صحابہ کرامؓ کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کا لحاظ (۱)

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت و تبلیغ ایک مقدس فریضہ اور کارِ انبیا ہے اور انسانی نفسیات اور فہم وشعور سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ انسان کی عملی زندگی میں قوتِ محرکہ اس کا دل اور دماغ ہے۔ اگر داعی مخاطب کے دل ودماغ کو اور اس کے فہم وشعور کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو پھر باقی کام آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے دعوت سے بھی پہلے داعی کے لیے اس اسلوب کا تعین ہے کہ مخاطب کے فہم وشعور میں یہ بات کس پیرایے میں پیش کرکے بٹھائی جائے اور اس حوالے سے انسانی نفسیات کے کس پہلو کو پیش نظر رکھا جائے؟ نفسیات دعوت وتبلیغ کا ہی موضوع اور فن ہے۔ مبلغ کا کام انسان سازی ہے اور اس کام میں اس کا علم اور حکمت دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ دعوت وتبلیغ میں انسانی نفسیات کی کس قدر اہمیت ہے اور داعی کا ماہر نفسیات ہونا کتنا ضروری ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:

’’جس طرح ایک بیج کے نشوونما پانے کے لیے تنہا بیج کی صلاحیتوں ہی پر نظر نہیں رکھنی پڑتی، بلکہ زمین کی آمادگی ومستعدی اور فصل وموسم کی سازگاری وموافقت کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے، اسی طرح کلمۂ حق کی دعوت میں مجرد حق کی فطری صلاحیتوں پر ہی اعتماد نہیں کرلینا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کے سامنے وہ حق پیش کیا جارہا ہے، دعوت کے وقت نفسیاتی نقطۂ نظر سے ان کی حالت کیا ہے۔ زمینوں کی طرح روحوں اور دلوں کے بھی موسم ہوتے ہیں اور ایک داعی کا فرض ہے کہ ان موسموں سے اچھی طرح واقف ہو ۔جس طرح ایک دہقان زمین کی فصلوں اور موسموں کو پہچانتا ہے اور اسی وقت کوئی بیج ڈالتاہے جب موسم سازگار ہو۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں، خواہ اپنی سادگی اور بھولے پن کی وجہ سے، یا اس خیال سے کہ حق اپنی ذاتی کشش سے خودبخود دلوں میں جگہ پیدا کرلے گا، اس کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنی اس غلطی کی سزا اپنی دعوت کی ناکامی کی شکل میں پاتے ہیں اور ان کی نیک نیتی ان کی اس بے تدبیری اور غفلت کے نتائج سے ان کو بچا نہیں سکتی،جو مخاطب کی نفسیات کی رعایت کے باب میں ان سے صادر ہوتی ہے۔ (۱)

اس سیاق وسباق میں کہا جاسکتا ہے کہ اصل قوتِ محرکہ داعی کی شخصیت ہے۔ وہ جتنا خودمتحرک ہوگا، دوسروں کو بھی اسی نسبت سے متحرک کرسکے گا اور وہ جس قدر تربیت یافتہ ہوگا، اسی قدر دوسرے افراد کے لیے بہترین مربی کا کردار ادا کرسکے گا۔ علم نفسیات سے واقفیت کی صورت میں داعی شریعت کے بہت سے احکام کو زیادہ بہتر طور پر پرکھنے اور ان کی حکمتوں کا کماحقہ اندازہ لگانے میں کامیاب ہوسکے گا جس کے نتیجے میں اس کے ایمان میں دن بدن اضافہ ہوتا جائے گا اور جب خود اسے شرح صدر ہوگا تو دوسرے لوگوں کے سامنے وہ اس کی بہتر دعوت پیش کرسکے گا۔ اگر داعی کو نفسیات کے اس فن سے مناسبت پیدا ہوجائے تو جن افراد اور جماعتوں کو اس نے مخاطب بنانا اور ان تک اپنی دعوت پہنچانی ہے، اس کے ذریعے اسے ان کی نفسیات اور جذبات ومیلانات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ مخاطب کے اوپر اثرانداز ہونے اور اس کے اندر اپنی بات کے لیے آمادگی پیدا کرنے کے سلسلے میں کن تدابیر کے اپنانے اور کن امور کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے، اسے کیوں کر تیار کیا جائے، کس طرح اس کے اندر نیکی اور بھلائی کے لیے جذبات کو ابھارا جائے اور بدی اور برائی کے محرکات سے اسے دور رکھا اور بچانے کی کوشش کی جائے؟ یہ تمام امور انسانی نفسیات کے جاننے ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں۔

