اگست ۲۰۰۳ء

موجودہ صورتحال اور علما کی ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوۃ! سب سے پہلے جماعت الدعوۃ پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ اس محفل میں حاضری، آپ سے حضرات سے کچھ گزارشات پیش کرنے اور بہت سے علماے کرام کی گفتگو سننے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ جزاے خیر سے نوازیں اور ہم سب کو کچھ مقصد کی باتیں کہنے، سننے اور ان پر عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمی۔ یہ محفل علماے کرام کی ہے اور موجودہ حالات میں ان کی ذمہ داریوں پر گفتگو اس کنونشن اک خصوصی موضوع ہے۔ جہاں تک علماے کرام کے حوالہ سے موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، مجھے ’’چومکھی لڑائی‘‘ کا محاورہ یاد آرہا ہے جس میں انسان کو آگے، پیچھے، دائیں،...

پاک بھارت اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے خیالات

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان شائع ہوا کہ پاک بھارت گول میز کانفرنس منعقد ہونی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے اس سلسلے میں مشرقی اور مغربی جرمنی کی مثال دی جو نصف صدی کے بعد دوبارہ متحد ہو چکے ہیں۔ ہماری رائے میں جرمنی کی مثال کا اطلاق پاک بھارت اتحاد پر نہیں ہو سکتا کیونکہ جرمنی کی تقسیم خالصتاً اتحادی قوتوں کی پیدا کردہ تھی، جنہیں اندیشہ تھا کہ متحدہ جرمنی دوبارہ طاقت پکڑ کر ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ تقسیم ہند کا معاملہ اس سے خاصا...

صحابہ کرامؓ کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کا لحاظ (۱)

― پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت و تبلیغ ایک مقدس فریضہ اور کارِ انبیا ہے اور انسانی نفسیات اور فہم وشعور سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ انسان کی عملی زندگی میں قوتِ محرکہ اس کا دل اور دماغ ہے۔ اگر داعی مخاطب کے دل ودماغ کو اور اس کے فہم وشعور کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو پھر باقی کام آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے دعوت سے بھی پہلے داعی کے لیے اس اسلوب کا تعین ہے کہ مخاطب کے فہم وشعور میں یہ بات کس پیرایے میں پیش کرکے بٹھائی جائے اور اس حوالے سے انسانی نفسیات کے کس پہلو کو پیش نظر رکھا جائے؟ نفسیات دعوت وتبلیغ کا ہی موضوع اور فن ہے۔ مبلغ کا کام انسان سازی ہے اور اس کام میں اس کا علم...

سماجی تبدیلی کے نئے افق اور امت مسلمہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

اپنے ظہور کے بعد سے انسانی معاشرہ نوع بہ نوع تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتا چلا آ رہا ہے۔اکیسو یں صدی میں یہ تبدیلیاں رفتار اور نوعیت کے اعتبار سے منفرد کہی جا سکتی ہیں۔اس وقت انسانی آبادی کی بہتات اور اس سے جنم لیتے مختلف النوع مسائل جہاں فکر انگیز ہیں، وہاں تبدیلی کی لہر کو انگیخت کرنے میں بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ افراطِ آبادی اور کرپشن سے لے کر توانائی اور پانی کے بحران تک بڑے بڑے مسائل ایسے ہیں جن پر دنیا بھر میں بحث ومباحثہ جاری ہے کہ ان پر کیونکر قابو پایا جا سکتا ہے۔ موجودہ عہد میں عالمی سطح پر جہاں تک نظامات (Systems) کا تعلق ہے، ان کی تشکیلِ...

کشمیر کی سیاسی بیداری میں علمائے دیوبند کا کردار

― پروفیسر محمد یونس میو

برصغیر پاک وہند میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو فکری، علمی، اصلاحی، عملی اور سیاسی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، ان کے پس منظر میں کسی نہ کسی طرح حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا احمد رضا خان، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور علامہ محمد اقبال کی فکر کارفرما رہی۔ ہر مذہب کے پیروکار اپنا اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن جو جامعیت دیوبند کے اہل علم میں ہے، وہ کسی دوسری جگہ نہیں۔ قرآن وحدیث، فقہ وتصوف، سیرت وتاریخ، تقلید واجتہاد، فکر ونظر، نقل واقتباس، معرفت...

