عراق پر امریکی حملہ اور عرب لیگ کا موقف

ادارہ

عرب لیگ نے عراق پر امریکی اتحادی فوجوں کے حملے کو جارحیت سے تعبیر کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جنگ سے لا تعلقی کا اعلان کرے۔ گزشتہ روز قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے وزراے خارجہ کے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی جس میں تمام عرب وزراے خارجہ نے متفقہ طور پر عراق پر امریکی حملے کو جارحیت سے تعبیر کیا اور مطالبہ کیا کہ امریکی اتحادی فوجیں فوراً عراق سے نکل جائیں۔ قرارداد میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

عرب وزراے خارجہ کے اجلاس کے بعد عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمر موسیٰ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے اقوام متحدہ کے حکام سے غیر رسمی تبادلہ خیال ہو چکا ہے اور شام سے بھی بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک عرب ملک پر حملہ کیا اور یہ حملہ تمام عرب ممالک کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں کیے گئے پہلے عرب لیگ کے اجلاس میں ہر قسم کی جنگ کی مذمت کی گئی تھی۔ عرب لیگ کی پالیسی ہے کہ افسر سے لے کر صدر تک سب مل کر امریکہ کی طرف سے جنگ کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ عرب لیگ نے کہا کہ عراق پر حملہ کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس حملے سے معصوم عراقیوں کو نقصان پہنچے گا۔ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ افغان جنگ کے خلاف بھی تھی اور عراق جنگ کے خلاف بھی ہے۔ 

عرب لیگ نے عراق کے خلاف امریکی واتحادی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ پیر کو عرب لیگ کے وزراے خارجہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مصر، شام اور اردن کے وزراے خارجہ نے کھل کر امریکی واتحادی کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ عراق کے خلاف امریکی کارروائی سے علاقے میں نفرت کے ابھار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے عرب عوام کو تشویش لاحق ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں عراق کے خلاف کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے ہر اس کوشش کی مخالفت کا عزم ظاہر کیا جس سے عراق کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ اجلاس میں ۲۲ ممالک کے وزراے خارجہ نے شرکت کی۔ عراقی وزیر خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے شام کے راستے قاہرہ پہنچے تھے۔

(روزنامہ اوصاف اسلام آباد/ ۲۵ مارچ ۲۰۰۳ء)

حالات و واقعات