نفاذ اسلام ۔کیوں اور کیسے؟

ڈاکٹر محمود الحسن عارف

(۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا۔)


اس وقت جب کہ دنیا میں ایک طرف تو اسلام کے مخالفین ہیں جو یہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ اسلام سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے او ر ودسری طرف اسلام کے وہ نادان دوست ہیں جوکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام دنیا کے جدید چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے نفاذ اسلام کے متعلق بڑے حزم واحتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک بھی غلط اٹھاہواقدم منزل کو کوسوں دور کر سکتاہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسے دور میں جب زندگی کا ہر ایک شعبہ ہی تو جہ اور اصلاح کا طالب ہے ،نفاذ اسلام کی ابتدا کیسے اور کہاں سے کی جا ئے ؟ اس سلسلے میں مناسب ہوگاکہ ہم سیرت طیبہ کے ان پاکیزہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کریں ،جن سے ہر دور میں لوگو ں کو رہنمائی ملتی ر ہی ہے۔

نبی اکرم ﷺ جب بھی اپنے مبلغ کو کسی علاقے میں دین کی تبلیغ کے لیے بھیجتے تو دوباتوں کی خصوصی طور پر تاکید فرماتے جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

۱۔ تدریج کا اصول

نبی اکرم ﷺ نے جب حضرت معاذبن جبل کو یمن کے علاقے میں مبلغ اور حاکم بناکر بھیجا تو خصوصی طور پر اس بات کی تاکید فرمائی کہ وہ وہاں جاکر تدریج کے اصول کا خیال رکھیں۔ خود نبی اکرمﷺ کا اپنااصول مبارک بھی یہی تھا،جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے بیان فرمایاہے۔ تدریج کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ احکام اسلام کو پہنچانے یا ان کے نفاذ میں حکمت کا خیال رکھاجائے ،جو قرآن مجید کی حکمت آمیز تعلیمات کا نتیجہ ہے ۔

۲۔ اصول تبشیر

قرآن مجید نے احکام اسلام کی خصوصیت بیان کر تے ہوئے یہ وضاحت کی ہے کہ : یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (اللہ تعالی تمہارے لیے آسانی چاہتاہے ،تنگی نہیں چاہتا )علاوہ ازیں نبی اکرمﷺایسے موقعوں پر صحابہ کرام کو بطور خاص یہ نصیحت فرماتے کہ تم لوگوں کو بشارتیں دینا، انہیں دین سے برگشتہ نہ کرنا ،ان کے لیے آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اس کے دین رحمت ہونے کا تصور لوگوں کے سامنے کچھ اس طرح واضح کیاجا ئے کہ لوگ برضاورغبت اس کا سایہ قبول کر یں اوراس کے لیے کوئی سختی یاتشد د اختیار نہ کیا جائے۔

دوسری طرف جب ہم اپنے ملک اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتاہے کہ آج کا انسان سر سے پاؤں تک مختلف قسم کی زیادیتوں، مظالم اور جبرواستحصال کا شکار ہے اور اسے کورٹ کچہری سے لے کر ہسپتال اور زمینوں کی دیکھ بھال تک ہر ایک سطح پر طرح طرح کی زیادتی اور ظلم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ،لہٰذا اگر نفاذ اسلام کی ابتدا اسی چھوٹی سطح سے کی جا ئے تواس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اورنفاذ اسلام کی بنیادیں بھی مستحکم ہوں گی۔

اس نکتے کی مزید تشریح اور وضاحت اس طرح ہے کہ اسلامی نظام لوگوں کو دوطرح کی سہولیات عطاکرتاہے:

۱۔ظلم اور جبر کے نظام کا کاتمہ 

۲۔لوگوں کی ضروریات کی کفالت 

ہم جانتے ہیں کہ اگرچہ یہ اسلام کا مرکزی ہدف ہے، موجودہ حالا ت میں لوگوں کی ضروریات اور کفالت کے پروگرام پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے ابتدا نکتہ اول یعنی ظلم اور جبر کے نظام کے خاتمہ سے کی جائے ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلامی نظام کی سوفیصد کا میابی اوراس کی برکات سے مکمل طور پر استفادہ کے لیے ضروری ہے کہ نفاذ اسلام کر نے والی چھوٹی اور بڑی تمام بیوروکریسی اسلامی نظام کے متعلق پوری طرح آگہی رکھتی اور اس کے تحت مکمل طور پر تربیت یافتہ ہو،جیساکہ ایک سینئر بیوروکر یٹ نے گفتگوکے دوارن میں واضح کیاکہ اس کے بغیر کوئی نظام بھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا۔ بہرحال موجودہ سیٹ اپ میں رہتے ہوئے اس پر حسب ذیل طریقے سے عمل درآمدکیاجاسکتاہے ۔ ابتدائی اقدام کے طور پر نفاذ اسلام کی ابتدا رفع الظلم یعنی لوگوں سے ظلم اور زیادتی کے نظام کے ازالہ سے کی جائے اور اس کے لیے بیوروکر یسی کی اصلاح یاان پر نقد ومعائنے کا نظام سخت کر نا ہوگا۔موجودہ حکومت کا ہدف گڈگو رننس ہے جس کا مطلب ایک اچھی حکومت ہے جبکہ اسلامی نظام کا ہدف بھی گڈگورننس ہی ہے اور ذیل میں جوتجاویزدی جاری ہیں، ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک اچھانظام حکومت تشکیل دیاجائے۔

۱۔ تھانے سے متعلقہ مسائل

عوام کا ایک بہت بڑاطبقہ تھانے اورکورٹ کچہری کے مسائل سے سخت پریشان ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ لوگو ں کی پوری پوری زندگیاں اپنے حقوق کے حصول کے لیے گزرجاتی ہیں مگر انہیں ان کا حق نہیں ملتا، اس لیے نفاذ اسلام کی ابتدا تھانے کی اصلاح سے کی جائے تو بہت مناسب ہوگا۔

اس وقت حکومت پاکستان نے بھی تھانے کی اصلاح کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن ان سے عوام کوکوئی ریلیف نہیں ملا بلکہ عوام کو پریشان کرنے کے لیے زیادہ محاذ کھل گئے ہیں اس لیے تھانے کی اصلاح بنیادی نقطہ آغازہے اس لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں ۔

۱۔ حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے پولیس کی تنخواہ پر نظر ثانی کر ے اورانہیں تنخواہ اور مراعات کی مدمیں اتنی رقم دی جائے کہ وہ اوسط درجہ سے اپنا گزارہ کر سکیں اور وقتاً فوقتاً اس پر نظر ثانی کی جاتی رہے ۔

۲۔ہر ایک تھانے میں (یازون کی سطح پر )اگرممکن ہوتو کسی مفتی یاعالم دین کا تقر رکیا جا ئے جو روزانہ تھانے میں کچھ گھنٹے گزارے اور تھانے /تھانوں کے تمام معاملات پر نظر رکھے اور جہاں ضروری ہو، مداخلت کر ے اور بلاتفریق ہر شخص کو امن وانصاف مہیا کر نے کو یقینی بنائے اور تھانے کی سطح سے رشوت کلچر کا خاتمہ کر ے۔

۳۔ بروقت ایف آئی آر کے اندراج کو ممکن بنایاجائے۔ اس وقت بڑے سے بڑا نقصان ہوجانے کے باوجود تھانے میں ایف آئی آر کا اندراج کوئی آسان کام نہیں ہے ،اس کے لیے رشوت،چھوٹی بڑی سفارشیں ،حتیٰ کہ بعض اوقات ہائی کورٹ تک کی طرف بھی رجوع کرنا پڑتاہے ۔ اس مسئلے میں عوام کو سہولت مہیا کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔

۴۔تھانے میں تفتیش کے طریقے اور اندازکو بدلنے کی ضرورت ہے۔ تھانیدار بہت مشکوک لوگوں کو پکڑاکر لے آتاہے، ان کی چھترول کی جاتی ہے اور ان میں سے کسی ایک کو منوالیاجا تاہے۔ اس کے بجائے خالص سائنسی اور فنی بنیادوں پر مقدمات کی تفتیش کی جائے اور بے گناہوں کو تھانے کے ظلم اور زیادتی سے بچایا جائے ۔