عقیدۂ حیاۃ النبی اور شرک

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ماہنامہ الشریعہ بابت مئی/جون ۲۰۰۳ء میں آپ کے مضمون کا اقتباس جو عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم میں دیا اور اس پر مخالفت اور موافقت میں مضامین نظر سے گزرے۔ میں آپ کے زور استدلال سے متاثر ہوں۔ میں ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے آپ کے علم سے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔ دار العلوم کراچی،جس کے مہتمم جناب محمد رفیع عثمانی صاحب ہیں، نے مجھے لکھا: ’’آپ ﷺ کے روضہ اطہر پر درود وسلام پڑھنے والے کے لیے جو آداب ذکر کیے گئے ہیں، وہ درست ہیں۔ چنانچہ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کو دنیا...

قارئین کے تنقیدی خطوط

― ادارہ

الشریعہ جون ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ’’برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے جناب الطاف احمد اعظمی کی ایک تحریر شائع کی گئی جس میں دور حاضر کی تین بڑی جماعتوں یعنی تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور جمعیۃ العلماء ہند میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض خامیاں اس قدر واضح ہیں کہ ہر ذی شعور فرد کے مشاہدے کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی وکالت نہیں کی جا سکتی، البتہ جمعیۃ علماے ہند پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نے مولانا ابو الکلامؒ کے تذکرہ میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور ان کی طرف ایسی باتوں کا انتساب کیا ہے...

تخصص تدریب المعلمین برائے مدارس دینیہ

― ادارہ

جدید تعلیم کے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے حکومت نے سیکڑوں تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں بلکہ دفاع، بیوروکریسی، انکم ٹیکس، آڈٹ اور حکومت کے ہر محکمے نے اپنے اپنے تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے تعلیمی ادارے اور سکول سسٹم بھی تربیت اساتذہ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس ہونے کے باوجود ان کے اساتذہ کی تربیت کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل نہیں اور پھر یہ مدارس آپس میں متحد اور منظم بھی...

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عطیہ کتب

― ادارہ

گوجرانوالہ کی معروف مذہبی وسماجی شخصیت جناب علامہ محمد احمد لدھیانوی نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے گراں قدر ذخیرۂ کتب میں سے درج ذیل کتابیں الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عنایت کی ہیں: ۱۔ التفسیر المظہری ( ۱۰ جلدیں) ۲۔ الاتقان فی علوم القرآن ۳۔ مجمع الانہر(۲ جلدیں) ۴۔ زجاجۃ المصابیح (۵ جلدیں) ۵۔ کتاب الحجج للامام محمدؒ ۶۔ مسند الامام الاعظمؒ مع شرح الملا علی القاریؒ ۷۔ الموطا للامام محمدؒ ۸۔ کتاب الآثار للامام ابی یوسفؒ ۹۔ آثار السنن ۱۰۔ نبراس الساری فی اطراف البخاری ۱۱۔ المسوی شرح الموطا (۲...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’کمالات سیرت النبی ﷺ‘‘۔ پروفیسر عبد الجبار شیخ باذوق اور باہمت اصحاب دانش میں سے ہیں اور سیالکوٹ چھاؤنی میں ’’سیرت سٹڈی سنٹر‘‘ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کے فیضان کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ زیر نظر کتاب سیرت نبوی کے مختلف عنوانات پر ان کے مقالات کا مجموعہ ہے جن میں انہوں نے آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبہ کے حوالہ سے مفید اور معلوماتی گفتگو کی ہے۔ پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مکتبہ سید احمد شہید، اردو بازار لاہور سے طلب کی جا سکتی ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔ ’’نجم...

سیاسی کے بجائے معاشرتی انقلاب کی ضرورت

― محمد موسی بھٹو

تعلیمی اداروں، سماجی اداروں اور اسلام کے نظریاتی اداروں سے وابستہ وہ باصلاحیت افراد جو سیاست میں دینی جدوجہد کے ذریعہ بہت بڑی تبدیلی کی توقع پر معاشرہ کی سطح پر اپنے حصہ کے کام کو معطل کیے ہوئے ہیں یا اس کام کی افادیت کے قائل نہیں، انہیں اس نکتہ پر ضرور غور وفکر کرنا چاہیے کہ اول تو معاشرہ کی سطح پر تبدیلی کے لیے اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال کے بغیر صحت مند سیاسی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اگر اس طرح کی تبدیلی واقع بھی ہو جائے تو اس تبدیلی میں ان کا کردار نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود تو اس عظیم کام کی سعادت سے محروم ہی رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کے...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter