تخصص تدریب المعلمین برائے مدارس دینیہ

ادارہ

(’تحریک اصلاح تعلیم‘ لاہور نے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا ایک پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ تحریک کی طرف سے ارسال کردہ اس پروگرام کا تعارف اہل علم خصوصاً ملک بھر کے دینی مدارس کے مہتممین اور مدرسین کی اطلاع کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام پر تبصرے، تنقید اور بہتری کی تجاویز کے لیے تحریک اصلاح تعلیم، آسٹریلیا مسجد، نزد ریلوے اسٹیشن، لاہور سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ)


ضرورت

جدید تعلیم کے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے حکومت نے سیکڑوں تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں بلکہ دفاع، بیوروکریسی، انکم ٹیکس، آڈٹ اور حکومت کے ہر محکمے نے اپنے اپنے تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے تعلیمی ادارے اور سکول سسٹم بھی تربیت اساتذہ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس ہونے کے باوجود ان کے اساتذہ کی تربیت کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل نہیں اور پھر یہ مدارس آپس میں متحد اور منظم بھی نہیں کیونکہ ہر وفاق اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اس لیے آج تک کوئی تربیتی ادارہ وجود میں نہیں آ سکا۔ تاہم بعض وفاق اور بڑے مدارس تھوڑی بہت توجہ اب اس طرف مبذول کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بھی مساجد کے خطبا کی تربیت کا ایک سالانہ پروگرام چلا رہی ہے۔

اہداف

تحریک اصلاح تعلیم نے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا جو پروگرام بنایا ہے، اس کے مندرجہ ذیل اہداف طے کیے ہیں:

۱۔ دینی مدارس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی

۲۔ دینی مدارس کے موجودہ اساتذہ کی تربیت

۳۔ جدید تعلیمی اداروں کے لیے تربیت یافتہ دینی معلمین کی فراہمی

۴۔ دینی مدارس میں کام کے دوران تربیت مہیا کرنا

۵۔ دینی تعلیم کے دوران باقی رہ گئی تعلیمی خامیوں کو دور کرنا

۶۔ دینی مدارس کے اساتذہ کو جدید علوم سے آگاہ کرنا

ایڈوائزری کونسل

تحریک اصلاح تعلیم پچھلے ڈھائی تین سال سے اہل سنت کے چاروں وفاقوں کے عمائدین کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح خصوصاً نصاب کے حوالے سے ایک متفقہ پیکج کی تیاری کے لیے کام کر رہی تھی۔ الحمد للہ اس میں تحریک کو کامیابی ہوئی اور چاروں وفاقوں کے ذمہ دار وثقہ علما نے اس سلسلے میں متفقہ نصابی تجاویز کی منظوری دے دی۔ پھر ان متفقہ تجاویز کی بنیاد پر نیا نصاب بھی تحریک نے تیار کر لیا۔ ]جن اصحاب کو اس موضوع سے دلچسپی ہو، وہ خط لکھ کر تحریک سے متفقہ نصابی تجاویز یا نئے مجوزہ نصاب کی کاپی منگوا سکتے ہیں[ چنانچہ انہی عمائدین سے درخواست کی گئی کہ وہ تحریک کے زیر انتظام دینی مدارس کے لیے تربیت اساتذہ کے اس پروگرام کی بھی سرپرستی فرمائیں چنانچہ مشاورت سے مندرجہ ذیل عمائدین پر مشتمل ایک ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی:

۱۔ جناب مولانا فضل الرحیم صاحب، نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور ورکن وفاق المدارس العربیہ۔

۲۔ جناب مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب، مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور وناظم اعلیٰ تنظیم المدارس۔

۳۔ جناب مولانا عبد المالک صاحب، شیخ الحدیث مرکز علوم اسلامیہ منصورہ وناظم اعلیٰ رابطۃ المدارس ۔

۴۔ جناب مولانا محمد یونس بٹ صاحب، استاذ جامعہ سلفیہ فیصل آباد وناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ۔

چنانچہ اس پروگرام کی ساری تفصیلات اس ایڈوائزری کمیٹی کے مشورے سے طے کی گئی ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ان سے مشاورت کی بنیاد پر ہی کام کیا جائے گا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ پروگرام چاروں وفاقوں کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے اور اس وقت جو پروگرام عملاً چل رہا ہے، اس میں بھی الحمد للہ سب مسالک کے اساتذہ وطلبہ موجود ہیں اور شیر وشکر ہو کرتحصیل علم میں مصروف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تدریب المعلمین کے پروگرام سے قطع نظر مختلف مسالک کے حامل اساتذہ وطلبہ کا اس طرح ایک جگہ مل بیٹھ کر مشترکہ پروگرام میں شریک ہونا بجاے خود ایک مبارک ومطلوب عمل ہے اور اس کے مفید اور تعمیری اثرات ان شاء اللہ مستقبل میں ظاہر ہوں گے۔

اس پروگرام میں داخلے کے لیے ضروری ہوگا کہ طالب علم نے:

۱۔ مندرج ذیل وفاقوں میں سے کسی ایک سے الشہادۃ العالمیۃ کا امتحان کم از کم ۶۰ فیصد نمبر لے کر پاس کیا ہو:

-وفاق المدارس العربیہ - تنظیم المدارس - رابطۃ المدارس الاسلامیۃ - وفاق المدارس السلفیۃ

۲۔ وہ کم از کم میٹرک سیکنڈ ڈویژن پاس ہو۔ جدید تعلیم کی اعلیٰ ڈگری جیسے ایف اے، بی اے، ایم اے قابل ترجیح ہوگی۔

۳۔ وہ جس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوا ہو، اس کے سربراہ یا ایڈوائزری کونسل کے کسی رکن سے حاصل کردہ حسن السیرۃ والسلوک کا سرٹیفکیٹ (تزکیہ) پیش کرے گا۔

۴۔ تحریک کی طرف سے منعقدہ ٹیسٹ اور انٹرویو میں کام یابی۔

متفرق امور

نوعیت:

یہ درس نظامی سے فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے تخصص کا پروگرام ہے جس کے نتیجے میں وہ ان شاء اللہ دینی مدارس کے لیے بہتر معلم ثابت ہوں گے۔ جو اساتذہ اس وقت دینی مدارس میں پڑھا رہے ہیں، ان کے لیے مختصر دورانیے کے کورسوں کا الگ سے انتظام کیا جائے گا۔

دورانیہ:

اس کورس کا دورانیہ ایک سال ہوگا۔

ڈگری:

اس کورس کے شرکا چونکہ الشہادۃ العالمیۃ کے حامل ہوں گے جسے حکومت پاکستان ایم اے اسلامیات وعربی کے برابر تسلیم کرتی ہے لہٰذا اس کورس کو بطور ایک پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے حکومت کی کسی منظور شدہ یونیورسٹی سے الحاق کے ذریعے حکومت سے منظور کروایا جائے گا تاکہ دینی مدارس کے علاوہ محکمہ تعلیم، محکمہ اوقاف اور پرائیویٹ سکولوں میں ان تربیت یافتہ اساتذہ کو ملازمت ملنے میں آسانی ہو۔

فیس:

یہ پروگرام بلا معاوضہ ہے۔

ہوسٹل:

فی الحال ادارے کے پاس ہوسٹل کی سہولت موجود نہیں ہے تاہم لاہور میں چاروں وفاقوں کے بڑے دینی مدارس کے سربراہان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ عارضی طور پر اپنے وفاقوں کے طلبہ کی رہائش میں مدد دیں۔

تعلیمی سال:

ہر سال شوال میں شروع ہو کر رجب میں ختم ہوا کرے گا۔

اساتذہ:

تدریس کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز تشریف لاتے ہیں نیز دینی مدارس کے تجربہ کار ومعتدل مزاج علما سے بھی مدد لی جاتی ہے۔

تعداد:

ادارے کے پاس فی الحال صرف ۳۰ طلبہ کی تدریس کا انتظام ہے۔

طریق تدریس وامتحان:

سالانہ کے بجائے سمسٹر سسٹم، ۱۲ ہفتوں کے تین سمسٹر۔ سمسٹر سسٹم اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ مضامین پڑھائے جا سکیں۔ تدریس کی بنیاد لیکچرز، منتخب مطالعہ اور اسائنمنٹ۔

تربیت: 

تدریس کے علاوہ طلبہ کی تربیت وتزکیہ کا خصوصی اہتمام۔

نصاب: 

یہ تخصص اگرچہ تربیت اساتذہ کے حوالے سے ہے اور اسی پر ادارہ زیادہ ترکیز کرتا ہے لیکن مستقبل کے ان اساتذہ کو بحیثیت داعی، عالم دین اور خطیب کے مسلم معاشرے کے لیے زیادہ موثر بنانے کے لیے کچھ ان مضامین کی تدریس کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جنہیں پڑھنے کا انہیں دینی مدارس میں یا تو موقع نہیں ملا یا وہ بوجوہ ان پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔ یوں اس کورس کا نصاب تین طرح کے مضامین پر مشتمل ہے: اساسی مضامین، جدید مضامین اور ضمنی مضامین۔

اساسی مضامین

(الف) لازمی مضامین (۷۰۰ نمبر)

۱۔ طرق تدریس، ۲۔ تعلیمی نفسیات، ۳۔ فلسفہ وتاریخ تعلیم، ۴۔ تربیت طلبہ، ۵۔ تعلیم کی اسلامی تشکیل نو، ۶۔ تعلیمی انتظامیات، ۷۔ تدریس کی عملی تربیت 

(ب) اختیاری مضامین (۳۰۰ نمبر)

یہاں دو گروپ بنائے گئے ہیں۔ طلبہ کو ان میں سے کسی ایک کے مضامین پڑھنے ہوں گے:

-i دینی مدارس گروپ۔ مضامین: ۱۔ تدریس عربی، ۲۔ تدریس قرآن وحدیث، ۳۔ تدریس فقہ واصول فقہ

-ii جدید سکول گروپ۔ مضامین: ۱۔ تدریس عربی، ۲۔ تدریس اسلامیات، ۳۔ تدریس اردو

جدید مضامین

۱۔ انگریزی زبان ۲۔ مغرب کے سماجی علوم (جیسے معاشیات، سیاسیات، تعلیم، نفسیات وغیرہ) کا تعارفی مطالعہ، ۳۔ مغرب کے سائنسی علوم (جیسے طبعیات، کیمیا، حیاتیات، فلکیات وغیرہ) کا تعارفی مطالعہ ۴۔ کمپیوٹر ۵۔ اسلام اور عصر حاضر (۲۰۰ نمبر)

ضمنی مضامین

۱۔ عربی (محادثۃ وانشاء) ۲۔ طرق تحقیق ۳۔ دعوت واصلاح (بشمول تقریر وتحریر کی مشق) ۴۔ مطالعہ امت (مختصر تاریخ، جغرافیہ، مسائل وغیرہ بشمول مطالعہ پاکستان) ۵۔ سیرت النبی وتقابل ادیان (۲۰۰ نمبر)

تحریک اصلاح تعلیم

تحریک اصلاح تعلیم ڈاکٹر محمد امین صاحب (سینئر ایڈیٹر ارد و دائرہ معارف اسلامیہ، جامعہ پنجاب) اور ان کے احباب نے لاہور میں ۱۹۸۹ء میں قائم کی۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس کے پیش نظر پاکستان کے نظام تعلیم کی اصلاح ہے۔ اول تو ہمارے ہاں تعلیم بہت کم ہے اور جو ہے، اس کا کوئی معیار نہیں۔ اس کی ایک بنیادی خرابی ثنویت ہے یعنی دنیوی (جدید) تعلیم الگ اور دینی تعلیم الگ حالانکہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔ پھر جدید تعلیم ہمارے ہاں مغربی فکر وتہذیب کا بھونڈا چربہ ہے اور مغرب کی غلامی سکھاتی ہے۔ دینی تعلیم اس میں برائے نام ہے اور اسلامی تربیت کا یہاں گزر ہی نہیں۔ اسی طرح دینی تعلیم ہمارے ہاں مسلک پرستی پر مبنی ہے، یہاں جدید علوم سے اعتنا نہیں کیا جاتا اور تربیت کی طرف توجہ کم ہے۔ لہٰذا دونوں جگہ نصاب کی تبدیلی، اساتذہ کی تربیت، تربیت طلبہ اور معیار کی بہتری کی سخت ضرورت ہے۔ تحریک پہلے دن سے حسب استطاعت اصلاحی پروگرام پر کاربند ہے اور اخبارات وجرائد میں مضامین، ورکشاپس، سیمینارز، ملاقاتوں اور پمفلٹوں کے ذریعے اپنی سوچ لوگوں تک پہنچاتی رہی ہے۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۳ء کے دوران پہلی سے بارہویں جماعت تک جدید تعلیم کے سارے مضامین کا نصاب اسلامی تناظر میں ازسرنو مدون کیا گیا اور ا س کے مطابق بعض کتب شائع کی گئیں۔ پھر ۲۰۰۰ء تا ۲۰۰۲ء دینی تعلیم کے چاروں وفاقوں کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے نصاب کی تبدیلی کے لیے متفقہ تجاویز تیار کی گئیں اور متبادل نصاب تیار کیا گیا اور اب اپریل ۲۰۰۳ء سے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا ایک سالہ پروگرام شروع ہے۔ موجودہ نظام تعلیم کی اصلاح کے ساتھ ساتھ تحریک کے پیش نظر جدید اور دینی تعلیم دونوں کے ہر سطح کے ماڈل تعلیمی اداروں کا قیام بھی ہے تاکہ اصلاحی عمل کو مثبت شکل اختیار کرنے میں آسانی رہے۔

تحریک اصلاح تعلیم ایک آزاد علمی اور اصلاحی تحریک ہے اور حکومت پاکستان یا دوسرے کسی ادارے کی حمایت اور مدد کے بغیر مشکل حالات میں علما کے مشورے اور تعاون سے کام کر رہی ہے۔

اخبار و آثار

(اگست ۲۰۰۳ء)

Flag Counter