سماجی تبدیلی کے نئے افق اور امت مسلمہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(مذہبی حلقوں میں دعوت دین، معاشرے کی اصلاح وتربیت اور اہل مذہب کے معاشرتی کردار کا تصور ایک مخصوص طریقے پر چند ظاہری ’واجبات‘ کی ادائیگی تک محدود ہو چکا ہے۔ معاشرہ کیا ہے؟ اس کے اجزاے ترکیبی اور اس میں کارفرما مختلف قوتیں کون سی ہیں؟ بالخصوص دور جدید میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اذہان وافکار کا رخ متعین کرنے میں کن عوامل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے؟ اور کسی مخصوص معاشرے میں فکری اور عملی تبدیلی لانے کے لیے حکمت عملی کن اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے؟ یہ اور اس نوعیت کے دیگر سوالات ہمارے غور وفکر کے دائرے سے بالکل خارج ہیں۔ امت مسلمہ کی منصبی ذمہ داری ہونے کے تعلق سے یہ موضوع جس قدر اہمیت کا حامل ہے، اسی قدر تشنہءِ بحث ہے۔ زیر نظر تحریر میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب نے اس حوالے سے اپنے نتائج فکر پیش کیے ہیں اور ہم اس توقع کے ساتھ اسے شائع کر رہے ہیں کہ اہل علم اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے خیالات سے ہمیں مستفید فرمائیں گے۔ مدیر)


اپنے ظہور کے بعد سے انسانی معاشرہ نوع بہ نوع تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتا چلا آ رہا ہے۔اکیسو یں صدی میں یہ تبدیلیاں رفتار اور نوعیت کے اعتبار سے منفرد کہی جا سکتی ہیں۔اس وقت انسانی آبادی کی بہتات اور اس سے جنم لیتے مختلف النوع مسائل جہاں فکر انگیز ہیں، وہاں تبدیلی کی لہر کو انگیخت کرنے میں بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ افراطِ آبادی اور کرپشن سے لے کر توانائی اور پانی کے بحران تک بڑے بڑے مسائل ایسے ہیں جن پر دنیا بھر میں بحث ومباحثہ جاری ہے کہ ان پر کیونکر قابو پایا جا سکتا ہے۔ موجودہ عہد میں عالمی سطح پر جہاں تک نظامات (Systems) کا تعلق ہے، ان کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کو کلی (Macro) اور جزوی (Micro) دو سطحوں پر پھیلا کر دیکھا جا سکتا ہے۔ 

جزوی تبدیلی کے تحت دنیا بھر میں ’’مقامی حکومتِ خود اختیاری‘‘ کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے، جیسا کہ مشرف حکومت کے تحت پاکستان میں بھی یہی عمل دیکھنے میں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا عنصرلا مرکزیت (Decentralization) ہے کہ ریاستی سطح پر مرکزی حکو متیں ، اختیارات کو نچلی سطح (Gross Root Level)تک منتقل کررہی ہیں۔ یہ رجحان صرف وفاقی ریاستوں میں ہی نہیں جہاں صوبائی حکو متوں کی ’’دستوری‘‘ حیثیت ہوتی ہے،بلکہ وحدانی ممالک بھی تیزی سے اس طرف مائل ہو رہے ہیں ۔اگر ہم آبادی کی بہتات اور دیگر جدید مسائل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کے ساتھ نتھی کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ’’ضلعی نظام‘‘ ہی در حقیقت لامرکزیت کا محور و مصدرہے۔ مرکزی حکو متوں کو لا محالہ اس نظام کو در پیش چیلنجوں او ر تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے با اختیار بنانا ہو گا۔درپیش تقاضوں کی وضاحت کے ضمن میں فقط یہی بیان کافی ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد دفاع اور سلامتی کے لیے ریاستی ذمہ داریاں بہت زیادہ بدل گئی ہیں، لہٰذا مرکزی حکومتوں کو ترجیحات میں مجبوراً اتھل پتھل کر نے کے ساتھ ساتھ بنیادی نوعیت کی (Structural Changes)کرنی پڑ رہی ہیں۔ خیال رہے کہ افراطِ آبادی نے ہی ’’براہ راست‘‘ کی جگہ ’ ’نمائندہ جہوریت‘‘ کے لیے راہ ہموار کی تھی، اسی طرح اب لا مرکزیت اور ضلعی نظام کے لیے آبادی کی بہتات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 

کلی تبدیلی کے حوالے سے نمایاں رجحان گلوبلائزیشن کا ہے جس کے اثرات کے تحت ریاستی شان و شوکت گہنا گئی ہے۔ ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف ،ڈبلیو ٹی او ،اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اس عمل کو تیز کر رہی ہیں ۔عالمی سطح پرتبدیلی لانے کے اعتبار سے دوسرا عنصر ’’علاقائی اتحاد‘ ‘ (Regional Integration)ہے۔ یورپی یونین، آسیان، سارک، ایکو، عرب لیگ، اور افریقہ وامریکہ کی علاقائی تنظیمیں اس عنصر کے پھلنے پھولنے اور اس کی افادیت پر دال ہیں۔ موجودہ عالمی حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ مذکورہ اتحادات، گلوبلائزیشن کا رخ اورکردار متعین کرنے میں بنیادی اور محوری اہمیت اختیار کر جائیں گے۔ 

عالمی نظام کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کے کلی اور جزوی تصور کے بعد اس امر کا احساس ہو جاتاہے کہ عہدِ جدید میں ریاست کا کردار (Middle Man)کا ہو گا یا (Buffer Zone) کا، کہ ریاست کو ایک طرح سے فلٹریشن کرنی ہو گی اور وہ بھی ریاستی قوت کے بجائے سماجی عوامل کے ذریعے سے۔لہٰذا ’’وچولے کے کردار‘ ‘ کو ذمہ دارانہ انداز سے پورا کرنے کے لیے ریا ست کوطریقہ ہائے کار (Methods) میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں (Structural Changes) لا کر اپنی مجموعی نفسیات تبدیل کرنا ہو گی، کہ آخرکار یہ ریاست ہی ہے جسے اپنے اختیارات سے دستبردار ہونا ہے، اس کی صورت چاہے ا ختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہو یا کسی علاقائی اتحاد میں شمولیت کو’فعال‘ بنانا۔

مذکورہ بحث سے یہ مطلب ہر گز اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ ریاست کا اقتدارِاعلیٰ (داخلی اور خارجی)آخری دموں پر ہے ۔(خیال رہے یہاں اقتدارِ اعلیٰ سے مراد مغربی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ نہیں ، بلکہ صرف سپریم اتھارٹی کا ذکر مقصود ہے۔اب اہلِ مغرب کو بھی اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ اس کی مزید تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی) راقم کی رائے میں تو ریاست کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے کہ اب اسے قوت و طاقت کے بجائے ذمہ دارانہ انداز سے اپنا نیا کردار تسلیم کرنا ہو گا تا کہ اس کے شہری نئے عالمی نظام کے مرکزی دھارے (Main Stream) سے باہر نہ ہونے پائیں۔ اس وقت عالمی نظام کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کے کلی اور جزوی عناصر کی افادیت و اہمیت کے ’’اضافی‘ ‘ پہلوؤں پر نظر رکھنا ریاستی ترجیح ہونی چاہیے کہ اسی اضافیت میں ضلعی سے صوبائی، صوبائی سے قومی، قومی سے علاقائی اور علاقائی سے عالمی ربط و تعامل کے امکانات مضمر ہیں، اور انھی امکانات کے توسط سے عالمی نظام کی مثبت تشکیلِ نو ممکن ہو سکے گی۔اس ضمن میں یورپی ریاستوں کی کار کردگی مثالی قرار دی جا سکتی ہے کہ ان کے ہاں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ساتھ ساتھ علاقائی اتحاد کو فعال بنانے کے اعتبار سے پہلوتہی نہیں برتی گئی۔ 

بحث کے اس مقام پر ایک نہایت اہم نکتے کی صراحت ضروری ہے اور اسی نکتے کو زیر نظر تحریر کے بنیادی محور کی حیثیت حاصل ہے، کہ قاعدہ وقانون اور آئین و دستور کی بیساکھیاں ’’قربت‘‘ کی پینگیں بڑھانے میں ممدو معاون ہونے کے باجود ’’بیساکھیاں‘‘ ہی ہوتی ہیں، اگر ان کے پسِ پشت ’’سماجی منظوری‘‘ موجود نہ ہو۔اقوام و ملل کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ایسا قانون، دستور یا نظام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکا جو مروجہ روایات و رواجات سے ہٹ کر تشکیل دیا گیا ہو۔ مثلاً امریکہ میں شراب پر دستوری ترمیم کے ذریعے سے پابندی لگائی گئی، لیکن سماجی منظوری نہ ہونے کے سبب یہ ناکامی سے دوچار ہوئی اور دوبارہ دستوری ترمیم کے ذریعے سے یہ پابندی ختم کر دی گئی کہ غالباً اس کی خلاف ورزی سے دیگر ایسے قوانین کی بابت بھی قانون شکنی کا رجحان جڑ پکڑ سکتا تھا جن کے پیچھے سماجی منظوری موجود تھی۔ (یہاں یہ ذہن میں رہے کہ عہد رسالت میں بھی شراب پر فوری پابندی عائد نہیں کی گئی تھی) اس نکتے کے بیان کے بعد اب غور طلب بات یہ ہے کہ یورپ میں، جہاں ’’قوم پرستی‘‘ عروج پر تھی اورجہاں توازنِ طاقت جیسے حیلوں بہانوں کے ذریعے قتل و غارت کا بازار گرم رہا، وہاں مفاہمت ، اشتراک اور باہمی تعاون کی درخشندہ مثال قائم کی جا رہی ہے۔ راقم کی نظر میں یورپی یونین کے علاقائی اتحاد کے پسِ پشت سماجی منظوری تسلی بخش حد تک موجود ہے، یعنی یہ اتحاد محض چندمدبروں، دانشوروں اورپالیسی سازوں کی دماغی اپج (Brain Child) نہیں، بلکہ یورپی عوام نے قومیت کے راسخ تصور سے ماورا ہو کر اسے (ا س وقت) عملی جامہ پہنایا ہے۔ یہاں اس بات کا بیان ضروری معلوم ہو تاہے کہ مذکورہ سماجی منظوری کے حصول کے لیے عملی پیش رفت دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد شروع کر دی گئی تھی (مثلاً ۱۹۴۸ء کا برسلز ٹریٹی جسے (WEU) یعنی ویسٹرن یورپین یونین کہا جاتا ہے ، ۱۹۴۹ء کی کونسل آف یورپ اور ۷۰ء کے عشرے کی (OSCE) یعنی Organization for Security and Co-operation in Europe وغیرہ ) لہٰذانیشنل ازم کے بے مروتی پر مبنی متعصبانہ اور سخت انتظامی گرفت کے نظام (Administrative Command System)کی جگہ قومی خود آگاہی وخود شناسی (National Self-awareness)کو متعارف کروایا گیا، یعنی نیشنل ازم میں ’ازم‘ کو دیس نکالا دے دیا گیااور قومی خود آگہی کے توسط سے دوسری اقوام کے وجود اور حق بقا کو تسلیم کرنے کی نئی راہ تراشی گئی جو نئی منزلوں کی طرف لے جانے والی ہے۔ راقم کی نظر میںیورپی یونین کے آغاز اور ارتقا کی مخصوص نوعیت اس کے بطور کثیر قومی ریاست (Multinational State) ابھرنے پر دال ہے ، کہ ثقافتی وتاریخی افتراق اور قومی روایات کو دبانے کے بجائے سماجی تعامل کے ذریعے سے انہیں ’’ہم آہنگ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ یہاں بدیہی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے میں کون سے عوامل و محرکات بنیادی قرار دیے جا سکتے ہیں؟ طوالت سے بچنے کی خاطر ان کی محض نشان دہی کا فی ہو گی:

۱۔داخلی سلامتی، یعنی امن و امان کی مخدوش صورتِ حال اور دہشت گردی کی کارروائیاں، مثلاً نائن الیون سے پہلے امریکہ میں ۳۵۰۰۰ سے ۴۰۰۰۰ تک ہوائی جہاز پرواز اور لینڈ کرتے تھے اور تقریباً ۲ ملین مسافر اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے تھے، تو کیا روزانہ ۲ ملین لوگوں کو چیک کرنا ممکن ہے؟ لہٰذا زمینی حقیقت کی روشنی میں اس کا عملی اور پائیدار حل نکالنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے،جیسا کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے متعلق کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ اندریں صورت اقوام باہمی روابط کو پختہ کر رہی ہیں۔

۲۔ شہری آبادی اور علاقوں میں اضافے کا رجحان، 

۳۔ماحولیاتی آلودگی، 

۴۔منشیات کا مسئلہ،

۵۔ملٹی نیشنل کمپنیاں، 

۶۔انٹر نیٹ اور ذرائع ابلاغ کے عالمی چینلز۔

مذکورہ عوامل پر بحث سے قطع نظر اس بات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کہ منظم نظاماتی تشکیلِ نو کے وقوع پذیر ہونے میں درکار وسیع سماجی تبدیلی کے نا گزیر لوازمات کون سے ہیں کہ سماجی رویے میں تبدیلی کے بغیر تشکیلِ نو کا عمل بار آور نہیں ہو سکتا۔ راقم کی رائے میں یہ لوازمات کم از کم سات ہیں:

۱۔آفاقی شعور،

۲۔تہذیبی و ثقافتی تنوع میں ’’اضافیت‘‘ کی تلاش،

۳۔میڈیا اور لٹریچر، 

۴۔تعلیمی منصوبہ بندی میں سماجی تبدیلی پر ترکیز (Focus) کرنا ،

۵۔ کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا کردار، 

۶۔منظم گروہ بندیاں، 

۷۔سپانسر شپ کی متوازن تقسیم۔

(۱) جہاں تک آفاقی شعور کا معاملہ ہے، یہ لوازمات میں سے انتہائی بنیادی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے وقوع پذیر ہونے میں بھی مذکورہ بالا لوازمات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن چند بنیادی تقاضوں کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاً:

  • تاریخی اعتبار سے، کہ مطالعہ تاریخ کو درست اور غیرجانبدارانہ روش پر پروان چڑھایا جائے۔ تاریخی واقعات سے جذباتی وابستگی کے بجائے ان سے اصول اخذ کیے جائیں ۔راقم کو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر یورپی اقوام آج اپنے تاریخی واقعات کو جذباتی انداز میں اپنے سماجی رویوں میں سمونا شروع کر دیں تو واپس اٹھارویں صدی میں پہنچ جائیں گی۔
  • سماجی اعتبار سے ، کہ رواداری ، عدمِ تشدد ، برداشت اور مواخات کو فروغ دیا جائے، ان صفات کی اسی طرح تشہیر کی جائے جیسا کہ انسانی حقوق، بہبودِ آبادی اور چائلڈ لیبر وغیرہ کی ، کی جاتی ہے۔
  • انفرادی اعتبار سے، کہ’میں‘ کی نفی کرتے ہوئے ’میں‘ کی شناخت حاصل کی جائے، جیسا کہ اوپر کی سطور میں نیشنل ازم کی بابت ذکر ہوا۔اب ریاست کے روایتی کردار کے بدلے جانے سے فرد کو بھی بحیثیت شہری تبدیلی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ اس ضمن میں اسے ریاست سے متعلق اپنی توقعات اور مطالبات کی نوعیت پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔

(۲) تہذیب و ثقافت کا معاملہ خاصا گھمبیر اور پیچیدہ ہے کہ یہ انفرادی سے زیادہ اجتماعی ہے اور اجتماعی یا گروہی نفسیات کو جدوجہد کا ہدف بنانا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ کسی بھی گروہ کی نفسیات اس بچے سے بہت مماثلت رکھتی ہے جو نامعلوم عفریت کے خوف سے اندھیرے میں جانے سے ڈرتا ہے ۔راقم کی ناقص رائے میں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا ایک دوسرے کی بابت رویہ اسی قسم کا ہے۔ مثلاً مشرق کو اہلِ مغرب خاصے طویل عرصے تک ’’پراسرار‘‘ خیال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح مغرب کے متعلق اہل مشرق کی یہ ’’طے شدہ‘‘ رائے بلکہ فیصلہ ہے کہ ان کی تہذیب و ثقافت ، بے حیائی اور گمراہی کی نیو پر قائم ہے اور پاکیزگی اور ثواب پر مستقل اجارہ داری خیر سے صرف مشرق کا حق ہے۔ اس انتہا پسندی سے بچنے کی خاطر ’نامعلوم‘ میں چھلانگ لگانی پڑے گی، جس سے ہماری گروہی نفسیات ابھی تک پہلوتہی برت رہی ہے۔ تہذیب و ثقافت کی ’’حیات بخش‘‘ آگ میں، نامعلوم کی حیثیت ایک طرح سے ایندھن کی ہے کہ اسی کے طفیل تہذیب و ثقافت ’’متحرک قوت‘‘ کے روپ میں معاشرتی سطح پر تخلیقی عمل جاری رکھتے ہیں۔ مذکورہ عمل کے بغیر کسی بھی گروہ کی تہذیبی و ثقافتی زندگی مردہ ہو جاتی ہے۔ جس طرح آگ کے کمزور پڑنے پر اگر فوراً ایندھن نہ جھونکا جائے تو بعد میں چاہے کتنا ہی ایندھن ڈالا جائے، آگ روشن نہیں ہو تی، حالانکہ ایندھن میں جلنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے لیکن خود آگ میں ایندھن کو جلانے کی قوت باقی نہیں رہتی ۔ اسی طرح تہذیب و ثقافت کو اگر بر وقت نامعلوم سے’ آشنا ‘نہ کیا جائے تو بعد کی کثیر کاوشیں بھی رائیگاں جاتی ہیں ۔ یہاں راقم یہ کہنے سے محترز نہیں کہ نامعلوم کی قبولیت ، اضافیت پسندی کے بغیر ممکن ہی نہیں ، لہٰذا ہر تہذیب اور ہر ثقافت کو زندہ رہنے کے لیے ’’طرز کہن پہ اڑنا‘‘ کے رویے کو خیر باد کہنا ہو گا ۔ 

(۳) سماجی تبدیلی کے لیے درکار لوازمات میں میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔میڈیا کے حوالے سے ایک بات بہت اہم ہے کہ کاروباری مفادات کو پورا کرنے والی تفریح (Commercial Entertainment) کے بجائے سماجی عملیت (Civic Activism) کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اس زمینی حقیقت کے باوجودکہ عالمی معاشرہ مجموعی طور پر صارفین کا معاشرہ ہے نہ کہ شہریوں کا، اور یہ کہ سماجی شعبے کے بجائے مارکیٹیں ہی بیشتر سماجی ایشوز کی نوعیت واہمیت کو متعین کرتی ہیں، یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ میڈیا کا کام، مروج رجحانات کے تسلسل میں مداخلت کرنا بھی ہے۔اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کے ایک پروگرام کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہاں (Soul City Multimedia Project) کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت پیشہ ور سکرین رائٹرز اور پبلک ہیلتھ کے پیشہ ور ماہرین کے اشتراک سے مختلف پروگرام پیش کیے گئے ،مثلاً سگریٹ نوشی، بچوں کا استحصال اور ایڈز وغیرہ کے متعلق ڈرامے دکھائے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آٹھ زبانوں میں ریڈیو پروگرام اور اخبارات میں فیچر کالم وغیرہ کا بھی اہتمام کیا گیا اور مقبولِ عام مزاحیہ کتب کو ڈاکٹروں کے آفس ، کمیونٹی سینٹرز میں رکھا گیا۔ اس تمام عمل کی بدولت صحت عامہ کے متعلق تربیت میں ’’اختراعی رجحانات‘ ‘ کو زبردست پذیرائی ملی۔اس تجربے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سماجی تبدیلی کے لیے مربوط ومنضبط پروگرام تشکیل دیے جا سکتے ہیں، مثلاً:

۱۔مہاجرین کی زندگی پر فلمیں اور ڈرامے، 

۲۔مختلف برادریوں کے درمیان شادی وغیرہ سے متعلق ناول، افسانے، شاعری کے فن پارے اور ٹی وی، سینما پر ان کی کوریج ،

۳۔ ورکنگ لائف اور بڑھتی عمر کے مسائل جیسے موضوعات پر طبع آزمائی، 

۴۔انٹر نیٹ چیٹ رومز کو منظم کرنااور انھیں مستقبل کے ایک نئے معاشرتی ادارے کے طور پر قبول کرنا۔ 

(۴) وسیع پیمانے پر سماجی تبدیلی لانے کے لیے تعلیمی منصوبہ بندی میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لگے بندھے اور جامد تصورات ہی کو دہرائے چلے جانے کے بجائے آرا وافکار میں تنوع (Pluralism of Views) اور اختلاف رائے کو فروغ دینے کی حیثیت کلیدی ہے ، تاکہ دنیا کی بابت دبے د بے اظہار کے بجائے خیالات کا تنوع سامنے آ سکے۔ اس لازمے سے عمدہ طریقے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مذکورہ بالا میڈیا پروگرامز کو بھی تعلیمی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہو گااور تعلیم کے روایتی کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نصاب میں عصری موضوعات کو اجاگر کرنا ہو گا۔

(۵) سماجی تبدیلی میں کھیلوں کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ باکسر محمد علی کلے سے لے کر جنوبی افریقہ کے ہنسی کرونیے، انڈیا کے اظہرالدین، انگلینڈ کے ناصر حسین اور ڈیوڈ بیکھم، پاکستان کے عمران خان اور یوسف یوحناتک ایسے بہت سے سپورٹس مین ہیں جو معاشرتی رویے کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رخ بھی متعین کر سکتے ہیں ۔ پچھلے دنوں انگلش فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم اس حوالے سے موضوع سخن بنا رہا کہ وہ سپین کے ایک کلب کو جائن کر رہا ہے۔ غالباً انگریزوں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی ہو گی کہ سپین بھی یورپ کا حصہ ہے، وہی سپین جس کے ساتھ انگلینڈ کی کئی جنگیں ہوئیں۔ اگرچہ اب بھی کئی قوم پرست ہوں گے لیکن ان کی آواز زوردار نہیں رہی ۔ اسی طرح پاکستان میں عمران خان نے ایک نئے سماجی رویے کو جنم دیا تھا ۔ شوکت خانم ہسپتال کی مہم کو مزید مختلف جہتوں میں پھیلایا جاتا تو پندرہ بیس برسوں میں ایک صحت مند مواخاتی رویہ تشکیل پا سکتا تھا۔ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر معاشرے کی تقسیم اور تعصب کے حوالے سے محمد علی کلے اور محمد اظہرالدین ’’کیس سٹڈی‘ ‘ کے موضوع قرار دیے جا سکتے ہیں۔محمد علی کلے معاشرے میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے اعتبار سے عدم تشدد کے رویے کی علامت ہے۔ اس کے احتجاج نے امریکی معاشرے پر ان مٹ نقوش چھوڑ نے کے ساتھ ساتھ نئے معاشرتی رویے کو بھی مہمیز کیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے آنجہانی ہنسی کرونیے کا کردار اس اعتبار سے قابلِ تحسین رہا کہ اس نے غلطی کا اعتراف کرلیااور عوامی سطح پر کرپشن کے خلاف اعترافی رویے کی طرح ڈالی۔ اب وہاں مختلف اداروں اور انجمنوں کا کام ہے کہ سماجی تبدیلی کے لیے اس اعتراف کو مثبت انداز میں اجاگر کریں۔ مختصراًیہی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ سپورٹس میں عمومی رویہ برداشت اور عدمِ تشدد کی سپرٹ پر مبنی ہوتا ہے، لہٰذا سپورٹس مین کی مقبولیت کو سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، کہ اپنے گروہ کی جیت کی لگن کے ساتھ ساتھ برداشت اور مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو تسلیم کرنے کی روایت کو فروغ دیا جائے۔

(۶) منظم گروہ بندی کی افادیت کے متعلق دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ درکار سماجی تبدیلی کے لیے اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔کسی بھی اچھی سوچ کو محض انفرادی لحاظ سے منضبط نہیں کیا جا سکتا کہ فرد کی توانائی اور اس کے کام کرنے کی اہلیت مختصر ہوتی ہے جبکہ سماجی تبدیلی کے لیے ایک مسلسل اور طویل عمل انتہائی ناگزیر ہے مثلاً میڈیا کی جدید خطوط پر تنظیم، اور پھر تنظیم کے لیے میڈیا کا جدید طرز پر استعمال کوئی گروہ ہی بہتر طور پر کر سکتا ہے ۔ اسی طرح انٹر نیٹ چیٹ رومز کو منظم گروہی انداز میں استعمال کرنے سے سماجی تبدیلی کے عمل کو بہتر اور تیز کیا جا سکتا ہے۔

(۷) انگریزی کا مقولہ ہے : Who holds purse,holds power کہ جس کے پاس پیسہ ہے` وہی طاقت و اختیار رکھتا ہے۔راقم کی نظر میں سپورٹس اور میڈیا سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سپانسر شپ کے لیے واضح اور متوازن پالیسی تشکیل دی جائے ۔ میڈیا کی صارف رخی پالیسی (Consumer Oriented Policy) کی تحدید کے لیے قانون سازوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں دیگر شعبوں کی مانند ’’کوٹہ سسٹم‘ ‘ متعارف کروایا جا سکتا ہے کہ معاشرتی حوالے سے ترتیب دیے جانے والے موضوعات بھی اپنی جگہ پاتے ہوئے سماجی تبدیلی کے عمل کو فروغ دے سکیں۔ اسی طرح فلاحی ادارے، سپورٹس اور علمی جرائد بھی متوازن سپانسر شپ سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شہریوں میں سماجی تبدیلی کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے جہاں سیمینارز، ورکشاپس اور فورمز وغیرہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہاں ان کے انعقاد اور فعال ہونے کے لیے سپانسر شپ کی اہمیت سے بھی مفر ممکن نہیں۔ 

مسلم امہ اور سماجی تبدیلی

اب تک کی بحث میں راقم نے مسلم امہ کا ذکر نہیں کیا کہ اس سے گفتگو خاصی طویل ہو سکتی تھی۔ اب مذکورہ بالا گفتگو کے تناظر میں اس حوالے سے چند نتائج فکر پیش کیے جا رہے ہیں: 

سب سے پہلے تو اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ رائج اور متوقع عالمی رجحان میں اس کی حیثیت مرکزی قرار دی جا سکتی ہے ۔ نام نہاد جمہوری لبادے کے باوجودعالمی سطح پر حقیقی ’’انسانیت‘‘ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اقوام کے اندر اور اقوام کے مابین بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو مغربی اقتدارِ اعلیٰ کے باوصف خوب کھل کھیل رہے ہیں،کیونکہ مغربی تصور کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ ’انسانی‘ ہے اس لیے نفسیاتی اعتبار سے ہر فرد ، گروہ اور قوم کی کوشش ہے کہ اس منصب پر فائز ہو جائے ،لیکن اس وقت ٹیکنالوجی کا جبر مختلف اقوام کو ایک لڑی میں پرونے پر مصر ہے۔ اندریں صورت مسابقت کا رویہ عصری تقاضوں سے لگا نہیں کھاتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مغربی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی عمارت سیکولر ازم پر کھڑی ہے کہ ریاستی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارد گرد کی دنیا سے فرد کا تعلق ان اثرات سے پاک صاف رہ سکتا ہے جو اس کی ذات کے اندر خدا سے تعلق کے سبب جنم لیتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ مغرب میں رائج اعلیٰ انسانی اقدار کا پس منظر ہمیں الہامی عقائد تک لے جاتا ہے، چاہے فرد کا احترام ہو یا انسانوں کی مساوات کی بات ہو۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے جبر نے اہلِ مغرب کو جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، وہاں ان کا مذہبی پس منظر ان کی راہنمائی سے قاصر نظر آتا ہے کہ عالمگیریت سے پہلے مذہب کو ذاتی معاملے کی سطح تک رکھ کر کام چل سکتا تھا، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ انسانی ترقی کے مغربی معیار کی بقا کے لیے بھی رائج مغربی اقدار کے پس منظر کی مانند اب پھر الہامی عقائد سے راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظام کی عالمگیریت کے سبب ، اس کی عالمگیریت کا مذہبی پس منظر ( کہ خدا ہی مقتدرِ اعلیٰ ہے) مطلوبہ الہامی عقیدے کی ضرورت پوری کرتا ہے، لہٰذا عالمی نظام کی تشکیلِ نو کے لیے درکار سماجی تبدیلی میں اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی ترویج کلیدی ہو جاتی ہے۔

آئیے اب مسلم معاشرے کا الہامی عقائد کے اثرات کے حوالے سے سرسری جائزہ لیں۔زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، صرف اسی بات کو لے لیں کہ ٹیکنالوجی فقط اتنی ہی اچھی ہو تی ہے جتنی کہ اس معاشرے کی اقدار جو ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلم آبادی غالب اکثریت میں ہے۔ یہاں معاشرے کے ہاتھوں بیچاری ٹیکنالوجی کا جو حشر ہوتا ہے، بیان سے باہر ہے۔ میاں نواز شریف کے دور میں پبلک ٹیلی فون بوتھس کا جال بچھا دیا گیا تھا لیکن اب یہ بوتھ خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔اسی طرح اگر سڑکیں بننے کے کچھ عرصے کے بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں تو یقین کیجئے کہ اس میں ٹیکنالوجی قصوروار نہیں ہے ۔ انٹر نیٹ کیبل ٹی وی اور دیگر معاملات میں بھی ایسا ہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے قلعے میں بھی ایسی مخدوش صورت حال کیوں ہے ؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی بنیادی وجہ مذہب سے دوری نہیں بلکہ مذہب کا محض ایک جذباتی قدر بن کر رہ جانا ہے۔اسی سبب سے ہمارا ایک بنیادی ادارہ یعنی مسجد معاشرتی کردار ادا نہیں کر سکا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ معاشرتی کردار ادا کرنے کے لیے وسیع المشرب ہونا پڑتا ہے ۔ تو کیا مسجد بطور معاشرتی ادارے کے وسیع المشرب نہیں ہے؟ کیا اس کی یہی خاصیت ہے ؟ (علماے کرام کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا )راقم کی نظر میں مسجد اپنی اصل میں وسیع المشرب ادارہ ہے لیکن اس کا معاشرتی کردار فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سماجی تبدیلی اس وقت تک خواب رہے گی جب تک فرقہ وارانہ رویہ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس سلسلے میں معروضی و خارجی جبر ہی پرخار راستے کو تراش خراش کر ہموار کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر معاشرتی اداروں کے توسط سے باہر سے دباؤ ڈال کر فرقہ واریت کے عفریت کو نکیل ڈالی جائے ،مثلاً پبلک واکس کا اہتمام کیا جائے، سیمینارز اور ورکشاپس کاانعقاد کیا جائے، تعلیمی نصاب میں مسجد کے معاشرتی کردار کو اجاگر کیا جائے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں میڈیا سے بھر پور مدد لی جائے۔ ریڈیو پر مسجد اور دین کے معاشرتی کردار کے متعلق معلوماتی اور دلچسپ پروگرام نشر کیے جائیں اور پیشہ ور سکرین رائٹرز کے فن سے بھی استفادہ کیا جائے۔ مثال کے طور پر امجد اسلام امجد ، آخر فرقہ وارانہ مسائل اور ان کے سماجی تبدیلی میں رکاوٹ بننے کو موضوع کیوں نہیں بنا سکتے؟

فرقہ واریت و دیگر معاشرتی رویوں کے منفی ہونے میں بنیادی کردار، تاریخی واقعات سے جذباتی وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کے جیالے متوالے ہوں یا سول ملٹری کشمکش ہو، ان کے رویے کے منفی پن کی اصل جذباتیت کے گرد ہی گھومتی ہے۔ راقم کی رائے میں یہ ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے کہ بالمشافہہ ملاقات میں مذکورہ فریقوں میں سے کوئی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے۔ فکروعمل کی ایسی متعصبانہ یک رخی میں دراڑ ڈالنے کے لیے چیٹ رومز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ باقاعدہ آمنے سامنے نہ ہونے کے باعث دوسرے کی بات پر منفی قسم کی چیخ پکار ممکن نہیں رہے گی اور سمجھنے سمجھانے کے لیے کثیر امکانات موجود رہیں گے۔ متنازعہ تاریخی واقعات پر رواداری اور مروت کے ماحول میں بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے چیٹ رومز کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے، مثلاً محمود غزنوی، اورنگ زیب، اکبر وغیرہ کی پالیسیوں کے متعلق بھارتی معاشرے میں بہت انتہا پسندانہ رویہ پایا جاتا ہے۔ یہ رویہ مذکورہ عمل سے کافی حد تک معتدل ہو سکتا ہے۔دیگر تاریخی واقعات بھی جو ناگفتنی کے زمرے میں آتے ہیں، چیٹ رومز کے پلیٹ فارم سے ’گفتنی‘ کا رتبہ پا سکتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ فی الحال چیٹ رومز کا زیادہ استعمال منفی اور سوقیانہ ہو رہا ہے، راقم الحروف پر امید ہونے کے ناتے تجرباتی طور پر ایک معتبر چیٹ روم منظم کرنے کی کوشش میں ہے۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اپنی تجاویز سمیت inaam1970@yahoo.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

حاصلِ بحث

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جدید عہد کی تشکیلِ نو کے لیے درکار سماجی تبدیلی کے لیے پیش رفت جاری و ساری ہے۔ جذباتیت سے ہٹ کر دیکھنے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یورپ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے ، کیونکہ وہاں کا مجموعی سماجی رویہ زندگی کے فطری ارتقا کے شانہ بشانہ پروان چڑھ رہا ہے۔ اگر بات کو غلط انداز سے نہ لیا جائے تو ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘ کے مقبولِ عام جملے کے حوالے سے راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ’حیات‘ آگے نکل گئی ہے جبکہ ’ضابطہ‘ پیچھے رہ گیا ہے۔ ماتھے پر بل ڈالنے کی ضرورت نہیں ، اس فقرے کا مطلب یہی ہے کہ اسلام کو پیش کرنے والوں نے عصری تقاضوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے اسلام کے اجتہادی پہلو کو طاقِ نسیاں میں رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ابھی تک داخلی اعتبار سے قومیت کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ (مشرقی پاکستان آخر کیوں علیحدہ ہوا؟) منظم گروہ بندی (قومیت)کے بعد ہی یہ مرحلہ آتا ہے کہ ’ماوراے قومیت اتحاد‘ میں بلا خوف شمولیت اختیار کی جائے کہ منظم گروہ ہی ماوراے قومیت اتحاد میں شامل کسی دوسرے گروہ کو ’آمر‘ بننے سے روک سکتا ہے۔ چونکہ اسلامی ممالک میں ایسی داخلی تنظیم کے فقدان کے باعث ہی یورپی اقوام نے ان پر تسلط و غلبہ کی راہ پائی تھی، اس لیے اب یہ ممالک حقیقت میں ’’تحفظات‘ ‘ کا شکار ہیں کہ کسی ایسے ماوراے قومیت اتحاد میں شمولیت سے، جو خاصا فعال ہو، ان کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے او آئی سی، ایکو، عرب لیگ وغیرہ میں ’’اتھارٹی‘‘ نظر نہیں آتی۔ لہٰذا اب یہ انتہائی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قومی سطح پر لا مرکزیت کو،جیسا کہ بنگالیوں کا مطالبہ تھا، فروغ دے کر جزوی عنصر کو ہدف بنایا جائے۔ اس کے بعد ہی علاقائی اتحادات اور گلوبلائزیشن (کلی عنصر)کی طرف فعال انداز میں بڑھا جا سکتا ہے۔ لا مرکزیت کا حقیقی فروغ سماجی رویے میں تبدیلی کا متقاضی ہے اور اس کے لیے ہمیں لا محالہ دین کے معاشرتی کردار کی طرف رجوع کرنا ہو گا کہ ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی ہے۔ اگر ہمارے ہاں دین کا معاشرتی کردار موجود ہوتا تو مشرقی پاکستان بھی شاید ہم سے جدا نہ ہوتاکہ ہر نوعیت کے (سیاسی، فوجی، معاشرتی) فرقہ وارانہ رویے نے ہی دونوں یونٹوں کو ایک دوسرے سے خوف میں مبتلا کررکھا تھا۔ 

آراء و افکار

(اگست ۲۰۰۳ء)

Flag Counter