پاک بھارت اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے خیالات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان شائع ہوا کہ پاک بھارت گول میز کانفرنس منعقد ہونی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے اس سلسلے میں مشرقی اور مغربی جرمنی کی مثال دی جو نصف صدی کے بعد دوبارہ متحد ہو چکے ہیں۔ 

ہماری رائے میں جرمنی کی مثال کا اطلاق پاک بھارت اتحاد پر نہیں ہو سکتا کیونکہ جرمنی کی تقسیم خالصتاً اتحادی قوتوں کی پیدا کردہ تھی، جنہیں اندیشہ تھا کہ متحدہ جرمنی دوبارہ طاقت پکڑ کر ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ تقسیم ہند کا معاملہ اس سے خاصا مختلف ہے کہ اس تقسیم میں بنیادی کردار داخلی قوتوں کا تھا۔ ہمارا اشارہ ہندو مسلم اختلافات کی طرف ہے جو اب بھی قائم ہیں، لہٰذا یہ بات کہنے کی حد تک تو آسان ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین اختلافات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عملاً ایسے کسی اتحاد کی طرف قدم بڑھانا جوے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس اتحاد کی کوئی صورت اگر پیدا ہوئی تو اس کی نوعیت وہ نہیں ہوگی جو مولانا کے ذہن میں ہے بلکہ یہ اتحاد غالباً اسٹیٹ سسٹم کے پھیلاؤ (proliferation) سے جڑ پکڑے گا۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ مزید ذہن میں رہے کہ پاکستان کے ریاستی نظام کا پھیلاؤ کم از کم دو جہتوں کو محیط ہوگا۔ ایک تو، علاقائی تقاضوں کے پیش نظر، خطے کے اندر، مثال کے طور پر سارک اور ایکو وغیرہ کی فعالیت میں اضافے کی شکل میں، اور دوسرا اپنے اسلامی تشخص کی بقا اور اس کے مقصود پھیلاؤ کے پیش نظر عالمی سطح پر، مثلاً او آئی سی کے حق میں ریاستی اختیارات سے ممکنہ حد تک دست برداری کی صورت میں۔ چنانچہ صرف پاک بھارت اتحاد تاریخی تناظر، موجودہ عالمی ماحول اور ہمارے عزائم کے ساتھ زیادہ لگا نہیں کھاتا۔ اس ضمن میں موجودہ عالمی تناظر کے حوالے سے بعض تفصیلات زیر نظر شمارے میں ’’سماجی تبدیلی کے نئے افق‘‘ کے زیر عنوان ہماری تحریر میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

حالات و مشاہدات