامنصب داروغہ کا نہیں بلکہ مذکر کا ہے:

فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌO لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ O(الغاشیۃ ۲۱، ۲۲)
آپ نصیحت کر دیا کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر کچھ مسلط تو نہیں ہیں۔

چنانچہ دعوت دین کے اس محدود تصور کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ قرآن کے نفی اکراہ کے تصور کے خلاف اور ایمان قلبی کی معنویت کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔

دوسرا نقطہ نظر

فقہاے کرام کا ایک گروہ اس نقطہ نظر کا حامل ہے کہ جنگ ایک عارضی کیفیت ہے کہ جب تک اس کے اسباب رہیں گے، جنگ رہے گی اور اسباب ختم ہونے پر یہ ختم ہو جائے گی۔ نیز غیر مسلموں سے تعلقات کی اصل صلح وامن ہے اور غیر مسلموں سے دوستانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اور غیر مخالفین یا غیر محارب اقوام کے ساتھ پر امن بقاے باہمی کی بات قرار پا سکتی ہے۔ فقہاے کرام میں اس نقطہ نظر کے حاملین امام ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ وغیرہ ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ رائے روح شریعت اسلام سے قریب تر اور جدید بین الاقوامی حالات کے پیش نظر معتدل اور صائب ہے۔ دور جدید کے بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف اقوام کے درمیان مسلسل مخاصمت، اور تنازعات کے تصفیہ کے لیے جنگ کو بطور مستقل وسیلہ کے قبول کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ ذیل میں موخر الذکر رائے کے حق میں دلائل ذکر کیے جاتے ہیں:

قرآن کریم

اسلام میں جنگ ایک وسیلہ ہے اسلامی دعوت کی تکمیل اور اس کے لیے اسباب فراہم کرنے کا۔ اگر دعوت کے اسباب موجود ہیں اور ان میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، مسلمانوں پر کہیں بھی مظالم نہیں ہو رہے اور وہ دنیا میں ہر جگہ اپنے دین کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہیں تو اس صورت میں جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم کے جنگی احکامات کا استقصا کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کی بنیاد امن وسلامتی کو ٹھہراتا ہے، جنگ کو نہیں۔ قرآن میں ہے:

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (الانفال ۶۱)
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔

قرآن نے امن عالم کی بنیاد رکھی ہے اور اس کی جملہ تعلیمات میں امن وسلامتی کے پیغامات ہیں۔ عالمی امن کی بنیاد اور سرچشمہ قرآن کریم کی یہ آیت ہے:

یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَافَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ O (البقرہ ۲۰۸)
اے ایمان والو، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

نیز فرمایا:

وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرۃٌ (النساء ۹۴)
اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے، اسے فوراً نہ  کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سی غنیمتیں ہیں۔

غیر مسلموں سے تعلقات کی اصل ’امن‘ ہے۔ سورۂ محمد کی آیت ۴ : ’حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا‘ (تا آنکہ فریق مخالف لڑائی ترک کرکے ہتھیار رکھ دے) سے بھی اس کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اسلام میں جنگ دراصل ایک ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں قتال کی جتنی آیات آئی ہیں، وہ ظلم وتعدی کے سیاق میں آئی ہیں۔ سب سے پہلی آیت جس میں ۲ ہجری میں جنگ کی اجازت دی گئی، یہ ہے:

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا (الحج ۳۹)
جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے، ان کو اجازت ہے کہ وہ بھی لڑیں کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔

اس آیت میں واضح طور پر یہ قرار دیا گیا ہے کہ جنگ مسلمانوں کے اموال وانفس اور دیار واوطان کے خلاف دشمن کی جارحیت کے بعد لازم ٹھہرائی گئی ہے یا مظلوموں کی اعانت کے لیے، کیونکہ ظاہر ہے کہ دفاع ہر انسان اور معاشرے اور قوم کا حق ہے۔ قرآن کریم نے اس مسئلے میں دوسری جگہ ان الفاظ میں رہنمائی کی ہے:

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا (البقرہ ۱۹۰)
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں، تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو ، لیکن زیادتی نہ کرو۔

آیت کریمہ سے خالص دفاعی جنگ کا ثبوت ملتا ہے۔اسی سیاق میں ایک آیت کریمہ ہے:

فَاِنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ (البقرہ ۱۹۴)
اگر دشمن تمہارے خلاف زیادتی کرے تو تم جواب میں ویسی ہی زیادتی اس کے خلاف کر سکتے ہو جیسی اس نے تمہارے خلاف کی ہے۔

اقدامی جہاد عملاً سیرت النبی ﷺ اور تاریخ اسلامی کے اوراق سے ثابت ہے لیکن اسی قدر کہ جب دشمن کی طرف سے جارحیت کا قصد ہو تو دفاع کے لیے پیش قدمی کی جائے۔ اس کی تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی۔

جنگ کی مشروعیت کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فتنہ کی سرکوبی ہو، دعوت حق کے مقابلے میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا انسداد ہو اور مسلمانوں کے عقیدہ کو متاثر کرنے والے مفسدات کا ازالہ ہو۔ قرآن نے اسے یوں بیان فرمایا ہے:

وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۱۹۳)
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فساد نابود ہوجائے اور ملک میں دین خدا ہی کے لیے ہو جائے۔

تاہم قرآن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے:

فَاِنِ انْتَہَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْنَ O
اور اگر وہ فساد سے باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔

قرآن کریم نے غیر محارب کفار اور محارب دشمن میں سے ان لوگوں کے بارے میں جو مسلمانوں کے معاملے میں اعتزال اور غیر جانبداری کا رویہ اختیار کریں، واضح طور پر ہدایت فرمائی ہے:

فَاِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبِیْلاً O (النساء ۹۰)
اگر وہ تم سے جنگ کرنے سے کنارہ کشی اختیار کریں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔

آیت کریمہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جن قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات ’محاربہ‘ کے رہے ہوں، ان سے بھی ایک مرحلہ ایسا پیش آ سکتا ہے کہ محاربہ کرنے والے محاربہ سے الگ ہو جائیں اور واقعی ایک ایسا تعلق قائم ہو جائے جس کو پرامن تعلقات کے دور کی ابتدا کہا جا سکے۔

قرآن نے کہیں بھی کفر کو وجہ جنگ کے طور پر بیان نہیں کیا نہ قرآن ہر ا س قوم سے جو مسلمان نہیں، مستقل جنگی رویہ رکھنے کا حکم دیتا ہے بلکہ ان کے سلسلے میں پر امن بقائے باہمی کا اصول اور انسانیت دوستی کی تعلیم دیتا ہے: 

لاَ یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الََّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ O (آیت ۸)
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

قرآن میں جہاد کا حکم اصلاً مقاتلین کے مقابلے میں دیا گیا ہے: ’وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُم‘ْ (اور تم اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔ البقرہ: ۱۹۰) یہ آیت جارح دشمن سے جنگ وجدال اور مقابلہ کو واجب ٹھہراتی ہے تاکہ ان کی دشمنی کا خاتمہ کیا جائے اور ان کے فتورکا ازالہ ممکن ہو۔ وہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکیں اور دین اسلام سربلند ہو۔ 

جن آیات میں مطلق طور پر جنگ کا حکم دیا گیا ہے، مثلاً: ’وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ‘ (ان کو جہاں پاؤ، قتل کر ڈالو۔ البقرہ :۱۹۱) وہ بنیادی طور پر صرف اسلام دشمن مشرکین کے لیے تھا۔ مفسرین کے نزدیک یہ آیت عرب مشرکین کی بابت حکم بیان کرتی ہے جس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اس قوم سے جزیہ، صلح، غلامی وغیرہ کی کوئی صورت قبول نہیں کی جاتی جو نبی کی براہ راست مخاطب ہو چنانچہ ان کے لیے صرف اسلام یا تلوار کا انتخاب کرنا تھا۔

آیت کریمہ: ’مَالَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ‘کی تفسیر میں علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:

’’جہاد کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ کمزور اور پسے ہوئے مسلمانوں کو ان کافروں اور مشرکوں کے پنجہء استبداد سے چھڑایا جائے جو ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے اور ان کو ان کے دین سے انحراف پر مجبور کرتے ہیں چنانچہ جہاد فرض کیا گیا تاکہ دین کو غالب کیا جائے اور مظلوموں کی اعانت کی جائے۔‘‘

قرآن نے جہاں ہمہ وقت مستعد رہنے اور مادی ترقی اور جہد مسلسل کی تعلیم دی ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس سے ساری دنیا کو فتح کیا جائے یا انہیں اسلحے کے زور سے مسلمان کیا جائے یا جملہ اقوام عالم پر غلبہ پالیا جائے بلکہ اس لیے کہ کوئی انہیں کمزور سمجھ کر مہم جوئی کرنے کی جرات نہ کرے اور مسلمان کمزور قوم نہ رہیں۔ 

غرض قرآن کریم نے جہاد کو ایک ضرورت، ایک وسیلہ اور ذریعہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ وسیلے کو مقصد بنانا قرآنی تعلیمات کے علاوہ عقل عام اور منطق سلیم کے بھی منافی ہے۔

احادیث وسیرت رسول ﷺ

احادیث رسول مسلم ریاست کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں ’’حالت امن‘‘ کے اصل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، ۲۷۴۴)
دشمن سے مڈبھیڑ کی ازخود تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت ہی کی دعا کرو۔

جناب رسول اللہ ﷺ نے قتال کی حیثیت اور غایت کو عدل،حق اور دعوت اسلام کے دائرہ میں متعین کر دیا ہے:

من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فہو فی سبیل اللہ (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، ۲۵۹۹)
(قبیلے، رنگ و نسل اور علاقائی مقاصد کے لیے جنگ کرنے والے کے برعکس) اللہ کے راستے کا مجاہد صرف وہ ہے جو صرف اور صرف اللہ کے کلمے کی بلندی کی خاطر جنگ کرے۔

جہاد اسلام کا امتیازی وصف اور قول رسول ﷺ کی بدولت عمارت اسلام کا سب سے اونچا کنگرا ہے۔ (سنن الترمذی، الایمان، ۲۵۴۱) جہاد قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ اس کو کسی ظالم کا ظلم ختم کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔ (سنن ابی داؤد، الجہاد، ۲۱۷۰) مگر یہاں دو نکات قابل غور ہیں: ایک یہ کہ اسلامی لٹریچر میں جہاد ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس کا اطلاق قتال کے علاوہ جدوجہد کے دیگر طریقوں پر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس مضمون کی احادیث میں ’جہاد‘ بمعنی سعی وجہد کی اہمیت کا بیان مقصود ہے جو ’قتال‘ کی مخصوص صورت صرف اس حالت میں اختیار کرے گا جب اس کے اسباب یعنی جارحیت، ظلم، افساد عقیدہ وغیرہ پائے جائیں گے۔

اس ضمن میں حدیث رسول ﷺ : ’امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ‘ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں) (صحیح البخاری، الایمان، ۲۴) سے استدلال کرتے ہوئے غیر مسلم اقوام سے تعلقات کی اصل بنیاد جنگ کو نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ اس کی بابت علما کا اجماع ہے کہ اس سے بطور خاص مشرکین عرب ہی مراد ہیں۔ 

اسلام نے جنگ کی اجازت اشاعت اسلام کے تقریباً پندرہ سال گزر جانے کے بعد دی یعنی ۲ ہجری میں۔ ان پندرہ سالوں میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس میں جنگ کی ترغیب دی گئی ہو۔ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس غیر مسلموں سے تعلقات کے اعتبار سے حالت امن میں رہے۔ مدینہ میں بھی دعوت حق کا آغاز حالت امن ہی میں ہوا مگر جب مشرکین نے جارحیت کی تو یہ حالت امن، حالت جنگ میں تبدیل ہو گئی کہ اب اسلامی مملکت اور مسلمانوں کا دفاع ناگزیر ہو گیا تھا۔ 

نبی اکرم ﷺ نے قریباً ۲۷ غزوات لڑے اور ان کے علاوہ کئی سرایا بھی بھیجے۔ غزوات نبوی اور سرایا کا تاریخی منظر نامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ غزوات وسرایا اذیت، تعذیب، دشمنی، مسلمانوں کو ان کے دیار واوطان سے نکالے جانے، ان کو ان کے دین سے منحرف کرنے کی مساعی، دین حق کی اشاعت میں رکاوٹ، ضرب وشتم اور ظلم وتعدی جیسے اسباب کی بنا پر وقوع پذیر ہوئے تھے یا پھر دشمن کے ارادۂ جارحیت کے ازالہ کی خاطر۔ کوئی راستہ ان سے چھٹکارے کا نہیں تھا ورنہ حضور اکرم ﷺ حالت امن کو برقرار رکھتے اور دست شفقت تلوار نہ اٹھاتا کیونکہ آپ کو جب بھی موقع ملا کہ بغیر تلوار اٹھائے اسلام کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں، آپ نے جنگ سے گریز کیا اور خون بہائے بغیر اپنا مقصد پورا کیا۔

صدر اول کی جنگی تاریخ گواہ ہے کہ بدر، احد، خندق، یوم الرجیع اور بئر معونہ کے واقعات دشمن کی جارحیت کے مسببات تھے۔ جارحیت کا یہ سلسلہ حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی جاری رہا۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ:

  • قبیلہ ہوازن، بنو ثقیف اور دوسرے قبائل کے ساتھ جارحیت کے لیے بڑھا تو آپ نے ان سے جنگ کی۔
  • ہجرت کے بعد یہود نے معاہدہ توڑا۔ بنو قینقاع کو بدر میں مسلمانوں کی فتح ہضم نہ ہوئی۔ انہوں نے بغاوت اور حسد کی بنا پر رئیس المنافقین ابن ابی سے محالفت کر لی، ایک مسلم خاتون کی بے حرمتی کی اور اس کے محافظ مسلمان کو قتل کیا اور پھر یہ بد تمیزی اور بے عقلی بھی کہ رسول اکرم ﷺ کو یوں مخاطب کیا: ’لا یغرنک انک 
  • لقیت قوما لا علم لہم بالحرب‘ (آپ کو ناتجربہ کار لوگوں سے جنگ جیتنا دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ ہم سے جنگ کریں گے تو پتہ چلے گا کہ مردوں سے جنگ کرنا کیا ہوتا ہے) پھر باقاعدہ نقض عہد کر کے قلعہ بند ہو گئے۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا اور پھر انہیں مدینہ سے نکال دیا گیا۔
  • بنو نضیر نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا۔ آپ کو وحی الٰہی سے خبر ہو گئی۔ ان کے قلعوں کا محاصرہ ہوا اور بالآخر انہیں مدینہ سے نکالا گیا۔
  • بنو قریظہ کو قرآن نے ان کی بد عہدی اور نقض عہد کی بنا پر گندا اور شریر کہا ہے۔ غزوۂ خندق میں انہوں نے مشرکین مکہ سے محالفت کی اور بدر میں بھی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کی اعانت کی۔ ان کے نقض عہد کی بنا پر انہیں قتل کیا گیا۔
  • یہود خیبر سے جنگ کی بنا بھی ان کا نقض عہد ہی تھی۔
  •  روم وفارس سے صحابہ کرام کی جنگیں بھی ان کی طرف سے ’’حالت امن‘‘ کو متاثر کرنے کی بنا پر لڑی گئیں۔ یہ دونوں اسلام کے پیغام کو ٹھکراتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوئے۔ کسرائے ایران نے تو نبی اکرم ﷺ کے مکتوب گرامی کو چاک کیا اور یمن کے گورنر باذان کے توسط سے آپ ﷺ کی گرفتاری کے لیے دو آدمیوں کو روانہ کیا۔

یہ تمام فتوحات اور معرکے عدوان (جارحانہ روش)، طغیان (استبداد)، فساد (کرپشن) اور اسراف (تجاوز عن الحد) کے خلاف برپا ہوئے اور پھر جب دشمن کی طرف سے صلح، جزیہ، اطاعت یا غیر جانبداری کی صورت نظر آئی تو ’’جنگ‘‘ ختم ہو گئی اور حالت امن نے قرار پکڑ لیا کیونکہ اسلام میں جنگ انتقام اور کسی کی ذاتی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں:

وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا (المائدہ ۲)
اور ایک گروہ نے جو تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا، تو یہ بات تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر (ناروا) زیادتی کرنے لگو۔

اور نہ توسیع پسند کے جذبہ کی تسکین، استعماری نظام کے قیام یا اقوام عالم کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے:

تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَادًا وَّالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَO (القصص ۸۳)
یہ عالم آخرت تو ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کر دیتے ہیں جو زمین پر نہ بڑا بننا چاہتے ہیں نہ فساد کرنا۔ اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔

اس بات کو دوسرے مقام پر قرآن نے یوں بیان کیاہے:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکوٰۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ (الحج ۴۱)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیک کام کا حکم دیں گے اور برے کاموں سے منع کریں گے۔

اور نہ ہی اسلام میں جنگ کا مقصد زمین پر غلبہ پانا، اپنے اقتدار کی توسیع، اثر ونفوذ کا لالچ یا قوم یا جنبہ کے اقتدار کی خاطر ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں کرنا ہے:

وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثاً تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلاً بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ (النحل ۹۲)
تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا کہ تم اپنے قسموں (معاہدات) کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو محض اس وجہ سے کہ ایک گروہ دوسرے سے (کثرت وثروت میں) بڑھ جائے۔

فقہا کی آرا

احناف کے ہاں یہ بات بطور اصول سمجھی گئی ہے: ’الآدمی معصوم لیتمکن من حمل اعباء التکلیف واباحۃ القتل عارض سمح بہ لدفع شرہ‘ کہ ’’انسان معصوم الدم ہوتا ہے تاکہ وہ امور تکلیفیہ سے عہدہ برآ ہو سکے۔ رہا اس کا مباح الدم ہونا تو وہ دلیل عارض کی بنا پر ہے تاکہ اس کے شر کا ازالہ ممکن ہو۔‘‘

فقہا کے ہاں یہ بات ثابت ہے کہ جنگ کی وجہ جارحیت کا ازالہ ہے نہ کہ مذہب کا اختلاف۔ وہ کہتے ہیں کہ کفر بحیثیت کفر وجہ جنگ نہیں: ’الکفر من حیث ہو کفر لیس علۃ لقتالہم‘۔ اگر کفر جنگ وقتال کو جائز کرنے والی شے ہوتی تو جزیہ لینے کا حکم نہ دیا جاتا کیونکہ جزیہ کی صورت میں ان کا کفر پر باقی رہنا لازم آتا ہے۔ 

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’لا ینبغی لمسلم ان یہریق دمہ الا فی حق ولا یہریق دما الا بحق‘۔ ’’کسی مسلمان کا حق بجز کسی ایسی (شرعی) وجہ کے حلال نہیں ہے جو اسے مباح الدم بناتی ہو۔‘‘ 

حنابلہ فرماتے ہیں : ’الاصل فی الدماء الحظر الا بیقین الاباحۃ‘ ۔ ’’انسانی جان میں اصل ممانعت ہے سوائے اس کے کہ کسی وجہ سے اس کے قتل کی اباحت کا یقین ہو جائے۔‘‘

ابن ہمام حنفیؒ نے البقرہ کی آیت ۳۶ : ’وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَافَّۃً‘ (اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں) کے تحت لکھا ہے: ’فافاد ان قتالنا المامور بہ جزاء لقتالہم ومسبب عنہ‘۔ یعنی ’’آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جنگ کا حکم ان کے جنگ کرنے کے مقابلے کے طور پر دیا گیا ہے اور ان کا جنگ کرنا ہی ہمارے جنگ کرنے کا سبب ہے۔‘‘

البقرہ کی آیت ۱۹۳ : ’وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ‘ (ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ کی سرکوبی ہو جائے) کے تحت لکھتے ہیں: ’ان لا تکون فتنۃ منہم للمسلمین عن دینہم بالاکراہ بالضرب والقتل‘۔ یعنی ’’ان کا مسلمانوں کو ان کے دین کے معاملے میں مارپیٹ اور قتل وظلم کے ساتھ پریشان کرنے کا انسداد ہو جائے۔‘‘ گویا جنگ صرف مخصوص اسباب کی موجودگی تک باقی رہتی ہے۔

ابن ہمام حنفیؒ نے یہ بھی بتایا ہے: ’المقصود من القتال ہو اخلاء العالم من الفساد‘۔ ’’قتال کا مقصود زمین سے فساد کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘

ابن قیمؒ نے فرمایا: ’وفرض القتال علی المسلمین لمن قاتلہم دون من لم یقاتلہم‘۔ ’’مسلمانوں پر قتال ان لوگوں کے خلاف فرض کیا گیا ہے جو ان سے لڑتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف جو ان سے نہیں لڑتے۔‘‘

احناف کے امام سرخسیؒ نے جنگ کا مقصود یہ بیان فرمایا ہے: ’والمقصود ان یامن المسلمون ویتمکنوا من القیام بمصالح دینہم ودنیاہم‘ یعنی ’’جہاد کا ہدف اور مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو امن وسکون میسر ہو اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مقاصد کی تکمیل امن کے ساتھ کر سکیں۔‘‘

گویا جہاد ان مقاصد کے حصول کے لیے ہے کہ مسلمان اور ان کے ہم وطن لوگ امن وامان سے رہ سکیں، مسلمانوں کے دینی مقاصد پورے ہو رہے ہوں اور ان کے دنیوی مصالح کی تکمیل ہو رہی ہو۔ اگر یہ مقاصد جنگ کی نوبت آئے بغیر ہی پورے ہو جائیں تو جنگ کرنا ناجائز ہے۔

مغنی المحتاج میں ہے: ’وجوب الجہاد وجوب الوسائل لا المقاصد واما قتل الکفار فلیس بمقصود حتی لو امکن الہدایۃ باقامۃ الدلیل بغیر جہاد کان اولی من الجہاد‘ یعنی ’’جہاد کا وجوب دراصل وسائل کی نوعیت کا ہے، مقاصد کی نوعیت کا نہیں۔ رہا کفار کا قتل کرنا تو وہ بھی مقصود نہیں چنانچہ اگر ہدایت جہاد کے بغیر محض اقامت دلیل ہی سے ممکن ہو تو یہ بات جنگ کی نسبت خوب تر ہے۔‘‘

فقہا کے ان اقوال کی روشنی میں مسلم اور غیر مسلم سلطنتوں کے مابین تعلقات کی اساس کے طور پر جنگ کا ایک عارضی کیفیت ہونا اور حالت امن کا مستقل حالت ہونا الم نشرح ہو جاتا ہے۔

مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم ریاست کے غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کی بنیاد امن ہے چنانچہ جنگ صرف اس صورت میں جائز ہوگی جب دشمن کی جارحیت کا سامنا ہو، مسلم مبلغین کو تبلیغ دین سے روکا جائے یا مسلمانوں اور اسلام کی حرمت پر زد پڑتی ہو تو اس صورت میں جان ومال اور عقیدہ کے تحفظ کے لیے جنگ ایک ضرورت ہوگی۔ 

حرف آخر

تعلقات بین الاقوام کا اسلامی نظریہ اور فلسفہ عصر حاضر کے لیے موزوں واحد فلسفہ امن ہے۔ حق یہ ہے کہ صرف اسی طرح کا فلسفہ اور انداز فکر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب اور باہم مربوط کر سکتا ہے اور اقوام عالم کے مذہبی، ثقافتی، عمرانی اور اقتصادی تنوعات اور امتیازات کو تسلیم کرتے ہوئے مقاصد، اقدار، فلاح اور مفاہمت کے وسیع اور مشترک انسانی دائرے تشکیل دے سکتا ہے۔ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے دشمنوں کی تعداد کم سے کم کرے اور قوموں کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی صلح اور امن وسلامتی کے تعلقات کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے۔ لفظ ’اسلام‘ کا مادہ ہی سلامتی اور امن کا معنی دیتا ہے۔ ’مسلم‘ بھی سلامتی اور امن پھیلانے والے کو کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا شعار (Slogan)اور شناخت بھی امن وسلامتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ’سلام‘ ہیں، پیغمبر اسلام پیغمبرامن وسلام ہیں اور حیات انسانی امن کے ساتھ ہی پھل پھول سکتی ہے۔


مراجع و مآخذ

۱۔ابوبکر الجصاص: احکام القرآن، 

۲۔ قرطبی: الجامع لاحکام القرآن، 

۳۔ وہبہ زحیلی: آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی، 

۴۔ ایضاً: العلاقات الدولیۃ فی الاسلام، 

۵۔ سید رمضان البوطی: الجہاد فی الاسلام، 

۶۔ ابن رشد: بدایۃ المجتہد، 

۷۔ السرخسی: المبسوط، 

۸۔ ایضاً: شرح السیر الکبیر، 

۹۔ النووی: مغنی المحتاج، 

۱۰۔ عبد الحمید احمد ابو سلیمان: اسلا م اور بین الاقوامی تصورات، 

۱۱۔ د۔ محمد حمید اللہ: خطبات بہاولپور، 

۱۲۔ د۔ محمود احمد غازی: خطبات بہاول پور، 

۱۳۔ مجید خدوری: 

Islamic Law of Nation، ۱۴۔ راغب الاصفہانی: مفردات القرآن، 

۱۵۔ اشرف علی تھانوی: بیان القرآن


حواشی

* فقہاے سلف جب دار الحرب اور دار الاسلام کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا مقصود دراصل اعتقادی یا نظریاتی تصورات کی تفریق کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے یا مسلم دائرہ حکومت، دائرۂ اختیار کی عمل داری کی حدود متعین کرنا ہوتا ہے۔ اس تقسیم کے پس منظر میں اسلام کی بالادستی کا وہ تصور بہرکیف نہ تھا جو موجودہ جہادی تحریکوں کا بالعموم ہے جس کے پیش نظر ساری غیر مسلم دنیا کو دشمن گردانا جاتا ہے، ہر غیر مسلم سے برسرپیکار رہنا ’’مذہبی فریضہ‘‘ ہے اور دنیا کی ان ساری اقوام کے لیے جو مسلمان نہیں، حق بقا اور علاقائی اقتدار اعلیٰ کا کوئی تصور نہیں۔


اسلام اور سیاست

(جولائی ۲۰۰۳ء)

Flag Counter