۵۔خواتین سے متعلقہ معاملات کی تفتیش کے لیے مکمل طور پر خواتین کے باپردہ سنٹر قائم کیے جائیں ،جن کے اندراج مقدمہ اور تفتیش کا اپنانظام ہواور خواتین ونگ مکمل طور پر مردوں کے ونگ سے الگ ہواور یہ براہ راست آئی جی کے واسطے سے وزیراعلیٰ کے ماتحت ہو۔اس وقت ہماری چھوٹی اور بڑی عدالتیں جرائم کا سدباب کر نے کے بجائے جرائم کی پرورش اور نرسنگ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ اگر کو ئی شخص محض شبے میںیا کسی چھوٹے سے چھوٹے جرم میں پکڑاجاتاہے تو وہ ان کورٹ کچہریوں کے چکر میں مکمل طور پر ایک عادی مجرم بن کرنکلتاہے، لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ عدالتی نظام کی اصلاح کا ایک جامع اور مربوط نظام اختیار کیاجائے۔ اس سلسلے میں چندتجاویزحسب ذیل ہیں :

۲۔ کورٹ اور کچہری سے متعلقہ مسائل

(الف)چھوٹی اور بڑی عدالتوں میں منصفف کی کرسی پر تقر ر کے لیے اچھے خاندانوں سے اہل اور موزوں افرادکا تقرر کیاجائے اوران کی اخلاقی شہرت کوبھی پیش نظر رکھاجائے۔

(ب)اگر کسی جج یامجسٹریت کے متعلق پتہ چلے کہ وہ رشوت لیتاہے تو اسے فوری پر معزول کردیاجائے بشرطیکہ الزام درست ثابت ہو۔

(ج)چونکہ انصاف مہیا کر نا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور انگریزہمیں جو نظام دے گیاہے، اس میں انصاف خریدا جاتاہے،انصاف ملتانہیں ہے اس لیے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل امور پر توجہ کی جائے:

۱۔عدالتوں میں مقدمہ دائر کر نے کے لیے فیس وغیر ہ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کردیاجائے۔ انصاف کے حصول کے لیے فیس لینا، خواہ وہ کورٹ فیس ہی کے ضمن میں ہو، ناانصافی کے زمرے میں آتاہے ۔

۲۔البتہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی شخص نے مدعی علیہ پر نا جائزمقدمہ کیا تھا تو عدالت اس سے جرمانہ کے طور پر رقم وصول کر سکتی ہے ۔

(د)مقدمات کا بروقت فیصلہ کر نے کے لیے مرکزی حکومت سے مل کر کوئی نظام وضع کیا جائے اور مقدمے کے مطابق فیصلہ صادر کر نے کا ایک ٹائم ٹیبل مقر ر کر دیاجائے۔ اس وقت عام طور پر مقد مات کے تصفیہ کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل مقرر نہیں ہے۔ عدالت دونوں فریقوں کوپیشیاں ڈال ڈال کر تھکادیتی ہے اور فیصلہ اس وقت صادر کر تی ہے جب ان میں سے کوئی ایک تھک ہار جاتاہے۔ اس نظام کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے ۔

(ھ)جو غریب اورمفلس لوگ مقدمات کی پیروی کر نے لیے وکلا کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے، اگر ان کا مسئلہ صحیح ہے تو حکومت انہیں مفت وکلا کی خدمات فراہم کر ے۔ اس سلسلے میں وکلا سے فی مقدمہ کے حساب سے فیس طے کی جاسکتی ہے ۔

(و)عدالتی نظام کو درست بنیادوں پر چلانے کے لیے ایسے دینی اور جدید قانون کے ماہرین پر مشتمل ایک شکایات سیل یا دیوان المظالم قائم کیاجائے جہاں تمام مقدمات اور ان کی قانونی کارروائی کی اگر ممکن ہوتو روزانہ ،ورنہ ہفتہ وار یاماہانہ بنیادوں پر رپورٹ وصول کی جائے تاکہ مقدمات کی پیش رفت سے حکومت آگاہ رہے اور اس سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھاسکے۔

(ز) جو غریب اور بے کس لوگ قبضہ گروپوں سے اپنی جائداد کا قبضہ نہیں لے سکتے ،انہیں ان کی جائیدادوں کا قبضہ دلانے اور ان کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا جائے۔

(ح)عدالت میں آنے والے گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ،جس کے لیے ماہرین کے مشورے سے کوئی بھی نظام وضع کیا جاسکتاہے ۔

علاوہ ازیں مختلف علاقوں میں جرگہ کی طرزپر ’’پنچ‘‘ یا ’’حکم‘‘ عدالتوں کا عوامی سطح پر تقرر کیاجائے اور چھوٹے چھوٹے مقدمات کے تصفیہ کے لیے ان عدالتوں کو اختیار دیاجائے۔ اس سلسلے میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کی جرگے سے متعلق مقامی روایات سے استفادہ ضروری ہے۔

۳۔ صیغہ مال

تیسراصیغہ یاشعبہ جہاں لوگوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، صیغہ مال ہے۔ عوام پٹواری اور تحصیلدار وغیر ہ کے ہاتھوں سخت پریشان رہتے ہیں۔ اس صیغے کی مکمل اصلاح کے لیے بھی دینی تعلیم یافتہ اورصاحب اخلاق افراد پر مشتمل اچھی بیورو کر یسی کی تقرری بے حد ضروری ہے ۔ مناسب ہوگا کہ حکومت ان کی تنخواہوں پر بھی نظرثانی کر ے اور انہیں ان کی ضرویات کے مطابق اتنی تنخواہیں اداکرے کہ وہ اوسط درجے کی زندگی گزارسکیں۔

اس صیغے کی اصلاح کے لیے حسب ذیل اقدامات کی ضرورت ہے :

۱۔پٹواری /تحصیلدار کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور اس سلسلے میں لوگوں سے دھونس اوردھاندلی سے جو رقوم ،جنس اور غلہ وغیرہ وصول کیاجاتاہے، اس کاسدباب کیا جائے۔

۲۔لوگوں کی اپنی جائیدادوں کی خرید وفروخت کے وقت محکمہ کی طرف سے جو ناجائز طور پر تنگ کیا جاتا ہے، اس کا مداواکیا جائے ۔

۳۔ آبیانے، عشر اور زرعی ٹیکس کے تعین اور اس کی وصولی کے نظام کی اصلاح کی جائے اور اس سلسلے میں جوافراط وتفریط دیکھنے میں آرہا ہے، اس کا خاتمہ کیا جا ئے۔

۴۔دیہا تی آبادی کے لیے نہروں، چشموں اور دوسر ے ذرائع آب رسانی سے لوگوں کے نفع کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں ہونے والی زیادیتوں کا خاتمہ کیا جا ئے ۔

۵۔حکومت شہری آبادی سے جائید اد ٹیکس کے نام پر جو ٹیکس وصول کر رہی ہے، اس پر نظرثانی کی جائے اور جائیداد کے حجم کی مناسبت سے ٹیکس لا گو کیا جائے۔

۶۔حکومت کا شت کاروں کو زرعی ادویات، بیج اور ٹریکٹر وغیر ہ کی خریداری کے لیے بلاسود قرضے جاری کرے اور جن لوگوں نے اس سے پہلے قرضے لے رکھے ہیں، ان پر بھی سود معاف کیا جائے ۔

۷۔بے گھر لوگوں کے لیے بلاسود قرضے دیے جائیں اور ان کی واپسی کے لیے آسان اقساط کی رعایت دی جائے ۔

۸۔بے روزگار نواجونوں کو ذاتی کا روبار کے لیے شراکت کے اصول پر یاقرض حسنہ کے طور پر قرضے دیے جائیں اور چھوٹے کاروبار چلانے کے لیے حکومت ہر طرح کی فنی اور تکنیکی سہولتیں مہیا کر ے ۔

۴۔ دوسرے شعبہ جات 

۱۔ان کے علاوہ دوسر ے محکمہ جات مثلا واپڈا،سوئی گیس اور پانی وغیر ہ کے دفاتر میں عوام کے ساتھ جوزیادتیاں روارکھی جاتی ہیں، ان کے ازالے کے لیے ہر محکمہ میں ایک موثر شکایات سیل قائم کیا جائے اوروہاں جوشکایات موصول ہوں، ان کا موثر طور پر ازالہ کیا جائے ۔بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن کے حصول کوآسان بنایاجائے اور یہ محکمے عوام کو جو ناجائزطور پر تنگ کر نے کے لیے تاخیری حر بے اختیار کر تے ہیں ،ان کا ازالہ کیا جائے اوران کو صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنایا جائے ۔

۲۔بنکوں میں بل جمع کرانے کے لیے کوئی ایسانظام وضع کیا جائے کہ دفتری اوقات میں تمام بنک اور دفتری اوقات کے بعد منتخب بنک تمام یوٹیلٹی بل وصول کر نے کے پابند ہوں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف ملے اوروہ بنکوں میں آسانی سے ااپنے بل جمع کراسکیں ۔

۵۔ بلدیاتی شعبہ جات

بلدیاتی شعبہ جات کا بھی عوام کے ساتھ بڑاگہراتعلق ہے۔ الجزائر اور ترکی میں اسلام پسند جماعتوں نے سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور لوگوں کی بلدیاتی سطح پر اس طرح خدمت کی کہ انتخابات میں انہیں ملکی سطح پر واضح کامیابی ملی ،اس لیے اس سطح پر عوا م کی خدمت کو موثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کی ضرورت ہے :

۱۔تمام بلدیاتی اداروں کو اس بات کا پا بند کیا جا ئے کہ وہ علاقے میں ترقیاتی اور صفائی کے کا م کروانے کے لیے میرٹ پر کام کر یں گے۔ الاحق فالاحق کے اصول پر کام کو موثر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کوئی موزوں اور مخصوص نظام وضع کر سکتی ہے جس میں انسپکشن (معائنے )اور نگرانی وغیر ہ کے طریقوں کا عمل وغیر ہ شامل ہے ۔

۲۔بلدیاتی سطح پر ہونے والے تر قیاتی کاموں سے رشوت خوری کا مکمل طور خاتمہ کردیاجائے ۔

۳۔عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے ہر ایک سطح پر شکایات سیل یا دارالمظالم کا قیام عمل میں لایاجائے ۔

۶۔ تعلیمی شعبہ 

۱۔ دوسرے شعبوں کی طرح تعلیمی شعبے کی اصلا ح کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ملک میں جاری دوعملی کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں چلنے والے غیر ملکی سکولوں کو ملکی نصاب تعلیم کا پابند بنایا جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کے نظام کو بہتر بنایاجائے ۔

۲۔ملک میں رائج العمل دو عملی کا ہر سطح پر خاتمہ کیا جائے۔ حکومت دینی اداروں کی بھی سرپر ستی کر ے ،اور ان کے نظام تعلیم میں موجوہ دورکے لیے ضروری مضامین کو شامل کر ے اوران ڈگریوں کوہر سطح پر تسلیم کیا جائے ۔

۳۔سکولوں اور کالجو ں میں نصاب تعلیم پر بھی نظرثانی کی جائے اوردینی تعلیم کا خاطرخواہ حصہ اس میں شامل کیا جائے۔

۴۔میٹرک تک حکومت تعلیم مفت دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ بالائی سطح پر بھی حکومت طالب علموں کو وظائف دے تاکہ غربا کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حا صل کر سکیں ۔

۷۔ ہسپتال اور دوسرے رفاہی ادارے 

۱۔ اسی طرح ہسپتالوں کے نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر ہسپتالوں میں اول توعملہ ہی موجود نہیں ہوتااور اگر عملہ موجود ہوتو ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، اور غریب اورنادارلوگ ہروقت علاج معالجہ کی سہولت مہیانہ ہونے کی بناپر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ اگر کسی غریب شخص کاعلاج مہنگاہو تو حکومت زکوٰۃ فنڈسے اس کے علاج معالجے کی سہولیات مہیاکر سکتی ہے ۔

۲۔دیہی علاقوں میں موجود ہسپتالوں میں موزوں عملہ متعین کیا جا ئے اور اگر ایم بی بی ایس ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں تو طب یونانی کے کسی ماہر کی تقرری کر دی جائے تاکہ علاقے کے لوگ علاج معالجے کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکیں ۔

۸۔ احتساب کا موثر نظام 

۱۔گڈ گورننس کو موثر بنانے کے لیے ہرسطح پر انسپکشن (معائنے )اور احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔ یہ نظام اس نوع کا ہوکہ لوگوں کو واقعی یہ نظر آئے کہ ملک میں یاصوبے میں انصاف ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں سخت ترین سزاؤں کا نفاذ موثر بنایا جائے ۔

۲۔ احتساب کے ادارے میں اچھی شہرت اور اچھے اخلاق کے حامل لوگوں کا تقر ر کیا جائے ،جو بلاتفریق سب کے لیے ایک ہی موثر نظام جاری کریں ۔ 

اختتام

یہ صرف چندایک شعبوں کی نشان دہی ہے۔ اسلامی نظام دنیاکے لیے باعث رحمت ہے۔ اگر حکومت ابتدائی مرحلے میں لوگوں کوظلم وزیادتی سے چھٹکارا دلاسکے اورانہیں ان کے مسائل میں کوئی ریلیف دلاسکے تو یہ بہت بڑاکا رنامہ ہوگااور نفاذ اسلام کے اگلے مرحلے کے لیے راہ ہموار ہوگی ۔

آراء و افکار