قارئین کے تنقیدی خطوط

ادارہ

(۱)

الشریعہ جون ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ’’برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے جناب الطاف احمد اعظمی کی ایک تحریر شائع کی گئی جس میں دور حاضر کی تین بڑی جماعتوں یعنی تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور جمعیۃ العلماء ہند میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض خامیاں اس قدر واضح ہیں کہ ہر ذی شعور فرد کے مشاہدے کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی وکالت نہیں کی جا سکتی، البتہ جمعیۃ علماے ہند پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نے مولانا ابو الکلامؒ کے تذکرہ میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور ان کی طرف ایسی باتوں کا انتساب کیا ہے جن کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں۔

مولانا آزادؒ کی فکر اور ان کے اسلوب نگارش کے بارے میں الطاف اعظمی صاحب کا کہنا ہے کہ اس سے ملت اسلامیہ کو بے حد نقصان پہنچا ہے جبکہ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ مولانا آزادؒ کی فکر اور اسلوب نگارش پر اس دور کے اکابر علماے کرام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمن رحمہم اللہ جیسے صاحب نظر اور معاملہ فہم علما جس شخص پر اعتماد کریں، اس کے بارے میں الطاف اعظمی صاحب کی یک طرفہ رائے کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا کے ہفتہ وار اخبار ’الہلال‘ کے بارے میں الطاف صاحب کا کہنا ہے کہ اس نے ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ اسی ’الہلال‘ کے بارے میں اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کا قول ہے کہ ’’ہم اپنا سبق بھولے ہوئے تھے، الہلال نے یاد دلایا ہے۔‘‘ اسی طرح حکومت برطانیہ کی طرف سے ’الہلال‘ کی جبری بندش بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جناب الطاف صاحب کی رائے جانبدارانہ ہے۔

الطاف اعظمی صاحب نے مولانا پر ایک اور الزام یہ لگایا ہے کہ انہوں نے ادنیٰ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کیا جبکہ اس کے مقابلے میں چند ایک ہندو سیاسی لیڈروں کا نام لے کر انہوں نے کہا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی سیاسی مقاصد کے لیے اپنا مذہبی لٹریچر استعمال نہیں کیا۔ شاید الطاف صاحب اس بات کو بھول گئے کہ مولانا جس مذہب کو ماننے والے ہیں، اس کے نزدیک دین و دنیا اور مذہب وسیاست کے الگ الگ خانے نہیں ہیں بلکہ وہ زندگی کے تمام دائروں میں کلی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مولانا آزاد کی سیاست بھی مذہب ہی کی راہ سے آئی تھی۔ وہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اس لیے لگے تھے کہ ان کے نزدیک یہ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا تھا۔ وہ حکومت وسیاست کا کام ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ 

جہاں تک مولانا کے سیاسی مقاصد کا تعلق ہے، وہ ادنیٰ تھے یا اعلیٰ؟ اس بات کا فیصلہ وقت کے قاضی نے بہت جلد کر دیا ہے۔ جن لوگوں نے مولانا کی رائے سے اختلاف کر کے ’’اعلیٰ‘ ‘ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کیا تھا، وہ آج آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بن گئے ہیں اور انہوں نے مذہب کا نام لے کر سیدھے سادے مسلمانوں کو غلامی کے گڑھوں میں کچھ اس طرح سے دھکیل دیا ہے کہ اب ان کا اپنے پاؤں پر ازسرنو کھڑا ہونا ناممکن نظر آنے لگا ہے۔

جناب الطاف احمد صاحب نے مولانا کی تفسیر ’ترجمان القرآن‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان کی تفسیر میں خود نمائی کے اثرات پورے طور پر موجود ہیں اور تفسیری جدت طرازی کے شوق میں مولانا نے بعض فکری اعتزالات (وحدت ادیان وغیرہ) کی داغ بیل ڈالی ہے۔‘‘ 

وحدت ادیان کے بارے میں مولانا آزاد کی رائے کو سمجھنے سے الطاف صاحب قاصر رہے۔ مولانا کے نزدیک وحدت ادیان سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ موجودہ مذاہب عالم کی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں اور یہ موجودہ شکل میں سب کے سب برحق ہیں۔ مولانا تو یہ تصور دینا چاہتے ہیں کہ تمام آسمانی مذاہب کی اصل اور بنیادی تعلیم ایک ہی ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خدا پرستی اور انسان دوستی کی دعوت نہ دی ہو۔ مدعیان مذہب کی ظاہر پرستیوں اور خام کاریوں کو مذہب خیال کر کے تضاد پیدا کرنا کج فہمی کی علامت ہے۔ اس تصور کے پیش کرنے میں مولانا آزاد منفرد نہیں ہیں بلکہ فیلسوف اسلام امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی اپنی تعلیمات میں سارے ادیان ومذاہب اور شریعتوں کا اصلاً ایک ہونا ثابت کیا ہے اور ان بنیادی اصولوں کا تعین بھی کیا ہے جو ہر دین کا مقصود حقیقی تھے۔

باقی رہی مولانا کے دیگر علمی تفردات پر نکتہ چینی تو یہ ہمارا اجتماعی مزاج بن گیا ہے کہ خوبیوں کو نظر انداز کر کے خامیوں کو عقاب کی نظر سے چنتے اور صبا کی رفتار سے پکڑتے ہیں۔ شاید الطاف صاحب اس بات کو بھول گئے ہیں کہ افکار ونظریات کا شذوذ ہر محقق اور مجتہد میں پایا جاتا ہے۔ قرون اولیٰ سے لے کر اب تک بے شمار محققین ومجتہدین گزرے ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہے جس کے افکار میں کہیں نہ کہیں تفرد نہ ہو لیکن کسی کے اجتماعی کارناموں کو نظر انداز کر کے اس کے تفردات کو اچھالنا غیر دانش مندانہ اور جانبدارانہ رویہ ہی کہلا سکتا ہے۔

محمد عمر کشمیری

شریک دورۂ حدیث

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ


(۲)

۴۔۷۔۲۰۰۳

جناب محترم رئیس التحریر صاحب

آداب

’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں آپ کا ’’کلمہ حق‘‘ پڑھا۔ مجھے آپ کے اس خیال سے اتفاق ہے کہ مغربی ومشرقی تہذیب جو رخ اختیار کر چکی ہے یا اختیار کر رہی ہے، مسیحی اور اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ بد قسمتی سے یہ سب کچھ انسانی حقوق اور اس حوالے سے کیڑے مکوڑوں کی طرح روزانہ بننے والی ’’این جی اوز‘‘ (NGOs) کا کیا دھرا ہے۔

مجھے آپ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کہ پاکستان کے تمام پادری صاحبان این جی اوز کے جال میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے خود کو انسانی حقوق اور این جی اوز کے فتنے سے نہ صرف آزاد رکھا ہوا ہے بلکہ ہماری تو ان کے ساتھ باقاعدہ ’’جنگ‘‘ ہو رہی ہے۔ ہم مسیحیت کی تعلیمات کو ہی نسل انسانی کے لیے بہترین طرز زندگی سمجھتے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کی اخلاقی تعلیمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

امید ہے کہ آپ ہمارا نقطہ نظر سمجھ گئے ہوں گے۔ ہم پاکستانی مسیحی ہیں اور ہر قسم کے غیر اخلاقی کام کے خلاف مصروف جنگ رہتے ہیں اور یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ آپ کا تعاون یقیناًہمارے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔

زیادہ سلام

مخلص

میجر (ریٹائرڈ) ٹی ناصر

پریسبٹیرین بشپ آف پاکستان

پی او بکس ۶۷۰۔ گوجرانوالہ


مکاتیب