گلوبلائزیشن: عہد جدید کا چیلنج

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تاریخ کا ہر عہد تاریخ ساز رہا ہے۔ مورخین نے اپنے اپنے انداز میں ہر عہد کا جائزہ لیا ہے ،جس سے اختلاف ہونے کے باوجود یکسر رد کرنے کا ذمہ دار بننے کوشایدکوئی بھی تیار نہ ہو۔ تاریخی دھارے کی تشریح اور تاریخی عمل کی وضاحت کے ضمن میں بعض مورخین نے واحد عنصرپر زور دیا ہے،مثلاََ مالتھس نے آبادی کی، اسمتھ نے منڈیوں کی، ویبر نے طاقت کی اور مارکس نے طبقات کی بطور واحد عنصر کے نشان دہی کی۔ اسی طرح ۱۹۵۷ء میں Karl Wittfogelنے ایشیا ئیhydraulic despotism کی تھیوری پیش کی کہ پانی کے ذخائر پر مرکزی کنٹرول کی ضرورت نے استبداد کو جنم دیا ہے۔ مذکورہ نظریات کی یک رخی کے باوجود ان کی افادیت اور اہمیت سے مفر ممکن نہیں، لیکن ان سے کلی اتفاق بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی تشریح کے ایسے یک رخے پن کی بدولت ہی اس سے انحراف کی روایت نے جنم لیا کہ اس میں بہت سے پہلوؤں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے، ایسے پہلو جن کے بغیر حقیقی تاریخی اثرات کا تسلی بخش احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت بھی تاریخ کے دھارے پر کنٹرول رکھنے کے دعوے دار موجودہ عشرے کو عبوری خیال کرتے ہوئے زمانے کے رخ کو اپنی من پسند تشریح کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔یہ دعوے دار گلوبلائزیشن کو محض مارکیٹ اکانومی کی توسیع سمجھتے ہیں اس لیے ان کے استحصالی ہتھکنڈے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ دعوے دار تاریخی دھارے کے کلی عنصر (macro element) پر نظریں جما کر جزوی عنصر (micro element) سے صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں۔ بہرحال ،یہ تسلیم کیے ہی بنتی ہے کہ بیسویں صدی کی ہنگامہ خیزی اور دوعالمگیر جنگوں کے بعد اکیسویں صدی اپنے جلو میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں لے کر آئی ہے۔ گلوبلائزیشن کی اجتماعی جہات سے لے کر مقامی ثقافتوں کی انفرادیت پسندی تک گوناگوں پہلو اجاگر ہو رہے ہیں۔یہ مختلف الجہات تبدیلیاں جہاں مسائل پیدا کر رہی ہیں، وہاں بہت سے ایسے امکانی دھارے بھی انہی تبدیلیوں کی کوکھ سے پھوٹ رہے ہیں جو بنی نوع انسان کے روشن مستقبل کی شاید واحد امید ہیں۔ 

تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے اس امر کو بطور حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ تبدیلی اور ارتقا کی موجودہ روش اور نوعیت نہ صرف فطری ہے بلکہ فطری ہونے کے ناتے انسانیت کا عمومی مفادبھی اسی کے ساتھ منسلک ہے۔ اس وقت دنیا بھرمیں کم از کم چار گروہ اپنے اپنے انداز میں گلوبلائزیشن کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں: ۱۔مسلم، ۲۔غیر مسلم، ۳۔امیر اقوام وطبقات، ۴۔غریب اور پسماندہ اقوام وطبقات۔

۱۔ جہاں تک مسلم گروہ کا تعلق ہے، نظری اعتبار سے طاقتور ہونے کے باوجود اس کا تفہیم وابلاغ کا انداز (presentation) عصری تقاضوں سے لگا نہیں کھاتا،جس کے باعث اس کی بابت الٹا تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ مسلم گروہ کی بنیادی و محوری خا می اس کا ان چند اصولوں اور قواعد سے مستقلاً وابستہ ہو جانا ہے جو اس کے اسلاف نے اپنے عہد کے تقاضوں کے پیشِ نظر تشکیل دیے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم گروہ ان اصولوں پر عہدِنبوی اور خلافتِ راشدہ سے ماخوذ ہونے کاجو لیبل لگاتا ہے، حالانکہ مذکورہ مآخذ اپنی اصل کے لحاظ سے، بشرطیکہ ان کی طرف کھلے دل ودماغ سے رجوع کیا جائے، عہدِ جدید کے تقاضوں اور مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ راقم یہاں صرف ایک پہلو کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھتا ہے کہ طوالت گراں ہو سکتی ہے۔

گلوبلائزیشن کی اجتماعیت و وحدت اور مقامی ثقافتوں کی انفرادیت پسندی کے باہم متضاد تقاضوں کا لحاظ رکھنے کے حوالے سے اسلام کا تصورِہجرت اوراس میں مضمر امکانی پہلو، نہایت انقلاب انگیزثابت ہو سکتے ہیں۔ طالبانائزیشن جیسے جمود کے بجائے عہد نبوی میں زمانہ بعد از ہجرت کا عملی حالات کو ملحوظ رکھنے کا رویہ زیادہ سود مند اور پائیدار ہو گا۔لہٰذا اسلام کے تصورِہجرت کومعروضی اور تجزیاتی انداز سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اس کی نظری وسعت کئی امکانی پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خیال رہے ،عہدِ نبو یﷺ کے واقعات محض واقعات نہیں ہیں،بلکہ اصول وقواعد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ممکنات کو بھی محیط ہیں۔

ہجرت کو کم از کم دو سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے :

i۔ خا لصتاً نظری، یعنی انسانی تاریخ میں ہجرت کے تسلسل کے اعتبار سے کہ مقامیّت کی نفی ہر دور میں موجود رہی ہے۔ انسان نے بطور ایک آپشن کے ہجرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے۔ ہجرت اپنی اصل میں پسپائی کے بجائے دستبرداری کا رویہ ہے، لہٰذا تاریخ میں جس کسی گروہ یا شخص نے یہ رویّہ اپنایا، عمومی اعتبار سے اس نے در حقیقت مقامیّت کی انتہا میں مضمر محدودیت سے دستبرداری اختیار کی اور نتیجتاً توسع سے ہمکنار ہوا۔ نفسیاتی اعتبار سے ،انسان کی اپنے سے متعلقہ (self-related) شخصی امور میں بھی ایسے رویے کی نشاندہی ہوتی ہے۔روزمرہ امور میں اگر کوئی شخص بے لچک اور سخت انداز اختیار کرے تو اس سے نہ صرف اسے معاشرے میں پریشانی اٹھانی پڑتی ہے،بلکہ اسی سے اس کے شخصی ارتقا کی نوعیت اور سطح کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک خاص زاویے سے دیکھنے سے ہجرت، مصلحت پرستی کے بجائے عزیمت کا راستہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کسی مقام پرمصلحتاً ٹھہرنے ،سمجھوتہ کرنے کے بجائے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہجرت کو ترجیح دیتا ہے۔ ہر قسم کی بد صورتی سے، چاہے وہ بری اقدار ہوں یا جنگ ،استحصال،بھوک ،غربت اور جبر ہو، صحت مندانہ فرار اختیارکرتا ہے اور زندگی میں زندگی کا حقیقی رنگ بھرنے کے لیے کمرِہمت باندھ لیتا ہے۔ 

ii۔ واقعاتی اعتبار سے،یعنی عہدِنبوی ﷺسے استشہاد کرتے ہوئے۔ اس سلسلے میں معاشرتی جبر، ہم نسل،ہم وطن اور مشترکہ ثقافت رکھنے والے گروہ کے منفی رویہ کی نوعیت اور اس کے وقوع پذیر ہونے میں شخصی و گروہی نفسیات کا معروضی و تجزیاتی مطالعہ خاصا مفید ہو سکتا ہے۔

عہدِنبویﷺ سے استشہاد کے ضمن میں ہجرت کی تزویراتی اہمیت (strategic importance) پر بحث ونظر کا فروغ ،عہدِ جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہو گا۔ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعدپیش آمدہ مسائل اور ان کی بابت ثقافتی اعتبار سے دو مختلف گروہوں کا طرزِعمل اس اعتبار سے یقیناًلائقِ مطالعہ ہے کہ اسی قسم کے حالات کامسلمانوں کو اپنے معاشرے میں داخلی اعتبار سے مختلف سطحوں پر آج بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لہٰذا مہاجرین اور انصار کا باہمی تعامل(Inter-acion)جسے ’مواخات‘ کا نام دیا گیا،ثقافتی اعتبار سے دو مختلف گروہوں کے طرزِعمل کے طور پر معروضی تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں موجود ثقافتی رنگا رنگی کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ہم لوگوں نے اسلامی ثقافت کے نام پر مقامی ثقافت کی نفی کرنے کو دینی غیرت کا تقاضا سمجھ رکھا ہے،جس سے اسلام کی بابت، کمیونسٹ طرز پر تنوع دشمن اور جبریہ تصور جنم لے رہا ہے۔ حالانکہ کسی بھی ثقافت کوچھوٹی سطح پر دیکھنے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جغرافیائی حوالے سے ہر دس میل کے فاصلے پر بدلی ہوئی ہے۔ مثلاً گوجرانوالہ شہر کی پنجابی اس کے دیہی علاقوں سے بہت مختلف ہے اور دیہی علاقوں کی زبان بھی آپس میں یکساں نہیں ہے۔موجودہ عہد کی ترقی کی رفتار اور ترقی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ذرا صبر سے کام لینا چاہیے کہ محض چند عشرے عبوری نوعیت کے ہیں،آنے والے وقت میں یہ امور جن کی بابت ہم آج بہت حساس ہیں، اضافی شمار ہوں گے اور تاریخی دھارا ہمیں خودبخود اضافیت پسندبنا دے گا۔ 

راقم کی رائے میں ہجرتِ مدینہ کے بعد کم از کم تین گروہوں کے درمیان معاشرتی،معاشی اور ثقافتی تعلقات کی نوعیت، جدید عہد کے گلوبل کردار کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ شہری آبادی اور علاقوں میں اضافے کے رجحان (Urbanization)کی تفہیم کے لیے بھی نہایت کارآمد ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ میثاقِ مدینہ کی نو عیت علامتی بھی ہے کہ اس وقت کا دور تاریخی اعتبار سے زرعی تھا اور آج کا دور صنعتی مرحلہ طے کر کے انفارمیشن سٹیج میں داخل ہو چکا ہے۔ اس وقت مسلم گروہ کے سامنے ایک سنجیدہ مسئلہ Urbanizationکی صورت میں موجود ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکیسویں صدی میں اس رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں urbanization ہو رہی ہے۔ ۹۰ء کے عشرے کے اختتام پر ۴۳فیصد انسانی آبادی شہروں میں رہتی تھی اور شہری آبادی میں اضافے کی شرح ۲فیصد سالانہ تھی۔شمالی امریکہ،یورپ اور جاپان میں تقریباً ۷۷ فیصد آبادی urbanizedہو چکی تھی،جبکہ ایشیا اور افریقہ میں یہ شرح ۳۵فیصد تھی ۔ صورتِ حال بظاہر خوش کن دکھائی دیتی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہurbanization سے سماجی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دیہی زندگی کے مقابلے میں شہری زندگی کے روایتی مسائل کی موجودگی کے علاوہ globalisationسے دنیا کے بڑے بڑے شہروں مثلاًلندن، ٹوکیو،ممبئی،کراچی وغیرہ میں سماجی،معاشی اور ثقافتی اعتبار سے مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔صورتِ حال کچھ اس طرح سے ہے کہ urbanization کی گلوبل نوعیت کی وجہ سے مذکورہ بڑے بڑے شہر منی گلوب بن چکے ہیں۔ جس طرح عالمی سطح پر معاشی، معاشرتی اور ثقافتی کھینچا تانی جاری ہے،اسی طرح ان منی گلوبز میں بھی یہ رجحان جڑ پکڑ رہا ہے کیونکہ ان میں بھی لسانی، نسلی، سماجی ، ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے تنوع اور گوناگونی دیکھنے کو ملتی ہے۔ راقم کی رائے میں بین السطور واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کاتصورِ ہجرت اور مدینۃالنبی ﷺ میں اس کی عملی شکل (applied form) گلوب اور منی گلوبز کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ مدینۃالنبیﷺ منی گلوب کی سب سے پہلی مثال ہے۔ 