اگر داعی لوگوں کی نفسیات، ذوق، مزاج اور ان کے جذبات ومیلانا ت کی رعایت نہ کرسکے تو اس چیز کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں کہ لوگ اس کی باتوں کو سنیں اور ان پر توجہ دیں۔ بلکہ اکثروبیشتر تو ایسا ہوگا کہ وہ ان کے اندر کوئی دلچسپی اور شوق پیدا کیے بغیر انھیں اکتاہٹ اور بیزاری کا شکار بنادے گا اور لوگ اس کے قریب ہونے کی بجائے دور رہنے کو زیادہ پسند کریں گے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تاکید فرمائی:

یسّروا ولا تعسّروا، وبشّروا ولا تنفّروا (۲)
آسانیاں پیدا کرو اور لوگوں کے لیے مشکلیں کھڑی نہ کرو۔ انھیں خوشخبری سناؤ (کہ دین کے قریب آئیں اور اپنی کسی بات یا طرزِ عمل سے) دین سے متنفر نہ کرو۔

اس فرمان نبوی ؐکی یہی معنویت ہے کہ مخاطب کے سامنے بات اس طور پر رکھی جائے کہ اس کے اندر اس دعوت کی طرف رغبت اور میلان پیدا ہو اور اسے دین سے بیزار اور متنفر نہ کیا جائے۔ الغرض انسانی نفسیات کی رعایت کے بغیر دعوت کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ کی دعوت کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے ہمیشہ دعوت و تبلیغ میں انسانی نفسیات کا بھرپور خیال رکھا۔ زیر نظر سطور میں صحابہ کرامؓ کی سیرت سے اس کی چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ 

انسانی طبائع کا لحاظ/وقفہ

صحیح بات بھی اگر مسلسل اور بغیر کسی وقفہ کے کہی جائے تو طبیعت اسے معمولی سمجھ کر حقیقی اثر قبول نہیں کرتی، اس لیے دعوت کا کام بغیر کسی وقفہ کے کیے چلے جانا کہ لوگ اس کو معمول کی کارروائی سمجھنے لگیں، درست طریقہ نہیں ہے۔ اس لیے داعی کا انسانی نفسیات کا عالم ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ بروقت اندازہ لگا سکے کہ کہیں مخاطب پر اکتاہٹ تو طاری نہیں ہوچکی۔کیونکہ دعوت جب ذہنی اور روحانی آسودگی کا باعث نہ بنے گی تو غیر مؤثر ہو جائے گی ۔ داعی کیلئے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے اوقات کو بے ہنگم نہ ہونے دے بلکہ لوگوں کی طلب اور شوق کو برقرار رکھنے کے لیے دعوت کا کام وقفے وقفے سے کرے، اور اس وقت بیان کرے جب لوگوں کی خواہش ہو اور ان کی طبائع دعوت کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ صحابہ کرامؓ بھی اس وجہ سے کہ کہیں لوگ اکتانہ جائیں ، لوگوں کے اشتیاق کے باوجود وقفہ کیا کرتے تھے۔ ابو وائلؓ روایت کرتے ہیں :

کان عبداﷲؓ یذکّر الناس فی کل خمیس فقال لہ رجل : یا ابا عبدالرحمٰنؓ لودِدتُّ انک ذکّر تنا کل یومِ ‘‘ قال : اما انہ یمنعنی من ذالک انی اکرہ ان اُملّکُم وانّی اتخوّلکم بالموعظۃ کما کان النبیﷺ یتخوّلنا بھا مخافۃ السآمۃ علینا (۳)
عبد اللہ بن مسعود لوگوں کو ہر جمعرات کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰنؓ !میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ وعظ کیا کریں ، تو انھوں نے فرمایا : میں ایسا اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کہیں تم پر بوجھ نہ بن جاؤں ۔ میں بھی اسی طرح ناغہ کر کے تمہیں نصیحت سناتا ہوں ۔ جس طرح رسول اﷲ ﷺ ہم کو نصیحت سنایا کرتے تھے کہ ہم بیزار نہ ہو جائیں ۔ 

ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے گھر کے سامنے وعظ سننے کے لیے لوگوں کا ہجوم تھا، یزید بن معاویہ نخعی نے ان کو خبر دی اور لوگوں کی خواہش سے آگاہ کیا ،لیکن وہ کافی دیر کے بعد گھر سے برآمد ہوئے اور فرمایا: 

اِ نہ لیذکر لی مکانکم فما اَتیکم کراھیۃ أن املکم لقد کان رسول اﷲﷺ یتخوّ لنا بالموعظۃ فی الأیام کراھیۃ السآمۃ علینا(۴)
مجھے خبر تھی کہ آپ لوگ دیر سے میر اانتظار کر رہے ہیں ، لیکن میں اس خوف سے باہر نہیں آیا کہ کثرت وعظ آپ لوگوں کو تھکا نہ دے ، رسول اﷲﷺ ہم لوگوں کی تکلیف کے خیال سے کئی کئی دن کا وقفہ کرکے وعظ فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کا ہمیشہ لحاظ کیا۔ صحابہ کرامؓ اس اسلوبِ دعوت کی اہمیت اور اس کی تاثیر سے پوری طرح آگاہ تھے، اس لیے انھوں نے دوسروں کو بھی تلقین کی ۔ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اپنے نامور شاگرد عکرمہؒ کو دعوت و تبلیغ میں اس اسلوب کے اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:

حدّث الناس کلّ جمعۃ مرّۃ، فاِن أبیتَ فمرّتین، فان اکثرت فثلاث مرّات، ولاتملَّ الناس ھذا القرآنَ فلا ألفینّکَ تأتی القوم وھم فی حدیث من حدیثھم فتقصُّ علیھم فتقطعُ علیھم حدیثھم فتملَّھم ، ولٰکن أنصت فاذا أمروکَ فحدِّثھم وھم یشتھونہُ (۵)
لوگوں سے ہفتہ میں ایک بار وعظ کرو ، اگر یہ قبول نہیں تو دوبار اور زیادہ سے زیادہ ہفتہ میں تین بار وعظ کرو اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتانہ دو۔ میں تمھیں اس حال میں نہ دیکھوں کہ تم کسی جماعت کے پاس اس حال میں جاؤ کہ وہ اپنے کاموں میں سے کسی کام میں مشغول ہوں، تم ان کی بات کو قطع کر کے اپنا وعظ شروع کر دو، اس طرح تم ان کو اکتا دو گے ، بلکہ تمھیں چاہئے کہ خاموش رہو اور جب لوگ فرمائش کریں اور وہ خواہش سے سنیں ۔

ابن ابی السائبؓ تابعی ،مدینہ کے واعظ تھے۔ پیشہ ور واعظین کی طرح یہ بھی گرمی مجلس کے لیے نہایت مسجعّ دعائیں بنا بنا کر پڑھا کرتے تھے اور اپنے تقدس کے اظہار کے لیے موقع بے موقع ہر وقت وعظ کے لیے آمادہ رہتے تھے ۔حضرت عائشہؓ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا : تم مجھ سے تین باتوں کا عہد کرو، ورنہ میں بزور تم سے باز پرس کروں گی ۔ عرض کیا : اے ام المؤمنینؓ! وہ کیا ہیں ؟ آپؓ نے فرمایا : 

اجتنب السجع من الدعاء ، فان رسول اﷲﷺ و اصحابہ کانوا لا یفعلون ذالک ، وقص علی الناس فی کل جمعۃ مرۃ، فان ابیت فثنتین، فان ابیت فثلاثاً ،فلا تملّ الناس ھٰذا الکتاب، ولا ألفینک تأ تی القوم وھم فی حدیث من حدیثھم فتقطع علیھم حدیثھم ولکن اترکھم فاذا جرؤک علیہ و أ مروک بہ فحدثھم(۶)
’’ دعاؤں میں عبارتیں مسجع نہ کرو کہ رسول اﷲﷺ اور آپ ﷺکے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے۔ ہفتہ میں صرف ایک دن وعظ کیا کرو ، اگر یہ منظور نہیں تو دو دن اور اگر اس سے بھی زیادہ چاہو تو تین دن۔ لوگوں کو اﷲ کی کتاب سے اکتا نہ دو ، ایسانہ کرو کہ لوگ جہاں بیٹھے ہوں آکر بیٹھ جاؤ اور قطع کلام کرکے اپنا وعظ شروع کر دو ۔ بلکہ جب ان کی خواہش ہو اور وہ درخواست کریں تب کہو‘‘

عمومی وضاحت پر اکتفا کرنا/ مخاطب کی عزت نفس کا خیال کرنا

اگر داعی غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کی بجائے اشارے کنایے میں اس کی غلطی کو واضح کرتا ہے تو اس صورت میں غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی ،نیز وضاحت کے اس عمومی انداز سے مخاطب کی طرف سے کسی قسم کے منفی ردعمل کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہتا اور شیطان اس کے انتقامی جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی طرف مائل نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی اس اسلوب سے مخاطب کے دل میں داعی کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے اور وہ اس کی بات کو زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتا ہے۔

دعوت کا یہ اسلوب اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب مخاطب کی غلطی عام لوگوں سے پوشیدہ ہو، لیکن اگر اکثر لوگوں کو اس کا علم ہو، اور اسے معلوم ہو کہ اکثر لوگ یہ بات جانتے ہیں ، تو اس صورت میں دعوت و تبلیغ کا یہ اسلوب سخت زجر و توبیخ کا حامل اور غلطی کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث بن جاتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس کو براہ راست سرزنش کر دی جائے اور یہ اسلوب اختیار نہ کیا جائے ۔ اگر بات بھلائی اور خیر خواہی کے جذبے سے کی جائے تو یہ ایسا انداز تربیت ہے کہ جس سے غلطی کرنے والے کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور عام لوگوں کو بھی ، بشرطیکہ اسے استعمال کرتے ہوئے حکمت سے کام لیا جائے۔ صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ میں بارہا اس اسلوب کو اختیار کیا اور غلطی کرنے والے کو براہِ راست مخاطب کرنے کی بجائے عمومی وضاحت پر اکتفا کیا ،تاکہ مخاطب کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور اس کی اصلاح بھی ہو جائے ۔ اس اسلوب دعوت کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

ایک دفعہ حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا ، بعد میں پانی کا ایک برتن طلب کیا، اس سے وضو کرنے کے بعد باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر نوش فرمایا اور پھر فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر پانی پینے کو مکروہ جانتا ہے، حالانکہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (۷)

بیت اﷲ اگرچہ مکہ مکرمہ میں ہے لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے محسوس فرمایا کہ خود اہل مکہ میں وہ ذوق و شوق مفقود ہو رہا ہے جو بیرونی زائرین کیلئے نمونہ ہوناچاہیے۔ یقیناًیہ خرابی چند لوگوں کے عمل سے ظاہر ہوئی ہو گی، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے کسی مخصوص فرد کی بجائے تمام اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

یا اھل مکۃ ! ما شا نُ النّا سِ یأتُو نَ شعثاً و انتم مدّھنون؟ اھلُّوا، اذا رأیتم الھلال(۸)
اے اہل مکہ ! کیا بات ہے کہ لوگ جب تمھارے پاس آتے ہیں تو ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور تم تیل لگاتے ہو؟ تم چاند دیکھ کر احرام باندھ لیا کرو۔

ابو نہیک اور عبد اللہ بن حنظلہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک لشکر میں حضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھ تھے۔ ایک عرب نے کسی شخص کو بہت زیادہ مارا پیٹا ۔ اس شخص نے حضرت سلمان فارسیؓ کے پاس شکایت کی اس پر آپؓ نے کسی فرد واحد کو سرزنش کرنے کی بجائے تمام عربوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

یا معشر العرب ! الم تکونوا شرالناس دینا، وشرالناس داراً ، وشرالناس عیشا؟ فاعزّکم اﷲ واعطاکم اﷲ أتریدون ان تاخذوا الناس بعزۃ اﷲ ؟ واﷲ لتنتھنَّ او لیأخذنّ اﷲ مافی ایدیکم فلیعطینہ غیرکم(۹)
اے اہل عرب! کیا تم مذہب کے اعتبار سے برے لوگ نہ تھے؟ گھر بار کے لحاظ سے برے نہ تھے؟ اور زندگی کے لحاظ سے بد تر ین نہ تھے ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے تمھیں (اسلام کے ذریعے ) عزت عطا فرمائی اور نعمتیں بخشیں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم لوگوں سے اﷲکے دئیے ہوئے شرفِ انسانی کو چھین لو ؟ اﷲ کی قسم! تم ایسی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ اﷲ وہ سب کچھ تم سے واپس لے لے گا جو تمھارے پاس ہے اور اسے غیروں کو عطا کر دے گا۔

ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو قریش کے چند لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ نرد کھیلتے ہیں تو آپؓ نے ان کی تنبیہ کے لیے عمومی اصلاح اور وضاحت پر ہی اکتفا فرمایا ،چنانچہ آپؓ نے اہل مکہ کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’ اے اہل مکہ! مجھے قریش کے بعض لوگوں کی یہ شکایت پہنچی ہے کہ وہ ایک کھلونے سے کھیلتے ہیں جسے نرد شیر(پانسہ) کہتے ہیں ، اور یہ بہت مشکل چیز ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خمر اور میسر، اور میں قسم کھاتا ہوں کہ جو کوئی شخص پانسہ کھیلے اور میرے پاس لایا جائے تو میں اسے اس کے بال اور چمڑے پر سزا دوں گا اور جو اس کو لائے گا اسے مجرم کے بدن کی سب چیز یں دے دوں گا‘‘ (۱۰)

ایک دفعہ حضرت عقبہؓ بن عامر گورنر مصر نے مغرب کی نماز میں تاخیر کر دی ۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا: اے عقبہؓ! یہ کیسی نماز ہے؟ کہنے لگے کہ ایک کام کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ۔ چونکہ عقبہؓ خود بھی صحابی رسول ﷺ تھے اور گورنر مصر تھے اس لیے حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے ان کے مقام اور مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: 

أما واﷲما بی الا ان یظن الناس انک رأیت رسول اﷲﷺ یصنع ھٰذا ، أما سمعت رسول اﷲﷺ یقول : لاتزال أمتی بخیر او علی الفطرۃ مالم یؤخروا المغرب الی أن تشتبک النجوم(۱۱)
اور اﷲ کی قسم ! مجھے یقین ہے لوگ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اﷲ ﷺکو ایسا ہی کرتے دیکھا ہو گا جبکہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے، میری امت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہ کرنے لگیں کہ ستارے خوب نمایاں ہو جائیں ۔

اس قسم کی اور بھی مثالیں سیرتِ صحابہ میں ملتی ہیں جن میں مشترک چیز یہ ہے کہ غلطی کرنے والے کو شرمندہ نہ کیا جائے۔ غلطی کرنے والے کو براہِ راست مخاطب نہ کرنے اور اشارہ سے اس کی غلطی واضح کرنے کے اس اسلوب میں بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

  • غلطی کرنے والے کی طرف سے منفی رد عمل کا خطرہ نہیں ہوتا اس طرح شیطان اس کے انتقامی جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی طرف مائل نہیں کر سکتا۔
  • اس اسلوبِ دعوت کا قلبِ انسانی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان فوراً اپنی اصلاح کرلیتا ہے۔
  • اس سے غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے غلطی کرنے والے کے دل میں داعی اور نصیحت کرنے والے کی قدر و منزلت اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • دعوت کا یہ اسلوب اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب مخاطب کی غلطی عام لوگوں سے پوشیدہ ہو، لیکن اگر لوگوں کو اس کا علم ہو تو اس صورت میں اس کو براہ راست تنبیہ کر دینا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اگر سب کے سامنے اس کو تنبیہ کی جائے گی تو یہ سب کے سامنے اس کی رسوائی کا باعث بن جائے گی اور اس صورت میں اس کی طرف سے کسی قسم کا منفی ردِ عمل بھی ممکن ہے۔

مناسب طلب/ آمادگی کا ہونا

مناسب طلب اور ذہنی آمادگی کے بغیر دنیا کا کوئی کام بھی انسان خوش اسلوبی اور کامیابی سے انجام نہیں دے سکتا ۔دعوت و تبلیغ کے لیے بھی ذہنی آمادگی اولین شرط ہے۔ جب کوئی شخص کسی مسئلہ کو جاننے کی خواہش کرے، اس کے بارے میں سوال کرے ، اور اس کا دل اس کی طرف متوجہ ہو ، اس وقت مسئلہ بتانے سے اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ پختگی سے ذہن نشین ہو جاتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر سوال کیے بغیر اور جذبۂ شوق کو ابھارے بغیر معلومات دی جائیں تو اس قدر فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اس لیے کارِ دعوت میں مشغول ہر شخص کو مخاطب کی ذہنی آمادگی کا لحاظ رکھنا چاہیے، تاکہ اس کی دعوت مؤثر ہو ۔صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب تک مخاطب کی ذہنی آمادگی اور خلوص نیت کا جائزہ نہ لے لیتے اس وقت تک اس کو دعوت نہ دیتے تھے۔

قیس بن کثیر سے روایت ہے کہ حضرت ابو الدرداءؓ دمشق میں تھے کہ ان کے پاس ایک شخص مدینہ سے حاضر ہوا ، آپؓ نے اس سے پوچھا : اے بھائی ! کس مقصد کیلئے آئے ؟ اس نے کہا : میں آپؓ سے صرف حدیث رسول ﷺسننے حاضر ہوا ہوں ، تو فرمایا : کسی اور حاجت یا تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ؟ تو اس نے کہا :

ما جئتُ الاّ فی طلب ھذا الحدیثِ
میں تو صرف طلب حدیث کیلئے آپؓ کے پاس آیا ہوں

چنانچہ جب حضرت ابوالدرداءؓ نے اس کے خلوص کو اچھی طرح پرکھ لیا اور حدیثِ رسول ﷺ کی طلب میں اس کو پوری طرح آمادہ پایا تو اس کے سامنے حدیث بیان کی۔ (۱۲)

حارث بن معاویہ الکندی کا بیان ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں سوار ہو کر آئے، چنانچہ جب وہ مدینہ میں داخل ہوئے تو حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ کس وجہ سے آئے ہیں ؟ بولے : تاکہ آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں ۔ فرمایا : وہ تین چیزیں کیا ہیں ؟ بولے: 

ربما کنت أنا والمرأۃ فی بناء ضیق فتحضر الصلٰوۃ فان صلیت انا وھی کانت بحذا ئی ، وان صلیت خلفی خرجت من البناء ‘‘ فقال عمرؓ ’’ تستر بینک وبینھا بثوب ثم تصلی بحذائک ان شئت ، وعن الرکعتین بعد العصر ، فقال : نھانی عنھما رسول اﷲﷺ ، قال : وعن القصص فانھم أرادونی علی القصص فقال : ما شئت(۱۳)
’’ بسا اوقات میں اور میری بیوی ایک تنگ مکان میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت آجاتا ہے ، اگر میں نماز پڑھوں تو وہ میرے سامنے ہوتی ہے اور اگر میں تھوڑا پیچھے ہو کر نماز پڑھوں تو وہ مکان سے باہر نکل جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : تو اپنے اور اس کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کر لے پھر تم اپنے سامنے والے حصہ میں اگر چاہو تو نماز پڑھ لو۔ اور جہاں تک عصر کے بعد دو رکعتوں کا سوال ہے تو رسول اﷲ ﷺنے مجھے اس سے منع فرمایا ہے ۔ حارث الکندی نے کہا کہ لوگ مجھ سے وعظ گوئی کا مطالبہ کرتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا : جو تمہاری مرضی ہو‘‘۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید جس قدر جلدی پڑھ کر ختم کر لیں اسی قدر زیادہ ثواب ملے گا۔ ایک شخص حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ام المؤمنین ! لوگ ایک شب میں قرآن دو دو ، تین تین بار پڑھ لیتے ہیں؟ فرمایا : ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں برابر ہیں ۔ رسول اﷲﷺ تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے لیکن سورہ بقرہ ، آل عمران اور نساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے (گویا انھیں تین سورتوں تک پہنچتے پہنچتے رات آخر ہو جاتی تھی) جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو خدا سے دعا مانگتے اور جب کسی وعید کی آیت پر پہنچتے تو پناہ مانگتے۔(۱۴)


حوالہ جات

(۱) اصلاحی ،امین احسن،’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘: ص: ۱۳۳،فاران فاؤنڈیشن،لاہور

(۲) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب ما کان النبیﷺ یتخولھم بالموعظۃ الحسنۃ..... ح: ۶۹، ص:۱۷۔ صحیح البخاری، کتاب الادب، با ب قول النبیﷺ: یسّروا ولاتعسّروا، ح: ۶۱۲۵، ص:۱۰۶۷

(۳) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاماً معلومۃ،ح:۷۰، ص: ۱۷۔ ایضاً،کتاب الدعوات،باب الموعظۃ ساعۃ بعدساعۃ،ح:۶۴۱۱،ص:۱۱۱۳۔ صحیح مسلم،کتاب صفۃ المنافقین واحکامھم،باب الاقتصاد ،فی الموعظۃ ،ح:۷۱۲۷،ص:۱۲۲۷

(۴) المسند، مسند عبد اللہ بن مسعود، ح: ۴۰۳۱ ،۳۵۷۱ ، ۱/۶۲۳۔ صحیح البخاری،کتاب االدعوات،باب الموعظۃ ساعۃ بعد ساعۃ،ح:۶۴۱۱،ص:۱۱۱۳

(۵) المسند، حدیث السیدۃ عائشہؓ، ح،۲۵۲۹۲، ۷/۳۱۰

(۶) صحیح البخاری،کتاب الدعوات، ما یکرہ من السجع فی الدعا، حؒ ۶۳۳۷،ص۱۱۰۲

(۷) المسند،مسند علیؓ بن ابی طالب، ح:۷۹۹،۱/۱۶۴

(۸) الموطا،کتاب الحج،باب ہلال مکۃ ومن بھا من غیرھم،ح:۳۸۱،ص:۲۳۰

(۹) حلیۃ الاولیاء ،تذکرہ سلمان الفارسیؓ،۱/۲۶۰

(۱۰) الادب المفرد، باب الادب و اخراج الذین یلعبون بالنرد......ح:۱۲۷۵،ص:۳۲۸

(۱۱) المسند،حدیث ابی ایوب انصاریؓ،ح:۲۳۰۷۰ ۶؍۵۸۶

(۱۲) جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ح:۲۶۸۲،ص:۲۰۹۔ المسند،حدیث ابی الدرداءؓ،ح:۲۱۲۰۸،۶/۲۵۴

(۱۳) المسند، مسند عمر بن الخطابؓ،ح:۱۱۲ ، ۱/۳۲

(۱۴) المسند، حدیث السیدۃ عائشہؓ، ح: ۲۴۳۵۴، ۷/۱۷۱

(جاری)

سیرت و تاریخ

Flag Counter