۲۔ جہاں تک غیر مسلم گروہ کا تعلق ہے، راقم کی رائے میں اس کی بابت پراپیگنڈا زیادہ ہے ورنہ دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ بطور گروہ ،یہ گروہ اس طرح مربوط و متحد نہیں ہے جس طرح کا تصورہمارے ہاں کے مذہبی طبقے اور عوام الناس میں پایا جاتا ہے۔یوں سمجھیے کہ جو صورتِ حال نام نہاد مسلم گروہ کی ہے کہ یہ محض نظری طور پر موجود ہے، اس کا عملی ا ظہار کہیں بھی نہیں ملتا ،غیر مسلم گروہ بھی ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہے،بلکہ بنظرِغائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر مسلم گروہ میں عوامی سطح پر مسلمانوں سے الگ گروہ ہونے کا تصور نہیں ملتا۔ اندریں صورت ،مسلم گروہ معاشرتی و ثقافتی سطح پر غیر مسلم کے ساتھ تعامل (inter-action) کے لیے بغیر تحفظات کے پیش قدمی کر سکتا ہے۔

۳۔ امیر اقوام و طبقات کا گروہ اس وقت زمینی حقیقت کے طور پر دنیا کے سامنے منہ پھاڑے کھڑا ہے۔اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی اس استحصالی گروہ نے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں تاکہ اپنا مستقبل محفوظ کر سکے۔اس گروہ کی تحلیلِ نفسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف بالغ نظر نہیں ہے بلکہ داخلی اعتبار سے انتہائی خوف زدہ ہے۔ اس گروہ کے خوف کا اندازہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد اس کی عجیب و غریب پا لیسیوں سے ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اسی گروہ نے بذاتِ خود لوگوں میں شعور وآگہی پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں بیسویں صدی میں، اسی گروہ کے ایسے لوگ جو فطرتِ سلیم رکھتے تھے،اپنے گروہ سے منسلک رہنے کے باوجود حق بات کہنے سے نہیں چوکتے تھے، جس کی ایک مثال حالیہ دور میں نوم چومسکی ہے۔ اوراب یہ گروہ ،با شعور لوگوں سے حماقت کی توقع باندھے ہوئے ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اسے عقلِ کل تسلیم کرتے ہوئے اس کی ہر بات پر ’’یس باس‘‘ کا تعظیمانہ لب ولہجہ اختیار کریں۔ 

راقم کی رائے میں اس گروہ کی تاریخ اس کی ارتقائی ترقی کی داستان ہے اور یہ ترقی اسی انداز سے جاری بھی رہ سکتی ہے اگر یہ گروہ اپنے ماضی جیسی بصیرت کو زمانہ حال کی پالیسیوں میں جگہ دینے کے لیے تیار ہو جائے،جس کی امید اگرچہ بہت کم ہے۔یہ گروہ ایک دور میں ہماری مانند دوسروں پر انحصار کرنے والا(dependent) تھا۔فطری طورپر اس کی خواہش تھی کہ جلد از جلد خود مختار (independent)ہو جائے جس طرح ہم چاہتے ہیں۔ راقم کی رائے میں dependent سے independentکی جانب سفر نہ صرف ارتقائی ہے بلکہ عین فطری بھی ہے، کہ ہر فرد اور ہر ادارہ، چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی،غرض اس کی نوعیت کوئی بھی ہو، انحصار کرنے کے بجائے خودمختار ہونا چاہتا ہے۔ ہم لوگ یہ عمل روزانہ معاشرتی سطح پر دیکھتے ہیں کہ کوئی فرد آہستہ آہستہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔یہیں پر ایک نکتہ نہایت اہم ہے کہ یہی فرد اگر خودمختارانہ اندازواطوار سے چمٹ جاتا ہے تو نہ صرف اس کی ترقی کا عمل رک جاتا ہے بلکہ ہر دم خطرہ موجود رہتا ہے کہ اس کا حد سے بڑھا ہوا خود مختارانہ رویہ اسے مجموعی معاشرتی دھارے سے الگ کر کے کہیں اسے دوبارہ dependent نہ بنا دے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے۔

dependent سےindependentبننے کے بعد ہر فرد کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اگلے ارتقائی مرحلے کے لیے تیار ہو جائے جسے باہمی انحصار کا مرحلہ (inter-dependent stage)کہا جا سکتا ہے۔اگر ہم ذرا گہرائی سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ کامیاب ترین افراد اور ادارے وہی ہوتے ہیں جواس مرحلے کو فراخ دلی سے قبول کر لیتے ہیں،لیکن بہت سے افراد اور ادارے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ’باہمی انحصار‘ کو محض ’انحصار‘ کے مترادف سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے افراداور ادارے نفسیاتی اور ذہنی اعتبار سے بیمار ہی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ بالکل یہی صورتِ حال امیر اقوام وطبقات کی ہے۔خودمختاری کے مرحلے کے بعد ،ارتقا کے اگلے مرحلے یعنیinter-dependence کو ان کے ہاں dependenceسے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ شمالی امریکہ اور برطانیہ کی حالیہ پالیسیاں (تیل کے لیے جنگ وغیرہ) راقم کے موقف پر دال ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ inter-dependenceمیں مضمر افادیت کے احاطے کے لیے بالغ نظری درکار ہے اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر فرد یا ہر قوم خودمختاری کے مرحلے کے بعد لازماً بالغ نظری کا مظاہرہ کرے۔ یہاں اس امر کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بیسویں صدی کے پہلے ربع میں امریکی صدر وڈروولسن نے inter-dependenceمیں مضمر افادیت کا ادراک کر لیا تھا لیکن امریکی معاشرے کی مجموعی دانش اسے قبول کرنے کو ،دوسرے ربع میں ہی تیار ہوئی، وہ بھی غالباََ اپنی سوچ کے تحت نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مخصوص ماحول کی وجہ سے۔ اب عالمی ماحول بدلنے سے ’’اپنی سوچ‘‘ نے باقاعدہ جگہ پا لی ہے۔ 

سوال پیدا ہوتا ہے کہ بالغ نظری کیوں مفقود ہے ؟ راقم کی رائے میں اس کی بنیادی وجہ نفسیاتی نوعیت کی ہے۔اگر کوئی فرد ایسے مرحلے پر پہنچنے کے بعد بھی اسے قبول کرنے یا سمجھنے سے انکاری ہے تو اس کا مطلب ہے وہ کسی خوف کا شکار ہے۔ ظاہر ہے یہ خوف بظاہر تو معاشرتی یا خارجی ہی سمجھا جائے گالیکن حقیقت میںیہ خوف اس کے اندر کی پیداوار یعنی داخلی ہے۔ ایسے فرد کو ’کرداری مریض‘ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً اس کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا کہ خاص عمر کے بعد عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اوائل عمر میں ہی شخصی ارتقا کی نہج ایسی اختیار کی جائے کہ بعد میں inter-dependenceکو نفسیاتی وذہنی تحفظات کا شکار ہو کرdependence نہ سمجھا جا سکے۔

یوں سمجھیے کہ ایسے انسان یا گروہ کو رویے کے اعتبار سے ہجرت کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن ہجرت بطور ایک قدر کے اہلِ مغرب کے پاس موجود نہیں ہے ،لہٰذا ان کی ذہنی نشوونما کے جاری رہنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ تاریخی تناظر کی روشنی میں بھی یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چو نکہ یہ گروہ macro-historyسے (دانستہ یا غیر دانستہ)متاثر ہو کر ایک ہی عامل یعنی گلوبلائزیشن کی اپنی وضع کردہ تعریف کو ہی حتمی سمجھے ہوئے ہے اور مقامی ثقافتوں اور رجحانات کے علاوہ تاریخی عمل میں پوشیدہ نادیدہ قوتوں کوپرِ کاہ کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں کہ(Anything can influence anything) اس لیے تاریخی دھارے کے جبر کا شکار ہو جانا اس گروہ کا نصیب بن سکتا ہے۔

۴۔ جہاں تک چوتھے گروہ یعنی غریب اور پسماندہ اقوام وطبقات کا تعلق ہے، وہ غالب اکثریت میں بطور مظلوم دنیا بھر میں موجود ہے،اگرچہ اب کسی حد تک ہاتھ پاؤں مارتا دکھائی دے رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں تبدیلی کی لہر اس گروہ کے لیے خوش آئند قرار نہیں دی جا سکتی ، کیونکہ تبدیلی لانے میں اس گروہ کا کردار بہت فعال نہیں ہے۔ بھوک، غربت، جبرواستحصال، قومی بے کرداری اور عوامی سطح پر کرپشن اس کے مستقبل کی بابت تاریک تصویر ہی پیش کرتے ہیں۔ اس گروہ کا سب سے بڑا مسئلہ ذہنی پسماندگی ہے کہ اس کے شعور وآگہی کے سوتے ،مذکورہ بالا تیسرے گروہ کے سر چشموں سے پھوٹے ہیں، اس لیے یہ گروہ ذہنی لحاظ سے مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہو سکا۔ پروفیسر طارق محمود طارق کی معتبر رائے کے مطابق یہ گروہ self-orientedنہیں بلکہ اپنے رویوں اور کردار میں other-orientedہے کہ یہ گروہ اپنے مخصوص عمرانی احوال کی اساس اور اس سے جنم لینے والی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے محترز ہے ۔راقم کی ناقص رائے میں یہ گروہ ایک خاص قسم کے پراپیگنڈا کا شکار ہو کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ پراپیگنڈا یہ ہے کہ میڈیا آج کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ بے شک آج کے دور میں میڈیا کی طاقت سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ بھی انتہا پسندی ہے کہ فقط میڈیا کو ہی قبلہ و کعبہ قرار دیا جائے اور دیگر عوامل سے مجرمانہ چشم پوشی کی جائے۔ اس گروہ کے لیے یہ المیہ ہو گا کہ میڈیا کی چکاچوند کی طرف اپنے بہترین دماغوں کو کھپا دے اور طویل المیعاد، ٹھوس اوربالغ نظری پر مشتمل منصوبہ بندی سے محترز رہے۔ جیسا کہ ابتدائی سطروں میں ذکر ہوا، تاریخی عمل میں اگرچہ کوئی واحد عنصر کلیدی ہو سکتا ہے لیکن تاریخی عمل اپنے اظہار میں جزئیات کے علاوہ بعض پوشیدہ عناصر کو بھی شریک رکھتا ہے، لہٰذا میڈیا کو اگر کلیدی عنصر تسلیم کر لیا جائے تو بھی جزئیات اور پوشیدہ عناصر سے چشم پوشی نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ 

حاصلِ بحث

درج بالا بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

۱۔تاریخی اعتبار سے ہم لوگ تبدیلی ) (transformation کے دور سے گزر رہے ہیں۔زرعی وصنعتی ادوار کے بعد اب انفارمیشن عہد ہمارے مقابل ہے۔جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے، ان کی پچھلی چند صدیوں کی تاریخ ان کی فعالیت کی مظہر ہے اور اسی فعالیت کے طفیل ،ان کے حالات کی پیداوار،ان کی خواہشات پر مبنی پہلے یورپی،پھر عالمی نظام نے جنم لیا۔ایک چینی مورخ Wong کے مطابق:

Western social theory has generally analyzed only that created by the twin processes of European State formation and Capitalism. Western states and economies have histories that matter to the formation of the modern world. Other parts of the globe, according to the research strategies employed in most social science research, had no histories of comparable significance before western contacts began to transform them.

’’مغرب کے معاشرتی نظریے نے بالعموم انہی چند مخصوص پہلوؤں پر اپنے تجزیے کا مدار رکھا ہے جو یورپی ریاستوں کی تشکیل اور سرمایہ داری کے ارتقا کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ مغربی ممالک اور معیشتیں ایسی تاریخ کی حامل ہیں جن کا موجودہ دور کی تشکیل سے گہرا تعلق ہے۔ معاشرتی علوم کے زیادہ تر میدانوں میں اختیار کی جانے والی ریسرچ اسٹریٹجی کے مطابق، دنیا کے باقی حصے اس دور سے پہلے کوئی قابل موازنہ اہمیت ہی نہیں رکھتے تھے جب کہ مغرب کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں ان میں تبدیلیاں رونما شروع ہوئیں۔‘‘

ہم Wongکی بات کو بڑھاتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ اگر برصغیر میں انگریز وارد نہ ہوتے تو اس خطے کا عالمی سیاست میں کردار صفر ہوتا۔ مغربیوں سے روابط کے توسط سے ہی یہ خطہ تبدیلی کی لہر کا نہ صرف ادراک کر سکابلکہ اس لہر کو اپنے مجموعی احوال میں سمونے کی بھی کوشش کرنے لگا۔ مسلم دنیا کے حوالے سے بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے بھی نئی روشنی سے متعارف کرانے میں اہلِ مغرب کا کردار کلیدی ہے اگرچہ اس کے متوازی استحصالی عنصر بھی بہت نمایاں ہے۔ یہاں ایک نکتے کا بیان ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مجموعی عالمی ماحول کی تشکیلِ نو اورtransformationکے عمل میں مسلم دنیا کا کردار قابلِ ستائش نہیں ہے لیکن یہ اپنے تئیں بہت اہم بنی ہوئی ہے، اور پدرم سلطان بود کی زندہ مثال ہے۔مختلف علوم وفنون میں متقدمین کے کارناموں کا پرچار زوروشور سے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اہلِ مغرب کو بڑے فخریہ انداز میں جتایا جاتا ہے کہ ان کی ترقی کی عمارت درحقیقت مسلم نیوپرکھڑی ہے۔اس وقت مسلم دنیا کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کہ عہدِجدید کی transformationمیں اس کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟راقم کی نظر میں،اس کے معروضی تجزیے کے لیے یورپی روابط کے اثرات کا کما حقہ مطالعہ نہایت ضروری ہے،لہٰذا سردست عالمی سیاست میں قائدانہ کردار ڈھونڈنے کے بجائے داخلی محاذ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بے بصیرتی پر مبنی سطحی اقدامات کے بجائے دور رس اور دیرپا اقدامات کیے جا سکیں ۔

۲۔منی گلوبس کی مکمل تفہیم اوران سے منسلک متوقع مسائل پر گرفت حاصل کرنے کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ نکتہ تلاش کریں جب دنیا کا پہلا منی گلوب ارتقائی منازل طے کرنے کے بجائے انحطاط وزوال کا شکار ہو گیااور دنیا کو گلوبل کردار پانے کے لیے کئی صدیاں انتظار کرنا پڑا۔ راقم کا اشارہ اموی اور عباسی ثقافت کی شدید تفریق اور ہر دو ثقافتوں کی Self-Assertion کی طرف ہے،جس کے باعث مدینۃالنبیﷺ ،اپنی طرز پر مزید منی گلوبس کے لیے راہ ہموار نہ کر سکا۔اس سلسلے میں اس عہد کے معاشی امور وتعلقات کو (شہری،علاقائی اور عالمی سطح پر)بے لاگ دیکھنا ہو گاکہ ان کے اندر ایسی خصوصیات ہوں گی جن کے سبب ایک معکوس عمل شروع ہو گیا اور وہ عمل ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں مسلم دنیا کے اندر جاری وساری ہے۔ معاشی تعلقات کے علاوہ مزید جملہ امور توجہ کے متقاضی ہیں، مثلاًاس عہد کے تخلیق کاروں کاعمومی رویہ اور رجحانِ طبع، تخلیق کاروں کے ساتھ معاشرے اور حکمرانوں کا سلوک، ایجادات کی نوعیت اور معاشرتی ومعاشی اقدار پر، بالخصوص ان کا رخ متعین کرنے کے حوالے سے ایجادات کے اثرات ۔ یہ طریقہ تحقیق ہماری بہتر راہنمائی کر سکتا ہے،کہ مذکورہ عوامل ہی تبدیلی اورtransformationکی ساخت وہےئت کو انگیخت کرتے ہیں۔ چونکہ ہماری تبدیلی کا رخ مثبت نہیں رہا تھااور transformation کے عمل پر ہماری گرفت نہ ہونے کے برابرتھی، اس لیے وہ ثقافتی بحران پیدا ہوا جس نے ہماری صفوں میں تشتت و انتشار بھر دیااور ’سقوطِ بغداد‘ سے ’سقوطِ بغداد‘ تک کی المیاتی تاریخ نے جنم لیا۔ ایک سقوط سے دوسرے سقوط تک کے درمیانی عرصے میں ایک دو نہیں ،کئی صدیاں حائل ہیں لیکن یہ صدیاں ایک تاریخی نظریےSelf-similarity at many scales کو خاص زاویے سے دیکھنے کادرس دیتی ہیں اور بس۔

بحث کے اس مقام پر Thomas Hughesکی مشہور کتاب Electrification in Western Society Networks of Power کا حوالہ دینا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔اس کے مطابق۱۸۸۰ء کے عشرے سے اہم سائنسی دریافتوں اور ایجادات سے یہ امکان پیدا ہوا کہ Thomas EdisonاورElmer Spragueجیسے سسٹمز بلڈرز کی تخلیق کردہ پیچیدہ آرگنائزیشنز کے ذریعے،کہ وہ ان تکنیکی مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں تھے جوتکنیکی امکانات کے کامیاب نفاذ کا راستہ روکے کھڑے تھے، بجلی کو قوت اور روشنی کے لیے استعمال میں لایاجائے ۔ Thomas Hughesنے ایک اور دلچسپ نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے،وہ ہے: Social implementation of the technology and pace of adoption اس نے لندن، پیرس اور شکاگو میں پاور اسٹیشنزاور پاور گرڈز کے پھیلاؤکا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ سیاسی نظاموں (عدالتی،انتظامی وغیرہ) کے کردار پر روشنی ڈالی ہے کہ تکنیکی ترقی کا سماجی سطح پر اثر ونفوذ عموماًغیر تکنیکی عناصر کے توسط سے تیزی سے ہوتا ہے۔

راقم کی رائے میں مسلم دنیا اور تیسری دنیا میں موجود غیر تکنیکی عناصر نے مجموعی طور پر منفی کردار ادا کیا ہے۔دنیا کے پہلے منی گلوب کے ظہور کے بعد ، گلوبل خصوصیات کی بڑے پیمانے پر معاشرتی ترویج بوجوہ ممکن نہ ہو سکی جس کا خمیازہ نہ صرف مسلم دنیا بھگت رہی ہے بلکہ تیسری دنیا کے لاچارومظلوم عوام بھی اس کے شکنجے میں ہیں۔ عہدِجدید ایک مرتبہ پھر چیلنج بن کر ہمارے سامنے موجود ہے کہ کیا ہم Self-oriented ہو کر گلوبلائزیشن کے چیلنج کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ عمومی معاشرتی سطح پر اس کی تنفیذ کر سکیں گے؟ 

آراء و افکار

Flag Counter